Explained with ayahs 1–8
مرحلہ وار قیامت :
زمین اپنے نیچے سے اوپر تک کپکپانے لگے گی اور جتنے مردے اس میں ہیں سب نکال پھینکے گی۔ جیسے اور جگہ ہے (يٰٓاَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوْا رَبَّكُمْ ۚ اِنَّ زَلْزَلَةَ السَّاعَةِ شَيْءٌ عَظِيْمٌ) 22۔ الحج :1) لوگو اپنے رب سے ڈرو یقین مانو کہ قیامت کا زلزلہ اس دن کا بھونچال بڑی چیز ہے اور جگہ ارشاد ہے (وَاِذَا الْاَرْضُ مُدَّتْ ۙ) 84۔ الانشقاق :3) جبکہ زمین کھینچ کھانچ کر برابر ہموار کردی جائیگی اور اس میں جو کچھ ہے وہ اسے باہر ڈال دے گی اور بالکل خالی ہو جائیگی صحیح مسلم شریف میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں زمین اپنے کلیجے کے ٹکڑوں کو اگل دے گی سونا چاندی مل ستونوں کے باہر نکل پڑے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–7
سورة الزلزال 5
اس کے دو معنی ہوسکتے ہیں۔ ایک یہ کہ ہر ایک اکیلا اپنی انفرادی حیثیت میں ہوگا، خاندان، جتھے، پارٹیاں، قومیں سب بکھر جائیں گی۔ یہ بات قرآن مجید میں دوسرے مقامات پر بھی فرمائی گئی ہے۔ مثلا سورة انعام میں ہے کہ اللہ تعالیٰ اس روز لوگوں سے فرمائے گا کہ " لو اب تم ویسے ہی تن تنہا ہمارے سامنے حاضر ہوگئے جیسا ہم نے پہلی مرتبہ تمہیں پیدا کیا تھا " (آیت 94) اور سورة مریم میں فرمایا یہ " اکیلا ہمارے پاس آئے گا " (آیت 80) اور یہ کہ " ان میں سے ہر ایک قیامت کے روز اللہ کے حضور اکیلا حاضر ہوگا " (آیت 95) دوسرے معنی یہ بھی ہوسکتے ہیں کہ وہ تمام لوگ جو ہزار ہا برس کے دوران میں جگہ جگہ مرے تھے،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–6
واخرجت الارض اثقالھا، رسول اللہ ﷺ نے اس زلزلہ کے متعلق ارشاد فرمایا کہ زمین اپنے جگر کے ٹکڑے سونے کی بڑی چٹانوں کی صورت میں اگل دے گی اس وقت ایک شخص جس نے مال کے لئے کسی کو قتل کیا تھا وہ دیکھ کر کہ گا کہ یہ وہ چیز ہے جس کے لئے میں نے اتنا بڑا جرم کیا تھا، جس شخص نے اپنے رشتہ داروں سے مال کی وجہ سے قطع تعلق کیا تھا وہ کہے گا کہ یہ ہے وہ چیز جس کے لئے میں نے یہ حرکت کی تھی۔ چور جس کا ہاتھ چوری کی سا میں کاٹا گیا تھا اس کو دیکھ کر کہے گا کہ اس کے لئے میں نے اپنا ہاتھ گنوایا تھا پھر کوئی بھی اس سونے کی طرف التفات نہ کریگا۔ (رواہ مسلم عن ابی ہریرة)
Read the full tafseer →اس دن ہر شخص کو اپنی جواب دہی خود کرنی ہو گی: ’اَشْتَاتٌ‘ کے معنی متفرق، اکیلے اکیلے، تنہا تنہا کے ہیں۔ یعنی اس دن لوگ قبروں سے اس طرح نکلیں گے کہ کسی کے ساتھ نہ اس کے اہل خاندان ہوں گے، نہ اعزہ و اقرباء، نہ اس کا جتھا ہو گا، نہ خدم و حشم، نہ املاک و جائداد، نہ اعوان و انصار اور نہ مزعومہ شرکاء و شفعاء بلکہ ہر ایک اپنے اعمال کی جواب دہی کے لیے اپنے رب کے حضور تنہا حاضر ہو گا۔ یہ مضمون قرآن کے دوسرے مقامات میں نہایت وضاحت سے بیان ہوا ہے۔ مثلاً سورۂ مریم میں فرمایا ہے:
