Ayah 100:1قسم ہے تیز دوڑنے والے گھوڑوں کی۔ جب وہ سینہ سے آواز نکالتے ہیں، پھر پتھروں سے آگ نکالتے ہیں سم مار کر۔
والعدیت ضبحا۔ ان گھوڑوں کی قسم جو دوڑتے ہیں۔ عام مفسرین اور اہل لغت نے یہی کہا ہے وہ اللہ کی راہ میں دوڑتے ہیں اور آواز نکالتے ہیں۔ قتادہ نے کہا : جب وہ دوڑتے ہیں تو وہ آواز نکالتے ہیں۔ فراء نے کہا : صبح گھوڑوں کے سانسوں کی آواز ہے جب وہ دوڑ رہے ہوں۔ حضرت ابن عباس نے کہا : جانوروں میں سے گھوڑے، کتے اور لومڑی کے علاوہ کوئی بھی چیز دوڑتے وقت آواز نہیں نکالتی۔ ایک قول یہ کیا گیا کہ ان کے منہ پر کوئی چیز چڑھا دی جاتی ہے تاکہ وہ ہنہنا نہ سکے کہ دشمن اس کے بارے میں آگاہ ہوجائے اس حالت میں قوت کے ساتھ سانس لیتے ہیں۔
ابن عربی نے کہا اللہ تعالیٰ نے حضرت محمد کی قسم اٹھائی۔ یس۔ والقران الحکیم۔ آپ کی زندگی کی قسم اٹھائی، لعمرک انھم لفی سکرتھم یعمھون۔ (الحجر) اللہ تعالیٰ نے آپ کے گھوڑوں، ان کے ہنہنانے، ان کے غبار اور پتھروں سے ان کے سموں سے چنگاری نکالنے کی قسم اٹھائی اور ارشاد فرمایا : والعدیات ضبحا۔
عنترہ نے کہا :
والخیل تعلم حٰن تضبح۔۔۔ فی حیاض الموت ضبحا
گھوڑے جانتے ہیں جب وہ موت کے حوضوں میں آواز نکالتے ہیں۔
ایک اور شاعر نے کہا :
لست بالتمع الیامنی ان لم۔۔۔ تضبح الخیل فی سواد العراق
میں تبع یمانی نہیں اگر گھوڑے سواد عراق میں آوازیں نہ نکالیں۔
اہل لغت نے کہا : ضبح اور ضباح یہ لومڑیوں کے لیے وضع کیے گئے ہیں مجازا گھوڑوں کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔ یہ عربوں کے قول سے ماخوذ ہے : ضبحتہ النار جب آگ اس کے رنگ کو تبدیل کردے اور اس میں مبالغہ نہ کرے۔ شاعر نے کہا :
فلما ان تلھوجنا شواء۔۔۔ بہ اللھبان مقھورا ضبیحا
انضبح لونہ : جب وہ تھوڑا سا سیاہی مائل ہوجائے اس نے کہا۔
علقتھا قبل انضباح لونی میں نے اسے اپنا رنگ بدلنے سے پہلے ہی چاٹ لیا۔ یہ حیوانات آواز نکالتے ہیں جب ان کا حال گھبراہٹ، تھکاوٹ اور لالچ کی وجہ سے بدل جاتا ہے۔ ضبحا مفعول مطلق ہونے کی وجہ سے منصوب ہے۔ تقدیر کلام یوں ہے : والعادیات تضبح ضبحا۔ الضبح کا معنی راکھ بھی ہے۔ بصریوں نے کہا : ضبحا حال ہونے کی وجہ سے منصوب ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ مصدر ہے جو حال کی جگہ واقع ہے۔ ابو عبیدہ نے کہا : الضبح اور الضبع دونوں ایک جیسے ہیں جس کا معنی دوڑنا ہے۔ ابو عبیدہ نے کہا : الضبح والضبع کا معنی دوڑنا اور چلنا ہے۔ مبرد نے اسی طرح کہا ہے ضبح سے مراد دوڑنے میں بازوں کو لمبا کرنا ہے۔ روایت بیان کی گئی ہے کہ رسول اللہ نے بنی کنانہ کے لوگوں کی طرف ایک چھوٹا سا لشکر بھیجا تو اس کے خبر آنے میں دیر ہوگئی رسول اللہ نے ان پر حضرت منذر بن عمرو انصاری کو عامل بنایا تھا وہ ایک نقیب تھے منافقوں نے کہا : وہ شہید ہوگئے ہیں یہ سورت اس لیے نازل ہوئی تاکہ نبی کریم کو ان کی سلامتی کی خبر دی جائے اور یہ بشارت دی جائے کہ انہوں نے اس قوم پر حملہ کیا تھا جس کی طرف انہیں بھیجا گیا تھا۔
