Ayah 99:1وہ وقت یاد کر وجب زمین زلزلہ سے ہلا دی جائے گی
1 ؎ (زلزلت) وہ ہلائی گئی۔ اس کو لرزایا گیا ۔ اس کو زلزلہ میں ڈالا گیا زلزلۃ اور زلزال سے ماضی مجہول کا صیغہ واحد مؤنث غائب ( زلزالھا) اس کا بھونچال ۔ اس کا زلزلہ ۔ اس کا ہلا دینا ۔ زلزال مصدر مضاف ھا ضمیر واحد مؤنث غائب مضاف الیہ ۔ وہ جھٹکے جو زور دار طرقہ سے زمین کو لگتے ہیں زلزلہ کہے جاتے ہیں ۔ قدرت الٰہی نے مین کے اندر کیا کیا مادے اور لادے دبا کر رکھے ہیں اور اکثر اس جگہ میں جہاں پہاڑ پیدا کیے گئے ہیں وہ مادے زمین کے اندر ان پہاڑوں کے نیچے حرکت کناں ہیں اور اپنے اندر ہی کے زور سے بعض اوقات پہاڑ کو پھاڑ کر باہر نکل آتے ہیں اور ان پہاڑوں کو آتش فشاں پہاڑ کہا جاتا ہے کیونکہ جب بھی کوئی لاوا پھٹتا ہے یعنی زوردار طریقہ سے ابھرتا ہے تو زمین کو یا پہاڑ کو پھاڑ کر آگ کے شعلے کی طرح یا پانی کے فوارے کی طرح نکلنا شروع ہوتا ہے اس زور دے کر پھٹنے سے زمین سخت ہلتی ہے اور یہ بھی کہ نکلنے والے مادے میں جتنا زیادہ زور ہوتا ہے اتنا زیادہ زلزلہ آتا ہے۔ جتنی دیر وہ مادہ زوردار طریقہ سے نکلتا رہتا ہے زمین ہلتی رہتی ہے اور اس طرح زمین کے ہلنے کو زلزلہ کہتے ہیں۔ قیامت کی آمد کا زلزلہ بہت ہی شدید ہوگا اور اس طرح تھرتھرانے اور زوردار طریقے سے ہلنے سے اس کا پھٹنا شروع ہوجائے گا اور چونکہ زمین بھی دوسری سیاروں کی طرح ایک سیارہ ہے جب یہ پھٹے گا تو اس کے ساتھ ہی دوسرے سیارے بھی پھٹنا شروع ہوجائیں گے اور اس طرح اس پورے نظام کو بدلنے کے لیے اس وقت کا سارا نظام درہم برہم کر کے رکھ دیا جائے گا ۔ اس زلزلہ سے مراد زلزلہ قیامت نہیں ہو سکتا کیونکہ زلزلہ قیامت کے شروع ہونے کے بعد کسی لمبے عرصے تک ہر ایک چیز کا زندہ رہنا متحقق نہیں ہے بلکہ ان پے در پے جھٹکوں سے تو پورا نظام درہم برہم کر کے رکھ دیا جائے گا اتنی لمبی فرصت نہیں ملے گی کہ لوگ آپس میں باتیں کریں اور ادھر ادھر دھیان دیں اور اس طرح کی بحث چھڑے جس کا ذکرآگے آ رہا ہے۔ قیامت کے زلزلہ کا ذکر عروۃ الوثقیٰ ، جلد ششم سورة الج کی آیت اول اور دوم میں کیا گیا ہے پھر اس کے بعد سورة القمر کے شروع ہی میں اس کا ذکر آیا ہے اور اس طرح مختلف مقامات پر اس کا ذکر بھی کیا گیا ہے۔ اس جگہ ایک زلزلہ نہیں بلکہ بار بار جھٹکے آنا اور بار بار زمین کے کانپنے کا ذکر ہے جن زلزلوں کے جہاں نقصانات ہوتے ہیں وہاں فوائد بھی بہت ہوتے ہیں کیونکہ بڑے بڑے قیمتی اجزاء زمین باہر پھینک دیتی ہے اور وہ انسانی زندگی کے لیے ایک بہت بڑا متاع ثابت ہوتے ہیں جن میں سونا ، چاندی ، لوہا ، تانبا ، گندھک اور اسی قبیل کی بہت سی دوسری چیزیں اور دھاتیں زمین اٹھا کر باہر پھینک دیتی ہے جو ٹھنڈی ہو کر انسانوں کے کام آتی ہیں۔
Ayah 99:2اور زمین اپنے بوجھ نکال باہر پھینکے گی
