Ayahs 99:1–4یہ سورة الزلزال کا ترجمہ ہے لفظ زلزال اور زلزلہ دونوں سخت جھٹکا کھانے اور سخت حرکت کرنے کے معنی میں آتے ہیں دونوں باب فعللہ (رباعی مجرد) کے مصادر ہیں زلزالھا مفعول مطلق ہے جو تاکید اور بیان شدت کے لیے لایا گیا ہے جیسا کہ سورة الاحزاب میں فرمایا : ﴿وَ زُلْزِلُوْا زِلْزَالًا شَدِیْدًا﴾ یہاں بھی قیامت کے زلزلہ کو بیان فرمایا ہے، یہ زلزلہ بہت سخت اور شدید ہوگا۔ جیسا کہ سورة الحج میں فرمایا : ﴿یٰٓاَیُّھَا النَّاسُ اتَّقُوْا رَبَّكمْ اِنَّ زَلْزَلَۃَ السَّاعَۃِ شَیْءٌ عَظِیْمٌ﴾ (اے لوگو ! بیشک اپنے رب سے ڈرو، بیشک قیامت زلزلہ بہت بڑی چیز ہے) وہ زلزلہ دنیا والے زلزلوں جیسا نہیں کہ دو چار شہروں میں آگیا وہ تو پوری زمین کو جھنجھوڑ کر رکھ دے گا، اس وقت کی سخت مصیبت کو سورة الحج میں ارشاد فرمایا ہے : ﴿یَوْمَ تَرَوْنَہَا تَذْھَلُ كلُّ مُرْضِعَۃٍ عَمَّآ اَرْضَعَتْ وَ تَضَعُ كلُّ ذَاتِ حَمْلٍ حَمْلَہَا وَ تَرَی النَّاسَ سُكٰرٰی وَ مَا ھُمْ بِسُكٰرٰی وَ لٰكنَّ عَذَاب اللّٰہِ شَدِیْدٌ﴾ (جس روز تم اس کو دیکھو گے اس روز تمام دودھ پلانے والیاں اپنی دودھ پیتے کو بھول جائیں گی اور تمام حمل والیاں اپنا حمل ڈال دیں گی، اور وہ لوگ تجھے نشہ کی سی حالت میں دکھائی دیں گے حالانکہ وہ نشہ میں نہ ہوں گے، اور لیکن اللہ کا عذاب ہے ہی سخت چیز) اتنے بڑے سخت زلزلہ کے بعد میدان حشر میں حاضری ہوگی، سب قبروں سے نکل کر حساب کتاب کے لیے جمع کیے جائیں گے، اب زمین اپنے اندر کے دفینوں کو نکال دے گی جسے ﴿وَ اَخْرَجَتِ الْاَرْضُ اَثْقَالَهَاۙ002﴾ میں بیان فرمایا ہے، مردے بھی باہر آجائیں گے اور اموال بھی، یہ سب اموال کسی کے کچھ کام نہ آئیں گے جن پر دنیا میں لڑائیاں لڑا کرتے تھے اور لوگوں کی جانیں لیتے تھے میدان حشر میں لوگ جمع ہوں گے، اعمال نامے پیش ہوں گے۔ گواہیاں ہوں گی انہی گواہیاں دینے والوں میں زمین بھی ہوگی جسے ﴿يَوْمَىِٕذٍ تُحَدِّثُ اَخْبَارَهَاۙ004﴾ میں بیان فرمایا ہے۔
Ayah 99:5انسان یہ حالت دیکھ کر حیران رہ جائے گا اور کہے گا کہ مالھا ہائے ہائے اس زمین کو کیا ہو ایہ تو بےجان چیز تھی نہ بولتی تھی نہ کسی سے بات کرتی تھی آج تو باتیں کر رہی ہے۔ ﴿بِاَنَّ رَبَّكَ اَوْحٰى لَهَاؕ005﴾ زمین کا یہ بات کرنا اس لیے ہے کہ اس کے رب نے اسے حکم دیا ہے اور بولنے کی قوت اور طاقت دے دی ہے۔ (جیسے انسان کے اعضاء اس کے خلاف گواہی دیں گے ایسی ہی زمین گواہی دے دے گی جس پر سکونت اختیار کیے ہوئے تھے) ۔
حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے آیت کریمہ ﴿يَوْمَىِٕذٍ تُحَدِّثُ اَخْبَارَهَاۙ004﴾ تلاوت فرمائی، پھر صحابہ سے خطاب کر کے فرمایا تم جانتے ہو اس کا خبر دینا کیا ہے ؟ عرض کیا اللہ اور اس کا رسول ہی خوب جانتے ہیں۔ فرمایا اس کا خبر دینا یہ ہے کہ ہر بندہ اور بندی کے بارے میں ان اعمال کی گواہی دے گی۔ جو اعمال اس کی پشت پر کیے تھے وہ کہے گی کہ فلاں دن فلاں کام کیا تھا، زمین کی خبریں دینے کا یہ مطلب ہے۔ (رواہ الترمذی فی اواخر ابواب التفسیر)
