Ayah 99:1اللہ تبارک وتعالی ان واقعات کے بارے میں آگاہ فرمایا ہے جو قیامت کے دن وقوع میں آئیں گے نیز یہ کہ زمین میں زلزلہ آئے گا وہ ہلادی جائے گی اور وہ کانپ اٹھے گی یہاں تک کہ اس پر موجود تمام عمارتیں اور تمام نشانات گر کر معدوم ہوجائیں گے اس کے تمام پہاڑ ریزہ ریزہ ہوجائیں گے اس کے ٹیلے برابر کردیے جائیں گے زمین ہموارج اور چٹیل میدان بن جائے گی جس میں کوئی نشیب و فراز نہ ہوگا۔
Ayah 99:2(وَاَخْرَجَتِ الْاَرْضُ اَثْقَالَهَا) اور زمین اپنے بوجھ نکال ڈالے گا۔ یعنی زمین کے پیٹ میں جو خزانے اور مردے ہوں گے وہ انہیں نکال کر باہر کرے گی۔
Ayah 99:3(وَقَالَ الْاِنْسَانُ ) جب انسان اس عظیم واقعے کو دیکھے گا جو زمین کو پیش آئے گا تو کہے گا ( مَا لَهَا) یعنی اسے کیا حادثہ پیش آگیا۔
Ayahs 99:4–5(يَوْمَىِٕذٍ تُحَدِّثُ ) اس دن زمین بیان کرے گی۔ ( اَخْبَارَهَا) اپنی خبریں۔ یعنی عمل کرنے والوں کے اچھے برے اعمال کی گواہی دے گی جو انہوں نے اس کی پیٹھ پر کیے ہیں کیونکہ زمین بھی ان گواہوں میں شمار ہوگی جو بندوں کے خلاف ان کے اعمال کی گواہی دیں گے یہ سب اسلیے ہوگا۔ (بِاَنَّ رَبَّكَ اَوْحٰى لَهَا) کہ اللہ تعالیٰ اس کو حکم دے گا کہ وہ ان تمام اعمال کے بارے میں خبر دے جو اس کی سطح پر کیے گئے ہیں پس زمین اللہ تعالیٰ کے حکم کی نافرمانی نہیں کرے گی۔
Ayah 99:6(يَوْمَىِٕذٍ يَّصْدُرُ النَّاسُ ) اس دن لوگ آئیں گے۔ یعنی قیامت کے میدان سے جب اللہ تعالیٰ ان کے درمیان فیصلہ کرے گا ( اَشْتَاتًا) مختلف گروہوں کی صورت میں ( لِّيُرَوْا اَعْمَالَهُمْ ) تاکہ اللہ تعالیٰ ان کو ان کی برائیاں اور نیکیاں دکھائے جو ان سے صادر ہوئی ہیں اور ان کو ان اعمال کی پوری جزا کا مشاہدہ کرائے۔
Ayahs 99:7–8(فَمَنْ يَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَّرَهٗ ۔ وَمَنْ يَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا يَّرَهٗ ) پس جس نے ذرہ بھر نیکی کی ہوگی وہ اس کو دیکھ لے گا اور جس نے ذرہ بھر برائی کی ہوگی وہ اسے دیکھ لے گا یہ خیرو شر کے تمام اعمال کو شامل ہے کیونکہ جب وہ ذرہ بھر وزن کو دیکھ سکے گا جو حقیر ترین چیز ہے اسے اس کی جزا بھی دی جائے گی تب وہ اعمال جو وزن میں اس سے زیادہ ہوں گے ان کا دکھا دینا تو زیادہ اولی ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا (یوم تجد کل نفس ماعملت۔۔ تا۔۔۔۔ بعیدا۔ آل عمران۔ 30) جس دن ہر شخص اپنے بھلائی کے عمل اور برائی کے عمل کو موجود پائے گا اور تمنا کرے گا کہ کاش، برائیوں اور اس کے درمیان بہت دوری ہوتی۔ (ووجدوا ماعملوا حاضرا۔ الکھف 49) اور انہوں نے جو عمل کیے تھے ان کو موجود پائیں گے۔ ان آیات میں بھلائی کے فعل کی ترغیب ہے خواہ وہ بہت ہی تھوڑا ہو اور برائی کے فعل پر ترہیب ہے خواہ وہ بہت ہی معمولی ہو۔