Az-Zalzala 99:4

Az-Zalzala · from ayah 4

99:4

یَوْمَىِٕذٍ تُحَدِّثُ اَخْبَارَهَا ۟ؕيَوۡمَئِذٍ تُحَدِّثُ اَخۡبَارَهَا

اس روز وہ اپنے حالات بیان کردے گی

— Fateh Muhammad Jalandhari

That Day, it will report its news

— Saheeh International

Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 24 of juz

Read the whole surah · Surah Az-Zalzala

All translations of 99:4

اُس روز وہ اپنے (اوپر گزرے ہوئے) حالات بیان کرے گی

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اس روز وہ اپنے حالات بیان کردے گی

— مولانا فتح محمد جالندہری

اس دن زمین اپنی سب خبریں بیان کردے گی

— مولانا محمد جوناگڑہی

اس دن زمین اپنی ساری خبریں بتادے گی۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اس دن وہ اپنی خبریں بتائے گی

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اس دن وہ اپنے حالات خود ظاہر کر دے گی،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اس روز وہ اپنی پوری خبریں بیان کردی گی

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اس دن وہ اپنی داستان کہہ سنائے گی ،

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اس دن وہ بیان کر دے گی اپنی تمام خبریں

— مولانا اسحاق مدنی

اس روز زمین اپنی (سب) خبریں بیان کر گزرے گی

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اس دن یہ اپنی خبریں کہہ سنائے گی۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اس روز وہ اپنے حالات بیان کردے گی

— محترمہ رفعت اعجاز

On that Day it will relate all her news,

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

That day it will describe all its happenings,

— Muhammad Taqi Usmani

That day it will describe all its happenings,

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

That Day it will declare its information.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

That day she will relate her chronicles,

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

That Day, it will report its news

— Saheeh International

On that day the earth will declare all (the activities of the human being) which have taken place on it,

— Muhammad Sarwar

On that day she shall tell her news,

— Muhammad Habib Shakir

On that Day she will tell out the tidings thereof.

— Abdul Majid Daryabadi

Tafseer of 99:4

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 1–8

مرحلہ وار قیامت : زمین اپنے نیچے سے اوپر تک کپکپانے لگے گی اور جتنے مردے اس میں ہیں سب نکال پھینکے گی۔ جیسے اور جگہ ہے (يٰٓاَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوْا رَبَّكُمْ ۚ اِنَّ زَلْزَلَةَ السَّاعَةِ شَيْءٌ عَظِيْمٌ) 22۔ الحج :1) لوگو اپنے رب سے ڈرو یقین مانو کہ قیامت کا زلزلہ اس دن کا بھونچال بڑی چیز ہے اور جگہ ارشاد ہے (وَاِذَا الْاَرْضُ مُدَّتْ ۙ) 84۔ الانشقاق :3) جبکہ زمین کھینچ کھانچ کر برابر ہموار کردی جائیگی اور اس میں جو کچھ ہے وہ اسے باہر ڈال دے گی اور بالکل خالی ہو جائیگی صحیح مسلم شریف میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں زمین اپنے کلیجے کے ٹکڑوں کو اگل دے گی سونا چاندی مل ستونوں کے باہر نکل پڑے…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 4–5

سورة الزلزال 4 حضرت ابوہریرہ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے یہ آیت پڑھ کر پوچھا " جانتے ہو اس کے وہ حالات کیا ہیں "؟ لوگوں نے عرض کیا اللہ اور اس کے رسول کو زیادہ علم ہے۔ فرمایا " وہ حالات یہ ہیں کہ زمین ہر بندے اور بندی کے بارے میں اس عمل کی گواہی دے گی جو اس کی پیٹھ پر اس نے کیا ہوگا۔ وہ کہے گی کہ اس نے فلاں دن فلاں کام کیا تھا۔ یہ ہیں وہ حالات جو زمین بیان کرے گی " (مسند احمد، ترمذی، نسائی، ابن جریر، عبد بن حمید، ابن المنذر، حاکم، ابن مردویہ، بیہقی فی الشعب) حضرت ربیعہ الخرشی کی روایت ہے کہ حضور نے فرمایا " ذرا زمین سے بچ کر رہنا کیونکہ یہ تمہاری جڑ بنیاد ہے اور اس پر عمل کرنے والا کوئی شخص…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 2–6

واخرجت الارض اثقالھا، رسول اللہ ﷺ نے اس زلزلہ کے متعلق ارشاد فرمایا کہ زمین اپنے جگر کے ٹکڑے سونے کی بڑی چٹانوں کی صورت میں اگل دے گی اس وقت ایک شخص جس نے مال کے لئے کسی کو قتل کیا تھا وہ دیکھ کر کہ گا کہ یہ وہ چیز ہے جس کے لئے میں نے اتنا بڑا جرم کیا تھا، جس شخص نے اپنے رشتہ داروں سے مال کی وجہ سے قطع تعلق کیا تھا وہ کہے گا کہ یہ ہے وہ چیز جس کے لئے میں نے یہ حرکت کی تھی۔ چور جس کا ہاتھ چوری کی سا میں کاٹا گیا تھا اس کو دیکھ کر کہے گا کہ اس کے لئے میں نے اپنا ہاتھ گنوایا تھا پھر کوئی بھی اس سونے کی طرف التفات نہ کریگا۔ (رواہ مسلم عن ابی ہریرة)

