بِاَنَّ رَبَّكَ اَوْحٰی لَهَا ۟ؕبِاَنَّ رَبَّكَ اَوۡحٰى لَهَا
کیونکہ تمہارے پروردگار نے اس کو حکم بھیجا (ہوگا)
— Fateh Muhammad Jalandhari
Because your Lord has commanded it.
— Saheeh International
Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 24 of juz
بِاَنَّ رَبَّكَ اَوْحٰی لَهَا ۟ؕبِاَنَّ رَبَّكَ اَوۡحٰى لَهَا
کیونکہ تمہارے پروردگار نے اس کو حکم بھیجا (ہوگا)
— Fateh Muhammad Jalandhari
Because your Lord has commanded it.
— Saheeh International
Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 24 of juz
Read the whole surah · Surah Az-Zalzala
کیونکہ تیرے رب نے اُسے (ایساکرنے کا) حکم دیا ہوگا
کیونکہ تمہارے پروردگار نے اس کو حکم بھیجا (ہوگا)
اس لئے کہ تیرے رب نے اسے حکم دیا ہوگا
کیونکہ تمہارے پروردگار نے اسے یہی حکم دیا ہوگا۔
اس لیے کہ تمہارے رب نے اسے حکم بھیجا
اس لئے کہ آپ کے رب نے اس کے لئے تیز اشاروں (کی زبان) کو مسخر فرما دیا ہوگا،
مسنگ
کیونکہ اسے آپ کے پروردگار کا حکم ہی یہی ہوگا
تیرے خداوند کے ایما سے
اس لئے کہ تمہارے رب نے اس کو حکم کیا ہوگا (ایسا کرنے کا)
یہ اس لئے کہ آپ کے پروردگار کا حکم اسے یہی ہوگا۔
اس لیے کہ اسے اس کے رب نے حکم دیا ہوگا۔
کیونکہ تمہارے رب نے اس کو حکم بھیجا ہوگا
for your Lord will have commanded her (to do so).
because its Lord will have so commanded it.
because its Lord will have so commanded it.
Because your Lord will inspire it.
Because thy Lord inspireth her.
— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran
Because your Lord has commanded it.
having been inspired by your Lord.
Because your Lord had inspired her.
Because thy Lord will inspire her.
For that thy Lord will have given her inspiration.
— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary
Explained with ayahs 1–8
مرحلہ وار قیامت : زمین اپنے نیچے سے اوپر تک کپکپانے لگے گی اور جتنے مردے اس میں ہیں سب نکال پھینکے گی۔ جیسے اور جگہ ہے (يٰٓاَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوْا رَبَّكُمْ ۚ اِنَّ زَلْزَلَةَ السَّاعَةِ شَيْءٌ عَظِيْمٌ) 22۔ الحج :1) لوگو اپنے رب سے ڈرو یقین مانو کہ قیامت کا زلزلہ اس دن کا بھونچال بڑی چیز ہے اور جگہ ارشاد ہے (وَاِذَا الْاَرْضُ مُدَّتْ ۙ) 84۔ الانشقاق :3) جبکہ زمین کھینچ کھانچ کر برابر ہموار کردی جائیگی اور اس میں جو کچھ ہے وہ اسے باہر ڈال دے گی اور بالکل خالی ہو جائیگی صحیح مسلم شریف میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں زمین اپنے کلیجے کے ٹکڑوں کو اگل دے گی سونا چاندی مل ستونوں کے باہر نکل پڑے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–5
سورة الزلزال 4 حضرت ابوہریرہ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے یہ آیت پڑھ کر پوچھا " جانتے ہو اس کے وہ حالات کیا ہیں "؟ لوگوں نے عرض کیا اللہ اور اس کے رسول کو زیادہ علم ہے۔ فرمایا " وہ حالات یہ ہیں کہ زمین ہر بندے اور بندی کے بارے میں اس عمل کی گواہی دے گی جو اس کی پیٹھ پر اس نے کیا ہوگا۔ وہ کہے گی کہ اس نے فلاں دن فلاں کام کیا تھا۔ یہ ہیں وہ حالات جو زمین بیان کرے گی " (مسند احمد، ترمذی، نسائی، ابن جریر، عبد بن حمید، ابن المنذر، حاکم، ابن مردویہ، بیہقی فی الشعب) حضرت ربیعہ الخرشی کی روایت ہے کہ حضور نے فرمایا " ذرا زمین سے بچ کر رہنا کیونکہ یہ تمہاری جڑ بنیاد ہے اور اس پر عمل کرنے والا کوئی شخص…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–6
