99. Surah Az-Zalzala

الزلزلةThe Earthquake · 8 ayahsتفسیرِ مظہری

Ayah 99:1

اِذَا زُلْزِلَتِ الْاَرْضُ زِلْزَالَهَاۙ Open ayah 99:1 in the Quran reader

جب زمین بھونچال سے ہلا دی جائے گی

اذا زلزلت الارض زلزالھا . یعنی جب زمین کو ہلایا جائے گا اور اس کی عظمت کی حالت کے مناسب جھنجھوڑا جائے گا یا تقاضاء حکمت کے مطابق جھنجھوڑا جائے گا یا جس قدر اس کو جھنجھوڑنا ممکن ہوگا اتنا جھنجھوڑا جائے گا یا جس قدر جھنجھوڑ زمین کے لیے مقرر ہے اتنی حرکت دی جائے گی۔ ابن ابی حاتم نے حضرت ابن عباس کا قول نقل کیا ہے کہ زمین اپنے اسفل حصہ سے ہلے گی (یعنی ہلنا شروع ہوگی) اس زلزلہ کا وقت مختلف فیہ ہے۔ کیا دوسرے نفخہ کے بعد جبکہ لوگ قبروں سے اٹھ چکے ہوں گے ‘ یہ زلزلہ آئے گا یا پہلے نفخہ سے بھی پہلے آئے گا اور یہ قیامت کی علامات میں سے ہوگا۔ اوّل قول حلیمی وغیرہ کا مختار ہے اور دوسرا قول ابن عربی وغیرہ کا ہے۔ ابن عربی کے قول کی دلیل یہ آیت ہے : یوم ترونھا تذھل کل مرضعۃ عما ارضعت و تضع کل ذات حمل حملھا و تری الناس سکارٰی ..... (اور یہ تمام احوال حقیقت میں نفخۂ اوّل سے پہلے ہوں گے) اوّل الذکر قول والے کہتے ہیں کہ ان آیات میں شدت ہولناکی کی تصویر کشی مندرجہ الفاظ میں کی ہے ‘ الفاظ کے حقیقی معنی مراد نہیں ہیں۔ کلام کی بناء مجاز اور تشبیہ پر ہے یہ گروہ اپنے قول کے ثبوت میں حضرت عمران بن حصین کی حدیث پیش کرتا ہے جس کو ترمذی نے نقل کیا ہے اور صحیح کہا ہے ‘ حضرت عمران نے بیان کیا کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھے کہ آیت : یا ایھا الناس اتقوا ربکم ان زلزلۃ الساعۃ شئی عظیم یوم ترونھا کل مرضعۃ ....... نازل ہوئی۔ حضور ﷺ نے فرمایا : کیا تم جانتے ہو یہ کون دن ہوگا جس میں اللہ آدم ( علیہ السلام) سے فرمائے گا کہ (اپنی نسل میں سے) دوزخ کا حصہ بھیجو۔ (الحدیث) یہ حدیث مختلف طریقوں سے مروی ہے ‘ صحیحین میں حضرت ابوسعید خدری کی روایت آئی ہے ‘ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : قیامت کے دن اللہ آدم ( علیہ السلام) سے فرمائے گا ‘ اٹھ اور اپنی نسل میں سے دوزخ کا حصہ بھیج۔ آدم ( علیہ السلام) عرض کریں گے پروردگار دوزخ کا حصہ کیا ؟ اللہ فرمائے گا : ہر ہزار میں سے نو سو ننانوے ‘ ایک باقی رہے گا۔ اس کلام کو سن کر بچے بوڑھے ہوجائیں گے۔ ہر حمل والی کو اسقاط ہوجائے گا اور تم کو لوگ نشہ میں (لڑکھڑاتے ہوئے) دکھائی دیں گے ‘ حالانکہ وہ نشہ میں نہیں ہوں گے بلکہ اللہ کا عذاب سخت ہوگا۔ یہ حدیث صحابہ ؓ پر شاق گزری اور انہوں نے عرض کیا : یا رسول اللہ ﷺ وہ (محفوظ رہنے والا) ایک (فی ہزار) ہم میں سے کون ہوگا ؟ فرمایا : یاجوج ماجوج میں سے ہزار ہوں گے اور تم میں سے ایک ‘ دیگر اقوام میں تم ایسے ہو جیسے سفید بیل (کی کھال) پر ایک سیاہ بال یا سیاہ بیل (کی کھال) پر سفید بال۔ قول دوئم کے قائل اس کا جواب دیتے ہیں کہ اس حدیث سے یہ نہیں معلوم ہوتا کہ زلزلہ اس وقت ہوگا جس وقت حضرت آدم ( علیہ السلام) کو اپنی نسل سے دوزخ کا حصہ بھیجنے کا حکم ہوگا بلکہ اتنا معلوم ہوتا ہے کہ زلزلہ اس روز ہوگا پس آدم کو حکم زلزلہ کے بعد دیا جائے گا۔ گویا رسول اللہ ﷺ نے جب اس زلزلہ کا ذکر کیا جو نفخۂ اوّل سے پہلے ہوگا تو ان عظیم ہولناکیوں کا بھی ذکر کردیا جو اس روز رونما ہوں گی۔ میں کہتا ہوں کہ صحیحین کی حدیث کی عبارت اس تاویل کی اجازت نہیں دیتی کیونکہ حدیث میں ہے اس وقت یعنی حصہ دوزخ کے وقت بچے بوڑھے ہوجائیں گے اور ہر حمل والی اسقاط کر دے گی۔ واللہ اعلم میرا خیال ہے کہ زلزلہ کئی بار آئے گا ‘ ایک بار وہ زلزلہ ہوگا جو قیامت کی علامات میں سے ہے اور ایک بار بعث کے بعد ہوگا۔
Ayah 99:2