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

زمین ہر ایک کا ریکارڈ سنا دے گی: یعنی اس دن زمین وہ تمام نیکیاں اور بدیاں جو اس کی پشت پر کی گئی ہیں خدا کے حکم سے سنا ڈالے گی۔ قرآن کے دوسرے مقامات میں یہ تصریح ہے کہ اس دن اللہ تعالیٰ مجرموں کے اعضاء کو ناطق بنا دے گا اور وہ ان کے خلاف گواہی دیں گے یہاں تک کہ ان کی کھالیں (بدن کے رونگٹے) بھی ان کے خلاف شہادت دیں گے۔ سورۂ حٰم السجدہ میں فرمایا ہے: وَقَالُوْا لِجُلُوْدِھِمْ لِمَ شَھِدْتُّمْ عَلَیْنَا قَالُوْٓا اَنْطَقَنَا اللّٰہُ الَّذِیْٓ اَنْطَقَ کُلَّ شَیْءٍ.(حٰم السجدہ ۴۱: ۲۱) ’’اور مجرمین اپنی کھالوں سے پوچھیں گے کہ آخر تم نے ہمارے خلاف کیوں گواہی دی؟ وہ جواب دیں گی کہ جس خدا نے آج ہر…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

4۔ 1 حدیث میں ہے کہ نبی کریم ﷺ نے جب یہ آیت تلاوت فرمائی اور صحابہ سے پوچھا کہ جانتے ہو کہ اس کی خبریں کیا ہیں صحابہ نے عرض کیا کہ اللہ اور اس کا رسول ہی زیادہ جانتے ہیں آپ ﷺ نے فرمایا، اس کی خبریں یہ ہیں کہ جس بندے یا بندی نے زمین کی پشت پر جو کچھ کیا ہوگا، اس کی گواہی دے گی۔ کہے گی فلاں فلاں شخص نے فلاں فلاں عمل، فلاں فلاں دن میں کیا تھا۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 3–4

2: زمین پر کسی نے جو اچھے یا برے عمل کئے ہوں گے زمین ان کی گواہی دے گی۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

یومئذ (4:99) ” اس دن “۔ جس دن یہ زلزلہ واقعہ ہوگا اور انسان اس کے سامنے دہشت زدہ ہوگا۔ اس دن۔ تحدث اخبارھا (4:99) ” وہ اپنے (اوپر گزرے ہوئے حالات بیان کرے گی “۔ اس دن یہ زمین اپنی خبریں دے گی اپنے حالات بتائے گی اور اپنی پوری کہانی بیان کرے گی۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 4–5

7 یعنی بنی آدم نے جو برے بھلے کام اس کے اوپر کیے تھے سب ظاہر کر دے گی۔ مثلاً کہے گی فلاں شخص نے مجھ پر نماز پڑھی تھی، فلاں نے چوری کی تھی۔ فلاں نے خون ناحق کیا تھا، وغیرذٰلک۔ گویا آجکل کی زبان میں یوں سمجھو کہ جس قدر اعمال زمین پر کئے جاتے ہیں زمین میں ان سب کے ریکارڈ موجود رہتے ہیں۔ قیامت میں وہ پروردگار کے حکم سے کھول دیے جائیں گے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 4–5

آیت 4{ یَوْمَئِذٍ تُحَدِّثُ اَخْبَارَہَا۔ } ”اس دن یہ اپنی خبریں کہہ سنائے گی۔“ اس دن اللہ تعالیٰ زمین کو بھی بولنے کی صلاحیت عطا فرمائے گا اور وہ ہر انسان کے بارے میں ایک ایک خبر دے گی کہ وہ اس کی پشت پر بیٹھ کر کیا کیا حرکتیں کرتا رہا ہے۔ یعنی جس طرح انسان کے ہاتھ پائوں اور دوسرے اعضاء اس دن اس کے خلاف گواہی دیں گے اسی طرح زمین کا متعلقہ حصہ اور ٹکڑا بھی اس کے خلاف بطور گواہ کھڑا ہوگا۔ سورة حٰمٓ السجدۃ آیت 21 میں ان گواہیوں کے حوالے سے بہت عبرتناک مکالمات کا ذکر ہے۔ جب انسانوں کی جلدوں سمیت ان کے تمام اعضاء ان کے خلاف گواہیاں دے رہے ہوں گے تو وہ جھنجھلا کر اپنی جلدوں سے کہیں گے : { لِمَ…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 4–5

4 قیامت کے دن زمین کی گواہی :۔ سیدنا ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اکرم ﷺ نے یہ آیت پڑھی تو صحابہ سے پوچھا : جانتے ہو اس کی خبریں کیا ہیں ؟ صحابہ نے عرض کیا : اللہ اور اس کا رسول ہی خوب جانتے ہیں آپ ﷺ نے فرمایا : اس کی خبریں یہ ہیں کہ وہ ہر بندے اور بندی پر گواہی دے گی کہ اس نے میری پشت پر کیا کچھ کام کیے۔ وہ کہے گی کہ اس نے فلاں دن یہ یہ کام کیے۔ یہی اس کی خبریں ہیں (ترمذی، ابو اب التفسیر) قدیم زمانے کے انسان تو شاید زمین کے اس طرح خبریں بیان کرنے پر متعجب ہوں مگر آج کے زمانہ کا انسان تو یہاں دنیا میں ہی یہ سب کچھ اپنی آنکھوں سے دیکھ رہا ہے۔ ویڈیو فلم کی ایجاد کے بعد یہ بات انسان کے لئے قطعاً…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 4–5

