99. Surah Az-Zalzala

الزلزلةThe Earthquake · 8 ayahsبصیرتِ قرآن

تعارف

تعارف

تعارف : قرآن کریم میں بیشمار مقامات پر اس بات کو بیان کیا گیا ہے کہ وہ وقت دور نہیں جب اس نظام کائنات کو جو ایک خاص ترتیب سے چل رہا ہے توڑ کر درہم برہم کردیا جائے گا، آسمان پھٹ جائیں گے، چاند سورج بےنور ہوجائیں گے، ستارے اور تارے ایک دوسرے سے ٹکرا جائیں گے، زمین مسلسل جھٹکوں سے ہلا ڈالی جائے گی جس سے زمین کے اندر دفن کء گئے مردے، انسانی جسم کے اجزاء جو کائنات میں بکھرے ہوئے ہوں گے ان کو پھر سے جمع کرکے انسانی شکل و صورت دیدی جائے گی۔ زمین کے اندر سے مع دنیات یعنی سونا، چاندی، ہیرے، جواہرات اور قیمتی چیزیں جن کو انسان بڑی اہمیت دیتا تھا اور اس کی وجہ سے ایک دوسرے پر ظلم و ستم، غضب اور چوری چکاری سے بھی باز نہیں آتا تھا وہ سب چیزیں اس کے سامنے پڑی ہوں گی مگر بےحقیقت اور بےقیمت ۔ اس دن آدمی کو اندازہ ہوجائے گا کہ جس سونے، چاندی، اور ہیرے جواہرات کے پیچھے اس کی زندگی گزری ہے وہ کس قدر حقیر اور بےکار چیزیں تھیں۔ اس کے بعد جب زمین زلزلوں اور جھٹکوں سے ہلنا بند نہ کرے گی تو انسان کہے گا کہ اسے کیا ہوگیا ؟ میدان حشر قائم ہونے کے بعد زمین کو اس کے رب کی طرف سے حکم دیا جائے گا کہ اس پر جو حالات اور واقعات گزرے ہیں اور انسا نے جو بھی عمل کئے ہیں ان کو پوری طرح بیان کردے۔ پھر ہر شخص کے اعمال نامے اس کے سامنے رکھ دئیے جائیں گے اور ہر شخص کے ساتھ پورا پورا انصاف کیا جائے گا۔ جس نے ذرہ برابر بھی نیکی کی ہوگی وہ اس کو بھی دیکھے گا اور اگر اس نے کوئی گناہ یا خطا کی ہوگی وہ اس کو بھی دیکھے گا۔ قرآن کریم میں فرمایا گیا ہے کہ ہر شخص کے ساتھ دوفرشتے جو کراماً کاتبین لگے ہوئے ہیں وہ آدمی کی ایک ایک بات اور ہر عمل کو لکھ رہے ہیں۔ قیامت کے دن ہر شخص کا مکمل ریکارڈ اس کے سامنے ہوگا۔ اللہ تعالیٰ فرمائیں گے کہ ہر ایک اپنے اعمال نامے کو خود دیکھ کر اپنا محاسبہ کرلے۔ آدمی اپنے نامہ اعمال کو دیکھ کر حیران رہ جائے گا کیونکہ چھوٹی سے چھوٹی بات اور عمل، دلی جذبات، ارادے اور مقاصد تک اس کے اعمال نامے میں درج ہوں گے۔ کوئی آدمی اعمال نامے کو جھٹلا نہ سکے گا کیونکہ اگر وہ انکار کرے گا تو اس کی زبان، ہاتھ، پاؤں، آنکھیں، کان اور اس کے تمام اعضا حتی کہ اس کی کھال تک اللہ ایسی زبان عطا کردیں گے کہ وہ ایک ایک گناہ تک کی گواہی دے گی۔ زمین بتا دیگی کہ اس پر کس نے کیا کیا تھا۔ اس طرح ہر انسان اپنے گناہوں کا اعتراف کئے بغیر نہ رہ سکے گا۔ ان ہی باتوں کو سورة زلزل میں بیان فرمایا گیا ہے جس کا خلاصہ یہ ہے۔ زمین پر ایسے مسلسل جھٹکے آئیں گے کہ جس سے زمین ہلا ڈالی جائے گی۔ زمین اپنے اندر کے بوجھ یعنی جو انسان دفن کئے گئے تھے ان کو اور سونے، چاندی، ہیرے ، جواہرات کو اپنے اندر سے نکال کر باہر پھینک دے گی۔ انسان کہے گا کہ اس زمین کو کیا ہوگیا ؟ پھر زمین کو اس کے رب کی طرف سے حکم دیا جائے گا کہ وہ اپنے اوپر کئے گئے حالات اور واقعات کو بیان کردے۔ پھر اس کے بعد ہر شخص اپنے اعمال کو اپنی آنکھوں سے دیکھ لے گا۔ جس نے چھوٹی سے چھوٹی نیکی کی ہوگی وہ اس کو دیکھے گا اور جس نے ذرہ برابر بھی برائی کی ہوگی وہ بھی اس سامنے ہوگی جسے وہ دیکھے گا۔

