Az-Zalzala 99:2

Az-Zalzala · from ayah 2

99:2

وَاَخْرَجَتِ الْاَرْضُ اَثْقَالَهَا ۟ۙوَاَخۡرَجَتِ الۡاَرۡضُ اَثۡقَالَهَا

اور زمین اپنے (اندر) کے بوجھ نکال ڈالے گی

— Fateh Muhammad Jalandhari

And the earth discharges its burdens

— Saheeh International

Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 24 of juz

Read the whole surah · Surah Az-Zalzala

All translations of 99:2

اور زمین اپنے اندر کے سارے بوجھ نکال کر باہر ڈال دے گی

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور زمین اپنے (اندر) کے بوجھ نکال ڈالے گی

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور اپنے بوجھ باہر نکال پھینکے گی

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور زمین اپنے بوجھ باہر نکال دے گی۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور زمین اپنے بوجھ باہر پھینک دے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور زمین اپنے (سب) بوجھ نکال باہر پھینکے گی،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور وہ اپنے اندر کے سارے بوجھ نکال باہر کرے گی

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور زمین اپنا بوجھ باہر نکال پھینکے گی

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور وہ نکال باہر کر دے گی اپنے (اندر کے) تمام بوجھ

— مولانا اسحاق مدنی

اور زمین اپنے بوجھ باہر پھینک نکالے

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور زمین اپنے سارے بوجھ نکال کر باہر پھینک دے گی۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور زمین اپنے اندر کے بو جھ نکال ڈالے گی

— محترمہ رفعت اعجاز

and the earth will throw up all her burdens,

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

and the earth will bring forth its burdens,

— Muhammad Taqi Usmani

and the earth will bring forth its burdens,

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And when the earth throws out its burdens.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And the earth discharges its burdens

— Saheeh International

and it throws out its burden,

— Muhammad Sarwar

And the earth brings forth her burdens,

— Muhammad Habib Shakir

And the earth bringeth forth her burthens,

— Abdul Majid Daryabadi

And the earth throws up her burdens (from within),

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 99:2

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 1–8

مرحلہ وار قیامت : زمین اپنے نیچے سے اوپر تک کپکپانے لگے گی اور جتنے مردے اس میں ہیں سب نکال پھینکے گی۔ جیسے اور جگہ ہے (يٰٓاَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوْا رَبَّكُمْ ۚ اِنَّ زَلْزَلَةَ السَّاعَةِ شَيْءٌ عَظِيْمٌ) 22۔ الحج :1) لوگو اپنے رب سے ڈرو یقین مانو کہ قیامت کا زلزلہ اس دن کا بھونچال بڑی چیز ہے اور جگہ ارشاد ہے (وَاِذَا الْاَرْضُ مُدَّتْ ۙ) 84۔ الانشقاق :3) جبکہ زمین کھینچ کھانچ کر برابر ہموار کردی جائیگی اور اس میں جو کچھ ہے وہ اسے باہر ڈال دے گی اور بالکل خالی ہو جائیگی صحیح مسلم شریف میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں زمین اپنے کلیجے کے ٹکڑوں کو اگل دے گی سونا چاندی مل ستونوں کے باہر نکل پڑے…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الزلزال 2 یہ وہی مضمون ہے جو سورة انشقاق آیت 4 میں اس طرح بیان کیا گیا ہے کہ وَاَلْقَتْ مَا فِيْهَا وَتَخَلَّتْ " اور جو کچھ اس کے اندر ہے اسے باہر پھینک کر خالی ہوجائے گی " اس کے کئی مطلب ہیں۔ ایک یہ کہ مرے ہوئے انسان زمین کے اندر جہاں جس شکل اور جس حالت میں بھی پڑے ہوں گے ان سب کو وہ نکال کر باہر ڈال دے گی، اور بعد کا فقرہ اس پر دلالت کرتا ہے کہ اس وقت ان کے جسم کے تمام بکھرے ہوئے اجزاء جمع ہو کر از سر نو اسی شکل و صورت میں زندہ ہوجائیں گے جس میں وہ پہلی زندگی کی حالت میں تھے، کیونکہ اگر ایسا نہ ہو تو وہ یہ کیسے کہیں گے کہ زمین کو یہ کیا ہورہا ہے۔ دوسرا مطلب یہ ہے کہ صرف مرے ہوئے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 2–6

