99. Surah Az-Zalzala

الزلزلةThe Earthquake · 8 ayahsتفسیرِ جلالین

Ayah 99:1

اِذَا زُلْزِلَتِ الْاَرْضُ زِلْزَالَهَاۙ Open ayah 99:1 in the Quran reader

جب زمین بھونچال سے ہلا دی جائے گی

ترجمہ : شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے، جب زمین پوری شدت سے قیام قیامت کے وقت ہلا دی جائے گی جو کہ اس کے عظیم ہونے کے مناسب ہوگی اور زمین اپنے اندر کے سارے بوجھ مثلاً اس کے خزانے اور اس کے مردے نکال دے گی اور ان کو اپنی ظاہری سطح پر ڈال دے گی اور بعث کا منکر انسان اس حالت کا انکار کرتے ہوئے کہے گا کہ اس کو کیا ہو رہا ہے ؟ اس روز (یومئذ) اذا سے بدل ہے اور (اذا) کا جواب تحدث اخبار ہا ہے، ان تمام حالات کو بیان کرے گی جو نیک و بداعمال اس کے اوپر کئے گئے ہوں گے یہ اس وجہ سے ہوگا کہ تریے رب نے اس کے لئے وحی بھیجی ہوگی یعنی اس کو ایسا کرنے کا حکم دیا ہوگا اور حدیث شریف میں ہے کہ زمین ہر بندے اور بندی کے خلاف ہر اس عمل کی گواہی دے گی جو اس پر کیا گیا ہوگا، اس روز لوگ موقف حساب سے متفرق حالت میں واپس ہوں گے، دائیں ہاتھ میں (اعمال نامہ) لین والا جنت کی طرف لوٹے گا اور بائیں ہاتھ میں (اعمال نامہ) لینے والا جہنم کی طرف لوٹے گا تاکہ ان کے اعمال یعنی ان کی جزاء کو خواہ جنت سے ہو یا دوزخ سے ان کو دکھائے جائیں پھر جس نے ذرہ برابر یعنی چھوٹی چیونٹی کے برابر نیکی کی ہوگی وہ اس کو بھی دیکھ لے گا اور جس نے ذرہ برابر بدی کی ہوگی تو وہ اس کی جزاء بھی دیکھ لے گا۔ تحقیق و ترکیب و تسہیل و تفسیری فوائد قولہ :۔ اذا زلزلت الارض زلزالھا اذا ظرفیہ متضمن بمعنی شرط ہے، یومئذ اس سے بدل ہے اور تحدث جواب شرط ہے اور جمہور کے نزدیک یہی ظرف کا ناصب ہے، اور بعض حضرات نے کہا ہے کہ ظرف کا عامل محذوف ہے اور وہ یحشرون ہے اور بعض نے اذکر محذوف کو عامل مانا ہے، مگر اس صورت میں اذا ظرفیت اور شرطیت سے خارج ہوجائے گا، تحدث متعدی بدو مفعول ہے مفعول اول محذوف ہے، ای تحدث الناس اخبارھا، الناس مفعول اول ہے اور اخبارھا مفعول ثانی، زلزالھا میں مصدر کی اصاقت فاعل کی طرف ہے۔ قولہ :۔ کنوزھا وموتاھا مناسب، وائو کے بجائے او تھا، اس لئے کہ ” اخرجت الارض اثقالھا ‘ کی تفسیر میں دو قول ہیں، یعنی ثقل سے مراد خزانے یا مردے ہیں اور دونوں بھی ہوسکتے ہیں تو ” واو “ بھی درست ہوگا۔ قولہ :۔ انکاراً لتلک الحالۃ مفسر علام کے لئے مناسب تھا کہ، تعجباً للتلک الحالۃ فرماتے، اس لئے کہ یہ وقت انکار کا نہ ہوگا بلکہ حیرت اور تعجب کا ہوگا۔ قولہ :۔ یومئذ بدل من اذا یومئذ اذا سے بدل ہے اور جو عامل مبدل منہ کا ہے وہی بدل کا ہے۔ قولہ :۔ یومئذ یصدر الناس اشتاتا، یومئذ اول یومئذ سے بدل ہے اور بع حضرات نے یصدر کو عامل مانا ہے، اور اشتاتاً الناس سے حال ہے۔ قولہ :۔ لیروا اعمالھم، لیروا، یصدر الناس سے متعلق ہے اور رئویت سے رئویت بصری مراد ہے، باب افعال کے ہمزہ کی وجہ سے متعددی بدو مفعول ہے اول مفعول لیروا کا وائو ہے جو کہ نئاب فاعل ہے اور دوسرا مفعول اعمالھم ہے۔ قولہ :۔ خیراً یہ مثقال سے تمیز ہے اور اسی طرح شراً ہے۔ تفسیر و تشریح اذا زلزلت الارض زلزالھا، اس سورت کے مکی یا مدنی ہونے میں اختلاف ہے ابن مسعود ؓ عطاء، ، جابر اور مجاہد کہتے ہیں کہ مکی ہے، حضرت ابن عباس ؓ کا بھی ایک قول یہی ہے، قتادہ اور مقاتل کہتے ہیں کہ مدنی ہے، حضرت ابن عباس ؓ کا دوسرا قول اس کی تائید کرتا ہے۔ فضائل سورت : حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ نے فرمایا کہ فمن یعمل الخ یہ آیت قرآن کی سب سے زیادہ مستحکم اور جامع آیت ہے اور حضرت انس ؓ اور ابن عباس ؓ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے سورة اذا زللت کو نصف قرآن اور قل ھو اللہ کو ثلث قرآن اور قل یایھا الکافرون کو ربع قرآن فرمایا ہے۔ (ترمذی، بغوی) زلزلہ سے کون سا زلزلہ مراد ہے ؟ اس امر میں اختالف ہے کہ اس آیت میں جس کا زلزلہ کا ذکر آیا ہے، یہ وہ زلزلہ ہے جو نفحہ اولیٰ سے پہلے دنیا میں واقع ہوگا جیسا کہ علامات قیامت میں اس زلزلہ کا ذکر آیا ہے یا اس زلزلہ سے مراد نفحہ ثانیہ کے بعد کا زلزلہ ہے ؟ جب مردے زندہ ہو کر زمین سے نکلیں گے ؟ تو واضح رہے کہ اس میں کوئی بعد نہیں کہ زلزلے متعدد ہوں گے، مگر یہاں مابعد کے قرینہ سے دوسرا زلزلہ مراد معلوم ہوتا ہے، اس لئے کہ اسی سورت میں آگے احوال قیامت اور حساب و کتاب کا ذکر ہے۔ (معارف، مظھری) زلزالھا، زلزلت الارض کی تاکید ہے، اس تاکید کا مقصد زلزلہ کی شدت کو بیان کرنا ہے، یعنی کرہ ارض کے عظیم ہونے کی وجہ سے اس کا زلزلہ اور جھٹکا بھی اس کے شایان شان شدید ہوگا اور یہ زلزلے پے درپے اور عام ہوں گے یعنی زمین کے کسی ایک حصہ میں نہیں بلکہ پوری زمین ہلا دی جائے گی۔
Ayahs 99:2–8