واخرجت الارض اثقالھا، رسول اللہ ﷺ نے اس زلزلہ کے متعلق ارشاد فرمایا کہ زمین اپنے جگر کے ٹکڑے سونے کی بڑی چٹانوں کی صورت میں اگل دے گی اس وقت ایک شخص جس نے مال کے لئے کسی کو قتل کیا تھا وہ دیکھ کر کہ گا کہ یہ وہ چیز ہے جس کے لئے میں نے اتنا بڑا جرم کیا تھا، جس شخص نے اپنے رشتہ داروں سے مال کی وجہ سے قطع تعلق کیا تھا وہ کہے گا کہ یہ ہے وہ چیز جس کے لئے میں نے یہ حرکت کی تھی۔ چور جس کا ہاتھ چوری کی سا میں کاٹا گیا تھا اس کو دیکھ کر کہے گا کہ اس کے لئے میں نے اپنا ہاتھ گنوایا تھا پھر کوئی بھی اس سونے کی طرف التفات نہ کریگا۔ (رواہ مسلم عن ابی ہریرة)
Read the full tafseer →یہ اللہ کے حکم سے ہو گا: ’بِاَنَّ رَبَّکَ اَوْحٰی لَھَا‘۔ لفظ ’وحی‘ یہاں ایماء اور اشارہ کے مفہوم میں ہے۔ اس معنی میں یہ قرآن میں استعمال ہوا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ زمین ایسا اس وجہ سے کرے گی کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کو اس کے لیے ایماء ہو گا۔ سورۂ حٰم السجدہ کی مذکورہ بالا آیت ’قَالُوْٓا اَنْطَقَنَا اللّٰہُ الَّذِیْٓ اَنْطَقَ کُلَّ شَیْءٍ‘ میں جو بات فرمائی گئی ہے وہی بات یہ ذرا مختلف اسلوب میں یہاں ارشاد ہوئی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ یہ جو کچھ ہو گا خدا کے حکم سے ہو گا اور ہر چیز خدا کے حکم کی تعمیل پر مجبور ہو گی۔ چنانچہ سورۂ انشقاق میں زمین ہی سے متعلق ارشاد ہے کہ ’وَاَذِنَتْ لِرَبِّھَا وَحُقَّتْ‘…
Read the full tafseer →5۔ 1 یعنی زمین کو یہ قوت گویائی اللہ تعالیٰ عطا کرے گا اس لیے اس میں تعجب بات نہیں۔ ، جس طرح انسانی اعضا میں اللہ تعالیٰ یہ قوت پیدا فرمادے گا، زمین کو بھی اللہ تعالیٰ متکلم بنا دے گا اور وہ اللہ کے حکم سے بولے گی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–6
3: واپس آنے سے مراد قبروں سے نکل کر میدان حشر کی طرف جانا بھی ہوسکتا ہے، اس صورت میں اعمال دکھانے کا مطلب یہ ہوگا کہ اعمال نامہ دکھا دیا جائے گا۔ اور واپسی کا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ لوگ حساب و کتاب سے فارغ ہو کر مختلف حالتوں میں واپس آئیں گے تاکہ انہیں ان کے اعمال کا نتیجہ دکھادیا جائے۔ نیک لوگوں کو اپنی نیکیوں کا انعام دکھادیا جائے گا اور برے لوگوں کو ان کے اعمال کی سزا دکھادی جائے گی۔
Read the full tafseer →بان ربک اوحی لھا (5:99) کہ تیرے رب نے اسے ایسا کرنے کا حکم دیا ہوگا “۔ اس کو حکم دیا ہوگا کہ وہ اپنی حرکت تیز کردے اور اپنے سکان کو خوب جھٹکے دے اور اپنے اندر کی چیزیں باہر پھینک دے اور یہ کام وہ رب کے حکم کی اطاعت میں کررہی ہے۔ واذنت لربھا وحقت ” اور وہ اپنے رب کے حکم کی اطعت کرے گی اور اس کا حق یہی ہے “۔ لہٰذا وہ اپنے حالات بتائے گی۔ غرض یہ صورت حال اور یہ منظر اس بات کا خوب اظہار کررہا ہے کہ اس وقت اللہ کے احکام واشارات کیا ہوں گے۔ اب یہاں حالات ایسے ہیں کہ انسان ششدررہ گیا ہے ، سورت کی گھن گرج اور زور دار بیان سے خوف وہراس کی فضا ہے ، ہر سو دہشت اور حیرانی کا دور دورہ ہے۔ اضطراب اور بھگدڑ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–5
7 یعنی بنی آدم نے جو برے بھلے کام اس کے اوپر کیے تھے سب ظاہر کر دے گی۔ مثلاً کہے گی فلاں شخص نے مجھ پر نماز پڑھی تھی، فلاں نے چوری کی تھی۔ فلاں نے خون ناحق کیا تھا، وغیرذٰلک۔ گویا آجکل کی زبان میں یوں سمجھو کہ جس قدر اعمال زمین پر کئے جاتے ہیں زمین میں ان سب کے ریکارڈ موجود رہتے ہیں۔ قیامت میں وہ پروردگار کے حکم سے کھول دیے جائیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–5
آیت 4{ یَوْمَئِذٍ تُحَدِّثُ اَخْبَارَہَا۔ } ”اس دن یہ اپنی خبریں کہہ سنائے گی۔“ اس دن اللہ تعالیٰ زمین کو بھی بولنے کی صلاحیت عطا فرمائے گا اور وہ ہر انسان کے بارے میں ایک ایک خبر دے گی کہ وہ اس کی پشت پر بیٹھ کر کیا کیا حرکتیں کرتا رہا ہے۔ یعنی جس طرح انسان کے ہاتھ پائوں اور دوسرے اعضاء اس دن اس کے خلاف گواہی دیں گے اسی طرح زمین کا متعلقہ حصہ اور ٹکڑا بھی اس کے خلاف بطور گواہ کھڑا ہوگا۔ سورة حٰمٓ السجدۃ آیت 21 میں ان گواہیوں کے حوالے سے بہت عبرتناک مکالمات کا ذکر ہے۔ جب انسانوں کی جلدوں سمیت ان کے تمام اعضاء ان کے خلاف گواہیاں دے رہے ہوں گے تو وہ جھنجھلا کر اپنی جلدوں سے کہیں گے : { لِمَ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–5