واخرجت الارض اثقالھا، رسول اللہ ﷺ نے اس زلزلہ کے متعلق ارشاد فرمایا کہ زمین اپنے جگر کے ٹکڑے سونے کی بڑی چٹانوں کی صورت میں اگل دے گی اس وقت ایک شخص جس نے مال کے لئے کسی کو قتل کیا تھا وہ دیکھ کر کہ گا کہ یہ وہ چیز ہے جس کے لئے میں نے اتنا بڑا جرم کیا تھا، جس شخص نے اپنے رشتہ داروں سے مال کی وجہ سے قطع تعلق کیا تھا وہ کہے گا کہ یہ ہے وہ چیز جس کے لئے میں نے یہ حرکت کی تھی۔ چور جس کا ہاتھ چوری کی سا میں کاٹا گیا تھا اس کو دیکھ کر کہے گا کہ اس کے لئے میں نے اپنا ہاتھ گنوایا تھا پھر کوئی بھی اس سونے کی طرف التفات نہ کریگا۔ (رواہ مسلم عن ابی ہریرة)

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

’اثقال‘ سے مراد: ’ثِقْلٌ‘ کے معنی بار اور بوجھ کے ہیں۔ اس کا اول مصداق تو مردے ہیں جو زمین میں دفن ہیں اور قیامت کے دن زمین ان کو نکال باہر کرے گی لیکن لفظ عام ہے اس وجہ سے اس سے وہ خزانے اور دفینے بھی مراد ہو سکتے ہیں اور ان جرائم کی یادگاریں بھی جن کا مجرموں نے ارتکاب کیا اور زمیں میں ان کو چھپایا۔ سورۂ انشقاق کی آیت ’وَاَلْقَتْ مَا فِیْھَا وَتَخَلَّتْ‘ (الانشقاق ۸۴: ۴) (جو کچھ اس کے اندر ہو گا وہ اس کو ڈال کر فارغ ہو جائے گی) میں اس کی وضاحت ہو چکی ہے اور آگے سورۂ عادیات کی آیت ’اِذَا بُعْثِرَ مَا فِی الْقُبُوْرِ‘ (العادیات ۱۰۰: ۹) (اور جب کہ قبریں اگلوائی جائیں گی) کے تحت بعض اشارات ان…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

2۔ 1 یعنی زمین میں جتنے انسان دفن ہیں، وہ زمین کا بوجھ ہیں، جنہیں زمین قیامت والے دن باہر نکال پھینکے گی اور اللہ کے حکم سے سب زندہ ہو کر باہر نکل آئیں گے۔ یہ دوسرے نفخے میں ہوگا، اسی طرح زمین کے خزانے بھی باہر نکل آئیں گے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 1–2

1: یعنی سارے مردے جو زمین میں دفن ہیں، وہ باہر آجائیں گے اور زمین میں جو خز انے دفن ہیں، زمین ان کو بھی اگل دے گی۔ ایک حدیث میں ہے کہ جس کسی نے مال کی خاطر کسی کو قتل کیا ہوگا، یا جس نے مال و دولت کی خاطر رشتہ داروں کا حق پامال کیا ہوگا، یا اس کی خاطر چوری کی ہوگی، وہ اس مال کو دیکھ کر یہ کہے گا کہ یہ ہے وہ مال جس کی وجہ سے میں نے یہ گناہ کئے تھے پھر کوئی بھی اس سونے اور چاندی کی طرف توجہ نہیں دے گا۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 1–2

یہ ہے منظر قیام قیامت کا ، اس دن زمین نہایت شدت سے ہلا ماری جائے گی اور ایک شدید زلزلہ برپا ہوگا اور زمین کے پیٹ کے اندر جو کچھ ہوگا ، وہ اسے باہر پھینک دے گی اور اس نے ایک طویل عرصے سے انسانی جانوں کا جو بوجھ اٹھارکھا ہوگا ، یا اس کے اندر جو معدنیات ہوں گے وہ ان کو اٹھاکر باہر پھینک دے گی ، گویا اس بوجھ کو باہر پھینک کر وہ ہلکی ہوجائے گی۔ یہ ایک ایسی تصویر کشی ہے کہ سننے والے اپنے پاﺅں کے نیچے کھڑی ہر چیز متزلزل محسوس کرتے ہیں کہ وہ ڈگمگا رہے ہیں ، لڑکھڑا رہے ہیں ، ان کے قدموں کے نیچے سے زمین کانپ رہی ہے ، دوڑرہی ہے ، یہ ایک ایسا منظر ہے جس کو دیکھ کر انسان تمام امور سے قطع تعلق کرلیتا ہے جو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

5 یعنی اس وقت زمین جو کچھ اس کے پیٹ میں ہے۔ مثلاً مردے یا سونا چاندی وغیرہ سب باہر اگل ڈالے گی۔ لیکن مال کا کوئی لینے والا نہ ہوگا۔ سب دیکھ لیں گے کہ آج یہ چیز جس پر ہمیشہ لڑا کرتے تھے کس قدر بیکار ہے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 2–3