جن علماء نے یہ کہا کہ عادیات سے مراد گھوڑے ہیں ان میں حجرت ابن عباس، حضرت انس، حضرت حسن بصری اور مجاہد ہیں۔ خیل سے مراد وہ گھوڑے ہیں جن پر سوار ہو کر مومن حملہ کرتے ہیں۔ حدیث میں ہے : من لم یعرف حرمۃ فرس الغازی ففیہ شعبۃ من النفاق۔ جس نے غازی کے گھوڑے کی حرمت کو نہ پہچانا تو اس میں نفاق کا کچھ حصہ ہے۔
ایک دوسرا قول ہے کہ العدیت سے مراد اونٹ ہیں۔ مسلم نے کہا : میں نے عکرمہ سے اس بارے میں جھگڑا کیا، عکرمہ نے کہا حضرت ابن عباس نے کہا اس سے مراد گھوڑے ہیں۔ میں نے کہا : حضرت علی شیر خدا نے کہا اس سے مراد حج میں دوڑنے والے اونٹ ہیں۔ میرے آقا تیرے آقا سے زیادہ جانتا ہے۔ امام شعبی نے کہا : حضرت علی شیر خدا اور حضرت ابن عباس نے العدیت کی تعبیر میں جھگڑا کیا۔ حضرت علی شیر خدا نے کہا : اس سے مراد وہ اونٹ ہیں جو حج کے موقع پر دوڑتے ہیں۔ حضرت ابن عباس نے کہا : اس سے مراد گھوڑے ہیں کیا آپ نہیں دیکھتے ان کی یہ صفت ذکر کی گئی ہے۔ فاثر بہ نقعا، اپنے کھروں کے ساتھ غبار اڑاتے ہیں۔ کیا اونٹ آواز نکالتے ہیں۔ حضرت علی شیر خدا نے فرمایا : بات اس طرح نہیں جس طرح تو نے کہی تو نے غزوہ بدر کے موقع پر ہمیں دیکھا ہمارے پاس کوئی گھوڑا نہ تھا مگر مقداد کا گھوڑا تھا جسے ابلق کہتے اور مرثد بن ابی مرثد کا گھوڑا تھا، پھر حضرت علی شیر خدا نے حضرت ابن عباس سے کہا : کیا تو لوگوں کو ایسی بات کا فتوی دیتا ہے جس کا تجھے علم ہی نہیں، اللہ کی قسم ! یہ اسلام کا پہلا غزوہ تھا اور ہمارے ساتھ صرف دو گھوڑے تھے ایک گھوڑا حضرت مقداد کا تھا اور ایک گھوڑا حضرت زبیر کا تھا تو جمع کا صیغہ والعدیت ضبحا۔ کیسے ہوسکتا ہے ؟ اس سے مراد اونٹ ہیں جو عرفہ سے مزدلفہ اور مزدلفہ سے عرفہ آتے ہیں۔ حضرت ابن عباس نے کہا میں نے حضرت علی کے قول کی طرف رجوع کرلیا، یہی قول حضرت ابن مسعود، عبید بن عمیر، محمد بن کعب اور سدی کا ہے۔ اس معنی میں حضرت صفیہ بنت عبدالمطلب کا قول ہے :
فلا والعادیات غداہ جمع۔۔۔ بایدیھا اذا سطع الغبار
قسم ہے ان اونٹوں کی جو مزدلفہ کی صبح جس کے پاؤں سے غبار اڑتا ہے۔
یہاں اس سے مراد اونٹ ہیں ان کو العدیت اس لیے کہا گیا ہے کیونکہ یہ لفظ عدد سے مشتق ہے یہ تیز چلتے وقت قدموں کا دور دور رکھنا ہے۔ ایک اور شاعر نے کہا :
رای صاحبی فی العادیات نجیبہ۔۔۔ وامثالھا فی الواضعات القوامس
میرے ساتھی نے دوڑنے والی اونٹنیوں میں عمدہ اونٹنی کو دیکھا اس کی مثل مضبوط اونٹنی میں ہوتی ہے۔
جس نے کہا : العدیت سے مراد اونٹ ہیں تو اس کے نزدیک ضبحا، ضبعا کے معنی میں ہے اس میں حائ، عین سے بدلی ہوئی ہے، کیونکہ یہ جملہ بولا جاتا ہے : ضبعت الابل یہ جملہ اس وقت بولتے ہیں جب وہ چلتے وقت اپنی گردنوں کو لمبا کریں۔ مبرد نے کہا : ضبع سے مراد چلتے وقت بازوں کو لمبا کرنا ہے۔ ضبح یہ گھوڑوں کے بارے میں زیادہ استعمال ہوتا ہے اور ضبع اونٹوں میں استعمال ہوتا ہے بعض اوقات حاء کو عین سے بدل دیا جاتا ہے۔ ابو صالح نے کہا : گھوڑوں میں جب آواز نکالنے کا مفہوم ہو تو اسے حمعمہ کہتے ہیں اونٹوں میں ہو تو اسے تنفس کہتے ہیں۔ عطا نے کہا : چوپاؤں میں کوئی چیز ایسی نہیں جو دوڑتے وقت آواز نکالتی ہو مگر گھوڑا، لومڑی اور کتاب، یہ حضرت ابن عباس سے مروی ہے اہل لغت کا یہ قول پہلے گزر چکا ہے کہ عرب کہتے ہیں : ضبح الثعلب۔۔ توبہ نے کہا :
