Az-Zalzala 99:3

Az-Zalzala · from ayah 3

99:3

وَقَالَ الْاِنْسَانُ مَا لَهَا ۟ۚوَقَالَ الۡاِنۡسَانُ مَا لَهَا‌

اور انسان کہے گا کہ اس کو کیا ہوا ہے؟

— Fateh Muhammad Jalandhari

And man says, "What is [wrong] with it?" -

— Saheeh International

Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 24 of juz

Read the whole surah · Surah Az-Zalzala

All translations of 99:3

اور انسان کہے گا کہ یہ اِس کو کیا ہو رہا ہے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور انسان کہے گا کہ اس کو کیا ہوا ہے؟

— مولانا فتح محمد جالندہری

انسان کہنے لگے گا کہ اسے کیا ہوگیا؟

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور انسان کہے گا کہ اس کو کیا ہوگیا ہے ؟

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور آدمی کہے اسے کیا ہوا

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور انسان (حیران و ششدر ہو کر) کہے گا: اسے کیا ہوگیا ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور انسان کہے گا کہ اسے کیا ہو رہا ہے ؟

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور انسان پکار اٹھے گا کہ اسے کیا ہوگیا ہے !

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور انسان کہے گا کہ کیا ہوگیا اس کو ؟

— مولانا اسحاق مدنی

اور آدمی بول اٹھے کہ اسے (یہ) ہوا کیا ؟۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور انسان کہے گا کہ اسے کیا ہوگیا ہے ؟

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور انسان کہے گا کہ اس کو کیا ہوا ؟

— محترمہ رفعت اعجاز

and man will cry out: “What is the matter with her?”

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

and man will say, :What has happened to it?

— Muhammad Taqi Usmani

and man will say, :What has happened to it?

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And man will say: "What is the matter with it"

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And man says, "What is [wrong] with it?" -

— Saheeh International

the human being will say (in horror), "What is happening to it?"

— Muhammad Sarwar

And man says: What has befallen her?

— Muhammad Habib Shakir

And man saith: what aileth her?

— Abdul Majid Daryabadi

And man cries (distressed): 'What is the matter with her?'-

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 99:3

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 1–8

مرحلہ وار قیامت : زمین اپنے نیچے سے اوپر تک کپکپانے لگے گی اور جتنے مردے اس میں ہیں سب نکال پھینکے گی۔ جیسے اور جگہ ہے (يٰٓاَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوْا رَبَّكُمْ ۚ اِنَّ زَلْزَلَةَ السَّاعَةِ شَيْءٌ عَظِيْمٌ) 22۔ الحج :1) لوگو اپنے رب سے ڈرو یقین مانو کہ قیامت کا زلزلہ اس دن کا بھونچال بڑی چیز ہے اور جگہ ارشاد ہے (وَاِذَا الْاَرْضُ مُدَّتْ ۙ) 84۔ الانشقاق :3) جبکہ زمین کھینچ کھانچ کر برابر ہموار کردی جائیگی اور اس میں جو کچھ ہے وہ اسے باہر ڈال دے گی اور بالکل خالی ہو جائیگی صحیح مسلم شریف میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں زمین اپنے کلیجے کے ٹکڑوں کو اگل دے گی سونا چاندی مل ستونوں کے باہر نکل پڑے…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الزلزال 3 انسان سے مراد ہر انسان بھی ہوسکتا ہے، کیونکہ زندہ ہو کر ہوش میں آتے ہی پہلا تاثر ہر شخص پر یہی ہوگا کہ آخر یہ ہو کیا رہا ہے، بعد میں اس پر یہ بات کھلے گی کہ یہ روز محشر ہے۔ اور انسان سے مراد آخرت کا منکر انسان بھی ہوسکتا ہے، کیونکہ جس چیز کو وہ غیر ممکن سمجھتا تھا وہ اس کے سامنے برپا ہورہی ہوگی اور وہ اس پر حیران و پریشان ہوگا۔ رہے اہل ایمان تو ان پر یہ حیرانی و پریشانی طاری نہ ہوگی، اس لیے کہ سب کچھ ان کے عقیدہ و یقین کے مطابق ہورہا ہوگا۔ ایک حد تک اس دوسرے معنی کی تائید سورة یسین کی آیت 52 کرتی ہے جس میں ذکر آیا ہے کہ اس وقت منکرین آخرت کہیں گے کہ مَنْۢ بَعَثَنَا مِنْ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 2–6