4 قیامت کے دن زمین کی گواہی :۔ سیدنا ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اکرم ﷺ نے یہ آیت پڑھی تو صحابہ سے پوچھا : جانتے ہو اس کی خبریں کیا ہیں ؟ صحابہ نے عرض کیا : اللہ اور اس کا رسول ہی خوب جانتے ہیں آپ ﷺ نے فرمایا : اس کی خبریں یہ ہیں کہ وہ ہر بندے اور بندی پر گواہی دے گی کہ اس نے میری پشت پر کیا کچھ کام کیے۔ وہ کہے گی کہ اس نے فلاں دن یہ یہ کام کیے۔ یہی اس کی خبریں ہیں (ترمذی، ابو اب التفسیر) قدیم زمانے کے انسان تو شاید زمین کے اس طرح خبریں بیان کرنے پر متعجب ہوں مگر آج کے زمانہ کا انسان تو یہاں دنیا میں ہی یہ سب کچھ اپنی آنکھوں سے دیکھ رہا ہے۔ ویڈیو فلم کی ایجاد کے بعد یہ بات انسان کے لئے قطعاً…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–5
2۔ اس وقت حکمت ومشیت یہی ہوگی کی زمین ناطق ہوجائے جیسے حکمت ومشیت یہ ہے کہ زمین ساکت وبے زبان رہے۔ (آیت) ” تحدث اخبارھا “۔ ظاہر ہے کہ مومن و کافر ہر انسان سے عمل، اچھے برے جو کچھ بھی صادر ہوتے ہیں، اسی زمین ہی پر ہوتے ہیں، قدرۃ زمین ہی، چھوٹے بڑے، اچھے برے، ہر ہر واقعہ کی پوری پوری شہادت پیش کرے گی، (آیت) ” بان ..... لھا “۔ زمین میں یہ قوت گویائی اس وقت خود بخود نہیں، قادر مطلق کے حکم سے پیدا ہوگی، اہل سنت کا یہ متفقہ مسئلہ ہے کہ حیات اور اس کے سارے آثار، انعامات الہی ہیں، جس وقت جس عضو سے جو کام وہ حکیم مطلق چاہے، لے لے، (آیت) ” بان “۔ میں بےسببیہ ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–8
واخرجت الارض اثقالھا اسی مضمون کو سورة انشقاق میں اس طرح بیان فرمایا گیا ہے ” والقت مافیھا وتخلت ‘ اور جو کچھ اس کے اندر ہے اسے باہر پھینک کر خالی ہوجائے گی، اس کے متعدد مطلب ہیں، ایک یہ کہ مرے ہوئے انسان زمین کے اندر جہا اور جس شکل میں بھی پڑے ہوں گے ان سب کو وہ نکال کر باہر پھینک دے گی، اس مفہوم پر بعد کا فقرہ یعنی ” وقال الانسان مالھا “ دلالت کررہا ہے، یعنی انسانی منتشر اجزاء جمع ہو کر ازسرنو اسی شکل و صورت میں جمع ہوجائیں گے، جس میں وہ دنیوی زندگی کی حالت میں تھے، کیونکہ اگر ایسا نہ ہو تو وہ یہ کیسے کہیں گے کہ زمین کو یہ کیا ہو رہا ہے ؟ دوسرا مطلب یہ ہے کہ صرف مردہ انسانوں ہی کو باہر…
Read the full tafseer →بان ربک اوحی لھا . ب سببی ہے اور لام بمعنی الیٰ ہے یعنی زمین کا خبر دینا اس سبب سے ہوگا کہ اللہ کی طرف سے اس کو یہی اشارہ یا اذن ملا ہوگا۔ یہ بھی ممکن ہے کہ یہ کلام قال الانسان مالھا کا جواب ہو یعنی انسان کے سوال کے جواب میں کہے گی ‘ مجھے اللہ کا حکم ہی یوں ملا ہے کہ اپنے اندر زلزلہ پیدا کروں اور اندرونی بوجھ باہر نکال پھینکوں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–6
(3۔ 6) اور کافر آدمی اس وحشت کو دیکھ کر کہے گا اسے کیا ہوا اس روز زمین جو کچھ اس پر نیکی و برائی ہوئی ہے سب بتانے لگے گی اس بنا پر کہ اس کو کلام کرنے کی اجازت دی جائے گی اس روز لوگ مختلف جماعتیں ہو کر واپس ہوں گے ایک جماعت جنت کی طرف جائے گی اور ایک دوزخ میں تاکہ جو کچھ انہوں نے نیکی اور گناہ کیا ہے اسے دیکھ لیں۔
Read the full tafseer →(بان ربک اوحی لھا :) کیونکہ اس کے رب نے اسے یہ حکم دیا ہوگا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–5