آیت 2{ وَاَخْرَجَتِ الْاَرْضُ اَثْقَالَہَا۔ } ”اور زمین اپنے سارے بوجھ نکال کر باہر پھینک دے گی۔“ یعنی اس دن زمین اپنے اندر مدفون تمام انسانوں کو ‘ وہ جس حالت میں بھی ہوں گے ‘ نکال کر باہر ڈال دے گی۔ اگر ان کے ذرّات منتشر ہو کر زمین کے طول و عرض میں پھیلے ہوئے ہوں گے تو ان کو بھی یکجا کردیا جائے گا۔ واضح رہے کہ جو انسان اصطلاحی مفہوم میں زمین کے اندر باقاعدہ دفن نہیں بھی ہوتے ‘ مثلاً سمندر میں غرق ہوجاتے ہیں یا جلا دیے جاتے ہیں ‘ ان کے اجسام کے اجزائی ذرات بھی کسی نہ کسی شکل میں بالآخر زمین میں ہی جذب ہوتے ہیں اور وہ قیامت کے دن زمین سے ہی برآمد ہوں گے۔ سورة طٰہٰ کی یہ آیت اس لحاظ سے بہت واضح…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

2 زمین میں تین قسم کے بوجھ جنہیں وہ باہر نکال پھینکے گی :۔ یہ زمین کے اندر بوجھ تین قسم کے ہونگے۔ (1) زمین کی معدنیات، زر و جواہر کے مدفون خزانے، اسی طرح سیال چیزوں اور گیسوں کے خزانے جن کے حصول کے لیے انسان دنیا میں مارا مارا پھرتا تھا۔ ناجائز اور حرام ذرائع استعمال کرتا تھا۔ ایک دوسرے سے لڑتا جھگڑتا تھا۔ ایک ملک دوسرے ملک سے جنگ وجدال کرتا تھا۔ اس دن زمین ایسے سب خزانے باہر نکال پھینکے گی لیکن اس دن انسان کو ان سے کچھ غرض نہ ہوگی۔ وہ نہ اس کے کسی کام آسکیں گے۔ (2) دفن شدہ مردوں کے بوجھ یعنی سیدنا آدم (علیہ السلام) سے لے کر تاقیام قیامت جتنے انسان زمین کے اندر مدفون ہوں گے اور ان میں سے اکثر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 1–3

1۔ یہ سب واقعات حشر کے سلسلہ میں نفخہ اول کے وقت کے ہیں۔ (آیت) ” اثقالھا “۔ زمین کے بوجھ سے مراد مردے بھی ہوسکتے ہیں، اور زمین کے دفینے اور معدنیات وغیرہا بھی۔ (آیت) ” اذا ...... زلزالھا “۔ غرض یہ کہ زمین کی اس جنبش اضطرابی سے سارا عالم زیروزبر ہوجائے گا۔ (آیت) ” وقال الانسان مالھا “۔ انسان گھبرا کر اور سراسیمہ ہو کر پکار اٹھے گا کہ آخر یہ ہو کیا گیا ؟ (آیت) ” الانسان “۔ انسان۔ سے اس سیاق میں مراد کافر انسان ہے، جسے سارا بھروسہ مادی ہی طاقتوں کا رہتا ہے، اور جو مسبب الاسباب کی قدرت و حکمت کا منکر یا عملا منکر رہتا ہے۔ قیل ھذا قول الکافر لانہ کان لایؤمن بالبعث (مدارک) قال الجمھورالانسان ھو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 2–8

واخرجت الارض اثقالھا اسی مضمون کو سورة انشقاق میں اس طرح بیان فرمایا گیا ہے ” والقت مافیھا وتخلت ‘ اور جو کچھ اس کے اندر ہے اسے باہر پھینک کر خالی ہوجائے گی، اس کے متعدد مطلب ہیں، ایک یہ کہ مرے ہوئے انسان زمین کے اندر جہا اور جس شکل میں بھی پڑے ہوں گے ان سب کو وہ نکال کر باہر پھینک دے گی، اس مفہوم پر بعد کا فقرہ یعنی ” وقال الانسان مالھا “ دلالت کررہا ہے، یعنی انسانی منتشر اجزاء جمع ہو کر ازسرنو اسی شکل و صورت میں جمع ہوجائیں گے، جس میں وہ دنیوی زندگی کی حالت میں تھے، کیونکہ اگر ایسا نہ ہو تو وہ یہ کیسے کہیں گے کہ زمین کو یہ کیا ہو رہا ہے ؟ دوسرا مطلب یہ ہے کہ صرف مردہ انسانوں ہی کو باہر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

واخرجت الارض اثقالھا . زمین کی طرف نکالنے کی نسبت مجازی ہے (حقیقت میں اخراج اثقال کرنے والی خدا کی قدرت ہے ؟ ) یعنی زمین اپنے بوجھ باہر نکال پھینکے گی۔ ابن ابی حاتم نے حضرت ابن عباس ؓ کا قول نقل کیا ہے کہ زمین مردوں کو قبروں سے باہر نکال دے گی (گویا ابن عباس کے نزدیک اثقال سے مراد مردے) فریابی نے مجاہد کا قول بھی یہی نقل کیا ہے ‘ اس مطلب پر یہ واقعہ نفخۂ دوم کے بعد کا ہوگا۔ ابن ابی حاتم نے عطیہ کا قول نقل کیا ہے کہ زمین اپنے اندر کے خزانے باہر نکال دے گی (اس قول پر اثقال سے مراد ہوئے زمین کے اندرونی خزانے) حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : زمین اپنے جگر پاروں کو سونے ‘…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 1–2

