Ayah 100:1قسم ہے ان گھوڑوں کے رب کی جو بھاگ بھاگ کر ہانپنے لگتے ہیں
1 ؎ ( عادیت) دوڑنے والے گھوڑے یا اونٹنیاں ۔ عادیات عادیۃ کی جمع ہے جو بمعنی تیز دوڑانے والی کے ہیں اور عدو سے مشتق ہے جس کے معنی تیز روی کے ہیں ۔ وائو کو ما قبل کے مکسور ہونے کی وجہ سے یا سے تبدیل کردیا جس طرح غازیات میں ہے جو غزو سے بنا ہے۔ (تفسیر فتح القدیرقاضی شوکانی) امام راغب (رح) فرماتے ہیں کہ عدو کے معنی ہیں تجاوز کرنے اور پیوستگی کو ختم کرنے کے اب اگر یہ چیز چلنے میں ہو تو اس کو عدو ( دوڑنا) کہتے ہیں یہاں ( عادیات) سے کیا مراد ہے ؟ اس کے متعلق دو اقوال ہیں ایک یہ کہ غازیوں کے گھوڑوں کی صفت بیان کی گئی ہے۔ ( ابن عباس ، عطاء ، عکرمہ ، حسن بصری ، کلبی ، قتادہ ، مقاتل اور ابو العالہ (رح) ٹ) ” اس سے مراد اونٹ ہیں ‘۔ ( علی ؓ ، ابن مسعود ، محمد بن کعب اور سدی)
( العادیات) کے متعلق سیدنا علی اور سیدنا عباس ؓ کے مابین ایک نہایت دلچسپ مکالمہ منقول ہے جس کو ابن جریر ، ابن ابی حاتم ، ابن الانباری ، حاکم ، ابن مردویہ ، سیدنا ابن عباس ؓ سے بیان کرتے ہیں کہ میں حجر اسود کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ ایک شخص نے مجھ سے آ کر ( العدیت ضبحا) کے متعلق سوال کردیا ۔ میں نے کہا یہ ان گھوڑوں کا بیان ہے جو اللہ تعالیٰ کی راہ میں تاخت کرتے ہیں اور جب سر شام واپس ہوتے ہیں تو پھر لوگ کھانے کی تیاری کے لیے آگ جلاتے ہیں ۔ وہ شخص میرے پاس سے پلٹ کر علی ؓ کے پاس پہنچا ۔ آپ اس وقت زمزم کے سقایہ کے نیچے تشریف فرما تھے اس نے آپ سے بھی اس کے متعلق سوال کیا ۔ آپ نے فرمایا تم نے میرے سے پہلے بھی کسی سے اس کے متعلق سوال کیا ؟ اس نے کہا ہاں ! میں نے ابن عباس ؓ سے پوچھا تھا اور انہوں نے بتایا کہ وہ گھوڑے ہیں جو اللہ کی راہ میں تاخت کرتے ہیں ۔ آپ نے فرمایا جائو اور ابن عباس ؓ کو میرے پاس لے آئو جب میں آپ کے پاس حاضر ہوا تو علی ؓ فرمانے لگے کہ تم لوگوں کو وہ بات بتاتے ہو جس کا تم کو علم نہیں ۔ خدا کی قسم پہلا غزوہ جو اسلام میں ہوا وہ بدر تھا اور اس وقت ہمارے ساتھ صرف دو گھوڑے تھے ایک زبیر بن العوام کے پاس دوسرا مقداد بن الاسود کے پاس پھر (العادیات صبحا) سے یہ مطلب کیسے نکلے گا ( العادیات صبحا) سے تو وہ اونٹنیاں مراد ہیں جو عرفہ سے مزدلفہ تک دوڑتی ہیں اور جب لوگ مزدلفہ جا کر ٹھہر جاتے ہیں تو پھر آگ روشن کرتے ہیں ۔ یہ مکالمہ بنایا گیا ہے جو بعد میں ان ناموں سے لوگوں نے گھڑ لیا اور جب سورت ہی مکی ہے تو اس سے اس بحث کو پیدا کیسے کیا جاسکتا ہے اور پھر آگے آنے والی آیت اونٹوں پر صادق کس طرح آتی ہیں کیونکہ ان کی صفات تو آگے مزیدبیان کی جا رہی ہے اگر پہلی ہی صفت پر اس طرح کی بحث جا ری ہوگئی تو دوسری صفات کو کیسے درست کہا جاسکتا ہے اور خصوصاً ان کو اونٹوں پر کس طرح فٹ (Fit) کیا جائے گا ؟ بہر حال یہ استعارات و اشارات ہیں اور ضروری نہیں کہ ان کو بدرپریا کسی دوسری جنگ پر فٹ کیا جائے۔ جب ایک بار بطور شہادت پیش کی جا رہی ہے اور وہ فی نفسہٖ اگر اپنے اندر شہادت کا پہلو رکھتی ہے تو اس طرح کی بحثیں پیدا کرنا ہی فضول اور بغول ہے لہٰذا اس سے مراد تیز دوڑنے والے گھوڑے ہی ہیں جو دوڑ دوڑ کر ( ضیحا) ہانپنے لگتے ہیں اور اونٹ پر یہ لفظ صادق نہیں آتا۔
Ayah 100:2پھر قسم ہے ان گھوڑوں کے رب کی جن کی ٹاپ سے آگ نکلنے لگتی ہے
2 ؎ ( الموریت ) اسم فاعل جمع مؤنثالموریہ واحد ایراء مصدر آگ روشن کرنے والے ۔ مراد اس سے وہ گھوڑے ہیں جو پتھریلی زمین پر دوڑتے ہیں تو ان کے سموں کی رگڑ سے آگ کی چنگاریاں نکلتی ہیں۔ ( عکرمہ ، عطاء ، ضحاک ، مقاتل ، کلبی) بھڑک کر میدان کار زار کی طرف جانے والے گھوڑے جن کے سواروں کے دلوں میں عداوت کی آگ بھڑکتی ہے۔ (قتادہ) سواروں کا وہ راستہ جو دن بھر جہاد کرنے کے بعد شام کو واپس آکرکھانے پکانے کے لیے آگ جلاتا ہے۔ ( ابن عباس ؓ جنگی دائو لگانے والے فوجی اور سپاہی۔ ( مجاہد ، زید بن اسلم) اور بھی اس میں بہت کچھ کہا گیا ہے لیکن قول اول ہی کو سب پر ترجیح دی گئی ہے اور وہی صحیح ہے۔ اور اس کا اصل مادہ وری ہے اور مادہ کے الفاظ قرآن کریم میں بکثرت استعمال ہوتے ہیں ۔ ( قد حا) اس کا اصل مادہ ق د ح ہے اور اس مادہ کا لفظ صرف یہی ہے جو قرآن کریم میں ایک بار استعمال ہوا ہے۔ علاوہ ازیں اس مادہ کا کوئی لفظ یا یہ لفظ قرآن میں نہیں آیا۔ (قد حا ً ) مصدر ہے۔ جس کے معنی ہیں چقماق کو مار کر آگ نکالنا ۔ پتھر پر پتھر کو یا لوہے کو مار کر آگ نکالنا اور یہ لفظ نکتہ چینی کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے ۔ اس جگہ مراد گھوڑوں کا فعل دار ٹاپوں کی پتھریلی زمین پر مارنا ہے جس سے آگ کی چنگاریاں نکلتی ہیں ۔ مجموعی طور پر یہ لفظ گھوڑوں ہی کے اس فعل پر صادق آتا ہے کیونکہ آگ گھوڑوں کی ٹاپوں سے نکل سکتی ہے ، اونٹوں کے بھاگنے سے نہیں اور یہ بات مشاہدہ میں اس وقت بھی لائی جاسکتی ہے۔ ( قالموریت قدحا ً ) پس ان گھوڑوں کے رب کی قسم جن کے ٹاپوں سے آگ نکلنے لگتی ہے ۔ ایک استعارہ ہے جس کی کمی شکلیں ہو سکتی ہیں اور امید ہے کہ وہ ظاہر بھی ہوں گی اگرچہ اس وقت وہ دور از قیاس ہوں کیونکہ کتاب اللہ ابدی تعلیمات کی کتاب ہے اور اس میں ایسے استعارات پائے جاتے ہیں جو بعد میں واضح ہوں گے اور ابھی تک ان کی واضح شکل سامنے نہ آئی ہو اور وقت کے ساتھ ان کا مفہوم بدل سکتا ہے کیونکہ اس میں وسعت ہے۔
