Ayah 99:1(99:1) اذا زلزلت الارض زلزالہا : اذا شرطیہ ، زلزلت ماضی مجہول واحد مؤنث غائب۔ زلزال (فعلال) مصدر سے۔ الارض مفعول مالم یسم فاعلہ۔ زلزالہا میں زلزال مفعول مطلق مضاف ھا ضمیر واحد مؤنث غائب (جس کا مرجع الارض ہے) مضاف الیہ۔ (زلزال مصدر ہے اور اپنے فاعل کی طرف مضاف ہے)
مطلب یہ کہ مصدر کو مفعول مطلق لانے کا مقصد فعل کی تاکید ہے۔ یعنی حرکت الارض حرکۃ شدیدۃ۔ یعنی زمین شدت کے ساتھ بار بار ہلائی جائے گی۔ جیسے کہ دوسری جگہ قرآن مجید میں آیا ہے :۔
اذا رجت الارض رجا (56:4) جب زمین بھونچال سے لرزے گی ! اذا شرطیہ۔ ظرف زمان بمعنی جب۔ زلزال ہلانا۔ جھڑ جھڑ دینا۔ زلزلہ میں ڈالنا۔
Ayah 99:2(99:2) واخرجت الارض اثقالہا۔ اس جملہ کا عطف جملہ سابقہ پر ہے۔
اثقالہا : اثقال۔ ثقل کی جمع ہے بمعنی بوجھ۔ مضاف۔ ھا ضمیر واحد مؤنث غائب جس کا مرجع الارض ہے۔ مضاف الیہ۔ اپنا بوجھ۔ جب زمین اپنے بوجھ نکال پھینکے گی۔ بوجھ سے مراد دفینے اور خزانے ہیں۔
Ayah 99:3(99:3) وقال الانسان مالہا۔ اس کا عطف بھی اذا زلزلت پر ہے۔
الانسان سے مراد یا تو جنس انسانی ہے یا کافر لوگ ہیں جیسا کہ بعض علماء کا قول ہے لیکن راجح یہی ہے کہ یہاں مراد جنس انسان
کافر لوگ تو متعجب اس لئے ہوں گے کہ ان کو قبروں سے دوبارہ اٹھنے کی امید ہی نہیں تھی اور مومن واقعہ کی عظمت کو ملحوظ رکھتے ہوئے کہیں گے کہ بیشک یہ وہی ہے جس کا اللہ تعالیٰ نے وعدہ کیا تھا اور پیغمبروں نے سچ کہا تھا۔
مالہا میں ما مبتداء اور لہا اس کی خبر۔ اس کو کیا ہوگیا ہے۔ جملہ استفہامیہ قال کا مفعول ہے۔
Ayah 99:4(99:4) یومئذ تحدث اخبارھا : یہ جملہ ، مذکورہ بالا تینوں جملہ ہائے شرطیہ کا جواب ہے۔ یؤمئذ بدل ہے اذا ہے۔
اخبارھا (مضاف مضاف الیہ) مفعول ثانی ہے تحدث کا۔ الناس مفعول اول محذوف ہے۔ یومئذ تحدث الناس اخبارھا (اس روز زمین لوگوں کو اپنی خبریں سنائے گی) ۔
یومئذ : یوم اسم ظرف منصوب۔ مضاف، اذ مضاف الیہ۔ اس روز۔ ان واقعات کے دن۔
تحدث مضارع معروف صیغہ واحد مؤنث غائب۔ تحدیث (تفعیل) مصدر سے بمعنی کہنا۔ باتیں کرنا۔ بیان کرنا۔ وہ بتائے گی۔ وہ بیان کرے گی۔ حدیث بات، بیان۔