(1۔ 2) جب زمین میں زلزلہ آئے گا اور وہ اپنی سخت جنبش سے ہلا دی جائے گی جس کی وجہ سے جو کچھ اس پر درخت اور پہاڑ اور مکانات وغیرہ ہیں سب ریزہ ریزہ ہوجائیں گے اور زمین اپنے خزانوں اور مالوں کو باہر نکال پھینکے گی۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

(واخرجت الارض اثقالھا :”اثقال“ ”ثقل“ کی جمع ہے، مسافر کا سامان اور نفیس چیزیں جن کی وہ حفاظت کرتا ہے، یعنی زمین نے جو کچھ سنبھلا کر رکھا ہوا ہے اسے باہر نکال دے گی۔”یا ”ثقل“ کی جمع ہے جو حمل کو کہتے ہیں، جیسے فرمایا :(فلما اثقلت) (الاعراف : 189)”پس جب وہ (عورت) بھاری ہوگئی۔“ اس صورت میں زمین کو حاملہ کے ساتھ تشبیہ دی گئی ہے، یعنی اتنا شدید زلزلہ ہوگا کہ زمین پھٹ اجئے گی اور اس میں جو فوت شدہ لوگ ہیں یا جو کچھ بھی زمین نے سنبھال کر رکھا ہوا ہے باہر ناکل کر خلای ہوجائے گی، جیسا کہ فرمایا :(والقت ما فیھا و تخلت) (الانشقاق : 3)”اور اس میں جو کچھ ہے باہر پھینک دے گی اور خالی ہوجائے گی۔“

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

واخرجت الارض اثقالھا۔ ابوعبیدہ اور اخفش نے کہا، جب مردہ زمین میں ہو تو اس کے لیے ثقل لھا کا لفظ استعمال کرتے ہیں اور جب مردہ اس کے اوپر ہو تو اس کے لیے ثقل علیھا کا لفظ بولتے ہیں جب کہ حضرت ابن عباس اور مجاہد نے اثقالھا کا معنی اپنے مردے کیا ہے۔ زمین دوسرے نفخہ کے موقع پر اسے نکال دے گی انہیں سے یہ بھی مروی ہے جن اور انس کو ثقلان کہتے ہیں۔ خنساء نے کہا، ابعد ابن عمرو من آل لشر، ید حلت بہ الارض اثقالھا۔ وہ کہتی ہے جب عمر کو دفن کردیا گیا تو وہ اپنے شرف اور سرداری کی وجہ سے اہل قبور کے لیے زبور بن گیا، اس کے بعد وہ اپنے مردے باہر نکال دے گی۔ ایک عالم نے کہا، عرب کہا کرتے تھے جب کوئی آدمی خون…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 1–8

1۔ ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ سورة اذا زلزلت مدینہ میں نازل ہوئی 2۔ ابن مردویہ نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ اذا زلزلت مدینہ میں نازل ہوئی۔ 3۔ احمد وابوداوٗد والنسائی والحاکم وصححہ وابن مردویہ اور بیہقی نے شعب الایمان میں عبداللہ بن عمرو ؓ سے روایت کیا کہ ایک آدمی رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اور کہنے لگا یا رسول اللہ ! مجھے کچھ پڑھا دیجیے آپ نے فرمایا ” المر “ والی تین سورتیں پڑھ۔ اس نے کہا میں بوڑھا ہوگیا ہوں دل بھی سخت ہوگیا ہے اور زبان بھی موٹی ہوگئی ہے یعنی سخت کلامی پر اتر آئی ہے۔ آپ نے فرمایا حم والی تین سورتیں پڑھ۔ اس نے پھر پہلے کی طرح کہا۔ آپ نے فرمایا تین سورتیں مسجلات میں سے…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[وَاَخْرَجَتِ الْاَرْضُ : اور نکال ڈالے گی زمین ][ اَثْقَالَهَا : اپنے سارے بوجھ ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 1–4