یومئذ تحدث اخبارھا۔۔۔ تا۔۔۔۔ اعمالھم یومئذ تحدث اخبارھا۔ یومئذ، اذا زلزلت کی ظرف ہے اور منصوب ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے، تحدث کی وجہ سے منصوب ہے اس کا معنی ہے زمین پر جو کچھ اچھا یابراعمل کیا گیا اس روز اس کی خبر دے گی پھر کہا گیا، یہ اللہ تعالیٰ کی جانب سے قول ہے اور قول یہ کیا گیا ہے یہ انسان کے قول کی حکایت ہے یعنی متعجب ہوکرک ہے گا اس زمین کو کیا ہوگیا ہے کہ یہ اپنی خبریں بیان کررہی ہے۔ ترمذی شریف میں حضرت ابوہریرہ سے مروی ہے رسول اللہ نے اس آیت کو پڑھا پوچھا کیا تم جانتے ہو اس کی اخبار کیا ہیں ؟ صحابہ نے عرض کی اللہ تعالیٰ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں فرمایا اس کی اخبار سے مراد یہ ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–8
1۔ ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ سورة اذا زلزلت مدینہ میں نازل ہوئی 2۔ ابن مردویہ نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ اذا زلزلت مدینہ میں نازل ہوئی۔ 3۔ احمد وابوداوٗد والنسائی والحاکم وصححہ وابن مردویہ اور بیہقی نے شعب الایمان میں عبداللہ بن عمرو ؓ سے روایت کیا کہ ایک آدمی رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اور کہنے لگا یا رسول اللہ ! مجھے کچھ پڑھا دیجیے آپ نے فرمایا ” المر “ والی تین سورتیں پڑھ۔ اس نے کہا میں بوڑھا ہوگیا ہوں دل بھی سخت ہوگیا ہے اور زبان بھی موٹی ہوگئی ہے یعنی سخت کلامی پر اتر آئی ہے۔ آپ نے فرمایا حم والی تین سورتیں پڑھ۔ اس نے پھر پہلے کی طرح کہا۔ آپ نے فرمایا تین سورتیں مسجلات میں سے…
Read the full tafseer →[بِان رَبَّكَ : (یہ) اس سبب سے کہ آپ ﷺ کے رب نے ][ اَوْحٰى لَهَا : الہام کیا اس کو ] (آیت۔ 5) قرآن مجید میں تقریباً ہر جگہ اَوْحیٰ کا مفعول الیٰ کے صلہ کے ساتھ آیا ہے۔ یہ واحد مقام ہے جہاں اس کی ضمیر مفعولی ھا کے ساتھ لام کا صلہ آیا ہے۔
Read the full tafseer →انسان یہ حالت دیکھ کر حیران رہ جائے گا اور کہے گا کہ مالھا ہائے ہائے اس زمین کو کیا ہو ایہ تو بےجان چیز تھی نہ بولتی تھی نہ کسی سے بات کرتی تھی آج تو باتیں کر رہی ہے۔ ﴿بِاَنَّ رَبَّكَ اَوْحٰى لَهَاؕ005﴾ زمین کا یہ بات کرنا اس لیے ہے کہ اس کے رب نے اسے حکم دیا ہے اور بولنے کی قوت اور طاقت دے دی ہے۔ (جیسے انسان کے اعضاء اس کے خلاف گواہی دیں گے ایسی ہی زمین گواہی دے دے گی جس پر سکونت اختیار کیے ہوئے تھے) ۔ حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے آیت کریمہ ﴿يَوْمَىِٕذٍ تُحَدِّثُ اَخْبَارَهَاۙ004﴾ تلاوت فرمائی، پھر صحابہ سے خطاب کر کے فرمایا تم جانتے ہو اس کا خبر دینا کیا ہے ؟ عرض کیا اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–8
حوادث وزلازل بوقت وقوع قیامت : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” اذا زلزلت الارض زلزالھا ........ الی ........ ذرۃ شرایرہ “۔ (ربط) گزشتہ سورت کا مضمون اہل سعادت وشقاوت کے اعمال وافعال اور ان کے انجام پر مشتمل تھا اور اصول سعادت اور حق تعالیٰ کے انعامات کے استحقاق کی بنیاد یہ بیان کی گئی تھی کہ وہ خشیت خداوندی ہے اور (آیت) ” ذلک لمن خشی ربہ “۔ فرما کر اس حقیقت کو واضح کردیا گیا تھا، اب اس سورت میں سعادت وشقاوت کے ثمرات مرتب ہونے کا وقت بتایا جارہا ہے کہ وہ قیامت ہے اور قیامت کا قائم ہونا، نظام عالم کا درہم برہم ہوجانا ہے اور وہی دن زندگی کے اعمال کا محاسبہ کرتا رہے اور اللہ رب العزت کی بارگاہ میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–5
4:۔ ” وقال الانسان “ اس دن انسان حیرت و تعجب سے کہے گا زمین کو کیا ہوگیا ہے وہ اس قدر کیوں جھٹکے کھا رہی ہے یا اس کا تعلق ما بعد سے ہے یعنی ” یومئذ تحدث اخبارھا “ قیامت کے دن زمین ساری باتیں صاف صاف بیان کردے گی بندوں نے جو جو نیک و بد کام اس پر کیے ہیں وہ سب بتادے گی تو انسان اس پر حیرت واستعجاب سے کہے گا زمین کو کیا ہوگیا ہے وہ آج سب کچھ بتا رہی ہے۔ ” بان ربک اوحی لہا “ زمین اس لیے سب کچھ ظاہر کرے گی کہ اللہ تعالیٰ کا اس کو حکم ہوگا۔ ” ولباء للسببیۃ ای تحدث بسبب ایحاء ربک لہا وامرہ سبحانہ ایاھا بالتحدیث (روح ج 30 ص 210) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–8