وَ اَخْرَجَتِ الْاَرْضُ اَثْقَالَهَاۙ Open ayah 99:2 in the Quran reader

اور زمین اپنے (اندر) کے بوجھ نکال ڈالے گی

واخرجت الارض اثقالھا . زمین کی طرف نکالنے کی نسبت مجازی ہے (حقیقت میں اخراج اثقال کرنے والی خدا کی قدرت ہے ؟ ) یعنی زمین اپنے بوجھ باہر نکال پھینکے گی۔ ابن ابی حاتم نے حضرت ابن عباس ؓ کا قول نقل کیا ہے کہ زمین مردوں کو قبروں سے باہر نکال دے گی (گویا ابن عباس کے نزدیک اثقال سے مراد مردے) فریابی نے مجاہد کا قول بھی یہی نقل کیا ہے ‘ اس مطلب پر یہ واقعہ نفخۂ دوم کے بعد کا ہوگا۔ ابن ابی حاتم نے عطیہ کا قول نقل کیا ہے کہ زمین اپنے اندر کے خزانے باہر نکال دے گی (اس قول پر اثقال سے مراد ہوئے زمین کے اندرونی خزانے) حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : زمین اپنے جگر پاروں کو سونے ‘ چاندی کے ستونوں کی طرح (باہر نکال کر) پھینک دے گی۔ قاتل آئے گا اور (زمین کے اوپر سونے چاندی کے ڈھیر دیکھ کر) کہے گا اسی کے سلسلے میں میں نے قتل کیا تھا۔ رشتہ داری قطع کرنے والا آئے گا اور کہے گا : اسی کے لیے میں نے رشتہ داری قطع کی تھی ‘ چور آئے گا اور کہے گا : اسی کے سلسلہ میں میرا ہاتھ کاٹا گیا تھا ‘ پھر سب لوگ اس کو چھوڑ جائیں گے کوئی کچھ بھی اس میں سے نہیں لے گا۔ (رواہ مسلم) صحیحین میں مرفوع حدیث آئی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : قریب ہے کہ فرات سے بہتیرا سونا برآمد ہوگا اگر کوئی شخص (اس زمانہ میں وہاں) موجود ہو تو اس میں سے کچھ نہ لے۔ مسلم کی روایت میں ہے کہ قیامت بپا نہ ہوگی جب تک فرات سونے کا پہاڑ برآمد نہ کر دیگی۔ اس سونے پر لوگ ایک دو سرے کو قتل کرینگے (یہاں تک کہ) سو میں سے ننانوے مارے جائینگے (ایک بچے گا وہ) ایک کہے گا شاید میں ہی وہ شخص ہوں جو بچ گیا ہوں۔ میں کہتا ہوں شاید شروع میں قتال ہوگا پھر آخری نتیجہ یہ ہوگا کہ کوئی بھی کچھ نہ لے سکے گا۔
Ayah 99:3