یہ سورة الزلزال کا ترجمہ ہے لفظ زلزال اور زلزلہ دونوں سخت جھٹکا کھانے اور سخت حرکت کرنے کے معنی میں آتے ہیں دونوں باب فعللہ (رباعی مجرد) کے مصادر ہیں زلزالھا مفعول مطلق ہے جو تاکید اور بیان شدت کے لیے لایا گیا ہے جیسا کہ سورة الاحزاب میں فرمایا : ﴿وَ زُلْزِلُوْا زِلْزَالًا شَدِیْدًا﴾ یہاں بھی قیامت کے زلزلہ کو بیان فرمایا ہے، یہ زلزلہ بہت سخت اور شدید ہوگا۔ جیسا کہ سورة الحج میں فرمایا : ﴿یٰٓاَیُّھَا النَّاسُ اتَّقُوْا رَبَّكمْ اِنَّ زَلْزَلَۃَ السَّاعَۃِ شَیْءٌ عَظِیْمٌ﴾ (اے لوگو ! بیشک اپنے رب سے ڈرو، بیشک قیامت زلزلہ بہت بڑی چیز ہے) وہ زلزلہ دنیا والے زلزلوں جیسا نہیں کہ دو چار شہروں میں…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–8

حوادث وزلازل بوقت وقوع قیامت : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” اذا زلزلت الارض زلزالھا ........ الی ........ ذرۃ شرایرہ “۔ (ربط) گزشتہ سورت کا مضمون اہل سعادت وشقاوت کے اعمال وافعال اور ان کے انجام پر مشتمل تھا اور اصول سعادت اور حق تعالیٰ کے انعامات کے استحقاق کی بنیاد یہ بیان کی گئی تھی کہ وہ خشیت خداوندی ہے اور (آیت) ” ذلک لمن خشی ربہ “۔ فرما کر اس حقیقت کو واضح کردیا گیا تھا، اب اس سورت میں سعادت وشقاوت کے ثمرات مرتب ہونے کا وقت بتایا جارہا ہے کہ وہ قیامت ہے اور قیامت کا قائم ہونا، نظام عالم کا درہم برہم ہوجانا ہے اور وہی دن زندگی کے اعمال کا محاسبہ کرتا رہے اور اللہ رب العزت کی بارگاہ میں…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

3:۔ ” واخرجت الارض “ اثقال، ثقل کی جمع ہے۔ یعنی بوجھ، مراد اموات ہیں۔ نفخہ ثانیہ کے وقت زمین اپنے اندر سموئے ہوئے تمام مردوں کو باہر نکال دے گی اور وہ سب زندہ ہو کر میدان حشر کی طرف چل دیں گے۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 1–8

موضوع اس سورة کا موضوع جزائے عمل ہے اگرچہ سورة تو مختصر ہے تاہم موضوع کے لحاظ سے جامع اور مانع سورة ہے۔ اس سورة میں اس بات کی وضاحت کی گئی ہے کہ جو بھی اعمال اس دنیا میں کرتا ہے ان کی جزاء لازم ہے۔ جس طرح انسان کوئی چیز کھاتا ہے تو اس کے نتیجے میں بدہضمی پیدا ہوتی ہے۔ اسی طرح انسان جو عمل کرتا ہے۔ اس کے ساتھ اس کی جزاء بھی لازم ہے ، جس طرح پیدائش کے ساتھ موت لازم ہے اور جس طرح طلوع کے ساتھ غروب لازم ہے۔ ایسے ہی عمل کے ساتھ جزائے عمل کا ہونا ضروری ہے۔ اس سورة مبارکہ میں یہی بات سمجھائی گئی ہے۔ فضیلت حدیث پاک میں اس سورة کی بہت فضیلت آئی ہے۔ ایک شخص حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَاَخْرَجَتِ الْاَرْضُ اَثْقَالَہَا۝ 2 ۙ خرج خَرَجَ خُرُوجاً : برز من مقرّه أو حاله، سواء کان مقرّه دارا، أو بلدا، أو ثوبا، وسواء کان حاله حالة في نفسه، أو في أسبابه الخارجة، قال تعالی: فَخَرَجَ مِنْها خائِفاً يَتَرَقَّبُ [ القصص/ 21] ، ( خ رج ) خرج ۔ ( ن) خروجا کے معنی کسی کے اپنی قرار گاہ یا حالت سے ظاہر ہونے کے ہیں ۔ عام اس سے کہ وہ قرار گاہ مکان ہو یا کوئی شہر یا کپڑا ہو اور یا کوئی حالت نفسانی ہو جو اسباب خارجیہ کی بنا پر اسے لاحق ہوئی ہو ۔ قرآن میں ہے ؛ فَخَرَجَ مِنْها خائِفاً يَتَرَقَّبُ [ القصص/ 21] موسٰی وہاں سے ڈرتے نکل کھڑے ہوئے کہ دیکھیں کیا ہوتا ہے ۔ ثقل الثِّقْل والخفّة…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 1–6