2۔ اس وقت حکمت ومشیت یہی ہوگی کی زمین ناطق ہوجائے جیسے حکمت ومشیت یہ ہے کہ زمین ساکت وبے زبان رہے۔ (آیت) ” تحدث اخبارھا “۔ ظاہر ہے کہ مومن و کافر ہر انسان سے عمل، اچھے برے جو کچھ بھی صادر ہوتے ہیں، اسی زمین ہی پر ہوتے ہیں، قدرۃ زمین ہی، چھوٹے بڑے، اچھے برے، ہر ہر واقعہ کی پوری پوری شہادت پیش کرے گی، (آیت) ” بان ..... لھا “۔ زمین میں یہ قوت گویائی اس وقت خود بخود نہیں، قادر مطلق کے حکم سے پیدا ہوگی، اہل سنت کا یہ متفقہ مسئلہ ہے کہ حیات اور اس کے سارے آثار، انعامات الہی ہیں، جس وقت جس عضو سے جو کام وہ حکیم مطلق چاہے، لے لے، (آیت) ” بان “۔ میں بےسببیہ ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 2–8

واخرجت الارض اثقالھا اسی مضمون کو سورة انشقاق میں اس طرح بیان فرمایا گیا ہے ” والقت مافیھا وتخلت ‘ اور جو کچھ اس کے اندر ہے اسے باہر پھینک کر خالی ہوجائے گی، اس کے متعدد مطلب ہیں، ایک یہ کہ مرے ہوئے انسان زمین کے اندر جہا اور جس شکل میں بھی پڑے ہوں گے ان سب کو وہ نکال کر باہر پھینک دے گی، اس مفہوم پر بعد کا فقرہ یعنی ” وقال الانسان مالھا “ دلالت کررہا ہے، یعنی انسانی منتشر اجزاء جمع ہو کر ازسرنو اسی شکل و صورت میں جمع ہوجائیں گے، جس میں وہ دنیوی زندگی کی حالت میں تھے، کیونکہ اگر ایسا نہ ہو تو وہ یہ کیسے کہیں گے کہ زمین کو یہ کیا ہو رہا ہے ؟ دوسرا مطلب یہ ہے کہ صرف مردہ انسانوں ہی کو باہر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

یومئذ تحدث اخبارھا . بغوی نے لکھا ہے عبارت میں کچھ تقدیم تاخیر ہے۔ اصل کلام اس طرح تھا : یومئذ تحدث اخبارھا و قال الانسان مالھا۔ یعنی اس روز زمین اطلاع دے گی اور جو کچھ اس پر کیا گیا ہوگا اس کو بیان کرے گی تو انسان کہے گا ‘ اس زمین کو کیا ہوگیا کہ اپنے اوپر کیے ہوئے اعمال کو بتارہی ہے۔ حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے یہ آیت پڑھی اور فرمایا : کیا تم کو معلوم ہے کہ زمین کی خبریں کیا ہوں گی ؟ صحابہ ؓ نے عرض کیا : اللہ اور اس کا رسول ﷺ ہی بخوبی واقف ہیں۔ فرمایا : زمین کی خبریں یہ ہوں گی کہ جس بندے اور بندی نے زمین کے اوپر جو کچھ کیا ہوگا زمین اس پر شہادت دے گی اور کہے گی : فلاں شخص…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 3–6

(3۔ 6) اور کافر آدمی اس وحشت کو دیکھ کر کہے گا اسے کیا ہوا اس روز زمین جو کچھ اس پر نیکی و برائی ہوئی ہے سب بتانے لگے گی اس بنا پر کہ اس کو کلام کرنے کی اجازت دی جائے گی اس روز لوگ مختلف جماعتیں ہو کر واپس ہوں گے ایک جماعت جنت کی طرف جائے گی اور ایک دوزخ میں تاکہ جو کچھ انہوں نے نیکی اور گناہ کیا ہے اسے دیکھ لیں۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

(یومئذ تحدث اخبارھا :) یعنی زمین وہ سب کچھ بیان کرے گی جو اس پر کیا گیا اور بتائے گی کہ کس نے کس وقت کیا نیکی یا کیا بدی کی۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 4–5

یومئذ تحدث اخبارھا۔۔۔ تا۔۔۔۔ اعمالھم یومئذ تحدث اخبارھا۔ یومئذ، اذا زلزلت کی ظرف ہے اور منصوب ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے، تحدث کی وجہ سے منصوب ہے اس کا معنی ہے زمین پر جو کچھ اچھا یابراعمل کیا گیا اس روز اس کی خبر دے گی پھر کہا گیا، یہ اللہ تعالیٰ کی جانب سے قول ہے اور قول یہ کیا گیا ہے یہ انسان کے قول کی حکایت ہے یعنی متعجب ہوکرک ہے گا اس زمین کو کیا ہوگیا ہے کہ یہ اپنی خبریں بیان کررہی ہے۔ ترمذی شریف میں حضرت ابوہریرہ سے مروی ہے رسول اللہ نے اس آیت کو پڑھا پوچھا کیا تم جانتے ہو اس کی اخبار کیا ہیں ؟ صحابہ نے عرض کی اللہ تعالیٰ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں فرمایا اس کی اخبار سے مراد یہ ہے…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 1–8