2 ؎ (اثقالھا) اس کے بوجھ ، یہاں دفینے اور خزانے مراد ہیں ۔ اثقال مضاف ھا ضمیر واحد مؤنث غائب مضاف الیہ مطلب بالکل صاف ہے کہ جب بار بار زمین ہلائی جائے گی اور اس میں شدید جھٹکے آئیں گے تو اس سے جتنے دفینے زمین کے اندر ابھی تک دفن ہوں گے وہ سب کے سب نکلنے شروع ہوجائیں گی ۔ بلا شبہ ایک زلزلہ وہ بھی ہوگا جس سے زمین پر ہر ایک چیز فنا ہوجائے گی لیکن اس جگہ اس کا ذکر نہیں اور نہ یہاں مردوں کے نکلنے کا ذکر ہے جیسا کہ اکثر مفسرین نے اس جگہ ان کا ذکر کیا ہے۔ اس طرح قیامت کا ذکر اور علامات قیامت کا ذکر لوگوں نے گڈ مڈ کردیا ہے اور اس طرح اس کو ملا جلا دیا ہے کہ ان زلزلوں کو قیامت کے زلزلے کے ساتھ ملا دیا ہے جو کسی حال میں بھی درست نہیں ہے ۔ ان زلزلوں اور جھٹکوں کو قیامت کے بہت بڑے زلزلے سے تشبیہ دی گئی ہے اور اس بہت بڑے زلزلے کی آمد کی اطلاع ہے تاکہ ان کی طرف دیکھ کر لوگوں کو اس بہت بڑے زلزلے کا بھی یقین آجائے۔ ان زلازل سے زمین اپنے بوجھ ہلکے کر رہی ہے صرف ایک سو سال کے اندر اندر کتنے نئے بوجھ زمین نے نکالے۔ مٹی کا تیل ، سوئی گیس اور اسی طرح کی کتنی دوسری چیزیں ہیں جو اس صدی کی دریافت ہیں اور جوں جوں آگے بڑھیں گے نہ معلوم ابھی کیا کیا چیزیں زمین کے اندر دفن ہیں جو اپنے اپنے وقت پر نکلیں گی اور اس طرح زمین اپنے بوجھ ہلکے کرے گی بلا شبہ جب زلزلے آتے ہیں تو زمین کے بطن میں جو چھپا ہے وہ نکال باہر پھینک دیتی ہے اور اس طرح ایک وقت آئے گا کہ یہ زمین کے اندر انسانوں کا بوجھ جو سمایا ہے اس کے نکلنے کا وقت بھی یقینا آئے گا ۔ پہلے یہ نظام درہم برہم کیا جائے گا اور سارے نظام کو فنا کرنے کے بعد دوبارہ نظام قائم کیا جائے گا اور پھر زمین کو حکم ہوگا کہ وہ مردے بھی اٹھا کر باہر پھینک دے اور لوگ جہاں بکھرے پڑے ہیں یا ان کے اجزا اجزاً لا یتجزی بن کر زمین کے اندر دفن پڑے ہیں حکم الٰہی سے اکٹھے ہو کر انسان اپنی اپنی شکل و صورت میں اٹھا کھڑے کیے جائیں گے۔
Ayah 99:3اور انسان حیرت سے کہے گا کہ اس کو کیا ہوگیا ہے ؟
3 ؎ زمین کے بار بار کپکپانے اور بار بار ہلائے جانے اور لرزنے اور لرزانے کے باعث انسان حیران و ششد رہوں گے اور ان کی سمجھ میں کچھ بھی نہیں آئے گا کہ اس زمین کو کیا ہوگیا ہے کہ اس طرح بار بار کیوں کپکپا رہی ہے ؟ اس کو کیا ہوگیا ہے کہ ساکن ہو ہی نہیں رہی ؟ اسی طرح انسانوں کا حیران اور ششدر ہونا ہی کسی نتیجہ پر پہنچے گا کہ ایسا کیوں ہے ؟ یہ سب کی سب علامات ِ قیامت ہیں اور ان کا ظاہر ہونا یقینی ہے اور اس طرح یہ بھی لازم ہے کہ زمین ابھی اپنے بوجھ ہلکے کرے اور انسان اس پر تعجب کرے اور اتنی چیزیں وہ انسان کے سامنے رکھ دے کہ انسان ان کے استعمال کے طریقے نہ جاننے کے باعث مبہوت ہو کر رہ جائے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس وقت تک دنیا میں جو ترقی ہو رہی ہے یہ اس کے مقابلہ میں کچھ بھی نہیں جس کا ہونا بھی باقی ہے یہ گویا دوڑ رہے انسانی علوم کی اور زمین کے دفینوں کو نکال باہر پھینکنے کی اور ایک سو سال کی مدت کے اندر زمین نے صرف فصلوں کی پیداوار میں جو اضافہ کیا ہے اگر اس کا اندازہ لگا یا جائے تو وہ کئی سو گنا زیادہ ہوگا اور یہی حال خود انسانوں کے اجسام کا ہے جو آئے دن پیدا ہو رہے ہیں ۔ انسانی فطرت کا جوڑ بڑا عجیب ہے کہ اس کو جب بھی کسی طرح کی کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو اسکے بعد جو راحت اس کو ملتی ہے وہ اس تکلیف کو اس کے ذہن سے محوکر دیتی ہے اور اسکے بہت سے غم بھول جاتے ہیں ۔ پے در پے زلزلوں کا آنا بھی بہت دکھ اور تکلیف کا باعث ہوگا لیکن اس تکلیف اور دکھ کے بعد انسانیت کو بہت سکھ بھی ملیں گے اس سے انکار نہیں کیا جاسکتا ۔ دنیا کی زندگی کے مقابلہ میں ایک انسان کی زندگی کی کچھ بھی مدت نہیں ہے تا ہم ہم دیکھ رہے ہیں کہ ان زلزلوں میں آئے دنوں اضافہ ہورہا ہے۔ سورج کی تپش بڑھ رہی ہے ، گرم علاقوں کی زمین پہلے سے زیادہ گرم ہوتی چلی جا رہی ہے اور زمین میں گرمی برداشت کرنے کی صلاحیت پہلے سے بہت کم ہو رہی ہے ۔ موسموں کے تغری و تبدل بھی ایک کھلی دلیل ہے کہ ان میں پہلے سے زیادہ اختلاف رونما ہو رہا ہے۔ آنے والے انسان بہت کچھ دیکھنے کے لیے آ رہے ہیں جو پہلے نہ دیکھ سکے ہم دیکھ رہے ہیں جو ہم دیکھ رہے ہیں وہ اس کے مقابلہ میں کچھ بھی نہیں جو آنے والے لوگوں کو دکھایا جانے والا ہے اس طرح ہر سو سال کے بعد جو فرق نمایاں ہوتا ہے اس میں بہت تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے اور ابھی مزید تیزی سے اضافہ ہوگا اور انسان کی حیرانی میں اضافہ ہو رہا ہے اور ہوتا رہے گا ۔ قرآن کریم نے جو انسانوں کا حال بیان کیا ہے یہ کسی ایک انسان کا نہیں اور نہ ہی کسی ایک دور کے انسان کا ہے ہم نے بچپن دیکھا اور اس وقت آنے والوں کا بچپن دیکھ رہے ہیں اور اس میں تبدیلیاں آئی ہیں وہ بھی نگاہوں میں ہیں آج ہماری حیرت کا جو باعث ہیں کل ان کی حیرت کا باعث آنے والے ہوں گے۔؎
وہ بجلی کا کڑکا تھا یا صوت ہادی عرب کی زمین جس نے ساری ہلا دی
نئی ایک لگن سب کے دل میں لگا دی ایک آواز میں سوئی بستی جگا دی
پڑا ہر طرف غل یہ پیغام حق سے
کہ گونج اٹھے دشت و جبل نام حق سے
Ayah 99:4اس دن وہ اپنی ساری پوشیدہ چیزیں بیان کر دے گی
4 ؎ (یومئذ) سے کوئی ایک خاص دن مراد نہیں ہے جیسا کہ اکثر مفسرین نے قیامت کا دن مراد لیا ہے۔ قیامت کے دن جو کچھ ہوگا وہ اچانک ہوگا اور اچانک یکبارگی سارا نظام بدل کر رکھ دیا جائے گا۔ ( یومئذ) ہر آنے والے دن کا بیان ہے جیسے آج نقد کل ادھار ( یومئذ) اسم ظرف منصوب اذ مضاف الیہ ۔ اس دن ایسے واقعات کے دن زمین اپنی خبریں بیان کر دے گی یعنی نئی دریافت ہونے والی چیزوں کا تذکرہ ہر زبان پر ہوگا اور صبح کا ناشتہ اتنا ضروری نہیں ہوگا جتنا نئی نئی اخبارات کے سننے کا ذوق اور شوق ہوگا اور جونہی اخبار پر انسان کی نظر پڑے گی اور نئی نئی خبروں کی اطلاع پا کر وہ مطمئن ہوجائے گا ۔ یہ زمین اپنی خبریں نہیں بتا رہی تو اور کون بتا رہا ہے اور کیا انسان ہر روز اس دھرتی کے نئے نئے واقعات سے آگاہ نہیں ہو رہا تو اور کیا ہورہا ہے ؟ ایک انسان دنیا کے کسی کونے میں بیٹھ کر کسی بھی دوسرے کو نے کی باتوں کو اس طرح سن رہا ہے جیسے کسی ایک ہی مکان کے مکین کسی دوسرے کونے کی خبر سنتے ہوں اور اس طرح گویا پوری زمین ایک گھر کی مانند ہو کر رہ گئی ہے جس کے لیے آج کل (Global Village) کی اصطلاح استعمال کی جا رہی ہے۔ اب تو اس کا دائرہ مزید وسیع ہونے والا ہے کہ صرف یہ دریافت شدہ زمین انسان کے لیے ناکافی ہوتی جا رہی ہے اور فطرت نے اس کا دائرہ بہت تنگ کردیا ہے۔ اس وقت انسان کا رجحان میدانی علاقوں میں کھلے مکانات بنانے کا ہے عین ممکن ہے کہ آنے والے انسان جب اس زمین کی منصوبہ بندی کریں تو وہ لازم قرار دیں کہ ان پہاڑی علاقوں میں رہائش گاہیں بنائی جائیں اور ان کو ہموار کر کے میدان بنا لیا جائے تاکہ یہ قدرتی میدان ان کی خوراک کے لیے باقی رہ سکیں اور اس طرح کی خبریں آئیں گی تو بلا شبہ وہ نئی خبریں ہی ہوں گی اور زمین اپنی خبریں آپ بیان کر رہی ہے اور آگے آگے اس کی ان خبروں میں ابھی مزید اضافہ ہوگا ۔ زیر نظر آیت اس طرف رہنمائی کر رہی ہے اور آنے والی آیت اس کی مزید وضاحت کرتی نظر آتی ہے۔
آج سے کچھ عرصہ قبل جب یہ آیات تلاوت کی جاتیں تو کمزور ایمان والے لوگ ان کی مختلف تاویلات کرتے ۔ اندھی بہری زمین کو کیا پتہ کہ اس پر کیا ہو رہا ہے ؟ بےجان در و دیوار کیا جانیں کہ انکے احاطہ میں کیا کیا گل کھلائے جا رہے ہیں ؟ ویرانوں اور تاریکیوں میں یک و بد اعمال کی جو دنیا آباد رہی ان کا سراغ کیسے لگایا جاسکتا ہے ؟ اس قسم کے شکوک انہیں پریشان کیا کرتے لیکن سائنس کی محیر العقول ایجادات نے ان سب سوالات کا علمی جواب بہم پہنچا دیا ہے ۔ ریڈیو ، ٹیلی ویژن اور پھر ٹیپ ریکارڈر کی ایجادنے ان تمام شکوک کا ازالہ کردیا ۔ جب ریڈیو سٹیشن سے نشر ہونے والی آواز ، آن واحد (Fractions of Second) میں دنیا کے گوشے گوشے میں پہنچ جاتی ہے اور سنی بھی جاسکتی ہے۔ جب ٹیلی ویژن سٹیشن پر پیش کے جانے والا پروگرام اپنی تفصیلات کے ساتھ دور دور تک دیکھا جاسکتا ہے ، مکانوں کی دیواریں ، قلعوں کی فصیلیں ، اونچے اونچے پہاڑ اور گھنٹے جنگلات ان تصاویر کو دیکھنے میں مانع نہیں ہو سکتے۔ جب ریکارڈ کے ذریعے ہر آواز کو اسکے لب و لہجہ اور زیر و ہم کے ساتھ مقید (Record) کیا جاسکتا ہے اور جب کوئی چاہے انہیں باربار سن سکتا ہے اگر ریڈار کی آنکھ ہزاروں میل دور اڈوں سے اڑنے والے جہازوں کا سراغ لگا سکتی ہے تو اب اس بات میں کوئی شبہ نہ رہا کہ زمین کا ذرہ ذرہ ایک خاموش تماشائی کی طرح ہماری کارستانیوں کو دیکھ رہا ہے اور اس کا ریکارڈ مرتب کر رہا ہے۔ قیامت کے روز ہماری زندگی کی پوری فلم تفصیل سے ہمیں دکھا دی جائے گی پھر کس کی یہ ہمت ہوگی کہ وہ ان چیزوں کا انکار کرے۔ قرآن کریم نے بڑی صراحت سے ان انتظامات کا تذکرہ کیا ہے جو قدرت کی طرف سے روز حساب کے فیصلوں کو عدل و انصاف کے تقاضوں کے مطابق کرنے کے لیے کردیئے گئے ہیں ۔ کراما ًکاتبین موقع پر (On the Spot) نیک و بد اعمال کا تحریری ریکارڈ تیار کر رہے ہیں ۔ ہمارے اعضاء قیامت کے دن سلطانی گواہ کی حیثیت سے پیش کیے جائیں گے۔ ارشاد الٰہی ہے کہ : (اَلْیَوْمَ نَخْتِمُ عَلٰٓی اَفْوَاھِھِمْ وَتُکَلِّمَُنَـآ اَیْدِیْھِمْ وَتَشْھَدُ اَرْجُلُھُمْ بِمَا کَانُوْا یَکْسِبُوْنَ ) (یٰسین : 65)
کوئی قرطبہ کے کھنڈر جا کے دیکھے مساجد کے محراب و در جا کے دیکھے
حجازی امیروں کے گھر جا کے دیکھے وہ اجڑا ہوا کروفر جا کے دیکھے
جلال ان کا کھنڈروں میں ہے یوں چمکتا
کہ ہو خاک ان کا کھنڈروں میں ہے یوں چمکتا
کہ ہو خاک میں جیسے کند و مکتا
Ayah 99:5اس لیے کہ تیرے رب نے اس کو اس کا حکم دیا ہے
5 ؎ ( اوحیٰ ) اس نے حکم دیا ۔ اس نے وحی بھیجی ، اس نے ارشاد کیا ایحاء سے جس کے معنی حی کرنے ، حکم دینے اور اشارہ کرنے کے ہیں ۔ ماضی کا صیغہ واحد مذکر غائب ۔ مطلب یہ ہے کہ زمین جس طرح اپنے دفینے اگل رہی ہوگی وہ اس کے اپنے اختیار میں نہ ہوگا اور نہ ہی اپنے اختیار سے وہ ایسا کر رہی ہوگی بلکہ اس کا اشارہ کرنے والا اشارہ کرتا ہوگا ، حکم دینے والا حکم دے رہا ہوگا ، اس کی طرف اپنا پیغام بھیجنے والا پیغام بھیج رہا ہوگا اور وہ ایسا کرنے پر مجبور ہوگی کیونکہ وہ اس کے حکم کی پابند ہے اور پھر وہ اس کے حکم کی خلاف ورزی کر ہی نہیں سکتی کیونکہ وہ انسان کی طرح صاحب اختیار اور صاحب ارادہ نہیں ہے بلکہ جو کچھ رونما ہوگا وہ حکم الٰہی سے ہوگا جس کے سامنے ہر ایک چیز چار و نا چار پابند ہے اور اگر کوئی اختیار و ارادہ رکھتا ہے تو صرف اور صرف انسان ہے اور وہ بھی ایک حد تک ہے۔
Ayah 99:6آج کے دن لوگ مختلف ہوں گے اور اپنے اعمال کے نتائج کو دیکھیں گے
6 ؎ (یصدر) واحد مذکر غائب مضارع صدر واپس لوٹیں گے۔ صدر سینہ ۔ ہرچیز کا اگلا حصہ سامنے کا حصہ ( مصدر نصر و ضرب) لوٹنا ، لوٹانا ، سینہ پر مارنا ، پانی پی کر گھات پر سے واپس آنا ۔ صادر گھاٹ سے پانی پی کر واپس آنے والا وارد کا مقابل مصدر وہ اسم جس سے تمام افعال اور صفت کے صیغے مشتق ہوتے ہیں اصدار لوٹانا۔ ( اشناتا) جدا جدا ، طرح طرح شت اور شتات کی جمع ہے جس کے معنی پراگندہ اور متفرق ہونے کے ہیں ۔ زمانہ کے حالات کی تصویر سامنے لانے کے لیے وقت کی ایک اکائی تصویر کرلو جس کی مدت بیس ، تیس ، چالیس یا پچاس سال مقرر کرلو اور پھر تجویز کر کے دیکھتے جائو کہ اس دنیا میں جو بھی ترقی ہو رہی ہے اس مدت میں جس کا تعین آپ نے خود کیا ہے کیا رہی ہے اور لوگ دنیا میں منہمک ہو کر آخرت سے کس قدر غفلت میں پڑتے جا رہے ہیں اور ہر ایک گروہ کا کیا تمہارے سامنے آتا جائے گا اور ہر گروہ اپنے اعمال کو اپنی آنکھوں سے دیکھ لے گا کہ کس نے کیا کھویا اور کیا پایا ۔ آخرت میں جب یہ نقشہ پیش ہوگا تو اس روز محض فیصلہ ہوگا نہ کہ کسی کو دیکھ کر اپنی اصلاح کا موقع ملے گا لیکن اس دنیا میں جب تک انسان ہے اس کے لیے اس کی اصلاح کا موقع بھی موجود ہے اور اعمال کے دیکھنے سے فائدہ اس وقت ہو سکتا ہے جب اس کے لیے اصلاح کا موقع بھی موجود ہو جب اصلاح کا موقع نہ رہا تو پھر اعمال کے نتائج سے دو چار ہونا ہے اور وہ جیسے اعمال ہوں گے ویسا نتیجہ سامنے آجائے گا لیکن وہ قومیں اور وہ افراد اپنی اصلاح کرسکتے ہیں جو دنات میں اپنے کیے پر نگاہ رکھتی ہوں یا نگاہ رکھتے ہوں لیکن افسوس کہ قوم مسلم کے لوگ ہوں یا جماعتیں کم ہی اس طرف کسی کا خیال گیا ہے کہ اصلاح کیسے ممکن ہے اور خصوصاً قومی اصلاح جس کے فوائد اس زندگی میں بھی انسان دیکھتا ہے اور آخرت میں بھی ان شاء اللہ العزیز ان سے دو چار ہوگا ۔ دنیوی ترقی کا انحصار بھی اسی اصلاح پر ہے اور آخرت کا انحصار بھی اسی اصلاح پر ہے لیکن ہم من حیث القوم اس سے غافل ہوچکے ہیں حالانکہ اعمال میں غفلت کرنے والی قوم یا قوم کے افراد نہ اس دنیا میں کامیابی حاصل کرتے ہیں اور نہ آخرت میں اور آج بد قسمتی سے ہماری حالت یہی ہو رہی ہے کہ دھوبی کا کتا نہ گھر کا نہ گھاٹ کا ۔ قوم کے اٹھانے والے دونوں طبقے اپنے اپنے حال میں مست ہیں اور قوم کی ضرورت ان کو صرف ووٹوں کے وقت ہوتی ہے آگے پیچھے قوم اپنے حال میں سرگرداں ہے اور لیڈر اپنے حال میں مست ہیں اور کسی ایک کو دوسرے کی ضرورت نہیں اور اگر کہیں ضرورت پڑے تو معیار زندگی کا فرق آڑے آتا ہے اس لیے کوئی ایک بھی دوسرے سے فائدہ حاصل نہیں کرسکتا اور دونوں اپنی اپنی جگہ پابہ زنجیر ہیں حالانکہ قانون خداوندی دونوں کو للکاررہا ہے اور دو ٹوک سنا رہا ہے۔
Ayah 99:7جس نے ذرہ برابر نیکی کی ہوگی وہ اسے دیکھ لے گا
7 ؎ گزشتہ آیت میں بیان کیے گئے اصول کی مزید وضاحت کی جا رہی ہے اور قرآن کریم نے یہ مضمون متعددمقامات پر بیان کیا ہے کہ انسان ایک ذمہ دار مخلوق ہے۔ وہ جو بھی اچھے یا برے اعمال کرتا ہے اس کے لیے جوابدہ ہے۔ قرآن کریم کہتا ہے کہ یہ انسان کی سخت غلطی ہے کہ دو دوسرے جانوروں اور حیوانوں کی طرح اپنے آپ کو عبث اور بےکار مخلوق خیال کرتا ہے ۔ اس کی وضاحت ہم نے عروۃ الوثقیٰ ، جلد ششم سورة المؤمنون کی آیت 115 میں تفصیل سے بیان کردی ہے وہاں سے ملاحظہ کریں اور اگر مزید وضاحت چاہتے ہوں تو اس کے لیے آپ کو عروۃ الوثقیٰ ، جلد پنجم سورة الاسراء کی آیت 36 کی تفسیر ملاحظہ کرنا ہوگی جہاں ارشاد فرمایا گیا ہے کہ تمہارے کان ، آنکھیں اور تمہارا دل سب سے پاز برس کی جاے گی اور اس حقیقت کو اس جگہ ایک نئے اسلوب میں بیان کیا جا رہا ہے کہ بڑے بڑے اعمال حسنہ یا افعال سیئہ کا تو کیا پوچھنا اللہ تعالیٰ کے ہاں تو یہ اصول طے پا چکا ہے کہ اگر ذرہ کے برابر بھی نیکی ہوگی تو اسے بھی معمولی سمجھ کر ضائع نہیں کردیا جائے گا بلکہ اس کو خوب سنبھال کر رکھا جائے گا اور جس نے وہ نیکی کی تھی اس کو دکھا دیا جائے گا کہ یہ تیری نیکی معمولی نہیں رہی بلکہ تیرے لیے ایک بہت بڑے اجر کا باعث بنی ہے اور زندہ و جاویداعمال خواہ وہ چھوٹے نظر آتے ہوں کبھی چھوٹے نہیں رہے بلکہ اس دنیا میں انہوں نے جن جن لوگوں کو فائدہ دیا اور جن جن لوگوں نے ان سے استفادہ کیا اور ان کے مطابق اچھے اعمال کرنے کی کوشش کی اس لیے ان کی ساری کوششوں میں سے اس پہلے عمل کرنے والے کے حصے میں جو حصہ ملے گا وہ بھی اسکے کام آئے گا اور اس طرح ان کا وہ معمولی اچھا عمل معمولی نہیں رہے گا بلکہ بڑھتے بڑھتے بہت بڑا اجر بن جائے گا اگرچہ یہ عمل خیر کرنے والے کے ذہن و گمان میں بھی نہ رہا ہوگا ۔ بلا شبہ قاڑمت کے روز تم کو ان اعمال کا اجر ملے گا لیکن اس دنیا میں بھی اس کے اجر سے انکار نہیں کیا جاسکتا ۔
Ayah 99:8اور جس نے ذرہ برابر بھی نیکی کی ہوگی وہ بھی اس کو دیکھ لے گا
8 ؎ اگر نیکی کا اجر اور بدلہ ہے تو بلا شبہ برائی بھی اپنے کرنے والے کے لیے اس کا عوض رکھتی ہے اور جس طرح عمل خیر کا بدلہ قیامت کے روز ملے گا عمل بد کا وبال بھی اپنے سر لینا ہوگا اور جس طرح اچھے عمل سے انسان اس دنیا میں بھی مستفید ہوتا ہے اسی طرح عمل بد کا وبال بھی دنیوی زندگی میں اس پر پڑتا ہے پھر جب طے ہے کہ اپنے لیے کاٹتا وہی ہے جو بوتا ہے اور پھر یہ بھی کہ جو کچھ بوتا ہے وہی کچھ کاٹتا ہے بلا شبہ یہ حقیقت ہے لیکن راستہ لینے والے جب انسان کو باور کراتے ہیں کہ یہ قسمت کے سودے ہیں بعض ایسے ہوتے ہیں جو گندم بوتے ہیں لیکن گند نا ان کو پیش آیا ہے کہ کھیت اس سے بھر جاتا ہے جو کہ سراسر حقیقت کے خلاف ہے ان کو سمجھ لینا چاہیے کہ یہ سودا قسمت کا نہیں بلکہ بےعقلی اور بےوقوفی کا ہے کہ انہوں نے اپنی کھیتی میں گندے کا بیج پڑے رہنے دیا اور زمین کو گندنے کے بیج سے صاف نہیں ھ کیا حالانکہ اس سے صاف کرنا ان کا فرض تھا جب انہوں نے اپنا فرض ادا نہیں کیا تو اپنا بیج انہوں نے محض دکھاوے کے لیے ڈالا اور دکھاوے کا بیج اسی طر اگا کرتا ہے اس لیے اعمال کے لیے نیت ضروری قرار دے دی گئی ہے اور نیت درست ہونے کا مطلب ہی یہ ہے کہ اس عمل کے لے تیاری مکمل کرلی جائے ، اندھا دھند بیج نہ ڈال دیا جائے کیونکہ اس طرح بیج کا ڈالنا ضائع کرنا ہے۔ قسمت کے بیٹے اسی طرح کے حیلے اور بہانے تراشتے رہتے ہیں جن کی کوئی اصلیت نہیں ہوتی خود کام کرنا نہیں چاہتے اور خواہ مخواہ کے عذر پیش کرتے ہیں اور حقیقت سو فیصدی یہی ہے اور جو رسول اللہ ﷺ نے مقرر کیے ہیں وہ اس دنیا میں اور اس دنیا میں الگ الگ نہیں ہیں بلکہ ان کے نتائج جگہ ایک جیسے ہوتے ہیں ۔ آپ کہیں گے کہ اس سورت کا مضمون جو آخرت کے متعلق تھا میں نے اس کو اٹھا کو اس دنیا کے لے ثابت کردیا سو گزارش ہے کہ میں نے ایسا نہیں کیا بلکہ آپ نے دراصل غلط سمجھایا آپ کی تفہیم صحیح نہ ہوئی کہ آپ نے ایسا کہہ دیا ۔ آخرت ہے ہی کیا ؟ اس دنیا کے اعمال کا نتیجہ اور اعمال زندہ کرتے ہیں نہ کہ مردہ ۔ مردے تو اپنا دروازہ بند کر جاتے ہیں نہ وہاں کچھ داخل ہوتا ہے اور نہ وہاں سے کچھ نکلتا ہے اس لیے اگر عقل سلیم ہو اور انسان غور و فکر کرے اور سنجیدگی کے ساتھ ان آیات کریمات کو ایک بار نہیں بلکہ بار بار پڑھے تو اس کی ہدایت کے لیے مزید کسی وعظ کی ضرورت ہی نہیں رہتی اور وعظ کہاں اثر پذیرہوتا ہے اس دنیا میں یا آخرت میں ؟ بلا شبہ اس دنیا میں تو آپ ﷺ نے اس سورت کو اس مقصد کے لیے پڑھا آپ بھی سن لیں اور غور کریں۔
حدیث میں ہے کہ ایک اعرابی نبی اعظم و آخر ﷺ کے پاس حاضر ہوا اور اس نے عرض کی یا رسول اللہ ﷺ ! آپ ﷺ مجھے کچھ وعظ فرمائیں۔ آپ ﷺ نے یہ سورت الزلزال پڑھ کر اس کو سنا دی وہ اس سورت کو سن کر کہنے لگا کہ والذی بعثک بالحق لا ازید علیہ ابد ًا ” آپ ﷺ کے رب کی قسم ! مجھے اب اس سے زیادہ وعظ کی ضرورت نہیں رہی اور آپ ﷺ سے رخصت لے کر واپس جانے لگا تو آپ ﷺ نے دوبارہ فرمایا کہ یہ شخص کامیاب ہو کر جا رہا ہے “۔ بعض اوقات انسان کسی چھوٹی نیکی کو حقیرسمجھ کر اسے نظر انداز کردیتا ہے اور بعض اوقات وہ صغیرہ گناہوں کی پرواہ نہیں کرتا انہیں معمولی خیال کر کے ان کا ارتکاب کرتا رہتا ہے ایسے دونوں انسانوں کو تنبیہ فرما دی گئی کہ ذرہ کے برابر اگر نیکی کرو گے تو اس کا بھی اجر ملے گا اور اگر ذرہ کے برابر برائی کرو گے تو اس کی بھی سزا ملے گی اس لیے کسی نیکی کو حقیر سمجھ کر مت ترک کرو اور نہ ہی کسی گناہ کو معمولی گناہ سمجھ کر اس کا ارتکاب کرو اگر تم نے ایسا کیا تو لاریب تمہارے قدم اکھڑ گئے۔ حدیث میں ہے کہ :
(قال رسول اللہ ﷺ من تصدق بعدل تمرۃ من کسب طیب ولا یقبل اللہ تعالیٰ الا لطیب فان اللہ یقبلھا بیمینہ ثم یربیھا لصاحبہ کما یربی احد کم فلوۃ حتی تکون مثل الحبل) (بخاری و مسلم)
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جو شخص کسب حلال سے ایک کھجور بھی صدقہ کرتا ہے اللہ تعالیٰ اسے قبول کر کے اپنے دائیں ہاتھ میں لے لیتا ہے پھر اس کی نشو ونما کرتا ہے یہاں تک کہ وہ پہاڑ کی طرح بڑا ہوجاتا ہے “۔ آپ ﷺ نے فرمایا کسی نیکی کو حقیر مت سمجھا کرو اور کچھ نہ ہو سکے تو اپنے بھائی سے خندہ پیشانی سے مل ہی لیا کرو کہ یہ بھی ایک نیکی ہے۔ اس سورت کے مضامین پر اگر نظر غائر ڈالی جائے تو مضمون کو بہت بڑھایا جاسکتا ہے لیکن ان اشارات پر آپ غور کریں گے تو بہت کچھ حاصل کرلیں گے ۔ اس سورت کو نصف قرآن بھی کہا گیا ہے ، ثلث قرآن بھی اور ربع قرآن بھی اور مضامین کی تقسیم کے لحاظ سے یہ سب اقوال صادق ہیں آپ جس تعبیر سے سمجھنا چاہیں سمجھ لیں گے کیونکہ اس کے مضامین میں بہت وسعت ہے۔
اسی پر ہم اس سورت کی تفسیر کو ختم کر رہے ہیں رب اشرح لی صدری ویسرلی امری۔