99. Surah Az-Zalzala

الزلزلةThe Earthquake · 8 ayahsآسان قرآن

تعارف

تعارف

یہاں سے قرآن کریم کے آخر تک زیادہ تر مکی سورتیں ہیں۔ تقریباً ان سب سورتوں کا مرکزی موضوع اسلام کے بنیادی عقائد توحید، رسالت اور آخرت کا اثبات، جنت و دوزخ کے حالات اور اسلام کی تبلیغ کے لیے حضور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ہدایات اور تسلی دینا ہے۔ چونکہ یہ پچھلی سورتوں کے مقابلے میں مختصر سورتیں ہیں، اس لیے ان سب کے الگ الگ تعارف کی ضرورت نہیں ہے۔ البتہ جس سورت میں ضرورت محسوس ہوگی، انشاء اللہ وہاں تعارف عرض کردیا جائے گا۔

Ayahs 99:1–2

اِذَا زُلْزِلَتِ الْاَرْضُ زِلْزَالَهَاۙ Open ayah 99:1 in the Quran reader

جب زمین اپنے بھونچال سے جھنجھوڑ دی جائے گی۔

وَ اَخْرَجَتِ الْاَرْضُ اَثْقَالَهَاۙ Open ayah 99:2 in the Quran reader

اور زمین اپنے بوجھ باہر نکال دے گی۔ (1)

1: یعنی سارے مردے جو زمین میں دفن ہیں، وہ باہر آجائیں گے اور زمین میں جو خز انے دفن ہیں، زمین ان کو بھی اگل دے گی۔ ایک حدیث میں ہے کہ جس کسی نے مال کی خاطر کسی کو قتل کیا ہوگا، یا جس نے مال و دولت کی خاطر رشتہ داروں کا حق پامال کیا ہوگا، یا اس کی خاطر چوری کی ہوگی، وہ اس مال کو دیکھ کر یہ کہے گا کہ یہ ہے وہ مال جس کی وجہ سے میں نے یہ گناہ کئے تھے پھر کوئی بھی اس سونے اور چاندی کی طرف توجہ نہیں دے گا۔
Ayahs 99:3–4

وَ قَالَ الْاِنْسَانُ مَا لَهَاۚ Open ayah 99:3 in the Quran reader

اور انسان کہے گا کہ اس کو کیا ہوگیا ہے ؟

یَوْمَئِذٍ تُحَدِّثُ اَخْبَارَهَاۙ Open ayah 99:4 in the Quran reader

اس دن زمین اپنی ساری خبریں بتادے گی۔ (2)

2: زمین پر کسی نے جو اچھے یا برے عمل کئے ہوں گے زمین ان کی گواہی دے گی۔
Ayahs 99:5–6

بِاَنَّ رَبَّكَ اَوْحٰى لَهَاؕ Open ayah 99:5 in the Quran reader

کیونکہ تمہارے پروردگار نے اسے یہی حکم دیا ہوگا۔

یَوْمَئِذٍ یَّصْدُرُ النَّاسُ اَشْتَاتًا١ۙ۬ لِّیُرَوْا اَعْمَالَهُمْؕ Open ayah 99:6 in the Quran reader

اس روز لوگ مختلف ٹولیوں میں واپس ہوں گے، تاکہ ان کے اعمال انہیں دکھا دیے جائیں۔ (3)

3: واپس آنے سے مراد قبروں سے نکل کر میدان حشر کی طرف جانا بھی ہوسکتا ہے، اس صورت میں اعمال دکھانے کا مطلب یہ ہوگا کہ اعمال نامہ دکھا دیا جائے گا۔ اور واپسی کا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ لوگ حساب و کتاب سے فارغ ہو کر مختلف حالتوں میں واپس آئیں گے تاکہ انہیں ان کے اعمال کا نتیجہ دکھادیا جائے۔ نیک لوگوں کو اپنی نیکیوں کا انعام دکھادیا جائے گا اور برے لوگوں کو ان کے اعمال کی سزا دکھادی جائے گی۔
Ayahs 99:7–8

فَمَنْ یَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَیْرًا یَّرَهٗؕ Open ayah 99:7 in the Quran reader

چنانچہ جس نے ذرہ برابر کوئی اچھائی کی ہوگی وہ اسے دیکھے گا۔

وَ مَنْ یَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا یَّرَهٗ۠ Open ayah 99:8 in the Quran reader

اور جس نے ذرہ برابر کوئی برائی کی ہوگی، وہ اسے دیکھے گا۔ (4)

4: بُرائی سے مراد وہ برائی ہے جس سے کسی شخص نے دنیاوی زندگی میں اس سے توبہ نہ کی ہو، کیونکہ سچی توبہ سے گناہ معاف ہو کر ایسے ہوجاتے ہیں جیسے وہ کئے ہی نہیں تھے اور سچی توبہ میں یہ بات بھی داخل ہے کہ جس گناہ کی تلافی ممکن ہو اس کی تلافی بھی کی جائے، مثلاً کسی کا حق ہے تو اسے دیدیا جائے، یا اس سے معاف کرالیا جائے، یا فرائِض چھوٹے ہیں تو ان کی قضا کرلی جائے۔