1۔ ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ سورة اذا زلزلت مدینہ میں نازل ہوئی 2۔ ابن مردویہ نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ اذا زلزلت مدینہ میں نازل ہوئی۔ 3۔ احمد وابوداوٗد والنسائی والحاکم وصححہ وابن مردویہ اور بیہقی نے شعب الایمان میں عبداللہ بن عمرو ؓ سے روایت کیا کہ ایک آدمی رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اور کہنے لگا یا رسول اللہ ! مجھے کچھ پڑھا دیجیے آپ نے فرمایا ” المر “ والی تین سورتیں پڑھ۔ اس نے کہا میں بوڑھا ہوگیا ہوں دل بھی سخت ہوگیا ہے اور زبان بھی موٹی ہوگئی ہے یعنی سخت کلامی پر اتر آئی ہے۔ آپ نے فرمایا حم والی تین سورتیں پڑھ۔ اس نے پھر پہلے کی طرح کہا۔ آپ نے فرمایا تین سورتیں مسجلات میں سے…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[يَوْمَىِٕذٍ تُحَدِّثُ : اس دن وہ بیان کرے گی ][ اَخْبَارَهَا : اپنی خبریں ] (آیت۔ 4) تُحَدِّثُ کا مفعول اَخْبَارَھَا بنفسہٖ آیا ہے۔ اس حوالے سے نوٹ کرلیں کہ حَدَّثَ کا مفعول بِ کے صلہ کے ساتھ بھی آتا ہے اور بنفسہٖ بھی آتا ہے۔ نوٹ 2: آیت۔ 4 ۔ کے متعلق رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ وہ حالات یہ ہیں کہ زمین ہر بندے اور بندی کے بارے میں اس عمل کی گواہی دے گی جو اس کی پیٹھ پر اس نے کیا ہوگا۔ وہ کہے گی کہ اس نے فلاں دن فلاں کام کیا تھا۔ یہ ہیں وہ حالات جو زمین بیان کرے گی۔ زمین کے متعلق یہ بات کہ وہ قیامت کے روز اپنے اوپر گزرے ہوئے سب حالات و واقعات بیان کرے گی، قدیم زمانے کے آدمی کے لیے تو بڑی حیران…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 1–4

یہ سورة الزلزال کا ترجمہ ہے لفظ زلزال اور زلزلہ دونوں سخت جھٹکا کھانے اور سخت حرکت کرنے کے معنی میں آتے ہیں دونوں باب فعللہ (رباعی مجرد) کے مصادر ہیں زلزالھا مفعول مطلق ہے جو تاکید اور بیان شدت کے لیے لایا گیا ہے جیسا کہ سورة الاحزاب میں فرمایا : ﴿وَ زُلْزِلُوْا زِلْزَالًا شَدِیْدًا﴾ یہاں بھی قیامت کے زلزلہ کو بیان فرمایا ہے، یہ زلزلہ بہت سخت اور شدید ہوگا۔ جیسا کہ سورة الحج میں فرمایا : ﴿یٰٓاَیُّھَا النَّاسُ اتَّقُوْا رَبَّكمْ اِنَّ زَلْزَلَۃَ السَّاعَۃِ شَیْءٌ عَظِیْمٌ﴾ (اے لوگو ! بیشک اپنے رب سے ڈرو، بیشک قیامت زلزلہ بہت بڑی چیز ہے) وہ زلزلہ دنیا والے زلزلوں جیسا نہیں کہ دو چار شہروں میں…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–8

حوادث وزلازل بوقت وقوع قیامت : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” اذا زلزلت الارض زلزالھا ........ الی ........ ذرۃ شرایرہ “۔ (ربط) گزشتہ سورت کا مضمون اہل سعادت وشقاوت کے اعمال وافعال اور ان کے انجام پر مشتمل تھا اور اصول سعادت اور حق تعالیٰ کے انعامات کے استحقاق کی بنیاد یہ بیان کی گئی تھی کہ وہ خشیت خداوندی ہے اور (آیت) ” ذلک لمن خشی ربہ “۔ فرما کر اس حقیقت کو واضح کردیا گیا تھا، اب اس سورت میں سعادت وشقاوت کے ثمرات مرتب ہونے کا وقت بتایا جارہا ہے کہ وہ قیامت ہے اور قیامت کا قائم ہونا، نظام عالم کا درہم برہم ہوجانا ہے اور وہی دن زندگی کے اعمال کا محاسبہ کرتا رہے اور اللہ رب العزت کی بارگاہ میں…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 3–5

4:۔ ” وقال الانسان “ اس دن انسان حیرت و تعجب سے کہے گا زمین کو کیا ہوگیا ہے وہ اس قدر کیوں جھٹکے کھا رہی ہے یا اس کا تعلق ما بعد سے ہے یعنی ” یومئذ تحدث اخبارھا “ قیامت کے دن زمین ساری باتیں صاف صاف بیان کردے گی بندوں نے جو جو نیک و بد کام اس پر کیے ہیں وہ سب بتادے گی تو انسان اس پر حیرت واستعجاب سے کہے گا زمین کو کیا ہوگیا ہے وہ آج سب کچھ بتا رہی ہے۔ ” بان ربک اوحی لہا “ زمین اس لیے سب کچھ ظاہر کرے گی کہ اللہ تعالیٰ کا اس کو حکم ہوگا۔ ” ولباء للسببیۃ ای تحدث بسبب ایحاء ربک لہا وامرہ سبحانہ ایاھا بالتحدیث (روح ج 30 ص 210) ۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 1–8