لسلمت تسلیم البشاشۃ او زقا۔۔۔ الیھا صدی من جانب القبر ضابح
میں بشاشت کا سلام پیش کرتا یا قبر کی جانب سے ایک چیخنے والا اس کو صدا لگاتا۔
زقا السدی یزقوزقاء کا معنی ہے وہ چیخا، کل زاق صائح، ہر زاقی چیخنے والا ہے زقیۃ کا معنی چیخ ہے۔
Ayah 100:2فالموریت قدحا۔ عکرمہ، عطا اور ضحاک نے کہا : اس سے مراد گھوڑے ہیں جو اپنے کھروں کے ساتھ آگ نکالتے ہیں ؛ یہ حضرت ابن عباس سے مروی ہے۔ ان سے یہ بھی مروی ہے : انہوں نے اپنے کھروں کے ساتھ غبار اڑایا۔ یہ قول ان اقوال کے خلاف ہے جن میں یہ ذکر ہے کہ وہ آگ نکالتے ہیں اور جو یہ کہا گیا ہے کہ وہ اونٹوں کے بارے میں ہے۔ ابن ابی نجیح نے مجاہد سے یہ قول نقل کیا ہے کہ حضرت ابن عباس نے کہا : یہ جہاد اور حج میں ہوتا ہے۔ حضرت ابن مسعود نے کہا : اس سے مراد اونٹ ہیں جو سنگریزوں کو روندتے ہیں اور اس سے آگ نکلتی ہے۔ قدح کا اصل معنی نکالنا ہے۔ اس معنی میں یہ جملہ بولا جاتا ہے : قدحت العین جب تو اس سے فاسد پانی نکالے۔ واقتدحت بالذند جب تو زند سے آگ نکالے۔ اقتدحت المرق۔ جب تو شوربہ نکالے۔ ربی قدوح ایسا کنواں جس سے ہاتھوں کے ساتھ پانی نکالا جائے۔ قدیح اسے کہتے ہیں جو ہنڈیا کے نیچے رہ جاتا ہے اور اسے مشقت کے ساتھ نکالا جاتا ہے۔ مقدحہ جس کے ساتھ آگ نکالی جاتی ہے۔ القداحہ، القداح وہ پتھر جو آگ کو روشن کرتا ہے۔ یہ جملہ بولا جاتا : وری الذندی یری وریا۔ جب اس کی آگ نکلے، اس میں ایک اور لغت بھی ہے : وری مضارع کا صیغہ دونوں میں یری ہے سورة واقعہ میں یہ بات گزر چکی ہے قدحا اسی وجہ سے منصوب ہے جس وجہ سے ضبحا منصوب ہے۔
ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ آیات گھوڑوں کے متعلق ہیں لیکن ایراء کا معنی پھر یہ ہوگا کہ وہ اپنے مالکوں اور ان کے دشمنوں کے درمیان جنگ کو بھڑکاتے ہیں اسی وجہ سے جب جنگ زوروں پر ہوتی ہے تو کہتے ہیں : خمی الوطیس اسی معنی میں اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : کلما اوقد نارا للحرب اطفا اللہ (المائدہ) جب کبھی وہ جنگ کی آگ بھڑکاتے ہیں اللہ تعالیٰ اسے بجھا دیتا ہے، یہی معنی حضرت ابن عباس سے بھی مروی ہے ؛ یہ قتادہ کا قول ہے۔ حضرت ابن عباس سے یہ بھی مروی ہے کہ اس کا معنی ہے مردوں کا جنگ میں خفیہ تدبیر کرنا۔ یہ مجاہد اور زید بن اسلم کا قول ہے، عرب کہتے ہیں جب وہ اپنے ساتھی کے ساتھ خفیہ تدبیر کرنا چاہے : واللہ لامکرن بک ثم ل اور ین لک۔
حضرت ابن عباس سے یہ مروی ہے : اس سے مراد وہ لوگ ہیں جو غزوہ میں شریک ہوتے ہیں اور اپنی ضرورت اور کھانے کے لیے آگ کو روشن کرتے ہیں۔ ان سے یہ بھی مروی ہے : اس سے مراد مجاہدین کی آگ ہے جب ان کی آگ زیادہ ہوجاتی ہے، مقصود لوگوں کو خبردار کرنا ہے جو بھی دشمن کے قریب جاکر پڑاؤ ڈالتا تو بہت زیادہ آگ جلاتے تاکہ دشمن ان کی تعداد زیادہ سمجھے یہ ان کی قسم اٹھانا ہے۔