’وَکُلُّھُمْ اٰتِیۡہِ یٰوْمَ الْقِیٰمَۃِ فَرْدًا‘ (مریم ۱۹: ۹۵)
(اور ان میں سے ہر ایک اپنے رب کے سامنے حاضر ہو گا تنہا)۔
سورۂ…
Read the full tafseer →6۔ 1 یصدر، یرجع (لوٹیں گے) یہ ورود کی ضد ہے یعنی قبروں سے نکل کر موقف حساب کی طرف، یا حساب کے بعد جنت اور دوزخ کی طرف لوٹیں گے۔ اشتاتا، متفرق، یعنی ٹولیاں ٹولیاں، بعض بےخوف ہوں گے، بعض خوف زدہ، بعض کے رنگ سفید ہوں گے جیسے جنتیوں کے ہوں گے اور بعض کے رنگ سیاہ، جو ان کے جہنمی ہونے کی علامت ہوگی۔ بیض کا رخ دائیں جانب ہوگا تو بعض کا بائیں جانب۔ یا یہ مختلف گروہ ادیان و مذاہب اور اعمال و افعال کی بنیاد پر ہوں گے۔
6۔ 1 یعنی زمین اپنی خبریں اس لئے بیان کرے گی تاکہ انسانوں کو ان کے اعمال دکھا دیئے جائیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–6
3: واپس آنے سے مراد قبروں سے نکل کر میدان حشر کی طرف جانا بھی ہوسکتا ہے، اس صورت میں اعمال دکھانے کا مطلب یہ ہوگا کہ اعمال نامہ دکھا دیا جائے گا۔ اور واپسی کا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ لوگ حساب و کتاب سے فارغ ہو کر مختلف حالتوں میں واپس آئیں گے تاکہ انہیں ان کے اعمال کا نتیجہ دکھادیا جائے۔ نیک لوگوں کو اپنی نیکیوں کا انعام دکھادیا جائے گا اور برے لوگوں کو ان کے اعمال کی سزا دکھادی جائے گی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–7
ایک لمحہ میں ہم دیکھتے ہیں کہ لوگ قبروں سے اٹھتے چلے آرہے ہیں۔
یومئذ .................... اشتاتا (6:99) ” اس روز لوگ متفرق حالت میں پلٹیں گے “۔ ہم دیکھتے ہیں کہ وہ مختلف گروہوں مختلف اطراف سے چلے آرہے ہیں۔ یوں لگتا ہے کہ گویا وہ بکھری ہوئی ٹڈیاں ہیں۔
کانھم .................... منتشر ” گویا کہ یہ لوگ بکھری ہوئی ٹڈیاں ہیں “۔ یہ ایک ایسا منظر ہے جو اس سے قبل انسان نے کبھی نہیں دیکھا ، یہ کہ لوگوں کی نسلیں ، اگلوں پچھلوں کی یہاں سے اور وہاں سے اٹھ رہی ہیں۔ جس طرح دوسری جگہ آیا۔
یوم تشقق .................... سراعا ” وہ دن جبکہ زمین پھٹے گی اور وہ اس میں سے تیزی تیزی سے نکل بھاگیں گے “۔ منظر یوں ہے…
Read the full tafseer →8 یعنی اس روز آدمی اپنی قبروں سے میدان حشر میں طرح طرح کی جماعتیں بن کر حاضر ہوں گے۔ ایک گروہ شرابیوں کا ہوگا، ایک زانیوں کا، ایک ظالموں کا، ایک چوروں کا، وعلی ہذا القیاس۔ یا یہ مطلب ہے کہ لوگ حساب سے فارغ ہو کر جو لوٹیں گے تو کچھ جماعتیں جنتی اور کچھ دوزخی ہو کر جنت اور دوزخ کی طرف چلی جائیں گی۔