واخرجت الارض اثقالھا، رسول اللہ ﷺ نے اس زلزلہ کے متعلق ارشاد فرمایا کہ زمین اپنے جگر کے ٹکڑے سونے کی بڑی چٹانوں کی صورت میں اگل دے گی اس وقت ایک شخص جس نے مال کے لئے کسی کو قتل کیا تھا وہ دیکھ کر کہ گا کہ یہ وہ چیز ہے جس کے لئے میں نے اتنا بڑا جرم کیا تھا، جس شخص نے اپنے رشتہ داروں سے مال کی وجہ سے قطع تعلق کیا تھا وہ کہے گا کہ یہ ہے وہ چیز جس کے لئے میں نے یہ حرکت کی تھی۔ چور جس کا ہاتھ چوری کی سا میں کاٹا گیا تھا اس کو دیکھ کر کہے گا کہ اس کے لئے میں نے اپنا ہاتھ گنوایا تھا پھر کوئی بھی اس سونے کی طرف التفات نہ کریگا۔ (رواہ مسلم عن ابی ہریرة)

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

انسان کی بدحواسی کی تصویر: اس ہولناک صورت حال کا انسان پر جو اثر پڑے گا یہ اس کی تعبیر ہے کہ وہ بدحواس ہو کر پکار اٹھے گا کہ ارے، یہ اسے کیا ہو گیا ہے کہ یہ کسی طرح ٹکنے کا نام ہی نہیں لے رہی ہے اور اپنے اندر کی ہر چیز باہر نکالے دے رہی ہے! اسی طرح کی گھبراہٹ مجرموں پر اس وقت بھی طاری ہو گی جب ان کے اعمال کا رجسٹر کھلے گا۔ اس وقت بھی وہ کہیں گے: ’مَالِ ھٰذَا الْکِتٰبِ لَا یُغَادِرُ صَغِیْرَۃً وَّلَا کَبِیْرَۃً اِلَّآ اَحْصٰھَا‘ (الکہف ۱۸: ۱۹) (عجیب ہے یہ کتاب! کوئی چھوٹا یا بڑا عمل ایسا نہیں ہے جو اس کی گرفت سے باہر رہ گیا ہو!)

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

3۔ 1 یعنی دہشت زدہ ہو کر کہے گا کہ اسے کیا ہوگیا ہے یہ کیوں اس طرح ہل رہی ہے اور اپنے خزانے اگل رہی ہے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 3–4

2: زمین پر کسی نے جو اچھے یا برے عمل کئے ہوں گے زمین ان کی گواہی دے گی۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

وقال ............ مالھا (3:99) ” اور انسان کہے گا ، یہ اس کو کیا ہورہا ہے ؟ “۔ یہ ایک ایسے شخص کا سوال ہے جو ایک اچانک ، خوفناک منظر کو دیکھ کر مبہوت رہ جاتا ہے ، جو ایسا منظر دیکھ رہا ہوتا ہے جو نادیدنی ہو ، جو ایسی صورت حالات سے دوچارہوتا ہے جس کو وہ سمجھ نہیں پارہا ہوتا ، اور ایک ایسے منظر کو دیکھ رہا ہوتا ہے ، جس پر وہ نہ خاموش ہوسکتا ہے ، اور نہ صبر کرسکتا ہے۔ مالھا (3:99) ” اسے کیا ہوگیا ہے “۔ کیا سبب ہے کہ ایک زلزلہ برپا ہے اور زمین ہے کہ مسلسل حرکت کررہی ہے اور اس کے قدم ہی نہیں جمتے اور وہ ادھر ادھر لڑھک رہا ہے اور کوشش کررہا ہے کہ جو سہارے ہاتھ میں آئے اسے لے ، لیکن اس کے ماحول میں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

6 یعنی آدمی زندہ ہونے اور اس زلزلہ کے آثار دیکھنے کے بعد یا ان کی روحیں عین زلزلہ کے وقت حیرت زدہ ہو کر کہیں گی کہ اس زمین کو کیا ہوگیا جو اس قدر زور سے ہلنے لگی اور اپنے اندر کی تمام چیزیں ایک دم باہر نکال پھینکیں۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 2–3

آیت 2{ وَاَخْرَجَتِ الْاَرْضُ اَثْقَالَہَا۔ } ”اور زمین اپنے سارے بوجھ نکال کر باہر پھینک دے گی۔“ یعنی اس دن زمین اپنے اندر مدفون تمام انسانوں کو ‘ وہ جس حالت میں بھی ہوں گے ‘ نکال کر باہر ڈال دے گی۔ اگر ان کے ذرّات منتشر ہو کر زمین کے طول و عرض میں پھیلے ہوئے ہوں گے تو ان کو بھی یکجا کردیا جائے گا۔ واضح رہے کہ جو انسان اصطلاحی مفہوم میں زمین کے اندر باقاعدہ دفن نہیں بھی ہوتے ‘ مثلاً سمندر میں غرق ہوجاتے ہیں یا جلا دیے جاتے ہیں ‘ ان کے اجسام کے اجزائی ذرات بھی کسی نہ کسی شکل میں بالآخر زمین میں ہی جذب ہوتے ہیں اور وہ قیامت کے دن زمین سے ہی برآمد ہوں گے۔ سورة طٰہٰ کی یہ آیت اس لحاظ سے بہت واضح…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