Ayah 99:6﴿يَوْمَىِٕذٍ يَّصْدُرُ النَّاسُ ﴾ (الآیۃ) قیامت کے دن پیشیوں اور حساب کتاب سے فارغ ہو کر لوگ اپنے اپنے ٹھکانوں کو واپس ہوں گے۔ متفرق جماعتوں میں بٹ کر چلیں گے ان میں سے جنت والے داہنے ہاتھ کو روانہ ہوجائیں گے اور دوزخ والے بائیں طرف کے راستہ پر چل پڑیں گے لفظ اشتاتا میں مختلف جماعتیں بیان کرنا مقصود ہے، یہ شتیت کی جمع ہے جو متفرق کے معنی میں آتا ہے اس کو سورة الروم میں ﴿وَ يَوْمَ تَقُوْمُ السَّاعَةُ يَوْمَىِٕذٍ يَّتَفَرَّقُوْنَ۠0014﴾ میں بیان فرمایا ہے اور سورة الزمر کی آیات ﴿وَ سِيْقَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْۤا ﴾ اور ﴿وَ سِيْقَ الَّذِيْنَ اتَّقَوْا رَبَّهُمْ ﴾ میں بیان فرمایا ہے وہ دن کیسا ہیبت ناک ہوگا جب ایمان و کفر کی بنیاد پر بٹوارہ ہوگا، دنیا میں جو مومن اور کافر، فاجر اور متقی ملے جلے رہتے تھے یہ مل جل کر رہنے کی حالت ختم کردی جائے گی اور ارشاد ہوگا ﴿وَ امْتَازُوا الْيَوْمَ اَيُّهَا الْمُجْرِمُوْنَ 0059﴾ (اور اے مجرمو ! آج جدا ہوجاؤ) ۔
﴿لِّيُرَوْا اَعْمَالَهُمْ﴾ میں بتادیا کہ میدان حشر سے آگے اپنے مقام میں جانے کے لیے جو روانگی ہوگی وہ اپنے اپنے اعمال کی جزا سزا دیکھنے کے لیے ہوگی۔
Ayahs 99:7–8پھر اس اجمال کی تفصیل بیان فرمائی (گوہ وہ تفصیل بھی اجمال کو لیے ہوئے ہے جو بڑی محکم اور فیصلہ کن بات کرنے والی ہے) ارشاد فرمایا ﴿ فَمَنْ يَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَّرَهٗؕ007 ﴾ (سو جو شخص ذرہ برابر بھی کوئی خیر کا کام کرے گا اسے دیکھ لے گا اور جنت میں نعمتوں سے نوازا جائے گا) ۔
﴿وَ مَنْ يَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا يَّرَهٗ (رح) 008﴾ (اور جس شخص نے ایک ذرہ برابر کوئی شر (یعنی برائی) کا کام کیا وہ اس کو دیکھ لے گا) یعنی اس کی سزا پالے گا اور اپنے کیے کا انجام دیکھ لے گا۔
ان دونوں آیتوں میں خیر اور شر اور اصحاب خیر اور اصحاب شر کے بارے میں دو ٹوک فیصلہ فرمایا ہے ایمان ہو یا کفر، اچھے اعمال ہوں یا برے اعمال سب کچھ سامنے آجائے گا، لہٰذا کوئی سی بھی نیکی کو نہ چھوڑے خواہ کتنی بھی معمولی معلوم ہو اور کسی بھی برائی کا ارتکاب نہ کرے خواہ کتنی ہی معمولی ہو۔
ایک مرتبہ رسول اللہ ﷺ نے اموال زکوٰۃ کے نصاب بیان فرمائے زکوٰۃ کی ادائیگی نہ کرنے والوں کا قیامت کے دن کا عذاب بتایا آخر میں صحابہ ؓ نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ ارشاد فرمایئے اگر کسی کے پاس گدھے ہوں، اور ان کی زکوٰۃ کی ادائیگی کے بارے میں کیا تفصیل ہے ؟ آپ نے فرمایا گدھوں کے بارے میں مجھ پر کوئی حکم (خصوصی) نازل نہیں کیا گیا۔ یہ آیت جو اپنے مضمون میں منفرد اور جامع ہے نازل کی گئی ہے یعنی ﴿ فَمَنْ يَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَّرَهٗؕ007 وَ مَنْ يَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا يَّرَهٗ (رح) 008﴾ (رواہ البخاری صفحہ 141 او مسلم صفحہ 319: ج 1)