وَ اَخْرَجَتِ الْاَرْضُ اَثْقَالَهَاۙ Open ayah 99:2 in the Quran reader

اور زمین اپنے (اندر) کے بوجھ نکال ڈالے گی

وَ قَالَ الْاِنْسَانُ مَا لَهَاۚ Open ayah 99:3 in the Quran reader

اور انسان کہے گا کہ اس کو کیا ہوا ہے

یَوْمَئِذٍ تُحَدِّثُ اَخْبَارَهَاۙ Open ayah 99:4 in the Quran reader

اس روز وہ اپنے حالات بیان کر دے گی

بِاَنَّ رَبَّكَ اَوْحٰى لَهَاؕ Open ayah 99:5 in the Quran reader

کیونکہ تمہارے پروردگار نے اس کو حکم بھیجا (ہوگا)

یَوْمَئِذٍ یَّصْدُرُ النَّاسُ اَشْتَاتًا١ۙ۬ لِّیُرَوْا اَعْمَالَهُمْؕ Open ayah 99:6 in the Quran reader

اس دن لوگ گروہ در گروہ ہو کر آئیں گے تاکہ ان کو ان کے اعمال دکھائے جائیں

فَمَنْ یَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَیْرًا یَّرَهٗؕ Open ayah 99:7 in the Quran reader

تو جس نے ذرہ بھر نیکی کی ہوگی وہ اس کو دیکھ لے گا

وَ مَنْ یَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا یَّرَهٗ۠ Open ayah 99:8 in the Quran reader

