99. Surah Az-Zalzala

الزلزلةThe Earthquake · 8 ayahsتفسیر القرطبی

Ayah 99:1

اِذَا زُلْزِلَتِ الْاَرْضُ زِلْزَالَهَاۙ Open ayah 99:1 in the Quran reader

جب زمین بھونچال سے ہلا دی جائے گی

اذا زلزلت الارض زلزالھا۔ یعنی زمین اپنی جڑ سے حرکت کرنے لگے گی، عکرمہ نے حضرت ابن عباس سے اسی طرح روایت نقل کی ہے وہ کہا کرتے تھے، نفخہ اولی کے موقع پر اللہ تعالیٰ اسے حرکت دے گا، یہ مجاہد کا قول ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کا قول ہے، یوم ترجف الراجفہ۔ تتبعھا الرادفہ۔ النازعات) پھر اسمیں دوبارہ زلزلہ برپا ہوگا تو وہ اپنے مردوں کو باہر نکال دے گی یہ مردے ہی اس کے اثقال ہیں مصدر کا ذکر تاکید کے لیے ہے پھر فعل کو زمین کی طرف منسوب کیا گیا ہے جس طرح یہ قول ہے : لاعطینک عطیتک۔ اس میں یہ عطیتی لک ہے اس طرح کرنا بہت اچھا ہے تاکہ بعد والی آیات کے سروں کے موافق ہوجائے، عام قرات زاء کے کسرہ کے ساتھ ہے یہ زلزل سے مشتق ہے، جحدری اور عیسیٰ بن عمر نے اسے زاء کے فتحہ کے ساتھ پڑھا ہے۔ یہ بھی مصدر ہے جس طرح وسواس، قلقال، جرجار۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے۔ زاء کے کسرہ کے ساتھ مصدر ہے اور فتحہ کے ساتھ اسم ہے۔
Ayah 99:2

وَ اَخْرَجَتِ الْاَرْضُ اَثْقَالَهَاۙ Open ayah 99:2 in the Quran reader

اور زمین اپنے (اندر) کے بوجھ نکال ڈالے گی

واخرجت الارض اثقالھا۔ ابوعبیدہ اور اخفش نے کہا، جب مردہ زمین میں ہو تو اس کے لیے ثقل لھا کا لفظ استعمال کرتے ہیں اور جب مردہ اس کے اوپر ہو تو اس کے لیے ثقل علیھا کا لفظ بولتے ہیں جب کہ حضرت ابن عباس اور مجاہد نے اثقالھا کا معنی اپنے مردے کیا ہے۔ زمین دوسرے نفخہ کے موقع پر اسے نکال دے گی انہیں سے یہ بھی مروی ہے جن اور انس کو ثقلان کہتے ہیں۔ خنساء نے کہا، ابعد ابن عمرو من آل لشر، ید حلت بہ الارض اثقالھا۔ وہ کہتی ہے جب عمر کو دفن کردیا گیا تو وہ اپنے شرف اور سرداری کی وجہ سے اہل قبور کے لیے زبور بن گیا، اس کے بعد وہ اپنے مردے باہر نکال دے گی۔ ایک عالم نے کہا، عرب کہا کرتے تھے جب کوئی آدمی خون بہانے والا ہوتا ہے تو وہ روئے زمین پر بوجھ ہوتا ہے جب وہ مرجاتا ہے توروئے زمین سے اس کا بوجھ اترجاتا ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے کہ اثقالھا سے مراد اس کے خزانے ہیں، اس معنی میں حدیث طیبہ ہے، تقی الارض افلا ذ کبدھا امثال الاسطوان من الذھب والفضۃ۔ زمین اپنے جگر کے ٹکڑے قے کردے گی جو سونے اور چاندی کے ستونوں جیسے ہوں گے۔
Ayah 99:3