9 یعنی میدان حشر میں ان کے عمل دکھلا دیے جائیں گے، بدکاروں کو ایک طرح کی رسوائی اور نیکوکاروں کو ایک قسم کی سرخروئی حاصل ہو یا ممکن ہے اعمال کے دکھلانے سے ان کے ثمرات و نتائج کا دکھلانا مراد ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–7
آیت 6{ یَوْمَئِذٍ یَّصْدُرُ النَّاسُ اَشْتَاتًاج } ”اس دن لوگ علیحدہ علیحدہ ہو کر نکل پڑیں گے“
اَشْتَاتًا جمع ہے شَتٌّکی ‘ یعنی منتشر و متفرق۔ نصب حالیت کی وجہ سے ہے۔ اسی معنی میں یہ لفظ سورة اللیل کی اس آیت میں بھی آیا ہے : { اِنَّ سَعْیَکُمْ لَشَتّٰی۔ } کہ تم انسان بظاہر ایک جیسے نظر آتے ہو لیکن تمہاری سعی و جہد کے رخ بالکل مختلف ہیں۔
{ لِّیُرَوْا اَعْمَالَہُمْ۔ } ”تاکہ انہیں ان کے اعمال دکھا دیے جائیں۔“
اس منظر کی ایک جھلک سورة الکہف کی اس آیت میں بھی دکھائی گئی ہے :
{ وَوُضِعَ الْکِتٰبُ فَتَرَی الْمُجْرِمِیْنَ مُشْفِقِیْنَ مِمَّا فِیْہِ وَیَقُوْلُوْنَ یٰوَیْلَتَنَا مَالِ ہٰذَا الْکِتٰبِ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–7
5 اس آیت کے دو مطلب ہوسکتے ہیں۔ ایک یہ کہ سب انسان متفرق اور الگ ہوجائیں گے اور ہر ایک سے انفرادی طور پر اللہ کے ہاں باز پرس ہوگی۔ اور دوسرا یہ کہ جرائم کی نوعیت کے لحاظ سے ان کے الگ الگ گروہ بن جائیں گے۔ شرابیوں کا گروہ الگ ہوگا، زانیوں کا الگ، چوروں کا الگ، ڈاکوؤں اور لٹیروں کا الگ، غرض ہر انسان اپنے اپنے ہم جنسوں سے مل جائے گا۔
6 یہاں صرف اعمال کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ یعنی سب قسم کے لوگوں کو ان کے اعمال دکھا دیئے جائیں گے اور اس کی صورت وہی ہوگی جو اوپر مذکور ہوئی۔ یعنی ان کے اعمال کی فلمیں ہر ایک کو دکھا دی جائیں گی۔ تاکہ کسی شک وشبہ کی گنجائش باقی نہ رہے اور اس کا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ…
Read the full tafseer →3۔ (خواہ جنت خواہ دوزخ میں) (آیت) ” یصدرالناس “۔ لوگ اس وقت حساب سے اپنی اپنی منزل کی طرف واپس ہورہے ہوں گے۔ ذکر اب نفخہ ثانی کے بعد کے واقعات کا ہورہا ہے۔ (آیت) ” اشتاتا “۔ یعنی کچھ گروہ اہل جنت کے ہوں گے، اور کچھ گروہ اہل دوزخ کے۔ (آیت) ” اعمالھم “۔ مراد اپنے اعمال کے ثمرات و عواقب ہیں۔ اے جزاء اعمالہم (مدارک) قال ابن عباس ؓ لیروا جزاء اعمالھم (معالم)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–8