3 اس آیت میں اگر انسان سے مراد عام انسان لیا جائے تو بھی درست ہے۔ ہر انسان جب نیند سے بیدار ہوتا یا کسی اتفاقی حادثہ سے بےہوش ہوجانے کے بعد ہوش میں آتا ہے اور اجنبی صورت حال دیکھتا ہے تو سب سے پہلا سوال یہی کرتا ہے کہ یہ کیا ہو رہا ہے اور میں اس وقت کہاں ہوں ؟ پھر جب ذرا ہوش ٹھکانے آجائیں گے تو اسے معلوم ہوجائے گا کہ یہ میدان محشر کی تیاریاں ہو رہی ہیں۔ اور اگر انسان سے مراد ایسا انسان لیا جائے جو آخرت کا منکر تھا۔ وہ تو دیوانگی اور حیرانی کے عالم میں پوچھے گا کہ اس زمین کو کیا ہوگیا ہے پھر تھوڑی ہی دیر کے بعد اس کی یہ حیرانی حسرت و یاس میں تبدیل ہونے لگے گی اور اسے یقین ہوجائے گا کہ جن باتوں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 1–3

1۔ یہ سب واقعات حشر کے سلسلہ میں نفخہ اول کے وقت کے ہیں۔ (آیت) ” اثقالھا “۔ زمین کے بوجھ سے مراد مردے بھی ہوسکتے ہیں، اور زمین کے دفینے اور معدنیات وغیرہا بھی۔ (آیت) ” اذا ...... زلزالھا “۔ غرض یہ کہ زمین کی اس جنبش اضطرابی سے سارا عالم زیروزبر ہوجائے گا۔ (آیت) ” وقال الانسان مالھا “۔ انسان گھبرا کر اور سراسیمہ ہو کر پکار اٹھے گا کہ آخر یہ ہو کیا گیا ؟ (آیت) ” الانسان “۔ انسان۔ سے اس سیاق میں مراد کافر انسان ہے، جسے سارا بھروسہ مادی ہی طاقتوں کا رہتا ہے، اور جو مسبب الاسباب کی قدرت و حکمت کا منکر یا عملا منکر رہتا ہے۔ قیل ھذا قول الکافر لانہ کان لایؤمن بالبعث (مدارک) قال الجمھورالانسان ھو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 2–8

واخرجت الارض اثقالھا اسی مضمون کو سورة انشقاق میں اس طرح بیان فرمایا گیا ہے ” والقت مافیھا وتخلت ‘ اور جو کچھ اس کے اندر ہے اسے باہر پھینک کر خالی ہوجائے گی، اس کے متعدد مطلب ہیں، ایک یہ کہ مرے ہوئے انسان زمین کے اندر جہا اور جس شکل میں بھی پڑے ہوں گے ان سب کو وہ نکال کر باہر پھینک دے گی، اس مفہوم پر بعد کا فقرہ یعنی ” وقال الانسان مالھا “ دلالت کررہا ہے، یعنی انسانی منتشر اجزاء جمع ہو کر ازسرنو اسی شکل و صورت میں جمع ہوجائیں گے، جس میں وہ دنیوی زندگی کی حالت میں تھے، کیونکہ اگر ایسا نہ ہو تو وہ یہ کیسے کہیں گے کہ زمین کو یہ کیا ہو رہا ہے ؟ دوسرا مطلب یہ ہے کہ صرف مردہ انسانوں ہی کو باہر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

و قال الانسان مالھا . اور انسان تعجب سے کہے گا زمین کو کیا ہوگیا کہ ایسا سخت زلزلہ آیا اور زمین اپنے پیٹ کے اندر کی چیزیں باہر پھینکے گی۔ بعض علماء کا قول ہے کہ الانسان سے مراد کافر آدمی ہے چونکہ اس کو قبروں سے اٹھنے کی امید ہی نہ ہوگی ‘ اس لیے قبر سے اٹھنے کے وقت وہ یہ بات کہے گا اور مؤمن کہے گا یہ وہی ہے جس کا اللہ نے وعدہ کیا تھا اور پیغمبروں نے سچ کہا تھا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 3–6

(3۔ 6) اور کافر آدمی اس وحشت کو دیکھ کر کہے گا اسے کیا ہوا اس روز زمین جو کچھ اس پر نیکی و برائی ہوئی ہے سب بتانے لگے گی اس بنا پر کہ اس کو کلام کرنے کی اجازت دی جائے گی اس روز لوگ مختلف جماعتیں ہو کر واپس ہوں گے ایک جماعت جنت کی طرف جائے گی اور ایک دوزخ میں تاکہ جو کچھ انہوں نے نیکی اور گناہ کیا ہے اسے دیکھ لیں۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