وَ قَالَ الْاِنْسَانُ مَا لَهَاۚ Open ayah 99:3 in the Quran reader

اور انسان کہے گا کہ اس کو کیا ہوا ہے

وقال الانسان مالھا۔ الانسان سے مراد کافر ہے۔ ضحاک نے حضرت ابن عباس سے روایت نقل کی ہے اس سے مراد اسود بن عبدالاسد ہے، ایک قول یہ کیا گیا ہے، اس سے مراد ہر وہ انسان ہے جو قیامت کے واقع ہونے پر نفخہ اولی کے وقت اس کا مشاہدہ کرے گا وہ مومن ہو یا کافر ہو، یہ اس کا قول ہے جس نے اسے دنیا میں قیامت کی علامات شمار کیا ہے کیونکہ یہ سب لوگ قیامت کی ابتداء کے بارے میں اسے علامت نہیں جانتے یہاں تک کہ وہ اس کے عموم کو پہچانیں اسی وجہ سے وہ ایک دوسرے سے سوال کریں گے جس نے کہا کہ انسان سے مراد کافر ہے اس نے اس سے قیامت کا زلزلہ مراد لیا ہے کیونکہ مومن اس کا اعتراف کرتا ہے مومن اس کے بارے میں سوال نہیں کریں گے جب کہ کافر اس کا انکار کرتا ہے اس وجہ سے اس بارے میں سوال کرتا ہے۔ مالھا کا معنی ہے کس وجہ سے اس میں زلزلہ برپا ہوا ؟ ایک قول یہ کیا گیا، کس وجہ سے اس نے اپنے بوجھ نکال دیے یہ کلمہ تعجب ہے یعنی کس وجہ سے اس میں زلزلہ برپا ہوا، یہ بھی جائز ہے کہ اللہ تعالیٰ نفخہ اولی کے بعد مردوں کو زندہ کرے پھر زمین حرکت کرے اور مردوں کو باہر نکال دے جب کہ انہوں نے زلزلہ، مردوں سے زمین کے پھٹنے کو دیکھا ہو تو وہ ہولناکی کی وجہ سے کہہ اٹھیں، مالھا۔
Ayahs 99:4–5

یَوْمَئِذٍ تُحَدِّثُ اَخْبَارَهَاۙ Open ayah 99:4 in the Quran reader

اس روز وہ اپنے حالات بیان کر دے گی

بِاَنَّ رَبَّكَ اَوْحٰى لَهَاؕ Open ayah 99:5 in the Quran reader

کیونکہ تمہارے پروردگار نے اس کو حکم بھیجا (ہوگا)