واخرجت الارض اثقالھا اسی مضمون کو سورة انشقاق میں اس طرح بیان فرمایا گیا ہے ” والقت مافیھا وتخلت ‘ اور جو کچھ اس کے اندر ہے اسے باہر پھینک کر خالی ہوجائے گی، اس کے متعدد مطلب ہیں، ایک یہ کہ مرے ہوئے انسان زمین کے اندر جہا اور جس شکل میں بھی پڑے ہوں گے ان سب کو وہ نکال کر باہر پھینک دے گی، اس مفہوم پر بعد کا فقرہ یعنی ” وقال الانسان مالھا “ دلالت کررہا ہے، یعنی انسانی منتشر اجزاء جمع ہو کر ازسرنو اسی شکل و صورت میں جمع ہوجائیں گے، جس میں وہ دنیوی زندگی کی حالت میں تھے، کیونکہ اگر ایسا نہ ہو تو وہ یہ کیسے کہیں گے کہ زمین کو یہ کیا ہو رہا ہے ؟
دوسرا مطلب یہ ہے کہ صرف مردہ انسانوں ہی کو باہر…
Read the full tafseer →یومئذ یصدر الناس اشتاتا . یعنی حساب کی پیشی کے بعد مقام حساب سے لوگ متفرق طور پر لوٹیں گے ‘ کچھ
دائیں سمت کو جنت کی طرف جائیں گے اور کچھ بائیں سمت کو دوزخ کی طرف۔ اللہ نے فرمایا ہے : یومئذ یتفرقون۔
لیرو اعمالھم . حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : لیروا جزاء اعمالھم یعنی مقام حساب سے دائیں بائیں
واپسی اسلئے ہوگی کہ انکو انکے اعمال کی سزا و جزا دکھا دیجائے۔ مطلب یہ ہے کہ جنت یا دوزخ کے اندر اپنے اپنے مقامات پر جا کر اتر جائیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–6
(3۔ 6) اور کافر آدمی اس وحشت کو دیکھ کر کہے گا اسے کیا ہوا اس روز زمین جو کچھ اس پر نیکی و برائی ہوئی ہے سب بتانے لگے گی اس بنا پر کہ اس کو کلام کرنے کی اجازت دی جائے گی اس روز لوگ مختلف جماعتیں ہو کر واپس ہوں گے ایک جماعت جنت کی طرف جائے گی اور ایک دوزخ میں تاکہ جو کچھ انہوں نے نیکی اور گناہ کیا ہے اسے دیکھ لیں۔
Read the full tafseer →(یومئذ یصدر الناس اشتاتاً ، لبروا اعمالھم :”یصدر“ واپس لوٹیں گے، یعنی پہلے قبروں میں گئے تھے، اب وہاں سے حساب کے لئے میدان محشر میں اللہ کے حضور واپس لوٹیں گے، جیسا کہ فرمایا :(ثم یمتکم ثم یحیکم ثم الیہ ترجعون) (البقرۃ : 28)”پھر وہ تمہیں مارے گا، پھر زندہ کرے گا، پھر تم اسی کی طرف لوٹائے جاؤ گے۔“
”اشتاتاً ”شت“ کی جمع ہے، الگ الگ۔ ”لیروا“ (اری یری اراء ۃ“ (افعال) سے مضارع مجہول ہے، تاکہ وہ دکھائے جائیں اپنے عمل۔ ”لبروا“ میں ضمیر نئاب فاعل ہے اور ”اعمالھم“ مفعول ثانی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ ہر شخص اکیلا اکیلا اللہ تعالیٰ کے سامنے جواب دہی کے لئے پیش ہوگا، اس کا قبیلہ، اس کی جماعت اور دوست احباب کوئی…