(وقال الانسان مال لھا): ہر انسان ہی اچانک پیش آنے والے واقعات سے دہشت زدہ ہو کر یہ الفاظ کہے گا۔ خصوصاً کافر جو قیامت کا منکر تھا، اس کیلئے تو یہ بات حد سے بڑھ کر تعجب انگیز ہوگی۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

وقال الانسان مالھا۔ الانسان سے مراد کافر ہے۔ ضحاک نے حضرت ابن عباس سے روایت نقل کی ہے اس سے مراد اسود بن عبدالاسد ہے، ایک قول یہ کیا گیا ہے، اس سے مراد ہر وہ انسان ہے جو قیامت کے واقع ہونے پر نفخہ اولی کے وقت اس کا مشاہدہ کرے گا وہ مومن ہو یا کافر ہو، یہ اس کا قول ہے جس نے اسے دنیا میں قیامت کی علامات شمار کیا ہے کیونکہ یہ سب لوگ قیامت کی ابتداء کے بارے میں اسے علامت نہیں جانتے یہاں تک کہ وہ اس کے عموم کو پہچانیں اسی وجہ سے وہ ایک دوسرے سے سوال کریں گے جس نے کہا کہ انسان سے مراد کافر ہے اس نے اس سے قیامت کا زلزلہ مراد لیا ہے کیونکہ مومن اس کا اعتراف کرتا ہے مومن اس کے بارے میں سوال نہیں کریں…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 1–8

1۔ ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ سورة اذا زلزلت مدینہ میں نازل ہوئی 2۔ ابن مردویہ نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ اذا زلزلت مدینہ میں نازل ہوئی۔ 3۔ احمد وابوداوٗد والنسائی والحاکم وصححہ وابن مردویہ اور بیہقی نے شعب الایمان میں عبداللہ بن عمرو ؓ سے روایت کیا کہ ایک آدمی رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اور کہنے لگا یا رسول اللہ ! مجھے کچھ پڑھا دیجیے آپ نے فرمایا ” المر “ والی تین سورتیں پڑھ۔ اس نے کہا میں بوڑھا ہوگیا ہوں دل بھی سخت ہوگیا ہے اور زبان بھی موٹی ہوگئی ہے یعنی سخت کلامی پر اتر آئی ہے۔ آپ نے فرمایا حم والی تین سورتیں پڑھ۔ اس نے پھر پہلے کی طرح کہا۔ آپ نے فرمایا تین سورتیں مسجلات میں سے…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 1–4

یہ سورة الزلزال کا ترجمہ ہے لفظ زلزال اور زلزلہ دونوں سخت جھٹکا کھانے اور سخت حرکت کرنے کے معنی میں آتے ہیں دونوں باب فعللہ (رباعی مجرد) کے مصادر ہیں زلزالھا مفعول مطلق ہے جو تاکید اور بیان شدت کے لیے لایا گیا ہے جیسا کہ سورة الاحزاب میں فرمایا : ﴿وَ زُلْزِلُوْا زِلْزَالًا شَدِیْدًا﴾ یہاں بھی قیامت کے زلزلہ کو بیان فرمایا ہے، یہ زلزلہ بہت سخت اور شدید ہوگا۔ جیسا کہ سورة الحج میں فرمایا : ﴿یٰٓاَیُّھَا النَّاسُ اتَّقُوْا رَبَّكمْ اِنَّ زَلْزَلَۃَ السَّاعَۃِ شَیْءٌ عَظِیْمٌ﴾ (اے لوگو ! بیشک اپنے رب سے ڈرو، بیشک قیامت زلزلہ بہت بڑی چیز ہے) وہ زلزلہ دنیا والے زلزلوں جیسا نہیں کہ دو چار شہروں میں…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–8

حوادث وزلازل بوقت وقوع قیامت : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” اذا زلزلت الارض زلزالھا ........ الی ........ ذرۃ شرایرہ “۔ (ربط) گزشتہ سورت کا مضمون اہل سعادت وشقاوت کے اعمال وافعال اور ان کے انجام پر مشتمل تھا اور اصول سعادت اور حق تعالیٰ کے انعامات کے استحقاق کی بنیاد یہ بیان کی گئی تھی کہ وہ خشیت خداوندی ہے اور (آیت) ” ذلک لمن خشی ربہ “۔ فرما کر اس حقیقت کو واضح کردیا گیا تھا، اب اس سورت میں سعادت وشقاوت کے ثمرات مرتب ہونے کا وقت بتایا جارہا ہے کہ وہ قیامت ہے اور قیامت کا قائم ہونا، نظام عالم کا درہم برہم ہوجانا ہے اور وہی دن زندگی کے اعمال کا محاسبہ کرتا رہے اور اللہ رب العزت کی بارگاہ میں…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 3–5