ترکیب ¦ اذا شرطیۃ کان والفرق بینھا ان اذا تستعمل فی المقطوع ای اذا اردت التعلیق بما یوجد قطعا تقول اذا بخلاف ان فانھا کان لزلزال یقیناً قال اذا زلزلت فعل مجہول الارض مفعول ما لم یسم فاعلہ زلزالھا زلزال مفعول مطلق مضاف الی الضمیر الراجع الی الارض۔ قال الفراء الزلزال بالکسر مصدر و بالفتح اسم و قال القرطبی بالفتح مصدر کا لو سو اس والقلقا وقیل ھما مصدران وقد قری بھما۔ فالمصدر مضاف الی فاعلہ والمعنی ای حرکت الارض حرکۃ شدیدۃ کما قال اذا رجت الارض رجاً واخرجت الخ الجملۃ معطوفہ علی زلزلت الارض والاثقال جمع ثقل والمراد بہ الد فائن وقال الخ ایضا معطوف ما مبتداء لھا خبر والجملۃ الا ستفھامیۃ مفعول قال…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

وَاَخْرَجَتِ الْاَرْضُ اَثْقَالَھَا۔ (الزلزال : 2) (اور زمین اپنے اندر کے سارے بوجھ باہر نکال پھینکے گی۔ ) اَثْقَالْ سے مراد اَثْقَالْ ، ثقل کی جمع ہے۔ بار اور بوجھ کو کہتے ہیں۔ اس لفظ کا سب سے پہلا مصداق تو وہ مردے ہیں جو زمین میں دفن ہیں۔ وہ جسم کی حالت میں ہوں یا ان کے اجزا منتشر ہو کر زمین کے طول و عرض میں پھیلے ہوئے ہوں، قیامت کے دن زمین سب کو نکال باہر کرے گی۔ لیکن اثقال کا لفظ چونکہ عام ہے اس وجہ سے اس سے وہ خزانے اور دفینے بھی مراد ہوسکتے ہیں اور ان جرائم کی یادگاریں بھی جن کا مجرموں نے ارتکاب کیا اور زمین میں ان کو چھپا دیا۔ اسی طرح جتنی معدنیات اور جتنے خزانے اور ذخائر اس میں مدفون…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 1–5

فہم القرآن ربط سورت : البیّنہ کا اختتام ان الفاظ پر ہوا کہ ” اللہ تعالیٰ “ ہر اس شخص پر راضی ہوگا جس نے اس سے ڈر کر زندگی بسر کی اللہ تعالیٰ کے ڈر کا حقیقی تقاضا ہے کہ انسان ہر دم قیامت کا عقیدہ تازہ رکھے جس دن کی ابتداء بڑے بڑے زلزلوں سے ہوگی۔ قرآن مجید نے یہ حقیقت بڑی تفصیل کے ساتھ بتلائی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے حکم سے جب پہلی دفعہ اسرافیل صور میں پھونک مارے گا تو زمین و آسمانوں میں ایسا بھونچال آئے گا کہ بالآخر ہر چیز ختم ہوجائے گی۔ ایک مدّت کے بعد جس کا علم اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کو نہیں اس مدّت میں صرف اللہ تعالیٰ کی ذات ہی باقی رہے گی۔ اسرافیل دوسری پھونک مارے گا تو ایک دفعہ پھر زمین پر…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

دفائن ارض : 2 : وَاَخْرَجََتِ الْاَرْضُ اَثْقَا لَھَا (اور زمین اپنے بوجھ باہر نکال پھینکے گی) اثقال جمع ثقل۔ خزانے اور مردے۔ ثقل گھر کے سامان کو کہتے ہیں۔ دفائن ارضی کو اثقال سے تعبیر فرمایا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

2 ۔” واخرجت الارضاثقالھا “ اپنے مردے اور خزانے، پس ان کو اپنے اوپر ڈال دے گی۔ حضرت ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ زمین اپنے اندر کے خزانوں کے قے کردے گی جو ستونوں کی مثل ہوں گے سونے اور چاندی کے۔ پس قتل کرنے والا آئے اور کہے گا اس کی وجہ سے میں نے قتل کیا اور قطع رحمی کرنے والا آئے گا اور کہے گا اس کی وجہ سے میں نے اپنے رشتہ توڑے اور چور آئے گا اس کی وجہ سے میرا ہاتھ کاٹا گیا، پھر وہ اس کو چھوڑ دیں گے اس میں سے کچھ بھی نہ لیں گے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 1–8

1۔ 8۔ دجال کا پیدا ہونا سورج کا مغرب سے نکلنا۔ لال آندھی کا آنا۔ جس طرح یہ چیزیں دنیا کی مدت اخیر ہونے کی علامتیں ہیں اسی طرح اس وقت ایک زلزلہ بھی لال آندھی کے آنے کے بعد آئے گا جس کا ذکر ترمذی 1 ؎ وغیرہ میں حضرت ابوہریرہ ؓ وغیرہ کی روایت سے آیا ہے اور ایک زلزلہ دوسرا صور پھونکا جائے گا جس آئے گا جس کا ذکر قرآن شریف میں کئی جگہ آیا ہے اس آیت میں جو زلزلہ کا ذکر ہے بعض مفسر کہتے ہیں کہ اس سے پہلا زلزلہ مراد ہے اور بعض کہتے ہیں دوسرا زلزلہ مراد ہے۔ اس زلزلہ کے ساتھ ہی اللہ تعالیٰ نے حساب و کتاب اور زمین کی شہادت کا ذکر فرمایا ہے اور یہ باتیں تو ضرور دوسرے صور کے بعد کی ہیں اس لئے اس زلزلہ سے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