Ayahs 99:1–8

اِذَا زُلْزِلَتِ الْاَرْضُ زِلْزَالَهَاۙ Open ayah 99:1 in the Quran reader

جب زمین بری طرح ہلا ڈالی جائے گی

وَ اَخْرَجَتِ الْاَرْضُ اَثْقَالَهَاۙ Open ayah 99:2 in the Quran reader

اور زمین اپنے بوجھ باہر پھینک دے گی

وَ قَالَ الْاِنْسَانُ مَا لَهَاۚ Open ayah 99:3 in the Quran reader

تو آدمی کہے گا کہ اس کو کیا ہوگیا ہے ؟

یَوْمَئِذٍ تُحَدِّثُ اَخْبَارَهَاۙ Open ayah 99:4 in the Quran reader

اس دن میں وہ اپنی سب باتیں بیان کرے گی

بِاَنَّ رَبَّكَ اَوْحٰى لَهَاؕ Open ayah 99:5 in the Quran reader

اس لئے کہ آپ کے رب نے اس کو یہی حکم دیا ہوگا

یَوْمَئِذٍ یَّصْدُرُ النَّاسُ اَشْتَاتًا١ۙ۬ لِّیُرَوْا اَعْمَالَهُمْؕ Open ayah 99:6 in the Quran reader

اس دن لوگ مختلف جماعتیں بن کر لوٹیں گے تاکہ ان کو ان کے اعمال دکھا دئیے جائیں

فَمَنْ یَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَیْرًا یَّرَهٗؕ Open ayah 99:7 in the Quran reader

پھر جس نے ذرہ برابر نیکی کی ہوگی وہ اس کو وہاں دیکھ لے گا

وَ مَنْ یَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا یَّرَهٗ۠ Open ayah 99:8 in the Quran reader