4:۔ ” وقال الانسان “ اس دن انسان حیرت و تعجب سے کہے گا زمین کو کیا ہوگیا ہے وہ اس قدر کیوں جھٹکے کھا رہی ہے یا اس کا تعلق ما بعد سے ہے یعنی ” یومئذ تحدث اخبارھا “ قیامت کے دن زمین ساری باتیں صاف صاف بیان کردے گی بندوں نے جو جو نیک و بد کام اس پر کیے ہیں وہ سب بتادے گی تو انسان اس پر حیرت واستعجاب سے کہے گا زمین کو کیا ہوگیا ہے وہ آج سب کچھ بتا رہی ہے۔ ” بان ربک اوحی لہا “ زمین اس لیے سب کچھ ظاہر کرے گی کہ اللہ تعالیٰ کا اس کو حکم ہوگا۔ ” ولباء للسببیۃ ای تحدث بسبب ایحاء ربک لہا وامرہ سبحانہ ایاھا بالتحدیث (روح ج 30 ص 210) ۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 1–8

موضوع اس سورة کا موضوع جزائے عمل ہے اگرچہ سورة تو مختصر ہے تاہم موضوع کے لحاظ سے جامع اور مانع سورة ہے۔ اس سورة میں اس بات کی وضاحت کی گئی ہے کہ جو بھی اعمال اس دنیا میں کرتا ہے ان کی جزاء لازم ہے۔ جس طرح انسان کوئی چیز کھاتا ہے تو اس کے نتیجے میں بدہضمی پیدا ہوتی ہے۔ اسی طرح انسان جو عمل کرتا ہے۔ اس کے ساتھ اس کی جزاء بھی لازم ہے ، جس طرح پیدائش کے ساتھ موت لازم ہے اور جس طرح طلوع کے ساتھ غروب لازم ہے۔ ایسے ہی عمل کے ساتھ جزائے عمل کا ہونا ضروری ہے۔ اس سورة مبارکہ میں یہی بات سمجھائی گئی ہے۔ فضیلت حدیث پاک میں اس سورة کی بہت فضیلت آئی ہے۔ ایک شخص حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَقَالَ الْاِنْسَانُ مَا لَہَا۝ 3 ۚ قول القَوْلُ والقِيلُ واحد . قال تعالی: وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّهِ قِيلًا[ النساء/ 122] ( ق و ل ) القول القول اور القیل کے معنی بات کے ہیں قرآن میں ہے : ۔ وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّهِ قِيلًا[ النساء/ 122] اور خدا سے زیادہ بات کا سچا کون ہوسکتا ہے ۔ إنس الإنس : خلاف الجن، والأنس : خلاف النفور، والإنسيّ منسوب إلى الإنس يقال ذلک لمن کثر أنسه، ولكلّ ما يؤنس به، ولهذا قيل :إنسيّ الدابة للجانب الذي يلي الراکب وإنسيّ القوس : للجانب الذي يقبل علی الرامي . والإنسيّ من کل شيء : ما يلي الإنسان، والوحشيّ : ما يلي الجانب الآخر له . وجمع الإنس أَناسيُّ ، قال اللہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 1–6

ترکیب ¦ اذا شرطیۃ کان والفرق بینھا ان اذا تستعمل فی المقطوع ای اذا اردت التعلیق بما یوجد قطعا تقول اذا بخلاف ان فانھا کان لزلزال یقیناً قال اذا زلزلت فعل مجہول الارض مفعول ما لم یسم فاعلہ زلزالھا زلزال مفعول مطلق مضاف الی الضمیر الراجع الی الارض۔ قال الفراء الزلزال بالکسر مصدر و بالفتح اسم و قال القرطبی بالفتح مصدر کا لو سو اس والقلقا وقیل ھما مصدران وقد قری بھما۔ فالمصدر مضاف الی فاعلہ والمعنی ای حرکت الارض حرکۃ شدیدۃ کما قال اذا رجت الارض رجاً واخرجت الخ الجملۃ معطوفہ علی زلزلت الارض والاثقال جمع ثقل والمراد بہ الد فائن وقال الخ ایضا معطوف ما مبتداء لھا خبر والجملۃ الا ستفھامیۃ مفعول قال…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

