Ayah 99:11 ۔ زلزلہ قیامت کی تذکیر و یاد دہانی : سو زلزلہ قیامت کی تذکیر و یاد دہانی کے طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ جب بلا دیا جائے گا زمین کے اس عظیم الشان کرے کو اس عظیم الشان بھونچال سے، جس سے اس کے پہاڑ ریزہ ریزہ ہوجائیں گے اس کی سب اونچ نیچ جو آج موجود ہے برابر کردی جائے گی، اور یہ زمین ایک ہموار اور چٹیل میدان بن جائے گی جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا فَيَذَرُهَا قَاعًا صَفْصَفًا، لَّا تَرٰى فِيْهَا عِوَجًا وَّلَآ اَمْتًا (طہ 106، 107 پ 16) اور جس طرح زلزلہ کے لفظ میں تکرار پایا جاتا ہے، اسی طرح اس کے معنی کے اندر بھی تکرار کا مفہوم شامل ہے، سو اس کے معنی پے در پے ہلانے اور زور سے حرکت دینے کے ہیں، اور اسی کو مفسرین کرام " حرکت حرکۃ شدیدۃ عنیفۃ " جیسے الفاظ سے تعربیر کرتے ہیں ( محاسن التاویل، وغیرہ) سو اس روز زمین کو پے در پے جھٹکے دے کر ہلا ڈالا جائے گا اور زلزلہ قیامت اور اس کے متعلق ان اہم غیبی حقائق سے آگہی بخشنے والی یہ سورة کریمہ ایک عظیم الشان سورت ہے، اس لیے حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ یہ نصف قرآن کے برابر ہے اور سورة اخلاص ثلث قرآن کے برابر ہے، اور سورة کافرون ربع قرآن کے برابر، اور اس سے دراصل کفار کے سوال کا جواب دیا گیا ہے کہ وہ کب آئے گی ؟ وہ کہا کرتے تھے کہ کب پوری ہوگی تمہاری یہ دھمکی ؟ سو ان کے جواب میں ارشاد فرمایا گیا کہ یہ اس وقت قائم ہوگی جبکہ یہ اور یہ احوال و حوادث پیش آئیں گے ( مراغی، محاسن التاویل وغیرہ) بہرکیف اس سے زمین کے اس ہولناک بھونچال کی تصویر پیش فرما دی گئی، چناچہ ارشاد فرمایا گیا کہ جب ہلا دیا جائے گا زمین کو اس کے بھونچال سے، یعنی ایسا سخت اور اس قدر زبردست اور ہولناک بھونچال جو کہ اس قدر عظیم الشان کرہ ارضی کے لائق ہوگا، اور ظاہر ہے کہ ایک چھوٹے سے شہر یا بستی پر کوئی زلزلہ اور بھونچال آتا ہے تو وہ دو چار سیکنڈوں میں اس کا حلیہ بگاڑ کر رکھ دیتا ہے، اور اس کو تہس نہس کر کے کچھ کا کچھ بنا دیتا ہے، تو پھر جب اس پورے کرہ ارضی کی تباہی کے لیے وہ عام اور پھر پور زلزلہ آئے گا جس کی پے در پے جھٹکوں سے پورے کرہ ارضی کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا جائے گا تو وہ کیا کچھ نہیں کردے گا، اسی لیے قرآن حکیم نے قیامت کے اس زلزلے کو شیء عظیم یعنی ایک بڑی ہی ہولناک چیز قرار دے کر اس کی ہیبت و ہولناکی کو بیان فرامیا ہے اور شاد ہوتا ہے يٰٓاَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوْا رَبَّكُمْ ۚ اِنَّ زَلْزَلَةَ السَّاعَةِ شَيْءٌ عَظِيْمٌ (الحج 1 پ 17) یعنی قیامت کا وہ زلزلہ ایک بہت بڑی چیز ہوگا سو اس کی ہیبت اور ہولناکی کو بیان کرنے کے لیے اس کو زمین کی طرف مضاف کر کے ذکر فرمایا گیا ہے، یعنی اس پوری کرہ ارض کو بھونچال، سو اس زلزلہ کے لفظ ہی شدت