اور جس نے ذرہ بھر برائی کی ہوگی وہ اسے دیکھ لے گا

واخرجت الارض اثقالھا اسی مضمون کو سورة انشقاق میں اس طرح بیان فرمایا گیا ہے ” والقت مافیھا وتخلت ‘ اور جو کچھ اس کے اندر ہے اسے باہر پھینک کر خالی ہوجائے گی، اس کے متعدد مطلب ہیں، ایک یہ کہ مرے ہوئے انسان زمین کے اندر جہا اور جس شکل میں بھی پڑے ہوں گے ان سب کو وہ نکال کر باہر پھینک دے گی، اس مفہوم پر بعد کا فقرہ یعنی ” وقال الانسان مالھا “ دلالت کررہا ہے، یعنی انسانی منتشر اجزاء جمع ہو کر ازسرنو اسی شکل و صورت میں جمع ہوجائیں گے، جس میں وہ دنیوی زندگی کی حالت میں تھے، کیونکہ اگر ایسا نہ ہو تو وہ یہ کیسے کہیں گے کہ زمین کو یہ کیا ہو رہا ہے ؟ دوسرا مطلب یہ ہے کہ صرف مردہ انسانوں ہی کو باہر پھینکنے پر اکتفا نہ کرے گی، بلکہ ان کی پہلی زندگی کے افعال و اقوال، حرکات و سکنات کی شہادتوں کا جو انبار اس کی تہوں میں دبا پڑا ہے، ان سب کو بھی وہ نکال کر باہر ڈال دے گی، اس مطلب پر بعد کا فقرہ ’ دیومئذ تحدث اخبارھا ‘ دلالت کرتا ہے کہ زمین اپنے اوپر گذرے ہوئے حالات بیان کرے گی، اس ترقی یافتہ دور میں اس شبہ کی کوئی گنجائش نہیں ہے کہ زمین اپنے اوپر گذرے ہوئے حالات کس طرح بیان کرے گی ؟ آج علوم طبعی کے انکشافات اور ریڈیو، ٹیلی ویژن، ٹیپ ریکارڈر، اور الیکٹرانکس کی ایجادات کے اس دور میں یہ سمجھنا مشکل نہیں کہ زمین اپنے حالات کیسے بیان کیر گی ؟ انسان جو کچھ بولتا ہے اس کے نقوش ریڈیائی ہلروں میں ہوا اور فضا میں اور در و دیواروں پر نقش ہیں، انسان نے زمین پر جہاں جس حالت میں بھی کوئی کام کیا ہے اس کی ایک ایک حرکت کا عکس، اس کے گرد و پیش کی تمام چیزوں پر پڑا ہے، اس کی تصویریں ان پر نقش ہوچکی ہیں، گھپ اندھیرے میں بھی اگر کوئی عمل کیا ہے تو خدا کی خدائی میں ایسی شعائیں موجود ہیں جن کے لیء اندھیرا اجالا کوئی معنی نہیں رکھتا، آج جب کہ تاریکی میں دیکھنے والے چشمے ایجاد کئے جا چکے ہیں تو خدائی شعائوں کے موجود ہونے میں کیا شک ہوسکتا ہے یہ سار تصویریں قیامت کے دن متحرک فلم کی شکل میں دکھائی جائیں گی۔ تیسرا مطلب یہ ہے کہ سونا چاندی، ہیرے جواہر غرضیکہ ہر قسم کی دولت کے ڈھیر کے ڈھیر باہر نکال کر جمع کر دے گی، رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ زمین اپنے جگر کے ٹکڑے سوین کو بڑی چٹانوں کی شکل میں اگل دے گی، اس وقت ایک شخص جس نے مال کے لئے کسی کو قتل کیا تھا وہ دیکھ کر کہے گا کہ یہ وہ چیز ہے جس کیلئے میں نے اتنا بڑا جرم کیا تھا، جس شخص نے اپنے رشتہ داروں سے مال کی وجہ سے قطع تعلق کیا تھا وہ کہے گا کہ یہ وہ چیز ہے جس کیلئے میں نے یہ حرکت کی تھی، چور جس کا ہاتھ چوری کی سزا میں کاٹا گیا تھا اس کو دیکھ کر کہے گا کہ اس کے لئے میں نے اپنا ہاتھ گنوایا تھا اور پھر کوئی بھی اس سونے کی طرف التفات نہ کرے گا۔ (معارف، رواہ مسلم عن ابی ہریرہ ؓ