Read the full tafseer →یومئذ یصدر الناس اشتاتا لیروا اعمالھم۔ اشتاتا کا معنی جماعتیں ہیں، یہ شت کی جمع ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : حساب کے میدان سے لوگ اٹھیں گے ایک فریق دائیں جانب کو اپنائے گی جو جنت کی طرف راستہ جائے یگا۔ ایک جماعت بائیں جانب کو اپنائی گی جو جہنم کی طرف راستہ جاتا ہوگا، جس طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : یومئذ یتفرقون۔ (الروم) یومئذ یصدعون (الروم) ایک قول یہ کیا گیا ہے : حساب سے فارغ ہونے کے بعد حساب سے لوٹیں گے۔
اشتاتا کا معنی ہے جماعتیں، جماعتیں، اعمالھم سے پہلے ثواب کا لفظ محذوف ہے یہ اس طرح ہے جس طرح نبی کریم سے روایت کی گئی ہے کہ آپ نے ارشاد فرمایا : ما من احد یوم القیامۃ الا ویلوم نفسہ فان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–8
1۔ ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ سورة اذا زلزلت مدینہ میں نازل ہوئی
2۔ ابن مردویہ نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ اذا زلزلت مدینہ میں نازل ہوئی۔
3۔ احمد وابوداوٗد والنسائی والحاکم وصححہ وابن مردویہ اور بیہقی نے شعب الایمان میں عبداللہ بن عمرو ؓ سے روایت کیا کہ ایک آدمی رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اور کہنے لگا یا رسول اللہ ! مجھے کچھ پڑھا دیجیے آپ نے فرمایا ” المر “ والی تین سورتیں پڑھ۔ اس نے کہا میں بوڑھا ہوگیا ہوں دل بھی سخت ہوگیا ہے اور زبان بھی موٹی ہوگئی ہے یعنی سخت کلامی پر اتر آئی ہے۔ آپ نے فرمایا حم والی تین سورتیں پڑھ۔ اس نے پھر پہلے کی طرح کہا۔ آپ نے فرمایا تین سورتیں مسجلات میں سے…
Read the full tafseer →[يَوْمَىِٕذٍ يَّصْدُرُ النَاسُ : اس دن واپس ہوں گے لوگ ][ اَشْتَاتًا : الگ الگ ہوتے ہوئے ][ لِيُرَوْا : تاکہ ان لوگوں کو دکھایا جائے ][ اَعْمَالَهُمْ : ان کا سب کیا دھرا ]
(آیت۔ 6) اَشْتَاتًا حال ہونے کی وجہ سے حالت نصب میں ہے۔ یَرَوْا مضارع مجہول ہے جو ثلاثی مجرد اور باب افعال میں ہم شکل ہوجاتے ہیں۔ لیکن یہاں ان میں پہچان کا ایک قرینہ موجود ہے۔ رَئٰ ی۔ یَرٰی (ثلاثی مجرد) کا ایک مفعول آتا ہے، کس کو دیکھا۔ جبکہ اَرٰی۔ یُرِی (باب افعال) کے دو مفعول آتے ہیں، کس کو دکھایا اور کیا دکھایا۔ یہاں یُرَوْا میں شامل ھم کی ضمیر نائب فاعل (یعنی مفعول اوّل) موجود ہے۔ آگے اَعْمَالَھُمْ اس کا مفعول ثانی آیا…
Read the full tafseer →﴿يَوْمَىِٕذٍ يَّصْدُرُ النَّاسُ ﴾ (الآیۃ) قیامت کے دن پیشیوں اور حساب کتاب سے فارغ ہو کر لوگ اپنے اپنے ٹھکانوں کو واپس ہوں گے۔ متفرق جماعتوں میں بٹ کر چلیں گے ان میں سے جنت والے داہنے ہاتھ کو روانہ ہوجائیں گے اور دوزخ والے بائیں طرف کے راستہ پر چل پڑیں گے لفظ اشتاتا میں مختلف جماعتیں بیان کرنا مقصود ہے، یہ شتیت کی جمع ہے جو متفرق کے معنی میں آتا ہے اس کو سورة الروم میں ﴿وَ يَوْمَ تَقُوْمُ السَّاعَةُ يَوْمَىِٕذٍ يَّتَفَرَّقُوْنَ۠0014﴾ میں بیان فرمایا ہے اور سورة الزمر کی آیات ﴿وَ سِيْقَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْۤا ﴾ اور ﴿وَ سِيْقَ الَّذِيْنَ اتَّقَوْا رَبَّهُمْ ﴾ میں بیان فرمایا ہے وہ دن کیسا ہیبت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–8