موضوع اس سورة کا موضوع جزائے عمل ہے اگرچہ سورة تو مختصر ہے تاہم موضوع کے لحاظ سے جامع اور مانع سورة ہے۔ اس سورة میں اس بات کی وضاحت کی گئی ہے کہ جو بھی اعمال اس دنیا میں کرتا ہے ان کی جزاء لازم ہے۔ جس طرح انسان کوئی چیز کھاتا ہے تو اس کے نتیجے میں بدہضمی پیدا ہوتی ہے۔ اسی طرح انسان جو عمل کرتا ہے۔ اس کے ساتھ اس کی جزاء بھی لازم ہے ، جس طرح پیدائش کے ساتھ موت لازم ہے اور جس طرح طلوع کے ساتھ غروب لازم ہے۔ ایسے ہی عمل کے ساتھ جزائے عمل کا ہونا ضروری ہے۔ اس سورة مبارکہ میں یہی بات سمجھائی گئی ہے۔ فضیلت حدیث پاک میں اس سورة کی بہت فضیلت آئی ہے۔ ایک شخص حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ…
Read the full tafseer →بِاَنَّ رَبَّكَ اَوْحٰى لَہَا 5 ۭ رب الرَّبُّ في الأصل : التربية، وهو إنشاء الشیء حالا فحالا إلى حدّ التمام، يقال رَبَّهُ ، وربّاه ورَبَّبَهُ. وقیل : ( لأن يربّني رجل من قریش أحبّ إليّ من أن يربّني رجل من هوازن) فالرّبّ مصدر مستعار للفاعل، ولا يقال الرّبّ مطلقا إلا لله تعالیٰ المتکفّل بمصلحة الموجودات، نحو قوله : بَلْدَةٌ طَيِّبَةٌ وَرَبٌّ غَفُورٌ [ سبأ/ 15] ( ر ب ب ) الرب ( ن ) کے اصل معنی تربیت کرنا یعنی کس چیز کو تدریجا نشونما دے کر حد کہال تک پہنچانا کے ہیں اور ربہ ورباہ وربیہ تنیوں ایک ہی معنی میں استعمال ہوتے ہیں ۔ کسی نے کہا ہے ۔ لان یربنی رجل من قریش احب الی من ان یربنی رجل من…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–6
ترکیب ¦ اذا شرطیۃ کان والفرق بینھا ان اذا تستعمل فی المقطوع ای اذا اردت التعلیق بما یوجد قطعا تقول اذا بخلاف ان فانھا کان لزلزال یقیناً قال اذا زلزلت فعل مجہول الارض مفعول ما لم یسم فاعلہ زلزالھا زلزال مفعول مطلق مضاف الی الضمیر الراجع الی الارض۔ قال الفراء الزلزال بالکسر مصدر و بالفتح اسم و قال القرطبی بالفتح مصدر کا لو سو اس والقلقا وقیل ھما مصدران وقد قری بھما۔ فالمصدر مضاف الی فاعلہ والمعنی ای حرکت الارض حرکۃ شدیدۃ کما قال اذا رجت الارض رجاً واخرجت الخ الجملۃ معطوفہ علی زلزلت الارض والاثقال جمع ثقل والمراد بہ الد فائن وقال الخ ایضا معطوف ما مبتداء لھا خبر والجملۃ الا ستفھامیۃ مفعول قال…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–5
یَوْمَئِذٍ تُحَدِّثُ اَخْبَارَھَا۔ بِاَنَّ رَبَّکَ اَوْحٰی لَھَا۔ (الزلزال : 4، 5) (اس دن وہ بیان کر دے گی اپنے سارے حالات۔ کیونکہ آپ کے رب نے اسے ایسا کرنے کا حکم دیا ہے۔ ) زمین سب کے اسرار کھول دے گی انسان زمین کی سطح پر زندگی گزارتا ہے۔ کوئی جھونپڑے میں رہے یا محل میں، پہاڑوں کی بلندی پر اس کا قیام ہو یا زمین کی پستی میں۔ اس کا رشتہ بہرحال زمین سے رہتا ہے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ جس طرح اس کے جسمانی اعضاء کو اس کے اعمال پر گواہ بنائے گا، اسی طرح زمین کے جس حصے پر اس نے کوئی اچھا یا برا عمل کیا ہوگا، زمین کا وہ حصہ اس کے حق میں یا اس کے خلاف گواہی دے گا۔ اور یہی وہ حالات ہیں جنھیں زمین بیان کرے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–5
فہم القرآن ربط سورت : البیّنہ کا اختتام ان الفاظ پر ہوا کہ ” اللہ تعالیٰ “ ہر اس شخص پر راضی ہوگا جس نے اس سے ڈر کر زندگی بسر کی اللہ تعالیٰ کے ڈر کا حقیقی تقاضا ہے کہ انسان ہر دم قیامت کا عقیدہ تازہ رکھے جس دن کی ابتداء بڑے بڑے زلزلوں سے ہوگی۔ قرآن مجید نے یہ حقیقت بڑی تفصیل کے ساتھ بتلائی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے حکم سے جب پہلی دفعہ اسرافیل صور میں پھونک مارے گا تو زمین و آسمانوں میں ایسا بھونچال آئے گا کہ بالآخر ہر چیز ختم ہوجائے گی۔ ایک مدّت کے بعد جس کا علم اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کو نہیں اس مدّت میں صرف اللہ تعالیٰ کی ذات ہی باقی رہے گی۔ اسرافیل دوسری پھونک مارے گا تو ایک دفعہ پھر زمین پر…