وَ قَالَ الْاِنْسَانُ مَا لَهَاۚ Open ayah 99:3 in the Quran reader

اور انسان کہے گا کہ اس کو کیا ہوا ہے؟

و قال الانسان مالھا . اور انسان تعجب سے کہے گا زمین کو کیا ہوگیا کہ ایسا سخت زلزلہ آیا اور زمین اپنے پیٹ کے اندر کی چیزیں باہر پھینکے گی۔ بعض علماء کا قول ہے کہ الانسان سے مراد کافر آدمی ہے چونکہ اس کو قبروں سے اٹھنے کی امید ہی نہ ہوگی ‘ اس لیے قبر سے اٹھنے کے وقت وہ یہ بات کہے گا اور مؤمن کہے گا یہ وہی ہے جس کا اللہ نے وعدہ کیا تھا اور پیغمبروں نے سچ کہا تھا۔
Ayah 99:4

یَوْمَئِذٍ تُحَدِّثُ اَخْبَارَهَاۙ Open ayah 99:4 in the Quran reader

اس روز وہ اپنے حالات بیان کردے گی

یومئذ تحدث اخبارھا . بغوی نے لکھا ہے عبارت میں کچھ تقدیم تاخیر ہے۔ اصل کلام اس طرح تھا : یومئذ تحدث اخبارھا و قال الانسان مالھا۔ یعنی اس روز زمین اطلاع دے گی اور جو کچھ اس پر کیا گیا ہوگا اس کو بیان کرے گی تو انسان کہے گا ‘ اس زمین کو کیا ہوگیا کہ اپنے اوپر کیے ہوئے اعمال کو بتارہی ہے۔ حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے یہ آیت پڑھی اور فرمایا : کیا تم کو معلوم ہے کہ زمین کی خبریں کیا ہوں گی ؟ صحابہ ؓ نے عرض کیا : اللہ اور اس کا رسول ﷺ ہی بخوبی واقف ہیں۔ فرمایا : زمین کی خبریں یہ ہوں گی کہ جس بندے اور بندی نے زمین کے اوپر جو کچھ کیا ہوگا زمین اس پر شہادت دے گی اور کہے گی : فلاں شخص نے ایسا ایسا کیا تھا اور یہی زمین کی اطلاع ہوگی۔ (رواہ احمد والنسائی و ابن حبان و البیہقی) ترمذی نے نقل کرنے کے بعد اس کو صحیح کہا ہے۔ طبرانی نے حضرت ربیعہ ؓ حرثی کی روایت سے لکھا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : زمین سے احتیاط رکھو یہ تمہاری ماں ہے۔ جس شخص نے بھی اس کے اوپر کوئی اچھا ‘ برا کام کیا ہوگا وہ اس کی خبر ضرور دینے والی ہے۔ طبرانی نے مجاہد کا قول بھی اسی طرح نقل کیا ہے۔
Ayah 99:5

بِاَنَّ رَبَّكَ اَوْحٰى لَهَاؕ Open ayah 99:5 in the Quran reader

کیونکہ تمہارے پروردگار نے اس کو حکم بھیجا (ہوگا)