موضوع اس سورة کا موضوع جزائے عمل ہے اگرچہ سورة تو مختصر ہے تاہم موضوع کے لحاظ سے جامع اور مانع سورة ہے۔ اس سورة میں اس بات کی وضاحت کی گئی ہے کہ جو بھی اعمال اس دنیا میں کرتا ہے ان کی جزاء لازم ہے۔ جس طرح انسان کوئی چیز کھاتا ہے تو اس کے نتیجے میں بدہضمی پیدا ہوتی ہے۔ اسی طرح انسان جو عمل کرتا ہے۔ اس کے ساتھ اس کی جزاء بھی لازم ہے ، جس طرح پیدائش کے ساتھ موت لازم ہے اور جس طرح طلوع کے ساتھ غروب لازم ہے۔ ایسے ہی عمل کے ساتھ جزائے عمل کا ہونا ضروری ہے۔ اس سورة مبارکہ میں یہی بات سمجھائی گئی ہے۔ فضیلت حدیث پاک میں اس سورة کی بہت فضیلت آئی ہے۔ ایک شخص حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

يَوْمَىِٕذٍ تُحَدِّثُ اَخْبَارَہَا۝ 4 ۙ يَوْمَئِذٍ ويركّب يَوْمٌ مع «إذ» ، فيقال : يَوْمَئِذٍ نحو قوله عزّ وجلّ : فَذلِكَ يَوْمَئِذٍ يَوْمٌ عَسِيرٌ [ المدثر/ 9] وربّما يعرب ويبنی، وإذا بني فللإضافة إلى إذ . اور کبھی یوم کے بعد اذ بڑھا دیاجاتا ہے اور ( اضافت کے ساتھ ) یومئذ پڑھا جاتا ہے اور یہ کسی معین زمانہ کی طرف اشارہ کے لئے آتا ہے اس صورت میں یہ معرب بھی ہوسکتا ہے اور اذ کی طرف مضاف ہونے کی وجہ سے مبنی بھی ۔ جیسے فرمایا : وَأَلْقَوْا إِلَى اللَّهِ يَوْمَئِذٍ السَّلَمَ [ النحل/ 87] اور اس روز خدا کے سامنے سرنگوں ہوجائیں گے ۔ فَذلِكَ يَوْمَئِذٍ يَوْمٌ عَسِيرٌ [ المدثر/ 9] وہ دن بڑی مشکل کا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 1–6

ترکیب ¦ اذا شرطیۃ کان والفرق بینھا ان اذا تستعمل فی المقطوع ای اذا اردت التعلیق بما یوجد قطعا تقول اذا بخلاف ان فانھا کان لزلزال یقیناً قال اذا زلزلت فعل مجہول الارض مفعول ما لم یسم فاعلہ زلزالھا زلزال مفعول مطلق مضاف الی الضمیر الراجع الی الارض۔ قال الفراء الزلزال بالکسر مصدر و بالفتح اسم و قال القرطبی بالفتح مصدر کا لو سو اس والقلقا وقیل ھما مصدران وقد قری بھما۔ فالمصدر مضاف الی فاعلہ والمعنی ای حرکت الارض حرکۃ شدیدۃ کما قال اذا رجت الارض رجاً واخرجت الخ الجملۃ معطوفہ علی زلزلت الارض والاثقال جمع ثقل والمراد بہ الد فائن وقال الخ ایضا معطوف ما مبتداء لھا خبر والجملۃ الا ستفھامیۃ مفعول قال…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 4–5

یَوْمَئِذٍ تُحَدِّثُ اَخْبَارَھَا۔ بِاَنَّ رَبَّکَ اَوْحٰی لَھَا۔ (الزلزال : 4، 5) (اس دن وہ بیان کر دے گی اپنے سارے حالات۔ کیونکہ آپ کے رب نے اسے ایسا کرنے کا حکم دیا ہے۔ ) زمین سب کے اسرار کھول دے گی انسان زمین کی سطح پر زندگی گزارتا ہے۔ کوئی جھونپڑے میں رہے یا محل میں، پہاڑوں کی بلندی پر اس کا قیام ہو یا زمین کی پستی میں۔ اس کا رشتہ بہرحال زمین سے رہتا ہے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ جس طرح اس کے جسمانی اعضاء کو اس کے اعمال پر گواہ بنائے گا، اسی طرح زمین کے جس حصے پر اس نے کوئی اچھا یا برا عمل کیا ہوگا، زمین کا وہ حصہ اس کے حق میں یا اس کے خلاف گواہی دے گا۔ اور یہی وہ حالات ہیں جنھیں زمین بیان کرے…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 1–5