محمد بن کعب نے کہا : اس سے مرواد وہ آگ ہے جس کے پاس جمع ہوا جاتا ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : اس سے مراد لوگوں کے افکار ہیں جو مکر و دھوکہ کی آگ کو روشن کرتے ہیں۔ عکرمہ نے کہا : اس سے مراد لوگوں کی زبانیں ہیں جو گفتگو کے ذریعے آگ روشن کردیتی ہیں یعنی دلائل قائم کرنا، حق واضح کرنا اور باطل کو باطل کردینا۔ ابن جریج نے بعض لوگوں سے یہ روایت نقل کی ہے کہ امر اور عمل میں کامیابی عطا کرنے والی چیزیں اسی طرح ہیں جس طرح جب زندہ آگ روشنی کرے تو اس کے لیے نجاح الذند کا لفظ استعمال کیا جائے۔
میں کہتا ہوں : یہ اقوال مجاز ہیں۔ اس معنی میں ان کا قول ہے : فلان یوری زناد الضلالۃ۔ پہلی تعبیر حقیقت ہے گھوڑے جب سختی سے دوڑتے ہیں تو وہ اپنے کھروں کے ساتھ آگ نکالتے ہیں۔ مقاتل نے کہا : عرب اس آگ کو نار ابی صاحب کہتے ہیں۔ ابو حباحب دور جاہلیت میں مصر کا ایک شیخ تھا بہت ہی بخیل تھا وہ روٹی پکانے اور دوسرے کاموں کے لیے آگ روشن نہیں کرتا تھا یہاں تک کہ لوگ سو جاتے تھے وہ تھوڑی سی آگ روشن کرتا جو کبھی روشن ہوتی اور کبھی بجھ جاتی۔ اگر کوئی آدمی بیدار ہوجاتا تو وہ اس آگ کو بجھا دیتا یہ ناپسند کرتے ہوئے کہ کوئی اس سے فائدہ نہ اٹھائے، تو عربوں نے اس آگ کو اس کی آگ کے ساتھ شبیہ دی کیونکہ اس سے بھی کوئی نفع حاصل نہیں کیا جاسکتا ؛ اس طرح جب تلوار خود پر پڑے تو آگ نکالتی ہے تو اسے بھی وہی نام دیتے ہیں۔ نابغہ نے کہا :
ولا عیب فیھم غیر ان سیوفھم۔۔۔ بھن فلول من قراع الکتائب
ان میں کوئی عیب نہیں سوائے اس کے کہ ان کی تلواریں لشکروں کے باہم ملنے سے کند ہوجاتی ہیں۔
تقد السلوتی المضاعف نسجہ۔۔۔ و توقد بالصفاح نار الحباحب
وہ سلوتی زرہ کو کاٹ دیتی ہیں جس کی بنائی دہری ہوتی ہے اور چوڑے پتھر پر پڑیں تو حباحب کی آگ روشن کرتی ہیں۔
Ayah 100:3پھر اچانک حملہ کرتے ہیں صبح کے وقت۔
گھوڑے صبح کے وقت دشمن پر حملہ کرتے ہیں۔ حضرت ابن عباس اور اکثر مفسرین کی رائے یہ ہے : جب وہ حملہ کا ارادہ کرتے تو رات کو چلتے اور صبح تک دشمن کے پاس پہنچ جاتے کیونکہ وہ وقت لوگوں کی غفلت کا ہوتا ہے اس معنی میں فساء صباح المنذرین۔ (الصافات) جن کو ڈرایا جاتا ہے ان کی صبح بہت ہی بری ہوتی ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا : غالب ہونے کی وجہ سے انہوں نے دن کے وقت حملہ کیا، اس صورت میں صبحا کا معنی علانیہ ہوگا۔ اسے صبح کے ظہور کے ساتھ شبیہ دی۔ حضرت ابن مسعود اور حضرت علی شیر خدا نے کہا : اس سے مراد اونٹ ہیں جو اپنے سواروں کو یوم نحر کے دن مزدلفہ سے منی لے جاتے ہیں، سنت یہ ہے کہ صبح ہونے پر ہی روانہ ہوا جائے ؛ یہ قرظی کا قول ہے۔ اغارہ کا معنی تیز چلنا ہوگا اس میں ان کا قول ہے : اشرق ثبیر کی ما نفیرا اے ثبیر (پہاڑ) روشن ہو کہ ہم چلیں۔
Ayah 100:4پھر اس سے گرد و غبار اڑاتے ہیں۔
نقعا کا معنی غبار ہے، یعنی گھوڑے جہاں حملہ کرتے ہیں اس جگہ تیز دوڑنے کی وجہ سے غبار اڑاتے ہیں۔ حضرت ابن رواحہ نے کہا :
عدمت بنیتی ان لم تروھا۔۔۔ تثیر النقع من کثفی کداء
میں اپنی بیٹی کو نہ اپناؤں اگر تم گھوڑے کو نہ دیکھو کہ وہ کداء پہاڑ کے اطراف میں غبار اڑا رہا ہے۔