بان ربک اوحی لھا . ب سببی ہے اور لام بمعنی الیٰ ہے یعنی زمین کا خبر دینا اس سبب سے ہوگا کہ اللہ کی طرف سے اس کو یہی اشارہ یا اذن ملا ہوگا۔ یہ بھی ممکن ہے کہ یہ کلام قال الانسان مالھا کا جواب ہو یعنی انسان کے سوال کے جواب میں کہے گی ‘ مجھے اللہ کا حکم ہی یوں ملا ہے کہ اپنے اندر زلزلہ پیدا کروں اور اندرونی بوجھ باہر نکال پھینکوں۔
Ayah 99:6

یَوْمَئِذٍ یَّصْدُرُ النَّاسُ اَشْتَاتًا١ۙ۬ لِّیُرَوْا اَعْمَالَهُمْؕ Open ayah 99:6 in the Quran reader

اس دن لوگ گروہ گروہ ہو کر آئیں گے تاکہ ان کو ان کے اعمال دکھا دیئے جائیں

یومئذ یصدر الناس اشتاتا . یعنی حساب کی پیشی کے بعد مقام حساب سے لوگ متفرق طور پر لوٹیں گے ‘ کچھ دائیں سمت کو جنت کی طرف جائیں گے اور کچھ بائیں سمت کو دوزخ کی طرف۔ اللہ نے فرمایا ہے : یومئذ یتفرقون۔ لیرو اعمالھم . حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : لیروا جزاء اعمالھم یعنی مقام حساب سے دائیں بائیں واپسی اسلئے ہوگی کہ انکو انکے اعمال کی سزا و جزا دکھا دیجائے۔ مطلب یہ ہے کہ جنت یا دوزخ کے اندر اپنے اپنے مقامات پر جا کر اتر جائیں۔
Ayah 99:7

فَمَنْ یَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَیْرًا یَّرَهٗؕ Open ayah 99:7 in the Quran reader