حوادث وزلازل بوقت وقوع قیامت :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” اذا زلزلت الارض زلزالھا ........ الی ........ ذرۃ شرایرہ “۔
(ربط) گزشتہ سورت کا مضمون اہل سعادت وشقاوت کے اعمال وافعال اور ان کے انجام پر مشتمل تھا اور اصول سعادت اور حق تعالیٰ کے انعامات کے استحقاق کی بنیاد یہ بیان کی گئی تھی کہ وہ خشیت خداوندی ہے اور (آیت) ” ذلک لمن خشی ربہ “۔ فرما کر اس حقیقت کو واضح کردیا گیا تھا، اب اس سورت میں سعادت وشقاوت کے ثمرات مرتب ہونے کا وقت بتایا جارہا ہے کہ وہ قیامت ہے اور قیامت کا قائم ہونا، نظام عالم کا درہم برہم ہوجانا ہے اور وہی دن زندگی کے اعمال کا محاسبہ کرتا رہے اور اللہ رب العزت کی بارگاہ میں…
Read the full tafseer →5:۔ ” یومئذ یصدر “ یہ ” اذا زلزلت الارض “ کی جزاء ہے۔ اشتاتا، متفرقین۔ اپنے اعمال کے اعتبار سے جدا جدا طبقوں اور جماعتوں میں بٹ کر حساب کتاب سے واپس ہوں گے کوئی خوش و خرم اور چمکتے چہرے کے ساتھ اور کوئی افسردہ سیاہ فام۔ ” لیروا اعمالہم “ مضاف محذوف ہے۔ ای جزاء اعمالہم (روح) تاکہ ان کو ان کے اعمال کا اجر وثواب دکھایا جائے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–8
موضوع
اس سورة کا موضوع جزائے عمل ہے اگرچہ سورة تو مختصر ہے تاہم موضوع کے لحاظ سے جامع اور مانع سورة ہے۔ اس سورة میں اس بات کی وضاحت کی گئی ہے کہ جو بھی اعمال اس دنیا میں کرتا ہے ان کی جزاء لازم ہے۔ جس طرح انسان کوئی چیز کھاتا ہے تو اس کے نتیجے میں بدہضمی پیدا ہوتی ہے۔ اسی طرح انسان جو عمل کرتا ہے۔ اس کے ساتھ اس کی جزاء بھی لازم ہے ، جس طرح پیدائش کے ساتھ موت لازم ہے اور جس طرح طلوع کے ساتھ غروب لازم ہے۔ ایسے ہی عمل کے ساتھ جزائے عمل کا ہونا ضروری ہے۔ اس سورة مبارکہ میں یہی بات سمجھائی گئی ہے۔
فضیلت
حدیث پاک میں اس سورة کی بہت فضیلت آئی ہے۔ ایک شخص حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ…
Read the full tafseer →يَوْمَىِٕذٍ يَّصْدُرُ النَّاسُ اَشْتَاتًا 0ۥۙ لِّيُرَوْا اَعْمَالَہُمْ 6 ۭ
يَوْمَئِذٍ
ويركّب يَوْمٌ مع «إذ» ، فيقال : يَوْمَئِذٍ نحو قوله عزّ وجلّ : فَذلِكَ يَوْمَئِذٍ يَوْمٌ عَسِيرٌ [ المدثر/ 9] وربّما يعرب ويبنی، وإذا بني فللإضافة إلى إذ .