یومئذ تحدث اخبارھا۔۔۔ تا۔۔۔۔ اعمالھم یومئذ تحدث اخبارھا۔ یومئذ، اذا زلزلت کی ظرف ہے اور منصوب ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے، تحدث کی وجہ سے منصوب ہے اس کا معنی ہے زمین پر جو کچھ اچھا یابراعمل کیا گیا اس روز اس کی خبر دے گی پھر کہا گیا، یہ اللہ تعالیٰ کی جانب سے قول ہے اور قول یہ کیا گیا ہے یہ انسان کے قول کی حکایت ہے یعنی متعجب ہوکرک ہے گا اس زمین کو کیا ہوگیا ہے کہ یہ اپنی خبریں بیان کررہی ہے۔ ترمذی شریف میں حضرت ابوہریرہ سے مروی ہے رسول اللہ نے اس آیت کو پڑھا پوچھا کیا تم جانتے ہو اس کی اخبار کیا ہیں ؟ صحابہ نے عرض کی اللہ تعالیٰ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں فرمایا اس کی اخبار سے مراد یہ ہے کہ وہ ہر مرد اور عورت کے بارے میں اس عمل پر گواہی دے گی جو اس پر کیا گیا، وہ کہے گی فلاں فلاں دن یہ عمل کیا گیا، فرمایا یہ یہ اس کی خبریں ہیں، کہا یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ ماوردی نے کہا، اس میں تین قول ہیں۔ (1) بندے اس پر جو عمل کرتے رہے اس کے بارے میں وہ خبر دی گی یہ حضرت ابوہریرہ کا قول ہے اسے مرفوع نقل کیا ہے یہ اس کا قول ہے جس نے یہ گمان کیا کہ یہ قیامت کا زلزلہ ہے۔ (2) وہ جو بوجھ نکالے گی وہ اس کا خبر دینا ہے، یہ یحییٰ بن سلام کا قول ہے یہ اس کا قول ہے جو یہ گمان کرتا ہے کہ یہ قیامت کی علامات کا زلزلہ ہے۔ میں کہتا ہوں : اس معنی میں وہ حدیث ہے جسے حضرت عبداللہ بن مسعود نے رسول اللہ سے روایت کیا ہے، اذا کان اجل العبد بارض اوثبتہ الحاجۃ الیھا حتی اذا بلغ اقصی اثرہ قبضہ اللہ فتقول الارض یوم القیامۃ رب ھذا ما استودعتنی۔ جب کسی بندے کی موت کسی زمین میں مقدر ہوتی ہے تو کوئی حاجت اسے وہاں تیزی سے لے جاتی ہے جب وہ اس کی آخری حدتک پہنچتا ہے تو اللہ اس کی روح کو قبض کرلیتا ہے قیامت کے دن زمین کہے گی اے میرے رب یہ وہ ہے جو تونے میرے پاس ودیعت کے طور پر رکھا تھا، ابن ماجہ نے اسے اپنی سنن میں نقل کیا ہے۔ اس روز بیان کردے گی اپنے سارے حالات کیونکہ آپ کے رب نے اسے (یونہی) حکم بھیجا۔ اس روز پلٹ کر آئیں گے لوگ گروہ در گروہ تاکہ انہیں دکھا دیئے جائیں ان کے اعمال۔ یومئذ تحدث اخبارھا۔ یومئذ، اذا زلزلت کی ظرف ہے اور منصوب ہے، ایک قول یہ کیا گیا ہے : تحدث کی وجہ سے منصوب ہے اس کا معنی ہے زمین پر جو کچھ اچھا یا برا عمل کیا گیا اس روز اس کی خبر دے گی۔ پھر کہا گیا : یہ اللہ تعالیٰ کی جانب سے قول ہے اور قول یہ کیا گیا : یہ انسان کے قول کی حکایت ہے، یعنی متعجب ہو کر کہے گا : اس زمین کو کیا ہوگیا ہے کہ یہ اپنی خبریں بیان کر رہی ہے۔ ترمذی شریف میں حضرت ابوہریرہ سے مروی ہے رسول اللہ نے اس آیت کو پڑھا پوچھا : کیا تم جانتے ہو اس کی اخبار کیا ہیں ؟ صحابہ نے عرض کی : اللہ تعالیٰ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں۔ فرمایا اس کی اخبار سے مراد یہ ہے کہ وہ ہر مرد اور عورت کے بارے میں اس عمل پر گواہی دے گی جو اس پر کیا گیا۔ وہ کہے گی : فلاں فلاں دن یہ عمل کیا گیا۔ فرمایا : یہ یہ اس کی خبریں ہیں۔ کہا : یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ ماوردی نے کہا : اس میں تین قول ہیں : (1) بندے اس پر جو عمل کرتے رہے اس کے بارے میں وہ خبر دے گی ؛ یہ حضرت ابوہریرہ کا قول ہے اسے مرفوع نقل کیا ہے، یہ اس کا قول ہے جس نے یہ گمان کیا کہ یہ قیامت کا زلزلہ ہے۔ (2) وہ جو بوجھ نکالے گی وہ اس کا خبر دینا ہے، یہ یحی بن سلام کا قول ہے یہ اس کا قول ہے جو یہ گمان کرتا ہے کہ یہ قیامت کی علامات کا زلزلہ ہے۔ میں کہتا ہوں : اس معنی میں وہ حدیث ہے جسے حضرت عبداللہ بن مسعود نے رسول اللہ سے روایت کیا ہے : اذا کان اجل العبد بارض او ثبتہ الحاجۃ الیھا حتی اذا بلغ اقصی اثرہ قبضہ اللہ فتقول الارض یوم القیامۃ رب ھذا ما استود عتنی۔ جب کسی بندے کی موت کسی زمین میں مقدر ہوتی ہے تو کوئی حاجت اسے وہاں تیزی سے لے جاتی ہے جب وہ اس کی آخری حد تک پہنچتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی روح کو قبض کرلیتا ہے، قیامت کے دن زمین کہے گی : اے میرے رب یہ وہ ہے جو تو نے میرے پاس ودیعت کے طور پر رکھا تھا۔ ابن ماجہ نے اسے اپنی سنن میں نقل کیا ہے۔ (3) جب انسان پوچھے گا کہ اسے کیا ہوا ہے تو وہ قیامت کے برپا ہونے کی خبر دے گی : یہ حضرت ابن مسعود سے مروی ہے زمین خبر دے گی کہ دنیا کا معاملہ ختم ہوچکا ہے اور آخرت کا امر آچکا ہے یہ ان کے سوال کے موقع پر زمین کی جانب سے جواب ہوگا اور کافر کے لیے وعید اور مومن کے لیے تنبیہ ہوگی۔ اس کے خبر دینے کے متعلق تین قول ہیں : (1) اللہ تعالیٰ اسے حیوان ناطق بنا دے گا تو وہ گفتگو کرے گی۔ (2) اللہ تعالیٰ اس میں کلام کو پیدا فرمائے گا۔ (3) اس کی جانب سے ایسا بیان ہوگا جو کلام کے قائم مقام ہوگا۔ طبری نے کہا : وہ اپنی خبریں تھر تھراہٹ، زلزلہ اور مردوں کو باہر نکالنے کے ساتھ واضح کرے گی کہ وہ یہ خبریں اس الہام کی وجہ سے دے رہی ہے جو اللہ تعالیٰ نے اسے کیا ہے۔ عرب لام کو الی کی جگہ رکھتے ہیں۔ عجاج زمین کی صفت کرتے ہوئے کہتا ہے : اوحی لھا القرار فاستقرت۔۔۔۔ وشدھا بالراسیات الثبت اس کی طرف قرار کا الہام کیا تو وہ قرار پکڑ گئی اور اسے مضبوط رسیوں کے ساتھ باندھ دیا، اس میں لھا، الیھا کی جگہ استعمال ہوا ہے۔ یہ ابو عبیدہ کا قول ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے کہ اوحی لھا کا معنی ہے اسے حکم دیا، یہ مجاہد کا قول ہے۔ سدی نے کہا : اوحی لھا کا معنی ہے اسے کہا، ایک قول یہ کیا گیا ہے : اس کا معنی ہے اسے مسخر کیا، ایک قول یہ کیا گیا ہے : معنی ہے جس روز زلزلہ برپا ہوگا اور زمین اپنے بوجھ باہر نکال دے گی، زمین اپنی خبریں دے گی کہ اس پر جو کچھ طاعات اور معاصی کی گئیں اور اس پر جو خیر و شر کیا گیا، یہ ثوری اور دوسرے علماء سے مروی ہے۔
Ayah 99:6