اور تکرار کا مفہوم پایا جاتا ہے، اور پھر " زلزال " کی تاکید سے اس کو مزید موکد کردیا گیا، اور پھر " زلزال " کی نسبت اور اس کی اضافت زمین کی طرف کر کے اس کو اور بھی پکا اور موکد کردیا گیا، سو کرہ ارضی کا وہ زلزلہ اس قدر سخت اور اتنا ہولناک ہوگا کہ آج اس کا تصور کرنا بھی کسی کے لیے ممکن نہیں، اسی لیے دوسرے مقام پر اس کو " الطامۃ الکبری " ( سب سے بڑا تہس نہیں کردینے والا حادثہ) کے لفظ سے تعبیر فرمایا گیا ہے، والعیاذ باللہ جل وعلا۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اپنی حفاظت و پناہ میں رکھے، آمین ثم آمین یا رب العالمین و یا ارحم الرحمین۔
Ayahs 99:2–3(2) اثقال زمین سے مقصود و مراد ؟ سو ارشاد فرمایا گیا کہ اس روز زمین نکال باہر کرے گی اپنے اندر کے سارے بوجھ۔ یعنی ان مردوں کو جو کہ ہزار ہا برس قبل اس کے پیٹ میں تارے گئے ہوں گے، اور جن کا بظاہر نام و نشان بھی باقی نہ رہے گا، نیز اس روز یہ زمین اگل دے گی ان تمام دفائن و خزائن کو جو کہ قدرت نے اس کے اندر ودیعت فرمائے ہوں گے، چناچہ وہ سب اس موقع پر باہر پڑے ہوں گے مگر کوئی ان کو لینے اور اٹھانے کے لیے تیار نہ ہوگا کہ وہ منظر ہی ہولناک ہوگا اس وقت ابناء دنیا رہ رہ کر افسوس کریں گے کہ یہی وہ متاع دنیا جس کے ہم نے اپنی دنیاوی زندگی میں طرح طرح کے پاپڑ بیلے تھے، اور چوری، ڈکیتی، قتل و خونریزی اور قطع رحمی وغیرہ جیسے جرائم کا ارتکاب کیا تھا، جبکہ آج سونے و چاندی کے ان ستونوں کو کوئی آنکھ اٹھا کر دیکھنے کو بھی تیار نہیں ( المراغی، القاسمی، روح المعانی، صفوۃ وغیرہ) چناچہ صحیح حدیث میں حضرت ابوہریرہ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ قیامت کے روز زمین اپنے اندر کے چھپے ہوئے سونے چاندی کے ذخائر کو بڑے بڑے ستونوں کی شکل میں نکال باہر پھینک دے گی جن کو دیکھ کر قاتل کہے گا کہ کیا اسی دولت اور متاع دنیا کے لیے میں نے قتل کیے تھے، مگر آج یہ اس طرح پڑی ہے قاطع رحم اس کو دیکھ کر کہے گا کہ اسی کے لیے میں نے قطع رحمی کا ارتکاب کیا تھا اور چور آئے گا تو وہ اس کو دیکھ کر کہے گا کیا اسی کے لیے میں نے اپنا ہاتھ کٹوایا تھا، پھر ان سے کہا جائے گا اور بلا اور پکار کر کہا جائے گا کہ لوگ اس میں سے جو کچھ تم لینا چاہو لے لو، مگر اس وقت کوئی بھی اس میں سے کچھ بھی لینے اور اپنانے کو تیار نہ ہوگا ( ابن کثیر، فتح القدیر، وغیرہ) سو یہ ہے حقیقت اس متاع دنیا اور اس کے حطام فانی و زائل کی اور یہ ہے اس کا وہ مال و انجام جس سے کتاب وسنت کی تعلیمات مقدسہ نے طرح طرح سے اور کھول کر آگاہ کردیا، مگر دنیا ہے کہ غفلت و لاپرواہی کے بحر عمیق میں ڈوبی ہوئی ہے، اور وہ اس سے کوئی سبق و آگہی حاصل نہیں کرتی، الا ماشاء اللہ سبحانہ و تعالیٰ ۔ بہرکیف اس روز زمین اپنے اندر کے یہ تمام خزائن و دفائن باہر پھینک کر خود خالی ہوجائے گی۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا ( آیت، انشقاق 3, 4 پ 30) سو کس قدر احسان ہے حضرت حق جل مجدہ کا کہ اس نے اپنی اس کتاب مقدس اور اپنے رسول مطہر کے ذریعے ان غیبی حقائق سے اپنے بندوں کو اس دنیا میں اس قدر صراحت و وضاحت اور تاکید و تکرار کے ساتھ آگاہ و خبردار فرما دیا، جن سے واقفیت و آگاہی کی دوسری کوئی صورت ممکن ہی نہیں، مگر حق تعالیٰ نے ان سے اس طرح آگاہ فرما دیا تاکہ انسان اپنے اس انجام موعود اور مصیر محتوم کے لیے فکر اور کوشش کرسکے، قبل اس سے کہ فرصت حیات اس کے ہاتھ سے نکل جائے اور اس کو ہمیشہ ہمیش کے لیے پچھتانا اور کف افسوس ملنا پڑے، مگر کس قدر ظالم و بےحس اور کتنا ناشکرا ہے اور بےانصاف ہے یہ انسان جو اس کے سب کے باوجود خواب غفلت میں پڑا ہے، اور اس سے نکلنے کا نام نہیں لیتا۔ والعیاذ باللہ الذی لا الہ الا ھو ولا معبود بحق سواہ جل وعلا۔ اللہ ہمیشہ اپنا ہی بنائے رکھے۔ آمین ثم آمین۔
Ayah 99:4(4) زمین کے اپنے ریکارڈ پیش کرنے کا ذکرو بیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اس روز زمین بیان کردے گی اپنی تمام خبریں۔ یعنی ان تمام افعال و اعمال کے بارے میں جو کہ اس کی پشت پر کیے گئے ہوں گے جیسا کہ سنن ترمذی وغیرہ میں صادق مصدوق حضرت نبی معصوم (علیہ الصلوۃ والسلام) سے اس بارے میں مروی و منقول ہے اور میں صاف وصریح طور پر مروی و منقول ہے۔ چناچہ حضرت ابوہریرہ ؓ روایت کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت نبی اکرم ﷺ نے حضرات صحابہ کرام کے سامنے یہی آیت کریمہ تلاوت فرمائی پھر آپ نے ان کو مخاطب کر کے ان سے پوچھا اتدرون ما اخبارھا ( کیا تم جانتے ہو کہ زمین کی وہ خبریں کیا ہیں جو یہ اس روز بیان کرے گی ؟ ) تو انہوں نے حسب عادت اور معمول نہایت ادب و احترام سے عرض کیا ’ اللہ و رسولہ اعلم ‘ کہ اللہ جانے اور اس کا رسول، کیونکہ علم تو اصل میں اللہ پاک ہی کے پاس اور اس کا علم اس کے بندوں تک اس کے رسول ہی کے ذریعے پہنچ سکتا ہے، اس لیے وہی بہتر جانتے ہیں کہ اس سے کیا مراد ہے، تو اس پر آپ نے ارشاد فرمایا اخبارھا ان تشھد علی کل عبد و امۃ ان فعل علی ظھرھا کذا و کذا فی یوم کذا و کذا۔ یعنی اس کی ان خبروں سے مراد یہ ہے کہ اس روز یہ ہر مرد اور عوعرت پر گواہی دے گی کہ اس نے اس کی پیٹھ پر فلاں اور فلاں دن فلاں اور فلاں کام کیے تھے ( سنن ترمذی، ابن کثیر، ابن جریر، فتح القدیر اور صفوۃ التفاسیر وغیرہ) سو یہ زمین جس کو بےجان، بےحس اور بےشعور سمجھا جارہا ہے یہ انسان کے کیے کرائے کا ریکارڈ اس قدر باریکی اور چابکدستی سے ظاہر کرے گی پس اس یوم حساب کے تقاضوں کو ہمیشہ اور ہر حال میں اپنے پیش نظر رکھنا چاہئیے۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید وعلی ما یحب ویرید بکل حال من الاحوال وفی کل موطن من المواطن فی الحیاۃ۔