Read the full tafseer →5 : بِاَنَّ رَبَّکَ اَوْحٰی لَھَا (اس سبب سے کہ آپ کے رب کا اس کو یہی حکم ہے) یعنی خبروں کو بیان کرنا رب تعالیٰ کے حکم کے سبب سے ہے : لھا ای الیھا اس کی طرف حکم بھیجنے اور بیان کرنے کا امر دینے کی وجہ سے ہے۔
Read the full tafseer →5 ۔” بان ربک اوحی لھا “ یعنی اس کو کلام کا حکم دیا اور اس کو اجازت دی کہ وہ ان اعمال کی خبر دے جو اس پر کیے گئے ہیں۔ ابن عباس ؓ اور قرظی (رح) فرماتے ہیں ” اوحیٰ الیھا “ اور آیت کا مجازیہ ہے اللہ تعالیٰ اس کی طرف وحی کریں گے۔ کہا جاتا ہے ” اوحیٰ لھاواوحیٰ الیھا “ اور ” وحی لھا اور وحی الیھا “ یہ ایک ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–8
1۔ 8۔ دجال کا پیدا ہونا سورج کا مغرب سے نکلنا۔ لال آندھی کا آنا۔ جس طرح یہ چیزیں دنیا کی مدت اخیر ہونے کی علامتیں ہیں اسی طرح اس وقت ایک زلزلہ بھی لال آندھی کے آنے کے بعد آئے گا جس کا ذکر ترمذی 1 ؎ وغیرہ میں حضرت ابوہریرہ ؓ وغیرہ کی روایت سے آیا ہے اور ایک زلزلہ دوسرا صور پھونکا جائے گا جس آئے گا جس کا ذکر قرآن شریف میں کئی جگہ آیا ہے اس آیت میں جو زلزلہ کا ذکر ہے بعض مفسر کہتے ہیں کہ اس سے پہلا زلزلہ مراد ہے اور بعض کہتے ہیں دوسرا زلزلہ مراد ہے۔ اس زلزلہ کے ساتھ ہی اللہ تعالیٰ نے حساب و کتاب اور زمین کی شہادت کا ذکر فرمایا ہے اور یہ باتیں تو ضرور دوسرے صور کے بعد کی ہیں اس لئے اس زلزلہ سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–5
(يَوْمَىِٕذٍ تُحَدِّثُ ) اس دن زمین بیان کرے گی۔ ( اَخْبَارَهَا) اپنی خبریں۔ یعنی عمل کرنے والوں کے اچھے برے اعمال کی گواہی دے گی جو انہوں نے اس کی پیٹھ پر کیے ہیں کیونکہ زمین بھی ان گواہوں میں شمار ہوگی جو بندوں کے خلاف ان کے اعمال کی گواہی دیں گے یہ سب اسلیے ہوگا۔ (بِاَنَّ رَبَّكَ اَوْحٰى لَهَا) کہ اللہ تعالیٰ اس کو حکم دے گا کہ وہ ان تمام اعمال کے بارے میں خبر دے جو اس کی سطح پر کیے گئے ہیں پس زمین اللہ تعالیٰ کے حکم کی نافرمانی نہیں کرے گی۔
Read the full tafseer →(5) زمین اپنے رب کے حکم و ارشاد کی پابند : چناچہ ارشاد فرمایا گیا کہ اس لیے کہ تمہارے رب نے اس کو اس کا حکم دیا ہوگا، سو وہ اپنے قادر مطلق خالق ومالک کے حکم سے بول پڑے گی، اور انسان کا سب کیا کرایا پوری طرح بیان کردے گی، اور اس کی پیٹھ پر جو بھی کیے جائیں گئے ہوں گے ان سب کا پورا ریکارڈ پیش کردے گی، خواہ وہ اچھے اعمال ہوں یا برے، کیونکہ اس دنیا میں جو انسان بھی کوئی عمل کرتا ہے وہ اسی زمین کے کسی نہ کسی حصے پر کرتا ہے اس لیے اس کے سب اعمال و اقوال کی سب سے بڑی گواہ اور عینی شاہد یہ زمین ہی ہوگی اس سے اس کی کوئی حالت اور کیفیت مخفی نہیں رہ سکتی، اور قیامت کے روز جس طرح اللہ کے حکم و ارشاد سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–8
قیامت کا واقعہ اعمال کا اندراج اور گواہی تشریح : یہاں قیامت کا ذکر کرتے ہوئے زمین کے حالات بتائے جا رہے ہیں کہ زمین میں شدید زلزلہ آئے گا، جیسے انڈہ توڑو تو اس کے اندر کا مال سفیدی زردی سب باہر نکل آتا ہے ایسے ہی زمین کا حال ہوگا۔ ہم زمین کے بارے میں کافی بحث کرچکے ہیں۔ مختصراً عرض ہے کہ زمین کی اوپر کی سطح نے اس کے اندر کے سارے مال کو محفوظ کر رکھا ہے۔ وہ مال ہے تیل گیس ' معدنیات ' کوئلہ ' ہیرے اور قیمتی پتھر یہ سب کچھ سمندر کی طرح موجیں مار رہا ہے۔ جس کی نشاندہی قرآن پاک میں کی گئی ہے۔ اور اس کی تصدیق ان آتش فشاں پہاڑوں سے نکلنے والے لاوے سے ہوتی رہتی ہے جو اکثر و بیشتر پہاڑ کی کسی نہ کسی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–8