یَوْمَئِذٍ یَّصْدُرُ النَّاسُ اَشْتَاتًا١ۙ۬ لِّیُرَوْا اَعْمَالَهُمْؕ Open ayah 99:6 in the Quran reader

اس دن لوگ گروہ در گروہ ہو کر آئیں گے تاکہ ان کو ان کے اعمال دکھائے جائیں

یومئذ یصدر الناس اشتاتا لیروا اعمالھم۔ اشتاتا کا معنی جماعتیں ہیں، یہ شت کی جمع ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : حساب کے میدان سے لوگ اٹھیں گے ایک فریق دائیں جانب کو اپنائے گی جو جنت کی طرف راستہ جائے یگا۔ ایک جماعت بائیں جانب کو اپنائی گی جو جہنم کی طرف راستہ جاتا ہوگا، جس طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : یومئذ یتفرقون۔ (الروم) یومئذ یصدعون (الروم) ایک قول یہ کیا گیا ہے : حساب سے فارغ ہونے کے بعد حساب سے لوٹیں گے۔ اشتاتا کا معنی ہے جماعتیں، جماعتیں، اعمالھم سے پہلے ثواب کا لفظ محذوف ہے یہ اس طرح ہے جس طرح نبی کریم سے روایت کی گئی ہے کہ آپ نے ارشاد فرمایا : ما من احد یوم القیامۃ الا ویلوم نفسہ فان کان محسنا فیقول لم لا اذددت احسانا وان کان غیر ذلک یقول لم لا نزعت عن المعاصی۔ قیامت کے روز ہر کوئی اپنے آپ کو ملامت کر رہا ہوگا اگر وہ اچھائی کرنے والا ہوگا تو کہے گا : میں نے اچھائی زیادہ کیوں نہ کی، اگر معاملہ کوئی اور ہوا تو وہ کہے گا تو میں معاصی سے کیوں نہ بچا۔ یہ صورتحال ثواب اور عقاب کے معاینہ کے وقت ہوگی۔ حضرت ابن عباس کہا کرتے تھے : لوگ اپنے اعمال کے اعتبار سے مختلف ہوں گے اہل ایمان علیحدہ ہوں گے اور ہر دین کے پیروکار علیحدہ ہوں گے، ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ لوٹنا دو بار اٹھنے کے وقت ہوگا وہ قبروں سے گروہ در گروہ لوٹیں گے اور انہیں حساب کے میدان کی طرف لے جایا جائے گا تاکہ وہ اپنے اعمال اپنی کتابوں میں دیکھ سکیں یا اپنے اعمال کی جزا دیکھ سکیں، گویا وہ قبروں پر وارد ہوئے ان میں انہیں دفن کیا گیا پھر وہ ان سے لوٹے۔ وارد کا معنی آنے والا اور صادر کا معنی لوٹنے والا ہے۔ وہ زمین کے مختلف اطراف سے اٹھائے جائیں گے، پہلے قول کے مطابق اس میں تقدیم و تاخیر ہے، اس کی صورت یہ ہوگی، وہ اپنی خبریں بیان کرے گی کہ اس کے رب نے اس کی طرف الہام کیا تاکہ وہ اپنے اعمال دیکھیں درمیان میں یہ جملہ : یومئذ یصدر الناس اشتاتا معترضہ ہے۔ یعنی وہ حساب کے میدان سے جدا جدا لوٹیں گے، عام قرات لیروا ہے معنی ہوگا اللہ تعالیٰ ان کے اعمال دکھائے، حسن بصری، زیرہ، قتادہ، اعرج، نصر بن عاصم اور طلحہ نے فتحہ کے ساتھ پڑھا ہے، یہ نبی کریم سے مروی ہے۔
Ayahs 99:7–8

فَمَنْ یَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَیْرًا یَّرَهٗؕ Open ayah 99:7 in the Quran reader

تو جس نے ذرہ بھر نیکی کی ہوگی وہ اس کو دیکھ لے گا

وَ مَنْ یَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا یَّرَهٗ۠ Open ayah 99:8 in the Quran reader