Ayah 99:5(5) زمین اپنے رب کے حکم و ارشاد کی پابند : چناچہ ارشاد فرمایا گیا کہ اس لیے کہ تمہارے رب نے اس کو اس کا حکم دیا ہوگا، سو وہ اپنے قادر مطلق خالق ومالک کے حکم سے بول پڑے گی، اور انسان کا سب کیا کرایا پوری طرح بیان کردے گی، اور اس کی پیٹھ پر جو بھی کیے جائیں گئے ہوں گے ان سب کا پورا ریکارڈ پیش کردے گی، خواہ وہ اچھے اعمال ہوں یا برے، کیونکہ اس دنیا میں جو انسان بھی کوئی عمل کرتا ہے وہ اسی زمین کے کسی نہ کسی حصے پر کرتا ہے اس لیے اس کے سب اعمال و اقوال کی سب سے بڑی گواہ اور عینی شاہد یہ زمین ہی ہوگی اس سے اس کی کوئی حالت اور کیفیت مخفی نہیں رہ سکتی، اور قیامت کے روز جس طرح اللہ کے حکم و ارشاد سے انسان کے اعضاء و جو ارغ اور اس کے بدن کھالیں اور اس کا ایک ایک رواں رواں اس کے خلاف بول پڑے گا، اور اس کے خلاف گواہی دے گا، اسی طرح یہ زمین بھی بول اٹھے گی اور اپنا پورا ریکارڈ پیش کردے گی، سو جس زمین کو آج ہم بےحس اور بےجان سمجھتے ہیں یہ اس روز اس قدر حیرت انگیزی سے ہر انسان کے کیے کرائے کا پورا ریکارڈ پیش کرے گی، مگر دنیا ہے کہ اس سب کے باوجود اپنے مال و انجام سے غافل و لاپروا ہے، الا ماشاء اللہ والعیاذ اللہ۔ اللہ ہمیشہ اپنی رضا و خوشنودی کی راہوں پر چلنا نصیب فرمائے، آمین ثم آمین، یا رب العالمین ویا ارحم الرحمین واکرم الاکرمین، ویامن بیدہ ملکوت کل شیء وھو یجیر ولا یجار علیہ۔
Ayahs 99:6–7(6) روز قیامت کی حاضری اور جوابدہی کا ذکرو بیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اس روز لوگ پلٹیں گے مختلف گروہوں اور جماعتوں کی شکل میں یعنی اپنی اپنی قبروں سے میدان محشر کی طرف تاکہ ہر کوئی اپنے زندگی بھر کے کیے کرائے کا بھرپور صلہ و بدلہ پاس کے، سو یہ سب فوج در فوج اور گروہ در گروہ وہاں پہنچیں گے، جیسا کہ سورة نبا میں ارشاد فرمایا گیا " یوم ینفخ فی الصور فتاتون افواجا۔ ( جس دن پھونک مار دی جائے گی صور میں تو تم تم سب لوگ فوج در فوج امڈے چلے آؤ گے) نیز دوسرا مطلب اس کا یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اس روز مختلف حالتوں میں پلٹیں گے میدان حشر سے اپنے اپنے آخری ٹھکانوں کی طرف داہنے ہاتھ شاداں وفرحاں جنت اور اس کی بہار نعمتوں کی طرف لوٹیں گے، اور بائیں ہاتھ والے دوزخ کی طرف، والعیاذ باللہ۔ (صفوۃ البیان وغیرہ) سو اس روز کی گروہ بندی دنیا گروہ بندیوں سے یکسر مختلف ہوگی کہ وہاں کی وہ گروہ بندی محض ایمان و کفر اور سعادت و شقاوت کی بنا پر ہوگی کہ ایمان والے سعادت مند گروہ در گروہ جنت کی ابدی نعمتوں کی طرف جائیں گے، اور ان کے مقابلے میں کفر و شرک والے بدبختوں کو گروہ دور گروہ دوزخ دہکتی بھڑکتی آگ کی طرف دھکیل دھکیل کرلے جایا جائے گا والعیاذ باللہ ( ابن کثیر، محاسن التاویل اور صفوۃ التفاسیر وغیرہ) سود نیا کی وہ گروہ بندی جس کی بنیا قوموں قبیلوں اور نسل و رنگ وغیرہ کے مصنوعی فوارق پر قائم تھی اس کا وہاں پر کوئی نام و نشان بہر حال نہیں