Ayah 99:5(99:5) بان ربک اوحی لہا : ب سببیہ، لام بمعنی الیٰ ہے۔ ان حرف مشبہ بالفعل۔ ربک مضاف مضاف الیہ۔ اسم ان۔ اوحی لہا اس کی خبر۔ یعنی زمین کی تحدیث (خبر دینا) اس سبب سے ہوگا۔ کہ اللہ کی طرف سے اس کو یہی وغی ہی ہوگی۔ (اس کو یہی اشارہ یا اذن ہوگا) یا یہ بھی ممکن ہے کہ یہ کلام قال الانسان ما لہا کے جواب میں ہو۔ یعنی انسان کے سوال کے جواب میں زمین یہ کہے گی کہ مجھے اللہ کا حکم ہی یوں ملا ہے۔
Ayah 99:6(99:6) یومئذ یصدر الناس اشتاتا لیرو اعمالہم : یومئذ۔ پہلے یومئذ سے بدل ہے۔ بمعنی اس روز۔ ان واقعات کے وقوع کے دن۔ یصدر مضارع واحد مذکر غائب صدر (باب نصر، ضرب) سے مصدر بمعنی لوٹنا۔ مڑنا۔ سینہ پر مارنا۔ پانی پی کر گھاٹ سے واپس ہونا۔ صادر۔ چشمہ سے پانی پی کر واپس آنے والا۔ اسم فاعل وارد کی ضد ہے۔
مصدر وہ اسم جس سے تمام افعال اور صفت کے صیغت مشتق ہوتے ہیں۔ اشتاتا۔ جدا جدا۔ طرح طرح۔ شت اور شتات کی جمع ہے ۔ اشتاتا فاعل ہے یصدر کے فاعل سے۔
لیروا۔ لام تعلیل کا ہے یروا ماضی جمع مذکر غائب رؤیۃ (باب فتح) مصدر سے کہ ان کو دکھائے جائیں۔
اعمالہم : مضاف الیہ۔ مل کر یروا کا مفعول مالم یسم فاعلہ۔ اس روز لوگ مختلف حالتوں میں پھر کر آئیں گے تاکہ ان کے اعمال ان کو دکھائے جائیں۔
مطلب یہ کہ حساب کی پیشی کے بعد مقام حساب سے لوگ متفرق طور پر لوٹیں گے کچھ دائیں جانب سے جنت کو جائیں گے اور کچھ بائیں سمت کو دوزخ کی طرف ۔ یہ اس لئے کہ ان کو ان کے اعمال کی جزاوسزا دکھا دی جائے۔ یعنی جنت اور دوزخ کے اندر اپنے مقامات پر جاکر اتریں۔ (تفسیر مظہری)
Ayah 99:7(99:7) فمن یعمل مثقال ذرۃ خیرا یرہ (یہاں سے لے کر اخیر سورة تک لیروا کی تفسیر ہے) ۔تفسیریہ ہے من شرطیہ۔ من یعمل مثقال ذرۃ جملہ شرطیہ۔ یرہ جواب شرط۔
مثقال اسم مفرد۔ مثاقیل جمع۔ ہموزن ، برابر۔ ثقل مادہ۔ تقیل بھاری۔ وزنی۔ مضاف۔
ذرۃ۔ ذرہ جمع ذرات۔ چھوٹی چیونٹی۔ ذرہ کے ہم وزن نیکی، چھوٹی چیونٹی کے ہم وزن۔ مضاف الیہ۔ مضاف مضاف الیہ مل کر یعمل کا مفعول۔
خیرا۔ مثقال ذرۃ کا بدل۔ ذرہ کے ہموزن نیکی۔ پھر جس نے بھی ذرہ بھر نیکی کی۔ (جملہ شرطیہ)
یرہ : میں ہ ضمیر مفعول واحد مذکر غائب جس کا مرجع خیرا ہے۔ وہ اسے دیکھ لے گا۔ (جواب شرط)
Ayah 99:8(99:8) ومن یعمل مثقال ذرۃ شرایرہ۔ اس کا عطف جملہ سابقہ پر ہے۔ اور جس نے ذرہ بھر برائی کی وہ اس کو دیکھ لے گا۔
ترکیب کے لئے آیت بالا 99:7 ۔ ملاحظہ ہو۔