اور جس نے ذرہ برابر برائی کی وہگی وہ بھی (اسے شرک) کو دیکھ لے گا۔

لغات القرآن۔ زلزلت۔ ہلاڈالی گئی۔ اثقال۔ بوجھ۔ مالھا ۔ کیا ہوگیا اسے ؟ ۔ تحدت۔ بیان کردے گی۔ اخبر۔ خبریں۔ حالات۔ یصدر۔ باہر نکلنے گا۔ لوٹے گا۔ اشتات۔ مختلف گروہ۔ مثقال ۔ وزن۔ برابر۔ یرہ۔ وہ اس کو دیکھ گا۔ تشریح : نبی کریم حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے کہ جب زمین پر ایک شخص بھی اللہ اللہ کہنے والا نہ رہے گا تو نظام کائنات کو درہم برہم کرکے ہر چیز پر فنا کی کیفیت طاری کردی جائے گی۔ اسی کو قیامت کہا جاتا ہے جو برحق ہے اور اس کے آنے میں ذرا بھی شک نہیں ہے۔ لیکن پہلا صور پھونکے جانے کے بعد کیا ہوگا اس کو اس سورت میں بیان فرمایا گیا ہے۔ ارشاد ہے کہ جب زمین مسلسل جھٹکوں اور زلزلوں سے ہلا ماری جائے گی۔ اور زمین و آسمان کے نظام کو توڑ کر ایک ہموار زمین تیار کرلی جائے گی و اس وقت موجودہ زمین اپنے اندر دفن کئے گئے انسان یا اس کے بکھرے ہوئے اجزا کو نکال کر باہر پھینک دے گی پھر اللہ تعالیٰ ان کو جمع کرکے پہلے والی شکل و صورت میں ڈھال دے گا، سونا، چاندی اور اپنے اندر کے مع دنیات کو زمین اگل دے گی۔ اس وقت مدہوشی کا عالم یہ ہوگا کہ کسی کو اتنے زبردست مال و دولت کی طرف دیکھنے کی توجہ تک نہ ہوگی۔ حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا زمین اپنے اندر کے جگر کے ٹکڑے اور سونے، چاندی کی بڑی بڑی چٹانیں کھول کر رکھ دے گی۔ اس وقت وہ شخص جس نے مال کی وجہ سے کسی کو قتل کیا ہوگا کہے گا یہ ہے وہ چیز ؟ جس کے لئے میں نے قتل جیسا جرم کیا تھا۔ جس شخص نے مال و دولت کی محبت میں اپنے رشتہ داروں سے قطع تعلق کیا ہوگا وہ کہے گا کہ یہ ہے وہ مال و دولت ؟ جس کی وہ سے میں نے ایسی حرکت کی تھی۔ جس کا ہاتھ چوری کی سزا میں کاٹا گیا تھا وہ بھی (نہایت افسوس کے ساتھ) کہے گا کہ میں نے اس کی وجہ سے اپنا ہاتھ کٹوایا تھا۔ پھر کوئی شخص بھی ایسا نہ ہوگا جو اس کی طرف دیکھنا گوارا کرے گا۔ (الصحیح مسلم) ۔ جب زمین زور زور سے ہلنا شروع ہوجائے گئی تو آدمی کے منہ سے گھبراہٹ اور مایوسی میں یہ الفاظ نکلیں گے کہ آج اس زمین کو کیا ہوگیا کہ وہ برابر ہلے جار ہی ہے۔ جب اس کو یقین ہوجائے گا کہ یہ زمین تو تھمنے کا نام ہی نہیں لے رہی ہے اس وقت آدمی کے سامنے اس کا سارا کیا دھرا نظر آنے لگے گا۔ اس دن ہر شخص اپنے ہی جیسے عمل والے لوگوں کی طرف کھنچتا چلا جائے گا۔ چور چور کی طرف اور نیک آدمی نیک لوگوں کی طرف جائے گا اور پھر یہ جماعتیں اللہ کے سامنے پیش ہوں گی اور ہر ایک اپنے عمل کے اثرات اور ثمرات کو سامنے دیکھے گا۔ ابن ابی حاتم نے حضرت ابو سعید خدری ؓ سے یہ روایت نقل کی ہے کہ جب ” قمن یعمل “ والی آیت نازل ہوئی تو میں نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا۔ کیا میں اپنا عمل خود دیکھوں گا ؟ آپ ﷺ نے فرمایا ہاں۔ اس پر میں نے عرض کیا بڑے برے گناہ ؟ آپ ﷺ نے فرمایا ہاں۔ میں نے عرض کیا چھوٹے چھوٹے گناہ ؟ آپ ﷺ نے فرمایا ہاں۔ اس پر میں نے عرض کیا پھر میں تو مارا گیا۔ حضور اکرم ﷺ نے فرمایا اے ابو سعید خوش ہوجائو کیونکہ ہر نیکی اپنی جیسی دس نیکیوں کے برابر ہوگی۔ اسی طرح حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ تم جانتے ہو کہ زمین کی خبریں بتانا کیا ہے ؟ صحابہ کرام ؓ نے عرض کیا اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا زمین ہر مرد اور عورت کے تمام اعمال پر گواہی دے گی جو اس نے اس پر کئے ہوں گے۔ اس لئے کہ اس کے پروردگار کا اس کو یہی حک ہوگا یعنی زمین کو حک دیا جائے گا کہ وہ تمام لوگوں کے اعمال کو بیان کردے اور اس نے اس زمین پر جو کچھ کیا ہے وہ اس کو ظاہر کردے۔ (کشف الرحمن) ۔ حضرت ربعہ الخرشی ؓ سے روایت ہے کہ حضور اکرم ﷺ نے فرمایا ذرا زمین سے بچ کر رہنا کیونکہ یہ تمہاری جڑ اور بنیاد ہے اور اس پر عمل کرنے والا کوئی شخص ایسا نہیں ہے جس کے عمل کی یہ خبر نہ دے گی اچھی یا بری۔ (معجم الطبرانی) ۔ خلاصہ یہ ہے کہ انسان کا ہر عمل خیر اور ہر عمل شر اس کے سامنے آجائے گا اور وہ اس کو اپنی کھلی آنکھ سے دیکھے گا اور اس کی جزا یا سزا پائے گا۔ اب یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ انسان کو کون سا عمل خیر ہے اور کون سا شر ہے ؟ کیونکہ دنیا میں کوئی شخص بھی ایسا نہیں ہے جو اپنے عمل کو اچھا اور بہتر نہ سمجھتا ہو۔ دنیا میں ہر فرقہ اور جماعت نیک اور بہتر کام کرکے ایک سکون محسوس کرتا ہے اور اسی میں اپنی نجات سمجھتا ہے۔ اسی بات کو اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں ارشاد فرمایا ہے ”……“ یعنی ہر جماعت کے پاس جو کچھ بھی ہے وہ اسی میں مگن ہے۔ خیر اور شر کیا ہے اس سلسلہ میں ہمیں اسلامی تعلیمات سے جو رہنمائی ملتی ہے وہ ہے کہ انسان دنیا میں جو بھی نیک ، بھلا اور بہتر کام کرتا ہے اللہ کے ہاں اس کی قدر کی جاتی ہے لیکن فرق یہ ہے کہ ہر وہ کام جو نیکی کے جذبے سے کیا جائے اور اس کی بنیادوں میں ایمان کا جذبہ نہ ہو تو اس کا چھا بدلہ اسی دنیا میں دیدیا جاتا ہے، آخرت میں اس کا کوئی حصہ نہ ہوگا لیکن اگر ایمان کے کے ساتھ وہ عمل کیا جائے گا جس کا حکم اللہ اور اس کے رسول ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے تو اس پر ایمان اور عمل صالح کی برکت سے اس کو دنیا میں بھی بہتری عطا کی جاتی ہے اور اس کو آخرت میں اس کے تصور سے بھی زیادہ اجر اور بدلہ عطا کیا جائے گا۔ یعنی ایمان و عمل صالح اختیار کرنے والے شخص کو دونوں جہانوں میں عظمتیں عطا کی جائیں گی۔ اسی بات کو فرمایا گیا کہ جس نے کوئی بھی بھلا اور نیک کام کیا وہ اس کو دیکھے گا اور جس نے کوئی بھی گناہ اور خطا کا کام کیا وہ اس کو بھی بھگتے گا اور کھلی آنکھوں سے دیکھے گا۔