ہوگا اور ان میں سے کوئی رشتہ وتعلق بھی کسی کے کچھ کام نہ آسکے گا، کہ وہاں پر کسی کو اپنی ذاتی حیثیت میں سے ھاضر ہو کر اپنے کیے کرائے کی جوابدہی کرنا اور اس کا پھل پانا ہوگا، جس کو قرآن حکیم میں دوسرے مختلف مقامات میں صاف وصریح طور پر بیان فرما دیا گیا، مثلا سورة انعام میں ارشاد فرمایا گیا ( آیت، الانعام 94 پ 7) یعنی اس روز اہل کفر و باطل سے کہا جائے گا کہ " تم تو اکیلے اکیلے ہمارے پاس آگئے جیسا کہ ہم نے تم سب کو پہلی مرتبہ پیدا کیا تھا "۔ نیز سورة مریم میں ارشاد فرمایا گیا ( آیت، مریم 95 پ 16) یعنی ان سب کو اپنے رب کے تنہا ہی حاضر ہونا ہوگا۔
(7) روز قیامت کی غرض وغایت کا ذکرو بیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ تاکہ ان کو دکھا دیئے جائیں ان کے اعمال سو ان کی زندگی بھر کے کیئے کرائے کا پورا ریکارڈ کسی کم وکاست کے ان کے سامنے رکھ دیا جائے گا، تاکہ ہر کوئی خود دیکھ لے کہ وہ اپنی زندگی میں کیا کرتا تھا اور کیا کمائی کر کے لایا ہے، سو وہ سب کچھ اس کے سامنے موجود ہوگا مگر اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ ہر چھوٹے سے چھوٹے عمل کی سزا و جزا بھی ضرور ہو کہ یہ بات عقل کے بھی خلاف ہے اور نقل کے بھی، اسی لیے یہاں پر یہ نہیں فرمایا گیا کہ ان کو ہر خیر و شر کا بدلہ دینا جائے گا بلکہ یہ فرمایا گیا کہ یہ سب ان کو دکھا دیا جائے گا " لیرو اعمالھم " بہرکیف اس سے ان کی اس حاضری کی غرض وغایت کو واضح فرما دیا گیا کہ تاکہ ان کو ان کے وہ اعمال دکھا دییے جائیں جو انہوں نے اس دنیا میں کیے تھے تاکہ ہر کوئی اپنی کمائی کا پھل پاس کے۔ بہرکیف اس سے اس دن کی حاضری کی غرض وغایت بیان فرما دی گئی کہ ہر انسان کی زندگی بھر کی کارگزاری اس کے سامنے رکھ دی جائے گی، تاکہ وہ اس کو دیکھ لے اور اس کا پھل پاس کے۔ اور الجنس من خیر جزاء العمل کے اصول کے مطابق اپنے کیے کرائے کا پورا پورا بدلہ اور صلہ مل سکے۔
Ayah 99:8(8) ہر کسی کا ریکارڈ اس کے سامنے : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ جس نے جو کیا ہوگا اس روز وہ اس کے سامنے ہوگا، نیک عمل کیا ہوگا تو بھی اور برا کیا ہوگا تو بھی، کہ اس کے زندگی بھر کے کیے کرائے کا سب ریکارڈ اس کے سامنے رکھ دیا جائے گا تاکہ اس طرح عدل و انصاف کے تقاضے پورے ہوسکیں اپنی آخری اور کامل شکل میں اور بھر پور طریقے سے اور اپنی آخری شکل میں پورے ہو سکیں اور کسی کے لیے کسی اعتراض وغیرہ کی کوئی گنجائش باقی نہ رہ سکے۔ فکن اللھم لنا وجعلنا لک وارزقنا التوفیق 1 لما تحب وترضی من القول والعمل، برحمتک یا ارحم الرحمین۔ اللہ اس روز کامیاب اور سرخرو ہونے والوں میں سے کردے، آمین ثم آمین یا رب العالمین و یا ارحم الرحمین واکرم الاکرمین یا من رحمتہ سبقت غضبہ سبحانہ و تعالیٰ وبھذا القدر نکتفی من التفسیر لسورۃ الزلزال والحمد لرب العالمین بکل حال من الاحوال جل وعلا۔