Ayah 100:3پھر صبح ہی صبح حملہ کرنے والوں کے رب کی قسم
3 ؎ ( المغیرت) اسم فاعل جمع مؤنث المغیرۃ واحد اغارۃً مصدر ۔ ٹوٹنے والے۔ چھاپہ مارنے والے۔ مرادسواروں کے دستے جو صبح کو دشمنوں پر چھاپہ مارتے ہیں ۔ اغارہ کے معنی تیز رفتارہونے کے ہیں ۔ صبح کے وقت دشمنوں پر چھاپہ مارنا اس لیے کہ رات کو تقریباً خطرہ ہوتا ہے اور وہ لوگ جو کسی خطرہ کی زد میں ہوتے ہیں جیسے میدان جنگ میں یا کسی اور طریقہ سے بر سرپیکار وہ رات کے وقت خوب پہرہ دیتے اور چوکنے رہتے ہیں لیکن جو نہی فجر ہوتی ہے اور پوپھٹتی ہے سپیدی ظاہر ہونے لگتی ہے تو غفلت شروع ہوجاتی ہے اور رات کا خطرہ تقریباً ٹل جاتا ہے جونہی وہ بےخطر ہوتے ہیں تو ان پر حملہ کردیا جاتا ہے اور یہ حملہ اکثر کامیاب رہتا ہے اور جنگ وجدال میں ایسی صورتیں پیدا ہوتی رہتی ہیں ۔ سواری کے جتنے جانور ہیں ان میں سب سے زیادہ تیز رفتار گھوڑا ہے اور اس طرح اچانک حملوں میں یہی جانور استعمال ہوتے رہے ہیں اور ہوتے ہیں اس معاملہ میں اس جانور کا مقابلہ کوئی دوسرا جانور نہیں کرسکتا۔
Ayah 100:4پھر گرد و غبار اڑانے والے گھوڑوں کے رب کی قسم
4 ؎ (اثرن) انہوں نے اٹھایا ، اڑایا جس کے معنی برانگیختہ کرنے اور غبار اڑانے کے ہیں ۔ ماضی کا صیغہ جمع مؤنث غائب ( نفعا ً ) اسم منصوب ، غبار ، خاک نقع شتر مرغ کی آواز ، پانی پر جمع ہونے کی تنگ جگہ ، کنویں میں جمع شدہ پانی ۔ گرد و غبار ۔ گھوڑوں پر حملہ کرنے کے باعث دور ہی گرد و غبار کے اٹھنے کا پتہ چل جاتا ہے کہ اس طرف سے آنے والا قابلہ نہایت تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے ۔ یعنی وہ گھوڑے جو اپنی تیزی کے باعث گرد و غبار اڑانے لگتے ہیں اور حملہ آور جب حملہ کرتے ہیں تو وہ دشمنوں کی فوجوں میں اچانک داخل ہو کر ان پر حملہ کردیئے ہیں اور ان پر وار کر کے ان کو تہ تیغ کرتے ہیں۔
Ayah 100:5لشکر کفار میں اچانک گھس جانے والوں کے رب کی قسم
5 ؎ ( وسطن) جمع مؤنث غائب ماضی معروف سطۃ ً اور وسط مصدر ( ضرب) درمیان میں گھس پڑے اور بیچ میں آگئے اور اچانک بیچ میں داخل ہوگئے ۔ وہ لوگ جو اچانک حملہ کر کے دشمنوں کی صفوں میں داخل ہوگئے اتنی تیزی سے داخل ہوئے کہ لشکری اپنے اور بیگانے میں امتیاز ہی نہ کرسکے اور اسی طرح اچانک حملہ کر کے مخالفین کے لشکر کو پریشان کردیا ۔ یہ کام بھی بہت مہارت کا ہے اور اس میں سخت تیاری کی ضرورت ہوتی ہے اور اس کے لیے خاص طور پر گھوڑے تیار کیے جاتے ہیں جن کو حملہ کرنا اور پھر بھاگ کر واپس آنا سکھایا جاتا ہے اور ایسے سوار بھی مخصوص ہوتے ہیں جو سارے گھوڑ سوار بھی یہ کام نہیں کر پاتے مخصوص گھوڑے اور مخصوص سوار اس کے لیے کیے جاتے ہیں ۔ اسلام سے قبل عربوں میں خانہ جنگی جاری تھی اور قبائل ایک دوسرے سے قسمت آزمائی کرتے رہتے تھے اس کے لیے مجاہدین کو ایک تخیل اسلام نے بھی پش کیا ہے جو آنے والے ملاقات کے لے ایک طرح کا نظریہ پیش کرتا ہے جو قبل از وقت لوگوں کی رہنمائی کر رہا ہے اور ان کو جہاد کی خاطر تیار کررہا ہے کہ مجاہدین کو اپنی طرف سے کیا کیا انتظام کرنا ضروری ہے اس وقت کے حالات کے مطابق سب سے زیادہ گھوڑے پالنا ضروری قرار دیا گیا ہے اور ان کی مختلف طریقوں سے آزمائش بتائی گئی ہے تاکہ جس مقصد کے لیے ان کو تیار کیا گیا ہے اس میں وہ کامیاب ہو کر نکلیں اور بطور شہادت ان کو پیش کیا جا رہا ہے وہ گھوڑے کن خوبیوں سے متصف ہیں ؟ فرمایا : (1) تیز رفتاری سے جب وہ دوڑتے ہیں تو ان کے سینوں سے ایک خاص قسم کی آواز نکلتی ہے جو دشمنوں کو مرعوب کرنے میں بڑی مؤثر ہوتی ہے۔ (2) وہ اپنے بھاری بھر کم سم جب پتھروں پر زور سے مارتے ہیں تو آگ کی چنگاریاں نکلنے لگتی ہیں۔ (3) وہ صبح سویرے دشمنوں پر حملہ کر کے ان کو تہہ تیغ کرنے میں بڑی مہارت رکھتے ہیں۔ (4) ان کے دوڑنے کے باعث ساری فضا گرد و غبار سے اٹ جاتی ہے۔ (5) اور وہ بےدریغ دشمنوں کی صفتوں میں گھس جاتے ہیں اور ان کو تہہ وبالا کر کے رکھ دیتے ہیں اور یہ صفات ان گھوڑوں اور گھڑ سواروں کو ملا کر بیان کی گئی ہیں جو ایک دوسرے سے لازم و ملزوم ہیں ۔ ان آیات پر اگر غور کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ یہاں تو صرف صفات بیان کی گئی ہیں ( عادیات ، موریات ، مغیرات) وغیرہ لیکن ان کے موصوف بیان نہیں کیے گئے ہیں ؟ اس لیے کہ ان کے موصوف بدلتے رہیں گے۔ ایک وقت تھا کہ یہ کام گھوڑوں سے لیا گیا لیکن آج ان گھوڑوں کی جگہ ٹینکوں نے لے لی اور آنے والے کل میں ان ٹینکوں کی جگہ میزائل اور نئے نئے موصوف لے لیں گے اور جو چیز میدان جنگ میں اترے گی یہ صفات اس میں شمار ہونے لگیں اس لیے ان استعارات و اشارات سے وہ کام لیا گیا جو اس وقت کے حالات پر سو فی صدی فٹ تھا اور آج کے حالات پر بھی وہ فٹ ہے اور آنے