فہم القرآن ربط سورت : البیّنہ کا اختتام ان الفاظ پر ہوا کہ ” اللہ تعالیٰ “ ہر اس شخص پر راضی ہوگا جس نے اس سے ڈر کر زندگی بسر کی اللہ تعالیٰ کے ڈر کا حقیقی تقاضا ہے کہ انسان ہر دم قیامت کا عقیدہ تازہ رکھے جس دن کی ابتداء بڑے بڑے زلزلوں سے ہوگی۔ قرآن مجید نے یہ حقیقت بڑی تفصیل کے ساتھ بتلائی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے حکم سے جب پہلی دفعہ اسرافیل صور میں پھونک مارے گا تو زمین و آسمانوں میں ایسا بھونچال آئے گا کہ بالآخر ہر چیز ختم ہوجائے گی۔ ایک مدّت کے بعد جس کا علم اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کو نہیں اس مدّت میں صرف اللہ تعالیٰ کی ذات ہی باقی رہے گی۔ اسرافیل دوسری پھونک مارے گا تو ایک دفعہ پھر زمین پر…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

4 : یَوْمَپذٍ تُحَدِّثُ اَخْبَارَھَا (اس دن زمین اپنی سب خبریں بیان کرنے لگے گی) یومئذ یہ اذا سے بدل ہے اور ان کا نا صب تحدث ہے ای تحدث الخلق اخبارھا۔ مخلوق کو اپنی خبریں بتائے گی۔ پس دونوں میں سے پہلا مفعول حذف کردیا۔ کیونکہ مقصد تو زمین کے متعلق بتلانا ہے کہ وہ خبریں بتائے گی۔ مخلوق کا ذکر مقصود نہیں۔ زمین کی گواہی : اللہ تعالیٰ اس کو بلائیں گے زمین اپنے اوپر کیے جانے والے اعمال خیرو شر کی خبر دے گی۔ حدیث شریف میں فرمایا گیا ہے۔ زمین ہر ایک کے متعلق وہ گواہی دے گی جو کچھ اس نے اس پر کیا۔ ] رواہ احمد اوالترمذی، 3353 والحاکم 2/532، ابن حبان : 7360[

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

4 ۔” یومئذ تحدث اخبارھا “ پس انسان کہے گا مالھا۔ یعنی زمین خبردے گی جو اس نے اس پر عمل کیا ہے۔ حضرت ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے یہ آیت پڑھی ” یومئذ تحدث اخبارھا “ فرمایا کیا تم جانتے ہو اس کی خبریں کیا ہیں ؟ ہم نے کہا اللہ اور اس کا رسول ﷺ زیادہ جانتے ہیں۔ فرمایا : بیشک اس کی خبریں یہ ہیں کہ ہر وہ بندہ اور باندی پر گواہی دے ان اعمال کی جو انہوں نے اس کی پیٹھ پر کیے ہیں۔ کہے گی اس دن فلاں اور فلاں نے اتنا اتنا عمل کیا، فرمایا پس یہ اس کی خبریں ہیں۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 1–8

1۔ 8۔ دجال کا پیدا ہونا سورج کا مغرب سے نکلنا۔ لال آندھی کا آنا۔ جس طرح یہ چیزیں دنیا کی مدت اخیر ہونے کی علامتیں ہیں اسی طرح اس وقت ایک زلزلہ بھی لال آندھی کے آنے کے بعد آئے گا جس کا ذکر ترمذی 1 ؎ وغیرہ میں حضرت ابوہریرہ ؓ وغیرہ کی روایت سے آیا ہے اور ایک زلزلہ دوسرا صور پھونکا جائے گا جس آئے گا جس کا ذکر قرآن شریف میں کئی جگہ آیا ہے اس آیت میں جو زلزلہ کا ذکر ہے بعض مفسر کہتے ہیں کہ اس سے پہلا زلزلہ مراد ہے اور بعض کہتے ہیں دوسرا زلزلہ مراد ہے۔ اس زلزلہ کے ساتھ ہی اللہ تعالیٰ نے حساب و کتاب اور زمین کی شہادت کا ذکر فرمایا ہے اور یہ باتیں تو ضرور دوسرے صور کے بعد کی ہیں اس لئے اس زلزلہ سے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 4–5

(يَوْمَىِٕذٍ تُحَدِّثُ ) اس دن زمین بیان کرے گی۔ ( اَخْبَارَهَا) اپنی خبریں۔ یعنی عمل کرنے والوں کے اچھے برے اعمال کی گواہی دے گی جو انہوں نے اس کی پیٹھ پر کیے ہیں کیونکہ زمین بھی ان گواہوں میں شمار ہوگی جو بندوں کے خلاف ان کے اعمال کی گواہی دیں گے یہ سب اسلیے ہوگا۔ (بِاَنَّ رَبَّكَ اَوْحٰى لَهَا) کہ اللہ تعالیٰ اس کو حکم دے گا کہ وہ ان تمام اعمال کے بارے میں خبر دے جو اس کی سطح پر کیے گئے ہیں پس زمین اللہ تعالیٰ کے حکم کی نافرمانی نہیں کرے گی۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

(4) زمین کے اپنے ریکارڈ پیش کرنے کا ذکرو بیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اس روز زمین بیان کردے گی اپنی تمام خبریں۔ یعنی ان تمام افعال و اعمال کے بارے میں جو کہ اس کی پشت پر کیے گئے ہوں گے جیسا کہ سنن ترمذی وغیرہ میں صادق مصدوق حضرت نبی معصوم (علیہ الصلوۃ والسلام) سے اس بارے میں مروی و منقول ہے اور میں صاف وصریح طور پر مروی و منقول ہے۔ چناچہ حضرت ابوہریرہ ؓ روایت کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت نبی اکرم ﷺ نے حضرات صحابہ کرام کے سامنے یہی آیت کریمہ تلاوت فرمائی پھر آپ نے ان کو مخاطب کر کے ان سے پوچھا اتدرون ما اخبارھا ( کیا تم جانتے ہو کہ زمین کی وہ خبریں کیا ہیں جو یہ اس روز بیان کرے گی ؟ ) تو انہوں…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 1–8