بہ میں جو ضمیر ہے مکان یا موضع کی طرف لوٹ رہی ہے جہاں وہ حملہ واقعہ ہوا جب حقیقت حال معلوم ہو تو ضمیر ذکر کرنا جائز ہے اگرچہ اس کا پہلے صراحۃ ذکر نہ بھی ہوا ہو، جس طرح ارشاد فرمایا : حتی توارت بالحباب۔ (ص) ایک قول یہ کیا گیا ہے کہ ضمیر سے مراد دوڑنا ہے جبکہ دوڑنے کا ذکر پہلے گزر چکا ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے کہ نقع سے مراد مزدلفہ اور منی کے درمیان کا علاقہ ہے، یہ محمد بن کعب قرظی کا قول ہے، ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ وادی کا راستہ ہے شاید یہ ضمیر اس غبار کی طرف لوٹ رہی ہے جو غبار اس جگہ سے اڑتا ہے۔ صحاح میں ہے : نقع سے مراد غبار ہے اس کی جمع نقاع ہے نقع سے مراد پانی روکنے کی جگہ ہے اس طح اس پانی کو بھی کہتے ہیں جو کنویں میں جمع ہوجاتا ہے۔ حدیث طیبہ میں ہے کہ حضور نے کنویں کے پانی کو روکنے سے منع کیا ہے۔ نقع اس زمین کو کہتے ہیں جس میں پانی جمع کیا جاتا ہے اس کی جمع نقاع اور انقع آتی ہے جس طرح بحر کی جمع بحار اور ابحر آتی ہے۔
میں کہتا ہوں : بعض اوقات نقع کا معنی آواز بلند کرنا ہے، اس معنی میں حضرت عمر کی حدیث ہے جب ان سے کہا گیا کہ عورتیں جمع ہیں وہ حضرت خالد بن ولید پر رو رہی ہیں تو آپ نے پوچھا : بنی مغیرہ کی عورتوں کو کیا ہوگیا ہے کہ وہ اپنے آنسو بہا رہی ہیں جبکہ وہ ابو سلیمان کے پاس بیٹھی ہوئی ہیں نہ کوئی آواز ہے اور نہ شور ہے۔ ابو عبید نے کہا : نقع کا معنی آواز بلند کرنا ہے اس معنی پر میں نے اہل علم میں سے اکثر علماء کو دیکھا ہے۔ اس معنی میں لبید کا قول ہے :
فمتی ینقع صراح صادق۔۔۔ یحلبوھا ذات جرس و زجل
جب سچی آواز بلند ہوتی ہے تو وہ اس جنگ کے لیے جرس و زجل والی چیزوں کو جمع کرتے ہیں۔
ینقع صراح کا معنی ہے آواز کا بلند ہونا۔ کسائی نے کہا : حضرت عمر کا ارشاد نقع ولا لقلقۃ۔ نقع کا معنی کھانا یعنی ماتم میں۔ اس معنی میں یہ جملہ بولا جاتا ہے : نقعت انقع نقعا، ابو عبید نے کہا : ذھب بالنقع الی النقیعۃ، کسائی کے علاوہ دوسرے علماء کے نزدیک نقیعہ سے مراد سفر سے واپسی پر کھانا پکانا ہے۔ ماتم میں کھانا پکانا نہیں۔ بعض علماء نے کہا : حضرت عمر نے النقع سے یہ مراد لیا تھا سر پر مٹی ڈالنا۔ یہ معنی اس طرف جاتا ہے کہ نقع سے مراد غبار ہے، میرا گمان نہیں کہ حضرت عمر اس طرف گئے ہوں اور نہ آپ کو ان سے یہ خوف تھا، آپ کو یہ خوف کیسے ہوسکتا تھا جبکہ ان کے لیے یہ عمل ناپسند کر رہے تھے۔ فرمایا : یسفکن من دموعھن وھن جلوس، بعض نے کہا : نقع سے مراد گریبان پھاڑنا ہے، یہ ایسا معنی ہے جسے میں نہیں جانتا۔ اس حدیث میں میرے نزدیک نقع سے مراد شدید آواز ہے جہاں تک لققہ کا تعلق ہے تو اس کا معنی سخت آواز ہے میں نے اس میں کوئی اختلاف نہیں سنا۔ ابو حیوہ نے فاثر پڑھا ہے یعنی اس کے آثار دکھائے جس نے اسے تخفیف کے ساتھ پڑھا ہے تو وہ آچار سے مشتق ہے جب وہ حرکت دے اس معنی میں واثاروا الارض ہے (الروم) انہوں نے زمین کو حرکت دی۔
Ayah 100:5پھر اسی وقت (دشمن کے) لشکر میں گھس جاتے ہیں۔