والے حالات جو اپنا رخ بدل کر آئیں گے ان پر بھی فٹ ہوگا اگر ان صفات کے ساتھ موصوف کو بھی قرآن کریم ذکر کردیتا تو قرآن کریم کی ابدی تعلیمات کیونکر کہلاتیں اس لیے ہم کو ان صفتوں کے موصوف پر زیادہ زور دے کر ان کو ثابت کرنے کی کوشش کرنا سود مند نہیں ہے بلکہ اس میں وسعت تسلیم کرنا زیادہ صحیح ہے اور زیادہ درست ہے لیکن افسوس کہ جہاں جہاں قرآن کریم نے وسعت رکھی ہے ہمارے مفسرین نے اس کو جتنی کہ وہ تنگ کرسکے تنگ کرنے کی کوشش کی تاکہ مفہوم متعین ہو کر سامنے رہے اور پھر اس طرح اس پر ڈٹ گئے کہ ایک دوسرے کے لیے میدان حرب بنا کر رکھ دیا۔ پھر اس پر زور دینا اسلام کا اہم کام قرار دیاحالان کہ جو لطف وسعت میں ہے وہ دائرہ تنگ کرنے میں کب باقی رہ جاتا ہے۔
Ayah 100:6انسان اپنے رب کا بڑا ہی ناشکر گزار ہے
6 ؎ ( کنود) صفت مشبہ ناشکر ، مرد ہو یا عورت کیونکہ انسان کا اطلاق مرد اور عورت دونوں پر ہے اور نا شکری میں بھی دونوں آتے ہیں ۔ ناقابل روئیدگی زمین ۔ کافر ۔ اللہ تعالیٰ کی ذات کو برا کہنے والا ۔ بخیل اور اس جگہ مراد نا شکرے ہی سے ہے۔ اس کا مادہ ک ن د ہے اور اس مادہ کا یہ ایک ہی لفظ قرآن کریم میں استعمال ہوا ہے دوسرا کوئی لفظ اس مادہ کا قرآن کریم میں استعمال نہیں ہوا ۔ کنادنا شکرا آدمی ۔ مطلب یہ ہے کہ اکثر انسان ایسے جو اپنے رب کے احسانات اور نوازشات پر سخت ناشکری کا اظہار کرتے ہیں اور ان کے لبوں پر ہمیشہ شکوہ رہتا ہے۔ ہزاروں نعمتوں کے باوجود جب ان کی کوئی ایک تمنا پوری نہ ہو تو وہ بڑ بڑانے لگتے ہیں اور اللہ کا دیا سب کچھ ہونے کے باوجود کی ان کی حرص و ہوا اور نہ ہی پر اکتفا کرتی نظر آتی ہے ان کی زبان سے الحمد اللہ کل حال بھی کبھی نہیں آیا ۔ ان کو اگر ذرا چھیڑا جائے تو وہ شکایت کا دفتر کھول دیتے ہیں اور پھر بات کو ختم کرنے کا نام ہی نہیں لیتے حالانکہ جانتے ہیں کہ جن کے سامنے ہم آہیں بھر رہے ہیں اور سسکیاں لے رہے ہیں یہ ہمارے لیے کچھ نہیں کرسکتے۔ بلکہ بعض اوقات وہ اصل حقیقت سے آگاہ بھی ہوتے ہیں کہ ان صاحب کو گلا اور شکوہ کرنا خوب آتا ہے حالانکہ یہ حالت حالت ِ کفر ہے ، اسلام کی دعوت بالکل اس کے برعکس ہے کہ اگر کچھ مانگنا ہے تو اللہ سے مانگو ، کسی انسان کے سامنے اس طرح کی بات نہ کرو جس سے نا شکری کا پہلو ظاہرہوتا ہو ۔ اللہ کے انعامات کو یاد کرو جو اس نے تم کو ہاتھ ، پائوں ، صحت اور تندرستی کے طور پردے رکھے ہیں ۔ کنود دراصل اس زمین کو کہتے ہیں جو بنجر ہو اور پیداوار کے قابل نہ رہی ہو اور ان کے دل کی کیفیت کے باعث اس لفظ کا اطلاق ان پر کیا گیا ہے جو سو فیصد صحیح اور درست ہے اور حکمت سے نہایت پر ہے جو ان کی حالت پر صحیح منطبق ہوتا ہے۔