اور جس نے ذرہ بھر برائی کی ہوگی وہ اسے دیکھ لے گا

پس جس نے ذرہ برابر بھی نیکی کی ہوگی وہ اسے دیکھ لے گا، اور جس نے ذرہ برابر برائی کی ہوگی وہ (بھی) اسے دیکھ لے گا۔ اس میں تین مسائل ہیں : قیامت کے دن خیر و شر کو دیکھنے کے اعتبار سے مومن و کافر کا فرق : مسئلہ نمبر 1 : فمن یعمل مثقال ذرۃ خیرا یرہ۔ حضرت ابن عباس کہا کرتے تھے : کافروں میں سے جو رائی کے دانہ کے برابر اچھا عمل کرے گا وہ اس کی جزا دنیا میں دیکھ لے گا، آخرت میں اسے کوئی ثواب نہیں دیا جائے گا اور جس نے رائی کے دانہ برابر برائی کی اسے آخرت میں سزا دی جائے گی ساتھ ساتھ شرک کی سزا بھی دی جائے گی۔ مومنین میں سے جس نے ذرہ برابر برائی کی ہوگی وہ اس کی سزا دنیا میں دیکھ لے گا جب وہ مرے گا تو آخرت میں اسے سزا نہیں دی جائے گی اور اس سے درگزر کرلیا جائے گا۔ اگر اس نے رائی کے دانہ برابر بھلائی کا عمل کیا ہوگا تو وہ اس سے قبول کیا جائے گا اور آخرت میں اسے کئی گنا ثواب دیا جائے گا۔ ایک حدیث میں ہے ذرہ کا کوئی وزن نہیں ہوتا۔ یہ ایک مثال ہے جو اللہ تعالیٰ نے بیان فرمائی ہے کہ اللہ تعالیٰ بندے کے عمل سے غافل نہیں وہ چھوٹا ہو یا بڑا ہو یہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کی طرح ہے : ان اللہ لا یظلم مثقال ذرہ۔ (النسا) اللہ تعالیٰ ذرہ برابر ظلم نہیں، وہاں ذرہ کے بارے میں گفتگو گزر چکی ہے اور اس کا کوئی وزن نہیں ہوتا۔ اہل لغت میں سے بعض علماء نے یہ کہا ہے : ذریہ ہے آدمی اپنا ہاتھ زمین پر مارے تو اس کے ساتھ جو مٹی لگ جائے اسے ذر کہتے ہیں ؛ حضرت ابن عباس نے یہی کہا ہے : جب تو اپنا ہاتھ زمین پر رکھے اور اسے اٹھائے تو مٹی میں سے جو اس کے ساتھ لگ جاتی ہے وہ ذرہ ہے۔ محمد بن کعب قرظی نے کہا : کافروں میں سے جو آدمی ذرہ برابر نیکی کرتا ہے وہ اس کا ثواب دنیا میں دیکھ لیتا ہے۔ (1) یعنی اپنی ذات میں، اپنے اہل میں اور اپنی اولاد میں یہاں تک کہ وہ دنیا سے نکلتا ہے تو اس کے لیے اللہ تعالیٰ کے ہاں کوئی خیر نہیں ہوتی۔ مومنوں میں سے جو کوئی برا عمل کرتا ہے وہ دنیا میں اس کی سزا دیکھ لیتا ہے اپنی ذات میں، اپنے مال میں، اپنی اولاد میں اور اپنے اہل میں یہاں تک کہ وہ دنیا سے نکلتا ہے جبکہ اس کے بارے میں اللہ تعالیٰ کے ہاں کوئی برائی نہیں ہوتی اس کی دلیل وہ حدیث ہے جو ثقہ علماء نے حضرت انس سے نقل کی ہے۔ یہ آیت نبی کریم پر نازل ہوئی جبکہ حضرت ابوبکر کھانا کھا رہے تھے۔ (2) تو انہوں نے کھانا چھوڑ دیا عرض کی : یا رسول اللہ، ہم اچھا یا برا جو عمل کرتے ہیں وہ ہمیں دکھایا جائے گا ؟ فرمایا : ما رایت مما تکرہ فھو مثاقیل ذر الشر و یدخر لکم مثاقیل ذر الخیر حتی تعطوہ یوم القیامۃ۔ جو تو ناپسندیدہ چیزیں دیکھتا ہے یہ وہی ذرہ برابر برائیاں ہیں اور ذرہ برابر اچھائیاں تمہارے حق میں ذخیرہ کرلی جائیں گی، یہاں تک کہ قیامت کے روز وہ تمہیں دے دی جائیں گے۔ ابو ادریس نے کہا : اس کا مصداق اللہ تعالیٰ کی کتاب میں ہے : وما اصابکم من مصیبۃ فبما کسبت ایدیکم و یعفوا عن کثیر۔ (الشوری) جو تمہیں مصیبت پہنچی ہے وہ ان اعمال کا بدلہ ہے جو تم نے کیے اور اللہ تعالیٰ بہت سے گناہ بخش دیتا ہے۔ مقاتل نے کہا : یہ آیات دو آدمیوں کے بارے میں نازل ہوئیں کیونکہ یہ آیت نازل ہوئی ویطعمون الطعام علی حبہ (الدھر) کھانا کھلاتے ہیں اسے پسند کرتے ہوئے، ان میں سے ایک کے پاس سائل آتا تو وہ ایک کھجور، کھانے کا ٹکڑا اور اخروٹ وغیرہ دینا ناپسند کرتا ہے اور دوسرا چھوٹے سے گناہ کے بارے میں سستی کرتا جس طرح جھوٹ بولنا، غیبت کرنا اور نظر کرنا۔ میں کہتا ہوں : اللہ تعالیٰ نے کبائر پر جہنم کا وعدہ کیا ہے تو یہ آیت نازل ہوئی کہ انہیں تھوڑی سی نیکی میں رغبت دلائی جائے کہ اسے بدلہ دیا جائے گا کیونکہ ممکن ہے کہ وہ زیادہ ہوجائیں اور انہیں تھوڑے سے گناہ پر خبردار کرے، کیونکہ ان کے بارے میں بھی امکان ہے کہ وہ زیادہ ہوجائیں، یہ سعید بن جبیر کا قول ہے، چھوٹا سا گناہ قیامت کے روز گناہگار کی آنکھ میں پہاڑوں سے بڑا ہوگا اور اس کی تمام اچھائیاں اس کی آنکھ میں ہر شے سے چھوٹی ہوں گی۔ اچھائی کا بدلہ اچھائی اور برائی کا بدلہ برائی : مسئلہ نمبر 2 : عام قرات یرہ ہے، جحدری، سلمی، عیسیٰ بن عمر اور ابان نے اسے یرہ پڑھا ہے، یعنی اللہ تعالیٰ اسے دکھائے گا، پہلا پسندیدہ ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : یوم تجد کل نفس ما عملت من خیر محضرا۔ (آل عمران) اس روز ہر نفس اسے حاضر پائے گا جو اس نے اچھا عمل کیا ہوگا۔ ہشام نے دونوں مواقع پر ھاء کو ساکن پڑھا ہے۔ کسائی نے اسے ابوبکر، ابو حیوہ اور مغیرہ سے اسی طرح روایت کیا ہے۔ یعقوب، زہری، جحدری اور شیبہ نے اس میں اختلاس کیا ہے۔ باقی قرار نے اسے اشباع کی صورت میں پڑھا ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے کہ وہ اس کی جزا دی کے گا۔ کیونکہ اس کا عمل گزر چکا اور معدوم ہوچکا تو وہ دکھائی نہیں دے گا۔ علماء نے اس بارے میں اشعار ذکر کیے : ان من یعتدی و یکسب اثما۔۔۔ وزن مثقال ذرۃ سیراہ۔ جو آدمی ذرہ برابر حد سے تجاوز کرتا ہے اور گناہ کرتا ہے تو وہ اس کو دیکھے گا۔ و یجازی بگعلہ الشر شرا۔۔۔ و بفعل الجمیل ایضا جزاہ۔ اسے برائی کا بدلہ برائی سے اور اچھائی کا بدلہ اچھائی سے دیا جائے گا۔ ھکذا قولہ تباک ربی۔۔۔ فی اذا زلزلت وجل ثناہ میرے رب کا ارشاد ہے سورة اذا زلزلت میں اسی طرح ہے۔ قرآن حکیم کی جامع ترین آیات : مسئلہ نمبر 3 : حضرت ابن مسعود نے کہا : قرآن حکیم میں یہ محکم ترین آیت ہے۔ اور انہوں نے سچ کہا۔ علماء اس آیت کے عموم پر متفق ہیں خواہ انہوں نے اس کے عموم کا قول کیا ہو یا نہ کیا ہو، کعب الاحبار نے کہا : اللہ تعالیٰ نے حضرت محمد پر دو آیتیں نازل فرمائیں جنہوں نے توریت، انجیل، زبور اور صحائف میں جو کچھ تعلیمات ہیں سب کو جمع کرلیا ہے وہ یہ ہیں، فمن یعمل مثقال ذرۃ خیرا یرہ۔ ومن یعمل مثقال ذرۃ شرا یرہ۔ شیخ ابو مدین نے اس آیت کے بارے میں کہا : وہ مآل سے پہلے حال میں اچھائی کا بدلہ دیکھ لے گا۔ نبی کریم اس آیت کو جامعہ فازہ کہا کرتے تھے جس طرح صحیح میں ہے جب آپ سے گدھوں کے بارے میں پوچھا گیا اور آپ نے خچروں کے بارے میں خاموشی اختیار کی دونوں میں جواب ایک ہی ہے۔ کیونکہ خچر اور گدھوں پر سوار ہوکرنہ حملہ کیا جاسکتا ہے اور نہ ہی بھاگا جاسکتا ہے۔ جب نبی کریم نے گھوڑوں میں دائمی اجر اور جاری ثواب کا ذکر کیا تو سائل نے گدھوں کے بارے میں پوچھا کیونکہ ان دنوں ان کے پاس خچر نہیں ہوتے تھے حجاز کے علاقہ میں نبی کریم کے خچر دلدل کے سوا کوئی خچر داخل نہیں ہوا تھا جو خچر مقوقس نے نبی کریم کی خدمت میں بھیجا تھا۔ تو رسول اللہ نے اسے عموم آیت سے فتوی دیا تھا۔ بیشک حمار میں کثیر ذرات کا وزن ہے، یہ ابن عربی کا قول ہے۔ موطا میں ایک روایت ہے : ایک مسکین نے ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ سے کھانا طلب کیا جبکہ ان کے سامنے انگور موجود تھے، آپ نے ایک انسان سے کہا : اس سے ایک دانان لو اسے دے دو ۔ وہ آدمی اس دانے کو دیکھنے لگا اور متعجب ہونے لگا۔ حضرت عائشہ صدیقہ نے پوچھا : کیا تو تعجب کا اظہار کرتا ہے تو اس دانے میں کتنے مثقال ذرہ دیکھتا ہے ؟ حضرت سعد بن وقاص سے مروی ہے کہ آپ نے دو کھجوریں صدقہ کیں تو سائل نے اپنا ہاتھ کھینچ لیا۔ حضرت سعد نے سائل سے فرمایا : اللہ تعالیٰ ہم سے ذرہ برابر قبول فرما لیتا ہے جبکہ دو کھجوروں میں بہت سے ذرات کے وزن ہوتے ہیں۔ مطلب بن حنطب نے روایت نقل کی ہے کہ ایک بدو نے نبی کریم کو یہ آیت پڑھتے ہوئے سنا اس نے عرض کیا : یا رسول اللہ کیا ذرہ کے وزن برابر، فرمایا : ہاں۔ بدو نے کہا : واسواتاہ اس نے یہ کلمہ بار بار کہا پھر وہ یہ کہتے ہوئے اٹھ کر چلا گیا نبی کریم نے اسے فرمایا : لقد دخل قلب الاعرابی الایمان، بدو کے دل میں ایمان داخل ہوگیا۔ حضرت حسن بصری نے کہا : فرزدق کا چچا حضرت صعصعہ نبی کریم کی خدمت میں حاضر ہوا جب اس نے فمن یعمل مثقال ذرۃ آیت سنی تو اس نے کہا : اب مجھے اس کی کوئی پرواہ نہیں کہ میں اس کے علاوہ قرآن نہ سنوں۔ یہ میرے لیے کافی ہے، نصیحت ختم ہوچکی، یہ ثعلبی نے ذکر کیا۔ ماوردی کے الفاظ یہ ہیں کہ حضرت صعصعہ بن ناجیہ نبی کریم کی خدمت میں حاضر ہوا، تاکہ قرآن سنے تو نبی کریم نے اسے یہ آیت پڑھ کر سنائی تو صعصعہ نے کہا : میرے لیے کافی ہے میرے لیے کافی ہے، اگر میں ذرہ برابر برائی کروں گا تو اسے دیکھ لوں گا۔ معمر نے زید بن اسلم سے روایت نقل کی ہے کہ ایک آدمی نبی کریم کی خدمت میں حاضر ہوا اس نے عرض کی : مجھے وہ کچھ سکھایئے جو اللہ تعالیٰ نے آپ کو سکھایا ہے۔ حضور نے اسے ایک آدمی کے پاس بھیجا جو اسے تعلیم دے تو اس نے اسے سورة اذا زلزلت کی تعلیم دی یہاں تک کہ وہ اس آیت تک پہنچا تو اس نے کہا : میرے لیے کافی ہے تو نبی کریم کو خبر دی گئی تو نبی کریم نے فرمایا : دعوہ فانہ قد فقہ اسے چھوڑ دو وہ فقیہ ہوچکا ہے۔ یہ حکایت بیان کی جاتی ہے کہ خیرا یرہ کو موخر کیا تو اسے کہا گیا تو نے تقدیم و تاخیر کردی ہے، تو اس نے کہا : خذا بطن ھرشی اوقفاھا فانہ۔۔۔ کلا جانبی ھرشی لھن طریق تم دونوں ہر شے کے بطن سے یا اس کے قفا کو اپناؤ ہر شی کے دونوں جانب اس تک پہنچنے کا راستہ ہے۔