جمعا یہ وسطن کا مفعول بہ ہے وہ اپنے سواروں کے ساتھ دشمنوں کے وسط میں جا پہنچتے ہیں یعنی اس جمیعت میں جا پہنچتے ہیں جس پر وہ حملہ کرتے ہیں۔ حضرت ابن مسعود نے کہا : یعنی وہ مزدلفہ جا پہنچتے ہیں۔ اسے جمعا کا نام دیا کیونکہ لوگ اس میں جمع ہوتے ہیں۔ یہ جملہ بولا جاتا ہے : وسطت القوم اسطھم وسطا وسطۃ یعنی میں ان کے درمیان جا پہنچا۔ حضرت علی شیر خدا نے اسے مشدد پڑھا ہے۔ فوسطن یہ قتادہ، حضرت ابن مسعود اور ابو رجاء کی لغت ہے، دونوں لغتوں کا ایک ہی معنی ہے یہ جملہ بولا جاتا ہے : وسطت القوم توستھم دنوں کا معنی ایک ہی ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : مشدد پڑھیں تو معنی ہے دشمن کے لشکر کو دو حصوں میں کردیتے ہیں۔ تخفیف کے ساتھ پڑھیں تو معنی ہے ان کے وسط میں جا پہنچتے ہیں۔ دونوں کا معنی ایک ہی بنتا ہے۔
Ayah 100:6بیشک انسان اپنے رب کا بڑا ناشکر گزار ہے۔
یہ جواب قسم ہے، یعنی انسان کو ناشکری پر پیدا کیا گیا ہے۔ حضرت ابن عباس نے کہا : لکنود کا معنی ہے اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا انکار کرنے والا ؛ حضرت حسن بصری نے بھی یہی کہا، وہ مصائب کو یاد کرتا ہے اور نعمتوں کو بھول جاتا ہے ؛ شاعر نے اس چیز کو لیا اور نظم میں پرو دیا :
یا ایھا الظالم فی فعلہ۔۔۔ والظلم مردود علی من ظلم
الی متی انت وحتی متی۔۔۔ تشکو المسیبات و تنہی النعم
اے اپنے عمل میں ظلم کرنے والے جبکہ ظلم ظالم پر لوٹا دیا جاتا ہے، کب تک تو مصائب کی شکایت کرتا رہے گا اور نعمتوں کو بھول جائے گا۔
حضرت ابو امامہ باہلی نے روایت کی ہے کہ رسول اللہ نے ارشاد فرمایا : الکنود ھو الذی یا کل وحدہ و یمنع رفدہ و یضرب عبدہ، کنود اسے کہتے ہیں جو تنہا کھانا کھاتا ہے، عطیہ نہیں دیتا اور اپنے غلام کو مارتا ہے۔ حضرت ابن عباس نے روایت نقل کی ہے کہ رسول اللہ نے ارشاد فرمایا : الا انبئکم بشرارکم ؟ قالوا بلی یا رسول اللہ، قال من نزل وحدہ ومنع رفدہ وجلد عبدہ، کیا میں تمہیں سب سے برے آدمی کے بارے میں آگاہ نہ کروں ؟ صحابہ نے عرض کی : کیوں نہیں یار سول اللہ، فرمایا : جو تنہا پڑاؤ ڈالے، عطیہ نہ دے اور اپنے غلام کو مارے، دونوں روایات حکیم ترمذی نے نوادر الاصول میں نقل کی ہیں۔
حضرت ابن عباس سے مروی ہے : کنود کا لفظ کندہ اور حضرموت کی زبان میں نافرمانی کو کہتے ہیں، ربیعہ اور مضر کی زبان میں ناشکرے کو کہتے ہیں، کنانہ کی زبان میں بخیل بری خصلت والے کو کہتے ہیں، یہ مقاتل کا نقطہ نظر ہے۔ شاعر نے کہا :
کنود لنعماء الرجال ومن یکن۔۔۔ کنودا لنعماء الرجل یبعد
وہ لوگوں کے احسانات کی ناشکری کرنے والا ہے اور جو لوگوں کے احسانات کی ناشکری کرنے والا ہو اسے دور کردیا جاتا ہے۔
ایک قول یہ کیا گیا ہے کہ جو تھوڑے احسان پر ناشکری کرے اور زیادہ پر ناشکری نہ کرے، ایک قول یہ کیا گیا ہے : جو حق کا انکار کرے، ایک قول یہ کیا گیا ہے : کندہ کو کندہ اس لیے کہتے ہیں کیونکہ اس نے اپنے باپ کا انکار کیا تھا، ابراہیم بن ہر مہ شاعر نے کہا :
دع البخلاء ان شمخوا وصدوا۔۔۔ وذکری بخل غانیۃ کنود
بخیلوں کو چھوڑو اگر وہ بخل کریں اور مال روک لیں اور شادی شدہ ناشکری عورت کے بخل کے ذکر کو چھوڑ دو ۔
ایک قول یہ کیا گیا ہے : کنود، کند سے مشتق ہے جس کا معنی کاٹنا ہے گویا وہ اسے کاٹتا ہے جسے ملنا چاہیے یعنی شکر، یہ جملہ بولا جاتا ہے : کند الحبل جب وہ رسی کو کاٹ دے۔ اعشی نے کہا :
امیطی تمیطی بصلب الفواد۔۔۔ وصول حبال و کنادھا
تو چلی جا تو مضبوط دل والے سے دور ہوگی جو رشتوں کو جوڑنا بھی جانتا ہے اور انہیں توڑنا بھی جانتا ہے۔