قیامت کا واقعہ اعمال کا اندراج اور گواہی تشریح : یہاں قیامت کا ذکر کرتے ہوئے زمین کے حالات بتائے جا رہے ہیں کہ زمین میں شدید زلزلہ آئے گا، جیسے انڈہ توڑو تو اس کے اندر کا مال سفیدی زردی سب باہر نکل آتا ہے ایسے ہی زمین کا حال ہوگا۔ ہم زمین کے بارے میں کافی بحث کرچکے ہیں۔ مختصراً عرض ہے کہ زمین کی اوپر کی سطح نے اس کے اندر کے سارے مال کو محفوظ کر رکھا ہے۔ وہ مال ہے تیل گیس ' معدنیات ' کوئلہ ' ہیرے اور قیمتی پتھر یہ سب کچھ سمندر کی طرح موجیں مار رہا ہے۔ جس کی نشاندہی قرآن پاک میں کی گئی ہے۔ اور اس کی تصدیق ان آتش فشاں پہاڑوں سے نکلنے والے لاوے سے ہوتی رہتی ہے جو اکثر و بیشتر پہاڑ کی کسی نہ کسی…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–8

سورة الزلزال آیات 1 تا 8۔ اسرار ومعارف۔ جب زمین کو جھنجھوڑ ڈالا جائے گا ، یعنی قیامت قائم ہوگی اور زمین تمام لوگوں کو اور مال وزر کو اگل دے گی یا وہ راز جو بہرحال اس کے پاس محفوظ ہوں گے کھول دے گی تو انسان کہہ اٹھے گا زمین کو کیا ہوگیا اس نے تو سب کچھ بتادیا۔ ہاں ضرور بتائے گی کہ تیرے پروردگار کا حکم اس کو بتانے ہی کا ہوگا اس روز لوگ الگ الگ طبقے اور جماعتیں بن جائیں گے جس طرح کے لوگوں اور کردار کی رفاقت دنیا میں اختیار کی اسی طرح کے گروپوں میں کھڑے ہوں گے کہ اپنے اعمال کے نتائج کو دیکھیں جس کسی نے ذرہ برابر بھی نیکی کی ہوگی وہ اس کا بدلہ پائے گا اس سے علماء نے دلیل اختیار فرمائی ہے کہ جس کے…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 4–5

ف 3 یعنی ہر شخص کے متعلق بتادے گی کہ اس نے میری پشت پر یہ کام کئے، چاہے وہ کام اچھے ہوں یا برے حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : زمین ستونوں کی طرح اپنے جگر کے ٹکڑے جو سونے اور چاندی کے ہوں گے نکالے گی۔ قاتل آئے گا اور کہے گا کہ اسی کی وجہ سے میں نے قتل کیا۔ قطع رحمی کرنے والا آئے گا اور کہے گا کہ اسی کی وجہ سے میں نے قطع رحمی کی۔ چور آئے گا اور کہے گا کہ اسی کی وجہ سے میرا ہاتھ کاٹا گیا۔ پھر سب اسے چھوڑ کر چل دیں گے اور اس میں سے کچھ نہ لیں گے۔ “ (مسلم ترمذی) حضرت ابوہریرہ ہی سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے یہ آیت پڑھ کر فرمایا : کیا تم جانتے ہو کہ زمین کی خبریں کیا ہوں گی ؟…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(99:4) یومئذ تحدث اخبارھا : یہ جملہ ، مذکورہ بالا تینوں جملہ ہائے شرطیہ کا جواب ہے۔ یؤمئذ بدل ہے اذا ہے۔ اخبارھا (مضاف مضاف الیہ) مفعول ثانی ہے تحدث کا۔ الناس مفعول اول محذوف ہے۔ یومئذ تحدث الناس اخبارھا (اس روز زمین لوگوں کو اپنی خبریں سنائے گی) ۔ یومئذ : یوم اسم ظرف منصوب۔ مضاف، اذ مضاف الیہ۔ اس روز۔ ان واقعات کے دن۔ تحدث مضارع معروف صیغہ واحد مؤنث غائب۔ تحدیث (تفعیل) مصدر سے بمعنی کہنا۔ باتیں کرنا۔ بیان کرنا۔ وہ بتائے گی۔ وہ بیان کرے گی۔ حدیث بات، بیان۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–8

لغات القرآن۔ زلزلت۔ ہلاڈالی گئی۔ اثقال۔ بوجھ۔ مالھا ۔ کیا ہوگیا اسے ؟ ۔ تحدت۔ بیان کردے گی۔ اخبر۔ خبریں۔ حالات۔ یصدر۔ باہر نکلنے گا۔ لوٹے گا۔ اشتات۔ مختلف گروہ۔ مثقال ۔ وزن۔ برابر۔ یرہ۔ وہ اس کو دیکھ گا۔ تشریح : نبی کریم حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے کہ جب زمین پر ایک شخص بھی اللہ اللہ کہنے والا نہ رہے گا تو نظام کائنات کو درہم برہم کرکے ہر چیز پر فنا کی کیفیت طاری کردی جائے گی۔ اسی کو قیامت کہا جاتا ہے جو برحق ہے اور اس کے آنے میں ذرا بھی شک نہیں ہے۔ لیکن پہلا صور پھونکے جانے کے بعد کیا ہوگا اس کو اس سورت میں بیان فرمایا گیا ہے۔ ارشاد ہے کہ جب زمین مسلسل جھٹکوں اور زلزلوں سے ہلا ماری…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 4–5