سورة الزلزال آیات 1 تا 8۔ اسرار ومعارف۔ جب زمین کو جھنجھوڑ ڈالا جائے گا ، یعنی قیامت قائم ہوگی اور زمین تمام لوگوں کو اور مال وزر کو اگل دے گی یا وہ راز جو بہرحال اس کے پاس محفوظ ہوں گے کھول دے گی تو انسان کہہ اٹھے گا زمین کو کیا ہوگیا اس نے تو سب کچھ بتادیا۔ ہاں ضرور بتائے گی کہ تیرے پروردگار کا حکم اس کو بتانے ہی کا ہوگا اس روز لوگ الگ الگ طبقے اور جماعتیں بن جائیں گے جس طرح کے لوگوں اور کردار کی رفاقت دنیا میں اختیار کی اسی طرح کے گروپوں میں کھڑے ہوں گے کہ اپنے اعمال کے نتائج کو دیکھیں جس کسی نے ذرہ برابر بھی نیکی کی ہوگی وہ اس کا بدلہ پائے گا اس سے علماء نے دلیل اختیار فرمائی ہے کہ جس کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–5
ف 3 یعنی ہر شخص کے متعلق بتادے گی کہ اس نے میری پشت پر یہ کام کئے، چاہے وہ کام اچھے ہوں یا برے حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : زمین ستونوں کی طرح اپنے جگر کے ٹکڑے جو سونے اور چاندی کے ہوں گے نکالے گی۔ قاتل آئے گا اور کہے گا کہ اسی کی وجہ سے میں نے قتل کیا۔ قطع رحمی کرنے والا آئے گا اور کہے گا کہ اسی کی وجہ سے میں نے قطع رحمی کی۔ چور آئے گا اور کہے گا کہ اسی کی وجہ سے میرا ہاتھ کاٹا گیا۔ پھر سب اسے چھوڑ کر چل دیں گے اور اس میں سے کچھ نہ لیں گے۔ “ (مسلم ترمذی) حضرت ابوہریرہ ہی سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے یہ آیت پڑھ کر فرمایا : کیا تم جانتے ہو کہ زمین کی خبریں کیا ہوں گی ؟…
Read the full tafseer →(99:5) بان ربک اوحی لہا : ب سببیہ، لام بمعنی الیٰ ہے۔ ان حرف مشبہ بالفعل۔ ربک مضاف مضاف الیہ۔ اسم ان۔ اوحی لہا اس کی خبر۔ یعنی زمین کی تحدیث (خبر دینا) اس سبب سے ہوگا۔ کہ اللہ کی طرف سے اس کو یہی وغی ہی ہوگی۔ (اس کو یہی اشارہ یا اذن ہوگا) یا یہ بھی ممکن ہے کہ یہ کلام قال الانسان ما لہا کے جواب میں ہو۔ یعنی انسان کے سوال کے جواب میں زمین یہ کہے گی کہ مجھے اللہ کا حکم ہی یوں ملا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–8
لغات القرآن۔ زلزلت۔ ہلاڈالی گئی۔ اثقال۔ بوجھ۔ مالھا ۔ کیا ہوگیا اسے ؟ ۔ تحدت۔ بیان کردے گی۔ اخبر۔ خبریں۔ حالات۔ یصدر۔ باہر نکلنے گا۔ لوٹے گا۔ اشتات۔ مختلف گروہ۔ مثقال ۔ وزن۔ برابر۔ یرہ۔ وہ اس کو دیکھ گا۔ تشریح : نبی کریم حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے کہ جب زمین پر ایک شخص بھی اللہ اللہ کہنے والا نہ رہے گا تو نظام کائنات کو درہم برہم کرکے ہر چیز پر فنا کی کیفیت طاری کردی جائے گی۔ اسی کو قیامت کہا جاتا ہے جو برحق ہے اور اس کے آنے میں ذرا بھی شک نہیں ہے۔ لیکن پہلا صور پھونکے جانے کے بعد کیا ہوگا اس کو اس سورت میں بیان فرمایا گیا ہے۔ ارشاد ہے کہ جب زمین مسلسل جھٹکوں اور زلزلوں سے ہلا ماری…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–5
(ف 4) یعنی بنی آدم نے جو برے بھلاے کام زمین کے اوپر کیے سب ظاہر کردے گی مثلا کہے گی فلان شخص نے مجھ پر نماز پڑھی تھی فلاں نے چوری کی تھی فلاں نے خون ناحق کیا تھا وغیرہ ذالک۔ گویا آج کل کی زبان میں یوں سمجھو کہ جس قدر اعمال زمین پر کیے جاتے ہیں زمین میں ان سب کاریکارڈ موجود ہے قیامت میں وہ پروردگار کے حکم سے کھول دیے جائیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–5
[1] ہر انسان کے عمل اچھے برے جو بھی صادر ہوتے ہیں اسی زمین ہی پر ہوتے ہیں۔ قدرۃً زمین ہی ہر چھوٹے، بڑے، اچھے، برے، ہر ہر واقعے کی پوری پوری شہادت پیش کرے گی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–8