یہ کاٹنے پر دلالت کرتا ہے یہ جملہ بولا جاتا ہے : کند یکند کنودا، یعنی اس نے نعمت کا انکار کیا، ناشکری کرنے والے کو کنود کہتے ہیں، اسی طرح ناشکری عورت کو کنود کہتے ہیں اور کند بھی اس کی مثل ہے۔ اعشی نے کہا :
احدث لھا تحدث لوصلک انھا۔۔۔ کند لوصل الزائر المعتاد
اس کے لیے نیا تعلق قائم کر وہ تیرے لیے نیا تعلق قائم کرے گی وہ پرانے ملاقاتی کے تعلق سے انکاری ہے۔
حضرت ابن عباس نے کہا : یہاں انسان سے مراد کافر ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : وہ بہت زیادہ کفر کرنے والا ہے، اس معنی میں ارض کنود ہے ایسی زمین کو کہتے ہیں جو کوئی شے نہ اگائے، ضحاک نے کہا : یہ ولید بن مغیرہ کے حق میں نازل ہوئی۔ مبرد نے کہا : کنودا سے کہتے ہیں جو حق دینے سے انکار کرے اور سابقہ شعر ہی ذکر کیا۔
ابو بکر واسطی نے کہا : کنودا اسے کہتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کو اس کا نافرمانیوں میں خرچ کرے۔ ابوبکر وراق نے کہا : کنود اسے کہتے ہیں جو نعمت کو اپنی جانب سے اور اپنے دوستوں کی جانب سے خیال کرتا ہے۔ ترمذی نے کہا : جو نعمت کو دیکھتا ہے منعم کو نہیں دیکھتا۔ ذوالنون مصری نے کہا : ھلوع او کنود اسے کہتے ہیں جب اسے تکلیف پہنچے تو بہت زیادہ جزع و فزع کرتا ہے جب بھلائی پہنچے تو احسان نہیں کرتا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : بہت زیادہ کینہ رکھنے والا اور حسد کرنے والا، ایک قول یہ کیا گیا : جو اس کی قدرومنزلت سے ناواقف ہو، حکمت کی باتوں میں سے یہ ہے جو اس کی قدرو منزلت سے ناواقف ہے وہ اس کے پردے کو چاک کردیتا ہے۔
میں نے کہا : یہ تمام اقوال ناشکری اور انکار کی طرف لوٹتے ہیں نبی کریم نے کنود کے معنی کی وضاحت مذموم خصائل اور ناپسندیدہ احوال سے کی ہے، اگر یہ درست ہے تو اس بارے میں جتنے بھی اقوال کیے گئے ہیں ان سب سے یہ اعلی ہے اور کسی کے لیے بھی گفتگو کی کوئی گنجائش نہیں۔
Ayah 100:7اور وہ اس پر (خود) گواہ ہے۔
اللہ تعالیٰ انسان کے اس عمل پر گواہ ہے : منصور نے مجاہد سے یہی روایت کیا ہے ؛ یہی اکثر مفسرین کا قول ہے ؛ یہ حضرت ابن عباس کا قول ہے۔ حضرت حسن بصری، قتادہ اور محمد بن کعب نے کہا : انسان اپنے اعمال پر خود گواہ ہے ؛ مجاہد سے بھی یہی مروی ہے۔
Ayah 100:8اور بلاشبہ وہ مال کی محبت میں بڑا سخت ہے۔
انہ کی ضمیر سے مراد انسان ہے اس میں کوئی اختلاف نہیں۔ خیر سے مراد مال ہے اس معنی میں اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : ان ترک خیرا (البقرہ) ہے اگر وہ مال چھوڑے۔ عدی نے کہا :
ماذا ترجی النفوس من طلب۔۔۔ الخیر وحب الحیاۃ کاربھا
نفوس مال کی طلب سے کس چیز کی امید رکھتے ہیں جب کہ زندگی کی محبت ان پر بہت شدید ہے۔
وہ مال کی محبت میں بہت ہی قوی ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : لشدید سے مراد بخیل ہے بخیل کو شدید اور متشدد کہتے ہیں۔ طرفہ نے کہا :
اری الموت یعتام الکرام و یصطفی۔۔۔ عقیلۃ مال الفاحش المتشدد
میں موت کو دیکھتا ہوں وہ معزز ترین کو پسند کرتی ہے اور بخیل کو عمدہ مال کو منتخب کرتی ہے۔