وَقَالَ الْاِنْسَانُ مَالَھَا۔ (الزلزال : 3) ( اور انسان پکار اٹھے گا کہ اسے کیا ہوگیا ہے۔ ) منکرین کی بدحواسی یہاں انسان سے مراد وہ انسان ہے جو دنیا میں قیامت کا شدت سے انکار کیا کرتا تھا۔ وہ جب اس برہمی اور اضطراب کی کیفیت کو دیکھے گا اور یہ بھی دیکھے گا کہ زمین سب کچھ اپنے اندر سے باہر پھینک رہی ہے وہ فرطِ حیرت سے چیخ اٹھے گا کہ زمین کو کیا ہوگیا ہے، اس کی حرکت رکنے میں کیوں نہیں آرہی اور اس کے اندر کی ہر مستور چیز باہر کیوں پھینکی جارہی ہے۔ وہ چونکہ زندگی میں شدت سے وقوع قیامت کا انکار کرتا رہا، اب جب اسے اپنے سامنے برپا ہوتے دیکھے گا تو وہ انتہائی حیران اور پریشان ہوگا۔ لیکن اہل ایمان…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 1–5

فہم القرآن ربط سورت : البیّنہ کا اختتام ان الفاظ پر ہوا کہ ” اللہ تعالیٰ “ ہر اس شخص پر راضی ہوگا جس نے اس سے ڈر کر زندگی بسر کی اللہ تعالیٰ کے ڈر کا حقیقی تقاضا ہے کہ انسان ہر دم قیامت کا عقیدہ تازہ رکھے جس دن کی ابتداء بڑے بڑے زلزلوں سے ہوگی۔ قرآن مجید نے یہ حقیقت بڑی تفصیل کے ساتھ بتلائی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے حکم سے جب پہلی دفعہ اسرافیل صور میں پھونک مارے گا تو زمین و آسمانوں میں ایسا بھونچال آئے گا کہ بالآخر ہر چیز ختم ہوجائے گی۔ ایک مدّت کے بعد جس کا علم اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کو نہیں اس مدّت میں صرف اللہ تعالیٰ کی ذات ہی باقی رہے گی۔ اسرافیل دوسری پھونک مارے گا تو ایک دفعہ پھر زمین پر…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

کافر کا قول : 3 : وَقَالَ الْاِنْسَانُ مَالَھَا (اور آدمی کہے گا اس کو کیا ہوا) کہ یہ شدید حرکت کے ساتھ ہلائی گئی ہے اور اس نے اپنے اندر کے دفائن نکال دیئے ہیں۔ یہ ثانیہ کی بات ہے جب زمین مردوں کو زندہ کر کے نکال دے گی۔ پس وہ کہہ اٹھیں گے جبکہ زمین ان کو ہولناکی کی وجہ سے ظاہر کررہی ہوگی۔ یہ اس طرح ہے جیسا وہ کہیں : من بعثنا من مرقدنا ] یس : 52[ ایک قول یہ ہے : کہ یہ کافر کا قول ہے کیونکہ وہ بعث کا منکر تھا۔ باقی مومن کہے گا : ھذا ما وعد الرحمن وصدق المرسلون ] یٰسین : 52[

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 1–8

1۔ 8۔ دجال کا پیدا ہونا سورج کا مغرب سے نکلنا۔ لال آندھی کا آنا۔ جس طرح یہ چیزیں دنیا کی مدت اخیر ہونے کی علامتیں ہیں اسی طرح اس وقت ایک زلزلہ بھی لال آندھی کے آنے کے بعد آئے گا جس کا ذکر ترمذی 1 ؎ وغیرہ میں حضرت ابوہریرہ ؓ وغیرہ کی روایت سے آیا ہے اور ایک زلزلہ دوسرا صور پھونکا جائے گا جس آئے گا جس کا ذکر قرآن شریف میں کئی جگہ آیا ہے اس آیت میں جو زلزلہ کا ذکر ہے بعض مفسر کہتے ہیں کہ اس سے پہلا زلزلہ مراد ہے اور بعض کہتے ہیں دوسرا زلزلہ مراد ہے۔ اس زلزلہ کے ساتھ ہی اللہ تعالیٰ نے حساب و کتاب اور زمین کی شہادت کا ذکر فرمایا ہے اور یہ باتیں تو ضرور دوسرے صور کے بعد کی ہیں اس لئے اس زلزلہ سے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

(وَقَالَ الْاِنْسَانُ ) جب انسان اس عظیم واقعے کو دیکھے گا جو زمین کو پیش آئے گا تو کہے گا ( مَا لَهَا) یعنی اسے کیا حادثہ پیش آگیا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 2–3

