Ayahs 100:1–11ترجمہ :۔ شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے، قسم ہے ان گھوڑوں کی جو جہاد میں پھنکارتے ہوئے (ہانپتے ہوئے) دوڑتے ہیں، ضبح جوف (پیٹ) کی اس آواز کو کہتے ہیں جو دوڑتے وقت نکلتی ہے، پھر ان گھوڑوں کی جو ٹاپوں سے چنگاریاں جھاڑتے ہیں پھر ان گھوڑوں کی جو صبح سویرے دشمن پر شب خون مارتے ہیں، اپنے سوار کے شب خوب مارنے سے پھر اس موقع پر یعنی اپنے دوڑنے کی جگہ یا اس وقت اپنی شدید حرکت کی وجہ سے غبار اڑاتے ہیں پھر اسی غبار میں دشمن کے مجمع میں گھس جاتے ہیں یعی ان کے وسط تک پہنچ جاتے ہیں اور فعل کا عطف اسم پر اس لئے درست ہے کہ اسم فعل کی تاویل میں ہے، یعنی معنی میں واللاتی عدون، فاورین فاعزن کے ہے حقیقت یہ ہے کہ کافر انسان اپنے رب کی نعمتوں کا انکار کر کے بڑا ناشکرا ہے اور وہ خود اس اپنی ناشکری پر گواہ ہے کہ وہ اپنے عمل سے اپنے نفس پر گواہ ہے اور وہ مال کی محبت میں بر طرح مبتلا ہے یعنی وہ مال سے بےحد محبت رکھنے والا ہے جس کی وجہ سے وہ اس (کے خرچ کرنے) میں بخل کرتا ہے تو کیا وہ اس وقت کو نہیں جانتا کہ جب قبروں میں مدفون مردوں کو نکالا جائے گا ؟ اور دلوں میں جو کفر و ایمان (مخفی) ہے اس کو برآمد کرلیا جائے گا، یعنی ظاہر اور عیا کردیا جائے گا، ان کا رب اس روز ان سے خوب باخبر ہوگا پھر ان کو ان کے کفر کی سزا دے گا، (ھم) ضمیر کو انسان کے معنی کا لحاظ کرتے ہوئے جمع لایا گیا ہے اور یہ جملہ یعلم کے مفعول پر دلالت کرتا ہے یعنی ہم انسان کو مذکورہ وقت میں جزاء دیں گے اور خبیر کا تعلق یومئذ سے ہے، حالانکہ اللہ تعالیٰ ہمیشہ باخبر ہے اس لئے کہ وہ صلہ دینے کا دن ہے۔
تحقیق و ترکیب و تسہیل و تفسیری فوائد
قولہ :۔ والعدیت، عادیۃ کی جمع ہے تیز دوڑنے والیاں، یہ عدو سے مشتق ہے جس کے معنی تجاوز کرنے اور تیز دوڑنے کے ہیں، واو کے ماقبل کسرہ ہونے کی وجہ سے وائو کو یاء سے بدل دیا ہے، چناچہ عدو سے عادیات ہوگیا، جیسا کہ عزو سے غازیات (لغات القرآن)
قولہ :۔ صبحاً (ف) یہ ضبح یضبح کا مصدر ہے، گھوڑوں کے دوڑنے کے وقت ہانپنا، پھنکار مارنا، مفسر علام کا ضبحاً سے پہلے تضبح کا اضافہ کرنا یہ بتانے کے لئے ہے کہ ضبحاً فعل مقدر کی وجہ سے منصوب ہے۔
قولہ :۔ الموریات، موریۃ سے اسم فاعل جمع مئونث ہے، یہ ایراء سے مشتق ہے، آگ روشن کرنے والے، ایراء (افعال) آگ نکالنا، مراد وہ گھوڑے ہیں جو پتھر یلی زمین پر چلتے ہیں تو ان کی ٹاپوں کی رگڑ سے چنگاریاں نکلتی ہیں۔