(وَاَخْرَجَتِ الْاَرْضُ اَثْقَالَهَا) اور زمین اپنے بوجھ نکال ڈالے گا۔ یعنی زمین کے پیٹ میں جو خزانے اور مردے ہوں گے وہ انہیں نکال کر باہر کرے گی۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 2–3

(2) اثقال زمین سے مقصود و مراد ؟ سو ارشاد فرمایا گیا کہ اس روز زمین نکال باہر کرے گی اپنے اندر کے سارے بوجھ۔ یعنی ان مردوں کو جو کہ ہزار ہا برس قبل اس کے پیٹ میں تارے گئے ہوں گے، اور جن کا بظاہر نام و نشان بھی باقی نہ رہے گا، نیز اس روز یہ زمین اگل دے گی ان تمام دفائن و خزائن کو جو کہ قدرت نے اس کے اندر ودیعت فرمائے ہوں گے، چناچہ وہ سب اس موقع پر باہر پڑے ہوں گے مگر کوئی ان کو لینے اور اٹھانے کے لیے تیار نہ ہوگا کہ وہ منظر ہی ہولناک ہوگا اس وقت ابناء دنیا رہ رہ کر افسوس کریں گے کہ یہی وہ متاع دنیا جس کے ہم نے اپنی دنیاوی زندگی میں طرح طرح کے پاپڑ بیلے تھے، اور چوری، ڈکیتی، قتل و خونریزی اور…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 1–8

قیامت کا واقعہ اعمال کا اندراج اور گواہی تشریح : یہاں قیامت کا ذکر کرتے ہوئے زمین کے حالات بتائے جا رہے ہیں کہ زمین میں شدید زلزلہ آئے گا، جیسے انڈہ توڑو تو اس کے اندر کا مال سفیدی زردی سب باہر نکل آتا ہے ایسے ہی زمین کا حال ہوگا۔ ہم زمین کے بارے میں کافی بحث کرچکے ہیں۔ مختصراً عرض ہے کہ زمین کی اوپر کی سطح نے اس کے اندر کے سارے مال کو محفوظ کر رکھا ہے۔ وہ مال ہے تیل گیس ' معدنیات ' کوئلہ ' ہیرے اور قیمتی پتھر یہ سب کچھ سمندر کی طرح موجیں مار رہا ہے۔ جس کی نشاندہی قرآن پاک میں کی گئی ہے۔ اور اس کی تصدیق ان آتش فشاں پہاڑوں سے نکلنے والے لاوے سے ہوتی رہتی ہے جو اکثر و بیشتر پہاڑ کی کسی نہ کسی…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–8

سورة الزلزال آیات 1 تا 8۔ اسرار ومعارف۔ جب زمین کو جھنجھوڑ ڈالا جائے گا ، یعنی قیامت قائم ہوگی اور زمین تمام لوگوں کو اور مال وزر کو اگل دے گی یا وہ راز جو بہرحال اس کے پاس محفوظ ہوں گے کھول دے گی تو انسان کہہ اٹھے گا زمین کو کیا ہوگیا اس نے تو سب کچھ بتادیا۔ ہاں ضرور بتائے گی کہ تیرے پروردگار کا حکم اس کو بتانے ہی کا ہوگا اس روز لوگ الگ الگ طبقے اور جماعتیں بن جائیں گے جس طرح کے لوگوں اور کردار کی رفاقت دنیا میں اختیار کی اسی طرح کے گروپوں میں کھڑے ہوں گے کہ اپنے اعمال کے نتائج کو دیکھیں جس کسی نے ذرہ برابر بھی نیکی کی ہوگی وہ اس کا بدلہ پائے گا اس سے علماء نے دلیل اختیار فرمائی ہے کہ جس کے…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 1–3

ف 2 یعنی قیامت کے قریب جب وہ صور پھونکے جانے سے دہل جائے اور اس میں بھونچال آجائے۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(99:2) واخرجت الارض اثقالہا۔ اس جملہ کا عطف جملہ سابقہ پر ہے۔ اثقالہا : اثقال۔ ثقل کی جمع ہے بمعنی بوجھ۔ مضاف۔ ھا ضمیر واحد مؤنث غائب جس کا مرجع الارض ہے۔ مضاف الیہ۔ اپنا بوجھ۔ جب زمین اپنے بوجھ نکال پھینکے گی۔ بوجھ سے مراد دفینے اور خزانے ہیں۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–8