(ف 4) یعنی بنی آدم نے جو برے بھلاے کام زمین کے اوپر کیے سب ظاہر کردے گی مثلا کہے گی فلان شخص نے مجھ پر نماز پڑھی تھی فلاں نے چوری کی تھی فلاں نے خون ناحق کیا تھا وغیرہ ذالک۔ گویا آج کل کی زبان میں یوں سمجھو کہ جس قدر اعمال زمین پر کیے جاتے ہیں زمین میں ان سب کاریکارڈ موجود ہے قیامت میں وہ پروردگار کے حکم سے کھول دیے جائیں گے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 4–5

[1] ہر انسان کے عمل اچھے برے جو بھی صادر ہوتے ہیں اسی زمین ہی پر ہوتے ہیں۔ قدرۃً زمین ہی ہر چھوٹے، بڑے، اچھے، برے، ہر ہر واقعے کی پوری پوری شہادت پیش کرے گی۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 1–8

ف 1: سابقہ سورة کا اختتام ان آیتوں پر ہوا تھا کہ منکرین بدترین خلائق ہیں اور ان کو جو سزا ملے گی ۔ وہ بھی بدترین مقام پر فائز ہوں گے ۔ سوال یہ پیدا ہوتا تھا کہ یہ وقت مکافات اور جزا کا کب آئے گا ۔ جب لفخہ ثانیہ کے وقت زمین میں ایک شدید حرکت اور جنبش ہوگی ۔ اور زمین اپنے تمام ذخائر وخزائن اگل دے گی ۔ اس وقت یہ لوگ کہیں گے کہ یہ کیا ہونے والا ہے ۔ اس وقت یہ بےزبان زمین بتائے گی کہ اس کے سینے پر انسانوں نے کیسی معصیت کوشی کی زندگی بسر کی ہے ۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس کو اس نوع کی تلقین کررکھی ہوگی ۔ یہ وہ دن ہوگا جب لوگ گروہ درگروہ موقف حساب سے واپس ہوں گے ۔ وہ لوگ دیکھیں گے کہ ذرہ برابر نیکی جو…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

ف 2۔ ترمذی وغیرہ میں اس کی تفسیر میں حدیث مرفوع آئی ہے جس شخص نے روئے زمین پر جیسا عمل کیا ہوگا بھلا یا برا زمین سب کہہ دے گی بطور شہادت عنداللہ کے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

اس دن وہ اپنی ساری پوشیدہ چیزیں بیان کر دے گی 4 ؎ (یومئذ) سے کوئی ایک خاص دن مراد نہیں ہے جیسا کہ اکثر مفسرین نے قیامت کا دن مراد لیا ہے۔ قیامت کے دن جو کچھ ہوگا وہ اچانک ہوگا اور اچانک یکبارگی سارا نظام بدل کر رکھ دیا جائے گا۔ ( یومئذ) ہر آنے والے دن کا بیان ہے جیسے آج نقد کل ادھار ( یومئذ) اسم ظرف منصوب اذ مضاف الیہ ۔ اس دن ایسے واقعات کے دن زمین اپنی خبریں بیان کر دے گی یعنی نئی دریافت ہونے والی چیزوں کا تذکرہ ہر زبان پر ہوگا اور صبح کا ناشتہ اتنا ضروری نہیں ہوگا جتنا نئی نئی اخبارات کے سننے کا ذوق اور شوق ہوگا اور جونہی اخبار پر انسان کی نظر پڑے گی اور نئی نئی خبروں کی اطلاع پا کر وہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 2–6

Verse [ 2] وَأَخْرَ‌جَتِ الْأَرْ‌ضُ أَثْقَالَهَا (and the earth will bring forth its burdens.) Muslim has recorded in his Sahih from Abu Hurairah ؓ that the Messenger of Allah ﷺ said: "The earth will throw out the pieces of its liver [ contents ]. Gold and silver will come out like columns. A murderer will come and say: 'I killed for this?' The one who broke the ties of kinship will say: 'For this I severed the ties of kinship?' The thief will say: 'For this I got my hand amputated?' Then they will leave it there, and no one will take anything from it."

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 4–5

4 According to Hadrat Abu Hurairah, the Holy Prophet (upon whom be peace) recited this verse and asked: "Do you know what annals it will relate ?" The people said: "Allah and His Messenger have the best knowledge." Thereupon the Holy Prophet said: "The annals are that the earth will testify to the deeds which every tnan and woman has done on its back." She will say: "He or she had done such and such a thing on such and such a day. These will be the annals the earth will narrate." (Musnad Ahmad, Tirmidhi, Nasa'i, Ibn Jarir, 'Abd bin Humaid, Ibn al-Mundhir, Hakim, Ibn Marduyah, Baihaqi in…

Read the full tafseer →