Ayah 100:7اور بلا شبہ وہ خود بھی اپنے قول و فعل سے شہادت دے رہا ہے
7 ؎ فرمایا جا رہا ہے کہ انسان کے متعلق جو یہ کہا گیا ہے کہ وہ اکثر ناشکرگزار ہوتا ہے اس کے لیے خارجی شہادتوں کی ضرورت نہیں بلکہ ہر انسان خود بذاتہٖ اپنی ذات پر شہادت دے رہا ہے کہ وہ نا شکرا ہے کیونکہ جب اس نے نہ اور نہ ہی کو اپنی فطرت ثانیہ بنا لیا ہے اور سب کچھ ہونے کے باوجود وہ جہاں بیٹھتا ہے اس بات کا شکوہ کرتا ہے کہ یہ نہیں اور وہ نہیں ، اتنا ادھر خرچ ہو اور اتناادھر ۔ آنے والے وقت کی ہر وقت اس کو فکر ہے اور گزرنے والے اور گزرے ہوئے کا ذرا بھی خیال نہیں ۔ اگر پیسہ خرچ کرنا پڑے تو اس کی جان جاتی ہے اور اگر ہزاروں اور لاکھوں آجائے تو اس نے کبھی ذکر تک نہیں کیا ۔ گرم بھٹی کی طرح ہر وت گرما گرم ہی رہتا ہے ، خود بھی جلتا ہے اور دوسروں کو بھی جلاتا ہے ۔ کیا یہ اوصاف ایسے ہیں کہ اس کے متعلق کسی باہر کی شہادت کی ضرورت ہو ؟ کیا اس کا اپنا کردار اس کے لیے شاہد نہیں ہے ؟ اور زیر نظر آیت میں یہی بات تفہیم کرائی گئی ہے۔
Ayah 100:8بلا شبہ وہ مال کی محبت میں بڑا ہی سخت ہے
8 ؎ مال کی محبت سے اس جگہ جمع کرنا مراد ہے کہ اس کے ہاتھ اگر کوئی پیسہ آجاتا ہے تو وہ اس کو خوب مٹھی میں بند کرتا ہے کہ کہیں اس کو ہوا نہ لگ جائے اور مزید آنے کی خواہش اس کے اندر گھر کرچکی ہے پیسہ جمع کرسکتا ہے لیکن شرط یہ ہے کہ اس کی یہ امید اس دنیا کے متعلق ہونا ضروری ہے ، آخرت کا تو وہ نام ہی نہیں سننا چاہتا ۔ اگر تم غور کرو گے تو معلوم ہوگا کہ گناہوں کا یہ سیل بےپناہ ، مظالم کی یہ آندھیاں ، مزدوروں اور سرمایہ داروں کے درمیان یہ خونریز تصادم سب کے پس پردہ کیا ہے ؟ بلا شبہ وہ یہی دولت ہے اور اس دولت کی محبت ہے کہ دوست دوست کو لوٹ رہا ہے ، بھائی بھائی کا گلا کاٹ رہا ہے ، انسان انسان کے در پے آزاد ہے۔ یہ سب کچھ کیوں ہے ؟ یہ سب دولت کی مہربانیاں ہیں کہ تمام تعلقات ، تمام دوستیاں ، تمام رشتہ داریاں دولت کے طلسم ہو شربا کے سامنے بےمعنی ہو کر رہ جاتی ہیں ۔ انسان کا عمل اس بات کی شہادت دے رہا ہے کہ اس کو جیند ہوس سیم و زر کی ہے۔ اس کے دل میں جتنی چاہت دولت و ثروت کی ہے اتنی اور کسی چیز کی نہیں ۔ اس کے حصول کے لیے جو ان تھک کوششیں اور محنتیں وہ کرتا ہے اور کسی چیز کے لیے نہیں کرتا ۔ اپنے وطن کو چھوڑتا ہے ، اپنی آسائش سے دست کش ہوتا ہوے اور بعض اوقات اپنی عزت و آبرو کو بھی خاک میں ملا دیتا ہے اور اپنی زندگی کو طرح طرح کے خطرات سے دو چار کردیتا ہے لیکن دولت کے انبار ہونے کے باوجود اس محبت کو روکنے کی کوشش نہیں کرتا کہ اب بہت کچھ ہوگیا ہے اب تو اسکے لیے سرگرداں نہ ہوں ۔ عام متوسط درجہ کے لوگوں کے علاوہ وہ لوگ جو ملک کی قلیدی اسامیوں پر فائز ہوتے ہیں ان میں یہ حرص و ہوس اور بھی زیادہ ہوتی ہے اور سو آدمیوں میں سے ایک بھی ایسا نہیں ملتا جس میں یہ نامراد مرض موجود نہ ہو ۔ جو لوگ ہوائی جہاز میں سفر کرتے ہیں اور دوسروں ملکوں میں دل بہلاتے ہیں اور علاج کی خاطر وطن سے بےوطن ہوتے ہیں ، جن کی ملوں ، کارخانوں اور فیکٹریوں کا شمار نہیں ہے وہ بھی اس بیماری میں بری طرح مبتلا نظر آتے ہیں اور عوام تو پہلے ہی کالانعام ہوتے ہیں ۔
Ayah 100:9کیا وہ نہیں جانتا اس وقت کو جبقبروں سے مردے اٹھائیں جائیں گے
9 ؎ (بعثر) وہ اٹھایا گیا ۔ وہ کریدا گیا۔ وہ الٹ پلٹ کیا گیا ۔ اس کا مادہ ب ع ث ر ہے بعثرۃ سے جس کے معنی الٹ پلٹ کرنے کے ہیں ۔ ماضی مجہول کا صیغہ واحد مذکر غائب ۔ یہ رباعی ہے اور اس مادہ کے صرف دو لفظ قرآن کریم میں آئے ہیں ایک اس جگہ ایک ( بعثرب) سورة الانفطار میں ۔ مقصود بیان یہ ہے کہ جو لوگ آج مال کے جنون میں تمام اقدار کو بڑی بےدردی سے پا مال کر رہے ہیں اپنے رب کو بھی بھولے ہوئے ہیں اور اس کی مخلوق کو بھی طرح طرح کی تکلیفیں پہنچا رہے ہیں کیا ان نادانوں کو اتنی بھی خبر نہیں ہے کہ ایک دن ایسا بھی آنے والا ہے جب ان کو قبروں سے نکال کر میدان حشر میں کھڑا کردیا جائے گا اور اس روز نہ یہ زمین ہوگی اور نہ یہ آسمان اور نہ وہ سب کچھ جوان دونوں کے درمیان ہے نہ ان کی دولت کے ڈھیر ہوں گے اور نہ اقتدار اور نہ اعوان و انصار وہ سب کے سب خالی ہاتھ ہوں گے اور اپنے پروردگار کے سامنے حاضر ہوں گے اور حکومت و بادشاہی صرف اور صرف اسی رب ذوالجلال والاکرام کی ہوگی۔
Ayah 100:10اور سینوں کے سارے راز ظاہر کردیئے جائیں گے
10 ؎ ( حصل) کا اصل مادہ ح ص ل ہے اور اس مادہ کا صرف یہ ایک لفظ قرآن کریم میں آیا ہے دوسرا کوئی لفظ اس مادہ کا قرآن کریم میں و نہیں آیا ۔ وہ حاصل کیا گیا ہے ۔ وہ ظاہر کیا گیا تحصیل سے جس کے معنی چھلکے میں سے گودا نکالنے کے ہیں جیسے کان (Mine) میں سے سونا نکالنا یا نمک کی کان سے نمک اور اسی طرح خوشہ میں سے گندم نکالنے پر بھی اس کا اطلاق ہوتا ہے ۔ ماضی مجہول کا صیغہ واحد مذکر غائب ۔ مطلب یہ ہے کہ ایسے انسانوں کو اچھی طرح سمجھ لینا چاہئے کہ قیامت کے روز صرف اس کے ظاہری اعمال کی ہی جانچ پڑتال نہیں ہوگی بلکہ اسکے ارادوں ، نیتوں اور اسکے قلبی جذبات اور باطنی کیفیات سب کی سب آشکارا کردی جائیں گی اور ہر ایک کو پرکھا جائے گا کہ اس نے جو کچھ کیا اسکے پس منظر میں کون سے جذبات کار فرما تھے۔ کس نیت سے اس نے یہ سارے کام کیے۔ اس کے وہ گھنائونے مقاصد جن پر اس نے حسن بیان کے ریشمی غلاف چڑھا رکھے تھے سب ظاہر کردیئے جائیں گے۔ نہاں خانہ دل میں کوئی چیز باقی نہیں رہے گی اگرچہ دنیوی عدالتیں بھی مجرم کی نیت اور ارادے کو اہمیت دیتی ہیں لیکن ان کے پاس کوئی ایسا آلہ نہیں جس کے ذریعے اس نازک ذمہ داری کو پورے وثوق کے ساتھ انجام دے سکیں ۔ یہ کام صرف اور صرف عدالت خداوندی ہی میں بحسن خوبی انجام پا سکتا ہے۔ اس لیے اس عدالت کے فیصلے سراسر حق ہوں گے۔ عدل و انصاف کے ادنیٰ سے ادنیٰ اور نازک سے نازک تقاضوں کو بھی پورا کیا جائے گا کیونکہ اللہ رب ذوالجلال والاکرام کے سامنے ان کے دلوں کی پوری کیفیت اور سینوں کے سارے راز ظاہر ہوں گے اور ان کی کوئی چیز بھی پوشیدہ نہیں ہوگی۔
Ayah 100:11بلا شبہ ان کا رب ان کی حالت سے خوب خبردار ہے
11 ؎ یہ بات گزشتہ مضمون کو مؤکد کرنے کے لیے کی گئی ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر ایک بندے کے بارے میں ہر آن واقف ہے۔ کوئی بات کسی انسان کی کسی حال میں بھی اس سے پوشیدہ نہیں ہے لیکن اس روز چونکہ فیصلہ ہوگا اس لیے کہ وہ دن فیصلہ کے لیے مقرر کیا گیا ہے اس لیے اس روز کا آگاہ ہونا اس بات کی دلیل ہے کہ جو فیصلہ وہاں سے ہو کر آئے گا وہ ہر لحاظ سے عدل و انصاف پر مبنی ہوگا کیونکہ فیصلہ کرنے والا وہ ہوگا جو ان لوگوں کے دلوں کے رازوں سے بھی واقف ہے جو اس طرح کی بداعتدالیاں کرتے رہے۔ یہ بات اپنی جگہ محقق ہے کہ اکثر اوقات ایسا ہوتا ہے کہ انسان کے دل میں کچھ ہوتا ہے اور وہ اس کا اظہار کسی اور طریقہ سے کرتا ہے اور اس کے دل کی کیفیت اور زبان کا اقرار دونوں آپس میں بہت اختلاف رکھتے ہیں اور اگر دونوں کو ملحوظ خاطر نہ رکھا جائے تو فیصلہ عدل کے مطابق نہیں ہوتا اس لیے زیر نظر آیت میں بتایا جا رہا ہے کہ اس روز جس کے ہاتھ میں فیصلہ ہوگا وہ صرف فیصلہ کرنے والا نہیں ہے بلکہ اس کا رب بھی ہے اور ان کے دلوں کے رازوں سے بھی با خبر ہے۔ اس لیے جو فیصلہ ہوگا وہ ہر لحاظ سے صحیح اور درست (Perfect) ہوگا۔ اسی مضمون پر ہم سورة العادیت کی تفسیر کو ختم کر رہے ہیں۔ ( ربنا اننا امنا فاغفرلنا ذنوبنا وقنا عذاب النار۔