(2) اثقال زمین سے مقصود و مراد ؟ سو ارشاد فرمایا گیا کہ اس روز زمین نکال باہر کرے گی اپنے اندر کے سارے بوجھ۔ یعنی ان مردوں کو جو کہ ہزار ہا برس قبل اس کے پیٹ میں تارے گئے ہوں گے، اور جن کا بظاہر نام و نشان بھی باقی نہ رہے گا، نیز اس روز یہ زمین اگل دے گی ان تمام دفائن و خزائن کو جو کہ قدرت نے اس کے اندر ودیعت فرمائے ہوں گے، چناچہ وہ سب اس موقع پر باہر پڑے ہوں گے مگر کوئی ان کو لینے اور اٹھانے کے لیے تیار نہ ہوگا کہ وہ منظر ہی ہولناک ہوگا اس وقت ابناء دنیا رہ رہ کر افسوس کریں گے کہ یہی وہ متاع دنیا جس کے ہم نے اپنی دنیاوی زندگی میں طرح طرح کے پاپڑ بیلے تھے، اور چوری، ڈکیتی، قتل و خونریزی اور…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 1–8

قیامت کا واقعہ اعمال کا اندراج اور گواہی تشریح : یہاں قیامت کا ذکر کرتے ہوئے زمین کے حالات بتائے جا رہے ہیں کہ زمین میں شدید زلزلہ آئے گا، جیسے انڈہ توڑو تو اس کے اندر کا مال سفیدی زردی سب باہر نکل آتا ہے ایسے ہی زمین کا حال ہوگا۔ ہم زمین کے بارے میں کافی بحث کرچکے ہیں۔ مختصراً عرض ہے کہ زمین کی اوپر کی سطح نے اس کے اندر کے سارے مال کو محفوظ کر رکھا ہے۔ وہ مال ہے تیل گیس ' معدنیات ' کوئلہ ' ہیرے اور قیمتی پتھر یہ سب کچھ سمندر کی طرح موجیں مار رہا ہے۔ جس کی نشاندہی قرآن پاک میں کی گئی ہے۔ اور اس کی تصدیق ان آتش فشاں پہاڑوں سے نکلنے والے لاوے سے ہوتی رہتی ہے جو اکثر و بیشتر پہاڑ کی کسی نہ کسی…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–8

سورة الزلزال آیات 1 تا 8۔ اسرار ومعارف۔ جب زمین کو جھنجھوڑ ڈالا جائے گا ، یعنی قیامت قائم ہوگی اور زمین تمام لوگوں کو اور مال وزر کو اگل دے گی یا وہ راز جو بہرحال اس کے پاس محفوظ ہوں گے کھول دے گی تو انسان کہہ اٹھے گا زمین کو کیا ہوگیا اس نے تو سب کچھ بتادیا۔ ہاں ضرور بتائے گی کہ تیرے پروردگار کا حکم اس کو بتانے ہی کا ہوگا اس روز لوگ الگ الگ طبقے اور جماعتیں بن جائیں گے جس طرح کے لوگوں اور کردار کی رفاقت دنیا میں اختیار کی اسی طرح کے گروپوں میں کھڑے ہوں گے کہ اپنے اعمال کے نتائج کو دیکھیں جس کسی نے ذرہ برابر بھی نیکی کی ہوگی وہ اس کا بدلہ پائے گا اس سے علماء نے دلیل اختیار فرمائی ہے کہ جس کے…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 1–3

ف 2 یعنی قیامت کے قریب جب وہ صور پھونکے جانے سے دہل جائے اور اس میں بھونچال آجائے۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(99:3) وقال الانسان مالہا۔ اس کا عطف بھی اذا زلزلت پر ہے۔ الانسان سے مراد یا تو جنس انسانی ہے یا کافر لوگ ہیں جیسا کہ بعض علماء کا قول ہے لیکن راجح یہی ہے کہ یہاں مراد جنس انسان کافر لوگ تو متعجب اس لئے ہوں گے کہ ان کو قبروں سے دوبارہ اٹھنے کی امید ہی نہیں تھی اور مومن واقعہ کی عظمت کو ملحوظ رکھتے ہوئے کہیں گے کہ بیشک یہ وہی ہے جس کا اللہ تعالیٰ نے وعدہ کیا تھا اور پیغمبروں نے سچ کہا تھا۔ مالہا میں ما مبتداء اور لہا اس کی خبر۔ اس کو کیا ہوگیا ہے۔ جملہ استفہامیہ قال کا مفعول ہے۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–8

لغات القرآن۔ زلزلت۔ ہلاڈالی گئی۔ اثقال۔ بوجھ۔ مالھا ۔ کیا ہوگیا اسے ؟ ۔ تحدت۔ بیان کردے گی۔ اخبر۔ خبریں۔ حالات۔ یصدر۔ باہر نکلنے گا۔ لوٹے گا۔ اشتات۔ مختلف گروہ۔ مثقال ۔ وزن۔ برابر۔ یرہ۔ وہ اس کو دیکھ گا۔ تشریح : نبی کریم حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے کہ جب زمین پر ایک شخص بھی اللہ اللہ کہنے والا نہ رہے گا تو نظام کائنات کو درہم برہم کرکے ہر چیز پر فنا کی کیفیت طاری کردی جائے گی۔ اسی کو قیامت کہا جاتا ہے جو برحق ہے اور اس کے آنے میں ذرا بھی شک نہیں ہے۔ لیکن پہلا صور پھونکے جانے کے بعد کیا ہوگا اس کو اس سورت میں بیان فرمایا گیا ہے۔ ارشاد ہے کہ جب زمین مسلسل جھٹکوں اور زلزلوں سے ہلا ماری…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