یہ جملہ بولا جاتا ہے اعتامہ واعتماہ یعنی اسے پسند کرلیا، چن لیا۔ فاحش کا معنی بخیل ہے اس معنی میں اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : ویامرکم بالفحشاء (البقرہ) وہ تمہیں بخل کا حکم دیتا ہے۔ ابن زید نے کہا : اللہ تعلای نے مال کو خیر کہا ہے ممکن ہے وہ شر اور حرام ہو لیکن لوگ اسے خیر کہتے ہیں اسی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے اسے خیر کہا ہے اور جہاد کو سوء قرار دیا ہے، فرمایا : فانقلبوا بنعمۃ من اللہ وفضل لم یمسسھم سوء (آل عمران) وہ اللہ تعالیٰ کی نعمت اور فضل سے پلٹے، انہیں جہاد کا سامنا نہ کرنا پڑا۔ جہاد کو سوء کہنا یہ عام لوگوں کے نام رکھنے کے اعتبار سے ہے۔ فراء نے کہا : نظم آیت کا تقاضا تھا کہ یوں کلام ہوتی وانہ لشدید الحب للخیر جب حب کا ذکر پہلے ہوچکا تو فرمایا : شدید آخر سے حب کا ذکر حذف کردیا کیونکہ اس کا ذکر پہلے ہوچکا تھا اور آیات کے سروں کی رعایت کی وجہ سے بھی ایسا کیا، جس طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : فی یوم عاصف۔ (ابراہیم)
Ayahs 100:9–11کیا وہ اس وقت کو نہیں جانتا جب نکال لیا جائے گا جو کچھ قبروں میں ہے اور ظاہر کردیا جائے گا جو سینوں میں (پوشیدہ) ہے یقینا ان کا رب ان سے اس روز خوب باخبر ہوگا۔
کیا انسان نہیں جانتا جب قبروں میں جو کچھ ہے اسے الٹ دیا جائے گا اور ان میں جو کچھ ہے اسے نکال لیا جائے گا۔ ابو عبیدہ نے کہا : بعثرت المتاع یہ جملہ اس وقت بولا جاتا ہے جب تو سامان کے نیچے والے حصے کو اوپر کردے۔ محمد بن کعب سے مروی ہے، کہا : یہ اس وقت ہوگا جب انہیں دوبارہ اٹھایا جائے گا۔ فراء نے کہا : میں نے بنی اسد کے بعض بدوؤں کو پڑھتے ہوئے سنا، بحثر یعنی عین کی جگہ حاء کو پڑھا۔ ماوردی نے حضرت ابن مسعود سے یہی روایت کیا ہے۔ دونوں کا معنی ایک ہے۔
سینوں میں جو کچھ بھلائی اور شر میں سے ہوگا اسے الگ الگ کردیا جائے گا۔ مفسرین نے یہی کہا ہے، حضرت ابن عباس نے کہا : حصل کا معنی ہے ظاہر کردیا جائے گا۔ عبید بن عمیر، سعید بن جبیر، یحی بن یعمر اور نصر بن عاصم نے وحصل پڑھا ہے، جس کا معنی ظاہر ہونا ہے۔
ان کا رب ان کے بارے میں اس روز خوب باخبر ہوگا اس پر کوئی چیز مخفی نہ ہوگی۔ وہ ان کے بارے میں اس روز اور اس کے علاوہ بھی جاننے والا ہے، بلکہ اس کا معنی ہے وہ اس دن ان کو جزا دے گا۔ اذا میں عامل بعثر ہے اس میں یعلم عامل نہیں کیونکہ انسان سے اس وقت علم کا ارادہ نہیں کیا گیا بیشک دنیا میں اس سے علم کا ارادہ کیا گیا ہے اس میں خبیر عامل نہیں کیونکہ ان کا مابعد ماقبل میں عمل نہیں کرتا، یومئذ میں عامر خبیر ہے اگرچہ درمیان میں لام فاصلہ ہے کیونکہ لام کا محل ابتدا ہے یہاں لام کو خبر پر داخل کیا گیا ہے کیونکہ مبتدا پر ان داخل ہے۔ روایت بیان کی گئی ہے کہ حجاج اس سورت کو منبر پر پڑھتا تاکہ لوگوں کو جہاد پر ابھارے تو اس کی زبان پر غلطی سے ان آگیا تو اس نے اس کا ازالہ خبیر پڑح کر کیا، اگر لام نہ ہوتا تو یہ مفتوح ہوتا۔ کیونکہ یہ علم کا فعل اس پر واقع ہورہا ہے یعنی یہ اس کا مفعول بن رہا ہے۔ ابو اسحاق نے اسے ان اور خبیر پڑھا ہے۔ اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے۔