99. Surah Az-Zalzala

الزلزلةThe Earthquake · 8 ayahsتفسیرِ ماجدی

Ayahs 99:1–3

اِذَا زُلْزِلَتِ الْاَرْضُ زِلْزَالَهَاۙ Open ayah 99:1 in the Quran reader

جب کہ زمین اپنی جنبش سے خوب ہی ہلا ڈالی جائے ،

وَ اَخْرَجَتِ الْاَرْضُ اَثْقَالَهَاۙ Open ayah 99:2 in the Quran reader

اور زمین اپنے بوجھ باہر پھینک نکالے ،

وَ قَالَ الْاِنْسَانُ مَا لَهَاۚ Open ayah 99:3 in the Quran reader

اور آدمی بول اٹھے کہ اسے (یہ) ہوا کیا ؟ ،1۔

1۔ یہ سب واقعات حشر کے سلسلہ میں نفخہ اول کے وقت کے ہیں۔ (آیت) ” اثقالھا “۔ زمین کے بوجھ سے مراد مردے بھی ہوسکتے ہیں، اور زمین کے دفینے اور معدنیات وغیرہا بھی۔ (آیت) ” اذا ...... زلزالھا “۔ غرض یہ کہ زمین کی اس جنبش اضطرابی سے سارا عالم زیروزبر ہوجائے گا۔ (آیت) ” وقال الانسان مالھا “۔ انسان گھبرا کر اور سراسیمہ ہو کر پکار اٹھے گا کہ آخر یہ ہو کیا گیا ؟ (آیت) ” الانسان “۔ انسان۔ سے اس سیاق میں مراد کافر انسان ہے، جسے سارا بھروسہ مادی ہی طاقتوں کا رہتا ہے، اور جو مسبب الاسباب کی قدرت و حکمت کا منکر یا عملا منکر رہتا ہے۔ قیل ھذا قول الکافر لانہ کان لایؤمن بالبعث (مدارک) قال الجمھورالانسان ھو الکافر یری مالم یظن (بحر)
Ayahs 99:4–5

یَوْمَئِذٍ تُحَدِّثُ اَخْبَارَهَاۙ Open ayah 99:4 in the Quran reader

اس روز زمین اپنی (سب) خبریں بیان کر گزرے گی ،

بِاَنَّ رَبَّكَ اَوْحٰى لَهَاؕ Open ayah 99:5 in the Quran reader

یہ اس لئے کہ آپ کے پروردگار کا حکم اسے یہی ہوگا،2۔

2۔ اس وقت حکمت ومشیت یہی ہوگی کی زمین ناطق ہوجائے جیسے حکمت ومشیت یہ ہے کہ زمین ساکت وبے زبان رہے۔ (آیت) ” تحدث اخبارھا “۔ ظاہر ہے کہ مومن و کافر ہر انسان سے عمل، اچھے برے جو کچھ بھی صادر ہوتے ہیں، اسی زمین ہی پر ہوتے ہیں، قدرۃ زمین ہی، چھوٹے بڑے، اچھے برے، ہر ہر واقعہ کی پوری پوری شہادت پیش کرے گی، (آیت) ” بان ..... لھا “۔ زمین میں یہ قوت گویائی اس وقت خود بخود نہیں، قادر مطلق کے حکم سے پیدا ہوگی، اہل سنت کا یہ متفقہ مسئلہ ہے کہ حیات اور اس کے سارے آثار، انعامات الہی ہیں، جس وقت جس عضو سے جو کام وہ حکیم مطلق چاہے، لے لے، (آیت) ” بان “۔ میں بےسببیہ ہے۔
Ayah 99:6

یَوْمَئِذٍ یَّصْدُرُ النَّاسُ اَشْتَاتًا١ۙ۬ لِّیُرَوْا اَعْمَالَهُمْؕ Open ayah 99:6 in the Quran reader

اس روز لوگ گروہ گروہ واپس ہورہے ہوں گے کہ اپنے اعمال کو دیکھیں،3۔

3۔ (خواہ جنت خواہ دوزخ میں) (آیت) ” یصدرالناس “۔ لوگ اس وقت حساب سے اپنی اپنی منزل کی طرف واپس ہورہے ہوں گے۔ ذکر اب نفخہ ثانی کے بعد کے واقعات کا ہورہا ہے۔ (آیت) ” اشتاتا “۔ یعنی کچھ گروہ اہل جنت کے ہوں گے، اور کچھ گروہ اہل دوزخ کے۔ (آیت) ” اعمالھم “۔ مراد اپنے اعمال کے ثمرات و عواقب ہیں۔ اے جزاء اعمالہم (مدارک) قال ابن عباس ؓ لیروا جزاء اعمالھم (معالم)
Ayahs 99:7–8

فَمَنْ یَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَیْرًا یَّرَهٗؕ Open ayah 99:7 in the Quran reader

سو جو کوئی ذرہ بھر بھی نیکی کرے گا، اسے دیکھ لے گا ،

وَ مَنْ یَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا یَّرَهٗ۠ Open ayah 99:8 in the Quran reader

اور جس کسی نے ذرہ بھر بھی بدی کی ہوگی اسے بھی دیکھ لے گا،4۔

4۔ حدیث نبوی ﷺ میں ان دو 2 آیتوں کیلئے الجامعۃ الفازہ کا لفظ آیا ہے، یعنی جو اصل ان میں بیان کردی گئی ہے وہ جامع اور منفرد ہے، اور اس میں شک نہیں کہ یہ آیتیں قانون مجازات کی تصویر کشی نہایت خوبی وخوش اسلوبی و جامعیت کے ساتھ کررہی ہیں۔ (آیت) ” خیرایرہ “۔ اس اقل قلیل خیر کو بھی جنت میں پالے گا خیر کے خیر باقی رہنے کی شرط یہ ہے کہ اسے کفر سے فناء نہ کردیا گیا ہو۔ (آیت) ” شرا یرہ “۔ اس اقل قلیل شرک کو بھی دوزخ میں پالے گا۔ ” شر “ کے شر باقی رہنے کی شرط یہ ہے کہ اسے توبہ اور ایمان سے زائل نہ کردیا گیا ہو۔