لغات القرآن۔ زلزلت۔ ہلاڈالی گئی۔ اثقال۔ بوجھ۔ مالھا ۔ کیا ہوگیا اسے ؟ ۔ تحدت۔ بیان کردے گی۔ اخبر۔ خبریں۔ حالات۔ یصدر۔ باہر نکلنے گا۔ لوٹے گا۔ اشتات۔ مختلف گروہ۔ مثقال ۔ وزن۔ برابر۔ یرہ۔ وہ اس کو دیکھ گا۔ تشریح : نبی کریم حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے کہ جب زمین پر ایک شخص بھی اللہ اللہ کہنے والا نہ رہے گا تو نظام کائنات کو درہم برہم کرکے ہر چیز پر فنا کی کیفیت طاری کردی جائے گی۔ اسی کو قیامت کہا جاتا ہے جو برحق ہے اور اس کے آنے میں ذرا بھی شک نہیں ہے۔ لیکن پہلا صور پھونکے جانے کے بعد کیا ہوگا اس کو اس سورت میں بیان فرمایا گیا ہے۔ ارشاد ہے کہ جب زمین مسلسل جھٹکوں اور زلزلوں سے ہلا ماری…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

(ف 2) یعنی اس وقت زمین جو کچھ اس کے پیٹ میں ہے مثلا مردے یا سوناچاندی وغیرہ سب اگل کر باہر کرڈالے گی لیکن کوئی مال کو لینے والا نہیں ہوگا، سب دیکھ لیں گے آج یہ چیز جس پر ہمیشہ لڑا کرتے تھے کس قدر بیکار ہے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 1–8

ف 1: سابقہ سورة کا اختتام ان آیتوں پر ہوا تھا کہ منکرین بدترین خلائق ہیں اور ان کو جو سزا ملے گی ۔ وہ بھی بدترین مقام پر فائز ہوں گے ۔ سوال یہ پیدا ہوتا تھا کہ یہ وقت مکافات اور جزا کا کب آئے گا ۔ جب لفخہ ثانیہ کے وقت زمین میں ایک شدید حرکت اور جنبش ہوگی ۔ اور زمین اپنے تمام ذخائر وخزائن اگل دے گی ۔ اس وقت یہ لوگ کہیں گے کہ یہ کیا ہونے والا ہے ۔ اس وقت یہ بےزبان زمین بتائے گی کہ اس کے سینے پر انسانوں نے کیسی معصیت کوشی کی زندگی بسر کی ہے ۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس کو اس نوع کی تلقین کررکھی ہوگی ۔ یہ وہ دن ہوگا جب لوگ گروہ درگروہ موقف حساب سے واپس ہوں گے ۔ وہ لوگ دیکھیں گے کہ ذرہ برابر نیکی جو…

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

اور زمین اپنے بوجھ نکال باہر پھینکے گی 2 ؎ (اثقالھا) اس کے بوجھ ، یہاں دفینے اور خزانے مراد ہیں ۔ اثقال مضاف ھا ضمیر واحد مؤنث غائب مضاف الیہ مطلب بالکل صاف ہے کہ جب بار بار زمین ہلائی جائے گی اور اس میں شدید جھٹکے آئیں گے تو اس سے جتنے دفینے زمین کے اندر ابھی تک دفن ہوں گے وہ سب کے سب نکلنے شروع ہوجائیں گی ۔ بلا شبہ ایک زلزلہ وہ بھی ہوگا جس سے زمین پر ہر ایک چیز فنا ہوجائے گی لیکن اس جگہ اس کا ذکر نہیں اور نہ یہاں مردوں کے نکلنے کا ذکر ہے جیسا کہ اکثر مفسرین نے اس جگہ ان کا ذکر کیا ہے۔ اس طرح قیامت کا ذکر اور علامات قیامت کا ذکر لوگوں نے گڈ مڈ کردیا ہے اور اس طرح اس کو ملا جلا دیا ہے کہ ان…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 2–6

Verse [ 2] وَأَخْرَ‌جَتِ الْأَرْ‌ضُ أَثْقَالَهَا (and the earth will bring forth its burdens.) Muslim has recorded in his Sahih from Abu Hurairah ؓ that the Messenger of Allah ﷺ said: "The earth will throw out the pieces of its liver [ contents ]. Gold and silver will come out like columns. A murderer will come and say: 'I killed for this?' The one who broke the ties of kinship will say: 'For this I severed the ties of kinship?' The thief will say: 'For this I got my hand amputated?' Then they will leave it there, and no one will take anything from it."

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

2 This same has been expressed in Surah Al-Inshiqaq: 4, thus: "And throws out whatever is within it, and becomes empty." It has several meanings: (1) It will cast out bodies of the dead in whatever form and state and wherever they may be Iying in the earth; and the following sentence indicates that at that time all the scattered parts of the bodies will reassemble and be resurrected once again in the same form and shape as they had been in their first life, for if it were not so, how will they say: "What has happened to the earth ?" It will not only cast out the dead bodies of men but also…

Read the full tafseer →