مومن بندوں کو کسی موقع پر بھی ثواب کمانے سے (اگرچہ تھوڑا ہی سا عمل ہو) غفلت نہیں برتنی چاہیے جیسا کہ گناہ سے بچنے کا فکر کرنا بھی لازم ہے، آخرت کی فکر رکھنے والے بندوں کا ہمیشہ یہی طرز رہا ہے۔ جس قدر بھی ممکن ہوجانی اور مالی عبادت میں لگے رہیں۔ اللہ کے ذکر میں کوتاہی نہ کریں۔ اگر ایک مرتبہ سبحان اللہ کہنے کا موقع مل جائے تو کہہ لیں۔ ایک چھوٹی سی آیت تلاوت کرنے کا موقع ہو تو اس کی تلاوت کرنے سے دریغ نہ کریں۔ حضرت عدی بن حاتم ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : اتقوا النار ولو بشق تمرة فمن لم یجد فبکلمة طیبة (دوزخ سے بچو اگرچہ کھجور کا ایک ٹکڑا ہی دے دو ، سو اگر وہ بھی نہ پاؤ تو بھلی بات ہی کہہ دو ) ۔ (رواہ البخاری صفحہ 971: ج 2)
حضرت عمرو ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک دن خطبہ دیا اور خطبے میں فرمایا خبردار ! یہ دنیا ایسا سامان ہے جو سامنے حاضر ہے اس میں سے نیک اور بد سب کھاتے ہیں پھر فرمایا خبردار آخرت (اگرچہ ادھار ہے اس) کا وعدہ سچا ہے اس میں وہ بادشاہ فیصلے فرمائے گا جو قدرت والا ہے، پھر فرمایا خبردار ساری خیر پوری کی پوری جنت میں ہوگی اور خبردار شر یعنی برائی پوری کی پوری دوزخ میں ہوگی۔ پھر فرمایا کہ خبردار عمل کرتے رہو اور اللہ سے ڈرتے رہو اور یہ جان لو کہ تم اپنے اعمال پر پیش کیے جاؤ گے۔
﴿فَمَنْ يَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَّرَهٗؕ007 وَ مَنْ يَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا يَّرَهٗ (رح) 008﴾ (سو جس نے ایک ذرہ کے برابر خیر ہوگی وہ اسے دیکھ لے گا اور جس نے ایک ذرہ کے برابر شر کا کام کیا ہوگا وہ اس کو دیکھ لے گا) ۔ (رواہ الشافعی کما فی المشکوٰۃ صفحہ 445)
ہر مومن کے سامنے سورة الزلزال کی آخری دونوں آیات پیش نظر رہنی چاہئیں خیر میں کوئی کوتاہی نہ کریں اور ہلکے سے ہلکے کسی نگاہ کا بھی ارتکاب نہ کریں۔ حضرت عائشہ صدیقہ ؓ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے فرمایا کہ اے عائشہ ! معمولی گناہوں سے بھی پرہیز کرنا کیونکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کے بارے میں بھی مطالبہ کرنے والے ہیں (یعنی اعمال کے لکھنے والے فرشتے مقرر ہیں) ۔ (مشکوٰۃ المصابیح صفحہ 458)
حضرت انس ؓ نے ایک مرتبہ حاضرین سے فرمایا کہ تم لوگ بعض ایسے اعمال کرتے ہو جو تمہاری نظروں میں بال سے زیادہ باریک ہیں یعنی انہیں تم معمولی سا گناہ سمجھتے ہو اور ہمارا یہ حال تھا کہ ہم انہیں ہلاک کرنے والی چیزیں سمجھتے تھے۔ (رواہ البخاری صفحہ 961: ج 2)
فضیلت :
حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ آنحضرت سرور عالم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ سورة ﴿ اِذَا زُلْزِلَتِ الْاَرْضُ زِلْزَالَهَاۙ001﴾ نصف قرآن کے برابر ہے اور سورة ٴ ﴿قُلْ هُوَ اللّٰهُ اَحَدٌۚ001﴾ تہائی قرآن کے برابر ہے اور سورة ٴ ﴿قُلْ يٰۤاَيُّهَا الْكٰفِرُوْنَۙ001﴾ چوتھائی قرآن کے برابر ہے۔ (رواہ الترمذی فی ابواب فضائل القرآن)
وھذا آخر تفسیر سورة الزالزال والحمد للہ الکبیر المتعال والصلوة والسلام علی من جاء بالحسنات والصالح من الاعمال، وعلی من صحبہ وتبعہ باحسان الی یوم المآل