ف 1: سابقہ سورة کا اختتام ان آیتوں پر ہوا تھا کہ منکرین بدترین خلائق ہیں اور ان کو جو سزا ملے گی ۔ وہ بھی بدترین مقام پر فائز ہوں گے ۔ سوال یہ پیدا ہوتا تھا کہ یہ وقت مکافات اور جزا کا کب آئے گا ۔ جب لفخہ ثانیہ کے وقت زمین میں ایک شدید حرکت اور جنبش ہوگی ۔ اور زمین اپنے تمام ذخائر وخزائن اگل دے گی ۔ اس وقت یہ لوگ کہیں گے کہ یہ کیا ہونے والا ہے ۔ اس وقت یہ بےزبان زمین بتائے گی کہ اس کے سینے پر انسانوں نے کیسی معصیت کوشی کی زندگی بسر کی ہے ۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس کو اس نوع کی تلقین کررکھی ہوگی ۔ یہ وہ دن ہوگا جب لوگ گروہ درگروہ موقف حساب سے واپس ہوں گے ۔ وہ لوگ دیکھیں گے کہ ذرہ برابر نیکی جو…
Read the full tafseer →(5) اس لئے کہ آپ کے پروردگار نے اس کو یہی حکم دیا ہوگا۔ یعنی زمین میں سخت زلزلہ آئے اور وہ اس زلزلے کی حرکت سے خب جھنجھوڑی اور حرکت دی جائے اور زمین اپنے بوجھ یعنی مردے اور دفینے باہر نکال پھینکے شاید یہ دوسرے نفخہ صور پھونکنے کے وقت ہوگا جس سے تمام زمین کا ہموار کرنا مقصود ہوگا۔ دفینے سے مراد سونے چاندی کی کانیں اور وہ اموال ہیں جو زمین میں دبائے گئے ہوں گے غرض جو کچھ زمین میں ہے وہ باہر آجائے گا اور کوئی اس مال کا سنبھالنے والا اور لینے والا نہ ہوگا۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں قیامت سے پہلے جو مال زمین میں دبا ہے سونا روپا اس سے نکل پڑے گا تب لینے والے نہ رہیں گے اور انسان زندہ ہوکر کہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–8
ف 3۔ بشرطیکہ اس وقت تک وہ خیر و شر باقی رہی ہو، ورنہ اگر کفر سے وہ خیر فنا ہوچکی ہو یا تو بہ و ایمان سے وہ شر زائل ہوچکا ہو وہ اس میں داخل ہی نہیں کیونکہ وہ خیر نہ رہی اور وہ شر شر نہ رہا، جب مدار حکم نہ رہا حکم بھی ثابت نہ ہوگا۔
Read the full tafseer →اس لیے کہ تیرے رب نے اس کو اس کا حکم دیا ہے 5 ؎ ( اوحیٰ ) اس نے حکم دیا ۔ اس نے وحی بھیجی ، اس نے ارشاد کیا ایحاء سے جس کے معنی حی کرنے ، حکم دینے اور اشارہ کرنے کے ہیں ۔ ماضی کا صیغہ واحد مذکر غائب ۔ مطلب یہ ہے کہ زمین جس طرح اپنے دفینے اگل رہی ہوگی وہ اس کے اپنے اختیار میں نہ ہوگا اور نہ ہی اپنے اختیار سے وہ ایسا کر رہی ہوگی بلکہ اس کا اشارہ کرنے والا اشارہ کرتا ہوگا ، حکم دینے والا حکم دے رہا ہوگا ، اس کی طرف اپنا پیغام بھیجنے والا پیغام بھیج رہا ہوگا اور وہ ایسا کرنے پر مجبور ہوگی کیونکہ وہ اس کے حکم کی پابند ہے اور پھر وہ اس کے حکم کی خلاف ورزی کر ہی نہیں سکتی کیونکہ وہ انسان کی طرح صاحب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–6
Verse [ 2] وَأَخْرَجَتِ الْأَرْضُ أَثْقَالَهَا (and the earth will bring forth its burdens.) Muslim has recorded in his Sahih from Abu Hurairah ؓ that the Messenger of Allah ﷺ said: "The earth will throw out the pieces of its liver [ contents ]. Gold and silver will come out like columns. A murderer will come and say: 'I killed for this?' The one who broke the ties of kinship will say: 'For this I severed the ties of kinship?' The thief will say: 'For this I got my hand amputated?' Then they will leave it there, and no one will take anything from it."
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–5
4 According to Hadrat Abu Hurairah, the Holy Prophet (upon whom be peace) recited this verse and asked: "Do you know what annals it will relate ?" The people said: "Allah and His Messenger have the best knowledge." Thereupon the Holy Prophet said: "The annals are that the earth will testify to the deeds which every tnan and woman has done on its back." She will say: "He or she had done such and such a thing on such and such a day. These will be the annals the earth will narrate." (Musnad Ahmad, Tirmidhi, Nasa'i, Ibn Jarir, 'Abd bin Humaid, Ibn al-Mundhir, Hakim, Ibn Marduyah, Baihaqi in…
Read the full tafseer →