(ف 3) یعنی آدمی زندہ ہونے اور اس زلزلہ کے آثار دیکھنے کے بعد یا ان کی روحیں عین زلزلہ کے وقت حیرت زدہ ہوکر کہیں گی کہ اس زمین کو کیا ہوگیا ہے جو اس قدر زور سے ہلنے لگی ہے اور اپنے اندر کی تمام چیزیں ایک دم باہر نکال پھینک دیں۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 1–8

ف 1: سابقہ سورة کا اختتام ان آیتوں پر ہوا تھا کہ منکرین بدترین خلائق ہیں اور ان کو جو سزا ملے گی ۔ وہ بھی بدترین مقام پر فائز ہوں گے ۔ سوال یہ پیدا ہوتا تھا کہ یہ وقت مکافات اور جزا کا کب آئے گا ۔ جب لفخہ ثانیہ کے وقت زمین میں ایک شدید حرکت اور جنبش ہوگی ۔ اور زمین اپنے تمام ذخائر وخزائن اگل دے گی ۔ اس وقت یہ لوگ کہیں گے کہ یہ کیا ہونے والا ہے ۔ اس وقت یہ بےزبان زمین بتائے گی کہ اس کے سینے پر انسانوں نے کیسی معصیت کوشی کی زندگی بسر کی ہے ۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس کو اس نوع کی تلقین کررکھی ہوگی ۔ یہ وہ دن ہوگا جب لوگ گروہ درگروہ موقف حساب سے واپس ہوں گے ۔ وہ لوگ دیکھیں گے کہ ذرہ برابر نیکی جو…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

ف 1۔ اس حالت کو دیکھ کر کہے گا کہ یہ خلاف معتاد و خلاف گمان زلزلہ و اخراج اثقال کیسے ہونے لگا، وجہ اس کہنے کی یہ ہے کہ یہ قیامت کا اور اس کے واقعات کا پہلے سے منکر تھا، اب ان واقعات کو دیکھ کر حیرت زدہ ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

اور انسان حیرت سے کہے گا کہ اس کو کیا ہوگیا ہے ؟ 3 ؎ زمین کے بار بار کپکپانے اور بار بار ہلائے جانے اور لرزنے اور لرزانے کے باعث انسان حیران و ششد رہوں گے اور ان کی سمجھ میں کچھ بھی نہیں آئے گا کہ اس زمین کو کیا ہوگیا ہے کہ اس طرح بار بار کیوں کپکپا رہی ہے ؟ اس کو کیا ہوگیا ہے کہ ساکن ہو ہی نہیں رہی ؟ اسی طرح انسانوں کا حیران اور ششدر ہونا ہی کسی نتیجہ پر پہنچے گا کہ ایسا کیوں ہے ؟ یہ سب کی سب علامات ِ قیامت ہیں اور ان کا ظاہر ہونا یقینی ہے اور اس طرح یہ بھی لازم ہے کہ زمین ابھی اپنے بوجھ ہلکے کرے اور انسان اس پر تعجب کرے اور اتنی چیزیں وہ انسان کے سامنے رکھ دے کہ انسان ان کے استعمال کے طریقے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 2–6

Verse [ 2] وَأَخْرَ‌جَتِ الْأَرْ‌ضُ أَثْقَالَهَا (and the earth will bring forth its burdens.) Muslim has recorded in his Sahih from Abu Hurairah ؓ that the Messenger of Allah ﷺ said: "The earth will throw out the pieces of its liver [ contents ]. Gold and silver will come out like columns. A murderer will come and say: 'I killed for this?' The one who broke the ties of kinship will say: 'For this I severed the ties of kinship?' The thief will say: 'For this I got my hand amputated?' Then they will leave it there, and no one will take anything from it."

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

3 Man here may as well imply every man, for after resurrection and coming to senses the first impression of every man will be as to what was happening around him; afterwards he will realize that it was the Resurrection Day. Man may also imply the man who denies the Hereafter, for what he regarded as impossible would be happening in front of him and causing him confusion and bewilderment. As for the believers, they will not be bewildered and' confused, for . everything would be taking place according to their belief and conviction. To an extent, this second meaning is supported by verse 52 of…

Read the full tafseer →