تو جس نے ذرہ بھر نیکی کی ہو گی وہ اس کو دیکھ لے گا

فمن یعمل . یہاں سے آخر سورت تک لیروا کی تفصیل ہے۔ ابن ابی حاتم نے سعید بن جبیر کا قول نقل کیا ہے کہ جب آیت : ویطعمون الطعام علٰی حبہ ..... نازل ہوئی تو مسلمانوں کا خیال ہوا کہ اگر ہم کو کچھ تھوڑی سی چیز (راہ خدا میں) دیں گے تو اس کا اجر نہیں ملے گا۔ کچھ دوسرے لوگوں کا خیال ہوا کہ اگر کوئی حقیر سا گناہ ہوجائے مثلاً کوئی جھوٹی بات یا نامحرم پر ایک نظر تو اس پر عذاب نہ ہوگا وعید عذاب تو بڑے گناہوں کے لیے ہے ‘ اس پر اللہ نے مذکورہ آیت نازل فرمائی۔ مثقال ذرۃ خیر یرہ . یعنی جو شخص چھوٹی چیونٹی کے وزن کی برابر یا اس سے بھی کم نیکی کرے گا تو اس کے سامنے آئے گی (نملہ چھوٹی چیونٹی۔ یہاں حقیر وزن مراد ہے خواہ چیونٹی سے بھی کم ہو) سامنے آنے سے مراد ہے اس نیکی کی جزاء کا سامنے آنا (ملنا) مقاتل نے کہا : اس آیت میں مسلمانوں کو خیرات دینے کی ترغیب دی جا رہی ہے خواہ قلیل ہی ہو کیونکہ آئندہ قریب وقت میں ہی وہ چھوٹی خیرات بڑی ہوجائے گی۔ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : جو شخص پاک کمائی سے آدھے چھوارے کے برابر کوئی چیز خیرات کرتا ہے اور اللہ پاک (کمائی) ہی کو قبول فرماتا ہے تو اللہ اپنے دائیں ہاتھ سے اس کو لیتا ہے ‘ پھر خیرات کرنے والے کیلئے اسکی (اس حقیر) خیرات کو بڑھاتا رہتا ہے ‘ یہاں تک کہ وہ پہاڑ کے برابر ہوجاتی ہے ‘ جیسے تم میں سے بعض لوگ بچھیرے کی پرورش کرتے ہیں۔ (متفق علیہ) حضرت ابوذر کی روایت ہے ‘ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : تھوڑی بھلائی کو بھی حقیر نہ سمجھو۔ خواہ اتنا ہی کہ اپنے بھائی سے شگفتہ روئی سے پیش آؤ۔ (رواہ مسلم) معتزلہ کے خلاف اس آیت سے اہل سنت کے مسلک کی تائید ہوتی ہے کہ کبیرہ گناہ کرنے سے مسلمان بھی ہمیشہ دوزخ میں نہیں رہیں گے بلکہ آخر کار جنت میں پہنچا دیئے جائیں گے کیونکہ اللہ نے ذرّہ برابر نیکی کی جزاء دینے کا وعدہ کیا ہے اور وعدۂ الٰہیہ میں خلاف ورزی ناممکن ہے۔ ایمان تو تمام نیکیوں کا سرچشمہ اور تمام عبادات کی بنیاد ہے تو گناہوں کے ارتکاب سے اس کی جزاء کس طرح معدوم ہوسکتی ہے اور چونکہ ثواب کو دیکھنے کا مقام صرف جنت ہے اس لیے مؤمن خواہ فاسق ہو اور بغیر توبہ کے مرجائے آخر میں جنت میں ضرور جائے گا۔ اسی پر اجماع ہے اور رسول اللہ ﷺ کے متواتر فرمان بھی اسی مطلب پر دلالت کر رہے ہیں۔ حضرت انس ؓ کی متفق علیہ روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جو شخص اس کا یعنی کلمۂ توحید و رسالت کا قائل ہے اور اس کے دل میں ذرّہ برابر خیر یا ایمان ہے وہ دوزخ سے نکل آئے گا۔ حضرت عثمان غنی کی روایت مسلم نے نقل کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جو شخص یہ یقین رکھتے ہوئے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں مرگیا وہ جنت میں داخل ہوگا۔ مسلم نے حضرت جابر ؓ کی روایت بیان کی ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا : جو شخص اس شرک کی حالت میں مرگیا۔ وہ دوزخ میں جائیگا اور جو شخص ایسی حالت میں مرا کہ کسی کو اللہ کا ساجھی نہ بناتا تھا تو وہ جنت میں جائیگا۔ مسلم نے حضرت عبادہ ؓ بن صامت کی روایت ان الفاظ میں نقل کی ہے ‘ جس شخص نے شہادت دی کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں ‘ اللہ نے اس پر دوزخ حرام کردی۔ صحیحین میں حضرت انس ؓ اور حضرت عتبان ؓ بن مالک کی روایت سے اور حاکم کے نزدیک حضرت ابن عمر کی روایت سے اور مسلم کے نزدیک حضرت معاذ ؓ کی روایت سے اور بھی یہ حدیث آئی ہے۔ مسلم نے حضرت ابن مسعود ؓ کی روایت سے ان الفاظ میں حدیث نقل کی ہے کہ جس کے دل میں رائی کے دانہ کے برابر ایمان ہوگا وہ بھی دوزخ میں داخل نہ ہوگا ‘ یعنی اللہ نے دوامی دوزخ اس پر حرام کردی ‘ ہمیشہ کے لیے دوزخ میں داخل نہ ہوگا۔ حضرت ابوذر ؓ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جو بندہ لا الٰہ الاّ اللہ کا قائل ہوا ‘ پھر اسی پر مرگیا وہ جنت میں داخل ہوگیا۔ میں نے عرض کیا : خواہ اس نے زنا کیا ہو ‘ خواہ چوری کی ہو ؟ فرمایا : خواہ اس نے زنا کیا ہو ‘ خواہ اس نے چوری کی ہو۔ میں نے عرض کیا : اگرچہ اس نے زنا کیا ہو ‘ اگرچہ اس نے چوری کی ہو (تب بھی جنت میں جائے گا) فرمایا : خواہ اس نے زنا کیا ہو ‘ خواہ اس نے چوری کی ہو (تب بھی جنت میں جائے گا) ابوذر کی ناک کو خاک آلود کر کے۔ احمد ‘ بزار اور طبرانی نے بھی اسی طرح کی روایت نقل کی ہے۔ سیوطی نے کہا : اس مضمون کی احادیث تواتر سے بھی زائد ہیں۔ ایک شبہ آیت میں عموم ہے جو شخص ذرّہ برابر نیکی کرے گا وہ اس کو دیکھے گا مثلاً فقیروں کو کچھ دے یا کنبہ پروری کرے گا تو اس کا ثواب سامنے آئے گا خواہ نیکی کرنے والا کافر ہو یا مسلمان (سب کو نیکی کا ثواب ملے گا) حالانکہ (قرآن و حدیث کی) صراحتیں اور اجماع علماء دلالت کرتے ہیں کہ کافر دوامی دوزخی ہیں (اُن کی کوئی نیکی مقبول نہیں۔ جنت میں کبھی نہیں جائیں گے اور ثواب کی شکل بھی نہیں دیکھیں گے) ۔ ازالہ آیت کا مفہوم کافروں کو شامل نہیں کیونکہ ہر نیکی کی ضروری شرط ایمان باللہ اور اللہ کے لیے خلوص نیت ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے اعمال کا مدار نیتوں پر ہے۔ جب کافروں میں ایمانی شرط مفقود ہے تو نتیجہ (یعنی نیکی کا ثواب) مفقود ہونا ہی چاہیے کافروں کی نیکیاں ایسی ہی ہیں جیسے بغیر وضو کی نماز۔ ایسی نماز ‘ نماز نہیں بلکہ اس کا شمار استہزاء اور معصیت کی فہرست میں کیا جاتا ہے۔ اسی لیے علماء نے کہا ہے کہ حالت کفر میں جس نے نماز پڑھنے یا روزہ رکھنے یا اعتکاف کرنے کی منت مانی پھر مسلمان ہوگیا تو نذر کو پورا کرنا واجب نہیں کیونکہ حالت کفر کی نماز ‘ روزہ اور اعتکاف خالص اللہ کے لیے نہیں ہوتا ‘ پس کفر کی حالت کی نماز وغیرہ بھی کفر اور معصیت ہے۔ طاعت سے اس کا کوئی تعلق نہیں اور معصیت کی نذر (معتبر) نہیں۔ کافروں کے اعمال میدانی سراب کی طرح ہیں ‘ جس کو پیاسا پانی سمجھتا ہے لیکن قریب پہنچتا ہے تو کچھ نہیں ملتا (پس کافروں کو اعمال کا کوئی نتیجہ نہ ملے گا اور) خدا کے پاس پہنچیں گے تو اللہ ان کے (برے) اعمال کا پورا پورا بدلہ دے گا اور اللہ کا حساب جلد آنے والا ہے۔
Ayah 99:8