قولہ :۔ قدحاً (ف) قدح کا صدر ہے، پتھر پر پتھر مار کر آگ نکالنا، قدح الزند چقماق رگڑ کر آگ نکالی، قدحاً بھی ضبحاً کی طرح فعل مقدر کی وجہ سے مصوب ہے، ای یقدح قدحاً
قولہ :۔ فالمغیرات صبحاً صبح کے وقت شب خون مارنے والے، غارت گری کرنے والے وبالفارسیہ، پس قسم باسپان غارت کنندہ بوقت صبح، المغیرات اسم فاعل جمع مئونث، واح دالمغیرۃ مصدر اغارۃ لوٹنا چھاپہم ارنا مراد چھاپہ مار دستے ہیں۔
قولہ :۔ فائزن (ض ن) ماضی صیغہ جمع مئونث غائب، یہ اثارۃ سے ہے، بمعنی برانگیختہ کرنا، اڑانا۔
قولہ :۔ فوسطن بہ بہ ای ذالک الوقت
سوال : فائرن اور فوسطن کا عطف والعدیت فالموریت فالمغیرات پر ہے، اس میں معطوف علیہ اسماء ہیں اور معطوف افعال ہیں جو درست نہیں ہے ؟
جواب : ماقبل میں مذکور تینوں اسماء تاویل میں افعال کے ہیں، اس لئے کہ موصول کا صلہ واقع ہیں، جیسا کہ مفسر علام نے واللاتی عدون کہہ کر اشارہ کردیا ہے، والعدیت معنی میں اللاتی عدون کے ہیں، ھکذا الموریت اور فالمغیرات
قولہ :۔ وھذہ الجملۃ دلت علی مفعول یعلم اس جملہ کا مقصد اس اعتراض کا جواب ہے کہ یعلم فعل متعدی ہے جس کے لئے مفعول کا ہونا ضروری ہے، مگر یہاں اس کا مفعول نہیں ہے ؟
جواب : یعلم کا مفعول محذوف ہے اور حذف پر جملہ ان ربھم بھم یومئذ لخبیر دلالت کر رہا ہے اور مفعول محذوف انا جازیہ ہے تقدیر عبارت یہ ہے : افلایعلم اذا بعثر ما فی القبور و حصل مافی الصدور انا جنزیہ
قولہ :۔ حصل یہ تحصیل سے ہے جس کے معنی چھلکے سے مغزیا خوشے سے غلہ نکالنے کے ہیں۔
قولہ :۔ تعلق خبیر بیومئذ یہ ایک سوال مقدار کا جواب ہے ؟
سوال : سوال یہ ہے کہ یومئذ لخبیر کیوں کہا جب کہ اللہ تعالیٰ ہر زمان و مکان سے باخبر ہے ؟
جواب : جواب کا حاصل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اس روز ہر شخص کو اس کے ہر عمل کی جزا دیں گے اور ظاہر ہے کہ جزا علم کے بغیر ممکن نہیں ہے اور اس سے اللہ تعالیٰ کے عمومی علم کی نفی نہیں ہوتی۔
تفسیر و تشریح
اس سورت میں پانچ صفات کی قسم کھا کر ایک بات کہی گئی ہے اور وہ ہے صان الانسان لربہ لکنود) بلاشبہ انسان بڑا ناشکرا ہے مذکورہ پانچ صفات کا قرآن مجید میں موصوف بیان نہیں کیا گی گیا، اس لئے مقسم بہ میں مفسرین کا اختلاف ہوا ہے کہ دوڑنے والوں اور آگ جھاڑنے والوں، شب خون مارنے والوں، غبار اڑانے والوں اور مجمع میں داخل ہونے والوں سے کیا مردا ہے۔ صحابہ ؓ اور تابعین کی ایک جماعت اس طرف گئی ہے کہ مذکورہ صفات کے موصوفات گھوڑے ہیں اور ایک دوسری جماعت اس طرف گئی ہے کہ اونٹ مراد ہیں مگر دوڑتے ہوئے ایک خاص قسم کی آواز نکالنا جس کو عربی میں صبح کہتے ہیں وہ گھوڑا ہی نکالتا ہے اور بعد کی آیات بھی جن میں چنگاریاں جھاڑنے صبح سویرے چھاپہ مارنے کا ذکر ہے یہ بات بھی گھوڑوں ہی پر صادق آتی ہے، اس لئے اکثر محققین نے ان سے مراد گھوڑے ہی لئے ہیں ابن جریر ؓ فرماتے ہیں کہ مذکورہ دونوں قولوں میں گھوڑوں والا قول قابل ترجیح ہے۔
یہاں جنگی گھوڑوں کی سخت خدمات کا ذکر گویا اس بات کی شہادت میں لایا گیا ہے کہ انسان بڑا ناشکرا ہے، تشریح اس کی یہ ہے کہ گھوڑوں کے اور بالخصوص جنگی گھوڑوں کے حالات پر نظر ڈالئے کہ وہ میدان جنگ میں اپنی جان کو خطرہ میں ڈال کر کیسی کیسی سخت خدمات، انسان کے حکم و اشارہ کے تابع انجام دیتے ہیں، حالانکہ انسان نے ان گھوڑوں کو پیدا نہیں کیا، ان کو جو گھاس دانہ انسان دیتا ہے وہ بھی اس کا پیدا کیا ہوا نہیں ہے، اس کا کام صرف اتنا ہے کہ خدا کے پیدا کئے ہوئے رزق کو ان تک پہنچانے کا ایک واسطہ ہے، اب گھوڑوں کو دیکھئے کہ انسان کے اتنے سے احسان کو کیسا پہچانتا ہے کہ اس کے ادنیٰ اشارہ پر اپنی جان کو خطرہ میں ڈال دیتا ہے، اس کے بالمقابل انسان کو دیکھو کہ ایک حقیر قطرہ سے اللہ نے اس کو پیدا کیا اور اس کو مختلف کاموں کی صلاحیت بخشی، عقل و شعور بخشا، نیز اس کی تمام ضروریات کو کس قدر آسان کر کے اس تک پہنچا دیا کہ عقل حیران رہ جاتی ہے، مگر انسان ان احسانات کا شکر گذار نہیں ہوتا، اسی مناسبت سے گھوڑوں کی قسم کھا کر فرمایا ہے بلاشبہ انسان ناشکرا ہے۔
مذکورہ آیت میں جہاد گھوڑوں کی قسم کھا کردو باتیں کہی گئی ہیں : ایک یہ کہ انسان ناشکرا ہے، مصیبتوں اور تکلیفوں کو یاد رکھتا ہے، نعمتوں اور احسانات کو بھول جاتا ہے، دوسرے یہ کہ وہ مال کی محبت میں شدید ہے، یہ دونوں باتیں شرعاً اور عقلاً مذموم ہیں، ناشکری کا مذموم ہونا تو بالکل ظاہر ہے، مال کی محبت کو بھی مذموم قرار دیا گیا ہے، حالانکہ مال پر انسانی بہت سی ضروریات کا مدار ہے، بہت سی عبادات کا تعلق مال ہی سے ہے، مال کے کسب اور اکتساب کو شریعت نے نہ صرف یہ کہ حلال کیا ہے، بلکہ بقدر ضرورت فرض قرار دیا ہے، اس سے معلوم ہوا کہ مطلقاً مال کی محبت مذموم نہیں ہے، بلکہ شدت کے وصف کے ساتھ مذموم ہے کہ انسان مال کی محبت میں ایسا مغلوب ہوجائے کہ اللہ تعالیٰ کے احکام سے غافل ہوجائے اور حلال و حرام کی پروا نہ رہے، حاصل یہ ہوا کہ مال کو بقدر ضرورت حاصل کرنا اور اس سے کام لینا تو امر محمود ہے، مگر دل میں اس کی محبت کا جاگزیں ہوجانا مذموم ہے۔