وَ مَنْ یَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا یَّرَهٗ۠ Open ayah 99:8 in the Quran reader

اور جس نے ذرہ بھر برائی کی ہوگی وہ اسے دیکھ لے گا

ومن یعمل مثقال ذرہ شرا یرہ . یعنی اگر گناہوں کی معافی نہ ہوئی تو جس نے ذرّہ برابر بدی کی ہوگی اس کو اس بدی کی سزا دیکھنی (یعنی اٹھانی) پڑے گی۔ ہم نے عدم مغفرت کی قید اس لیے لگائی کہ آیات اور احادیث سے بغیر توبہ کے گناہوں کے بخشے جانے کا جواز ثابت ہے۔ اللہ نے فرمایا ہے : اللہ اس بات کو تو نہیں بخشے گا کہ اس کے ساتھ شرک کیا جائے اور شرک کے علاوہ جس کے گناہ چاہے گا بخش دے گا۔ دوسری آیت میں ہے جس کے گناہ چاہے گا معاف کر دیگا اور جس کو چاہے گا عذاب دیگا۔ تیسری آیت ہے رب کی رحمت سے سوائے گمراہوں کے اور کوئی آس نہیں توڑتا۔ چوتھی آیت ہے اللہ کی رحمت سے ناامید نہ ہو ‘ انکے علاوہ اور بھی اسی طرح کی آیات ہیں۔ حضرت حذیفہ ؓ بن یمان کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : قسم ہے اس کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ قیامت کے دن اللہ ضرور ایسی مغفرت (عمومی) کرے گا کہ ابلیس بھی اس کی طرف بڑھے گا اور اس کو پالینے کے قریب پہنچ جائے گا (مگر پا نہ سکے گا) ۔ (رواہ البیہقی) اس مضمون کی احادیث اتنی کثرت سے آئی ہیں کہ حد تواتر میں داخل ہوگئی ہیں۔ مرجیہ فرقہ کا قول ہے کہ مؤمن خواہ فاسق ہی ہو ‘ اللہ اسکو عذاب نہیں دیگا اور مؤمن کو ایمان ہوتے ہوئے کوئی گناہ ضرر نہیں پہنچائیگا۔ آیت مذخورہ مرجیہ کے خیال کے خلاف ہے ‘ اہل سنت کے قول کی تائید کر رہی ہے (کہ ہر گناہ کی سزا سامنے آئے گی بشرطیکہ اس کو معاف نہ کردیا گیا ہو یا کسی مؤمن سے گناہ کے معاف کردینے کا تو قطعی وعدہ نہیں کیا گیا بلکہ سزا کے سامنے آنے کی صراحت فرمائی گئی ہے) مؤمنوں کو صغیرہ ‘ کبیرہ گناہوں کی سزا دینے کی صراحت بکثرت اَن گنت آیات و احادیث میں آئی ہے ‘ جن سے ثابت ہوتا ہے کہ اہل سنت کا مسلک حق ہے اگر اللہ چاہے گا تو چھوٹے گناہ کی بھی سزا دے گا اور یہ اس کے انصاف کا تقاضا ہوگا اور چاہے گا تو بڑے بڑے گناہوں کو بھی معاف فرما دے گا اور یہ اس کی مہربانی کا نتیجہ ہوگا۔ مقاتل نے کہا : چھوٹا گناہ ‘ کرنے والے کی نظر میں قیامت کے دن پہاڑ سے بھی بڑا معلوم ہوگا۔ حضرت سعید بن حبان نے کہا کہ حنین سے فراغت پا کر رسول اللہ ﷺ واپس ہوئے تو ہمارا پڑاؤ ایک ایسے چٹیل میدان میں ہوا ‘ جہاں کچھ نہ تھا (نہ درخت ‘ نہ عمارت ‘ نہ سبزہ) حضور ﷺ نے فرمایا : جو کچھ کسی کو ملے وہ لے آئے۔ سب کو جمع کرلو۔ گھڑی بھر میں ہی لوگوں نے جمع کرلیا۔ حضور ﷺ نے فرمایا : کیا اس کو دیکھ رہے ہو ؟ اس طرح آدمی پر گناہوں کا انبار اکٹھا ہوجاتا ہے۔ پس آدمی کو چاہیے کہ اللہ سے ڈرتا رہے اور چھوٹا بڑا کوئی گناہ نہ کرے کیونکہ اس کے خلاف تمام گناہوں کو جمع رکھا جاتا ہے۔ (طبرانی) حضرت عائشہ ؓ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : عائشہ ؓ حقیر گناہوں سے پرہیز رکھ۔ اللہ کی طرف سے ان کی بازپرس کرنے والا بھی ہوگا۔ (نسائی اور ابن حبان و ابن ماجہ) ابن حبان نے اس حدیث کو صحیح کہا ہے۔ حضرت انس ؓ نے فرمایا تھا تم کچھ عمل ایسے کرتے ہو جو تمہاری نظر میں بال سے بھی زیادہ باریک (یعنی حقیر) ہوتے ہیں مگر رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں ہم ان کو ہلاکت آفریں گناہوں میں سے شمار کرتے تھے۔ (رواہ البخاری) امام احمد نے حضرت ابوسعید ؓ خدری کی روایت سے بھی ایسی ہی حدیث نقل کی ہے ‘ جس کی سند صحیح ہے۔ حضرت ابن مسعود ؓ نے فرمایا : اللہ کی کتاب میں سب سے زیادہ فیصلہ کن آیت : فمن یعمل مثقال ذرۃ خیرا یرہ ومن نیعمل مثقال ذرۃ شرا یرہ ہے۔ مسلم نے حضرت انس ؓ کی روایت سے ایک طویل حدیث نقل کی ہے جس میں یہ بھی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اس آیت کو فاذّہ جامعہ فرمایا ہے (فاذّہ ‘ اکیلی ‘ یگانہ ‘ یکتا) ربیع بن خیثم کا بیان ہے کہ ایک شخص حسن بصری (رح) کی طرف یہ سورت پڑھتا ہوا گزرا۔ جب آخری حصہ پر پہنچا تو حسن بصری نے فرمایا : بس میرے لیے کافی ہے تو نے نصیحت کی حد کردی۔ حضرت عبداللہ بن عمرو ؓ کی روایت ہے کہ ایک شخص رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا : یا رسول اللہ ﷺ ! مجھے کچھ پڑھا دیجئے۔ فرمایا : الر والی تین سورتیں پڑھ۔ اس شخص نے عرض کیا : میں بوڑھا ہوگیا ہوں ‘ دل بھی سخت ہوگیا ہے اور زبان بھی موٹی پڑگئی ہے۔ فرمایا : حٰآ والی تین سورتیں پڑھ۔ اس نے پہلے کی طرح اب بھی گزارش کی اور عرض کیا : یا رسول اللہ ﷺ ! مجھے سورت جامعہ (جو سب کے ثواب کو جامع ہو) پڑھا دیجئے۔ حضور ﷺ نے اس کو اذا زلزلت پڑھا دی۔ پڑھنے سے فارغ ہو کر اس شخص نے عرض کیا : قسم ہے اس خدا کی جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا ہے میں کبھی اس سے زیادہ نہیں پڑھوں گا (اور نہ اس میں کمی کروں گا) پھر پشت پھیر کر چل دیا۔ رسول اللہ ﷺ نے دو مرتبہ فرمایا : مروک کامیاب ہوگیا۔ (رواہ احمد و ابوداؤد) حضرت انس ؓ اور حضرت ابن عباس ؓ دونوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اذا زلزلت نصف قرآن کے برابر ہے اور قل ھو اللہ احد ایک تہائی قرآن کے برابر ہے اور قل یایھا الکافرون ایک چوتھائی قرآن کے برابر ہے۔ (ترمذی و بغوی) ترمذی کی ایک اور روایت میں آیا ہے اور ابن ابی شیبہ ؓ نے بھی لکھا ہے کہ حضرت انس ؓ نے فرمایا : اذا زلزلت الارض چوتھائی قرآن ہے۔ جزری نے کہا : چوتھائی قرآن ہونے کا یہ مطلب ہے کہ قرآن میں چار چیزیں ہیں (یعنی چار چیزوں کا بیان ہے :) زندگی ‘ موت ‘ حشر اور حساب اور اس سورت میں صرف حساب کا بیان ہے اور اس کو نصف قرآن کہنے کی وجہ یہ ہے کہ قرآن میں احوال دنیا کا بھی بیان ہے اور احوال آخرت کا بھی اور اس سورت میں صرف احوال آخرت کا بیان ہے۔ لہٰذا یہ سورت ایک حیثیت سے چوتھائی قرآن ہے اور دوسری حیثیت سے نصف قرآن۔ ایک بہت ہی ضعیف سند سے حضرت علی ؓ کی روایت آئی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جس نے چار بار اذا زلزلت پڑھ لی تو وہ (ثواب میں) اس شخص کی طرح ہے جس نے پورا قرآن پڑھا۔ واللہ اعلم سورت اذا زلزلت الارض ختم ہوئی