اور کبھی یوم کے بعد اذ بڑھا دیاجاتا ہے اور ( اضافت کے ساتھ ) یومئذ پڑھا جاتا ہے اور یہ کسی معین زمانہ کی طرف اشارہ کے لئے آتا ہے اس صورت میں یہ معرب بھی ہوسکتا ہے اور اذ کی طرف مضاف ہونے کی وجہ سے مبنی بھی ۔ جیسے فرمایا : وَأَلْقَوْا إِلَى اللَّهِ يَوْمَئِذٍ السَّلَمَ [ النحل/ 87] اور اس روز خدا کے سامنے سرنگوں ہوجائیں گے ۔ فَذلِكَ يَوْمَئِذٍ يَوْمٌ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–6
ترکیب ¦ اذا شرطیۃ کان والفرق بینھا ان اذا تستعمل فی المقطوع ای اذا اردت التعلیق بما یوجد قطعا تقول اذا بخلاف ان فانھا کان لزلزال یقیناً قال اذا زلزلت فعل مجہول الارض مفعول ما لم یسم فاعلہ زلزالھا زلزال مفعول مطلق مضاف الی الضمیر الراجع الی الارض۔ قال الفراء الزلزال بالکسر مصدر و بالفتح اسم و قال القرطبی بالفتح مصدر کا لو سو اس والقلقا وقیل ھما مصدران وقد قری بھما۔ فالمصدر مضاف الی فاعلہ والمعنی ای حرکت الارض حرکۃ شدیدۃ کما قال اذا رجت الارض رجاً واخرجت الخ الجملۃ معطوفہ علی زلزلت الارض والاثقال جمع ثقل والمراد بہ الد فائن وقال الخ ایضا معطوف ما مبتداء لھا خبر والجملۃ الا ستفھامیۃ مفعول قال…
Read the full tafseer →یَوْمَئِذٍ یَّصْدُرُالنَّاسُ اَشْتَاتًا 5 لا لِّیُرَوْا اَعْمَالَھُمْ ۔ (الزلزال : 6)
(اس روز لوگ پلٹ کر آئیں گے متفرق حالت میں تاکہ ان کو ان کے اعمال دکھا دیئے جائیں۔ )
اس دن ہر شخص اپنی جواب دہی خود کرے گا
یَّصْدُرُ کا اسم فاعل صادر ہے۔ اس سے ملتا جلتا دوسرا لفظ ہے وارد۔ فرق دونوں میں یہ ہے کہ وارد کہتے ہیں نئے آنے والے کو، اور صادر کہتے ہیں لوٹ کر آنے والے کو۔ یہاں ان لوگوں کا تذکرہ ہورہا ہے جو اپنی طبعی عمر گزار کر جا چکے، اب قیامت کے دن وہ جوابدہی کے لیے پلٹ کر آئیں گے۔ اَشْتَاتًا یہ لفظ دو معنوں میں استعمال ہوتا ہے۔ 1 متفرق اور جدا جدا، 2 گروہ در گروہ۔ معلوم ہوتا ہے کہ یہاں دونوں ہی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–8
فہم القرآن
ربط کلام : محشر کے میدان میں لوگوں کے اکٹھا ہونے کیا ہمیت اور ہر کسی کا اپنے اعمال کا سامنا کرنا۔
قرآن مجید اور حدیث رسول میں یہ بات بڑی تفصیل کے ساتھ بیان ہوئی ہے کہ لوگ اپنی قبروں سے نکل کر محشر کے میدان کی طرف جائیں گے۔ لوگوں کے جمع کرنے کے بارے میں قرآن مجید میں دو طرح کی آیات وارد ہوئی ہیں۔
” جس دن صور میں پھونک ماری جائے گی تم گروہ در گروہ نکل آؤ گے۔ “ (النبا : 18)
” قیامت کے دن سب اکیلے اکیلے اس کے سامنے حاضر ہوں گے۔ “ (مریم : 95)
بظاہر ان آیات کے مفہوم میں تعارض اور تقابل نظر آتا ہے لیکن معمولی توجہ کے ساتھ سمجھنے کی کوشش کی جائے تو بات یوں سمجھ میں آتی ہے کہ قبروں سے لوگ…
Read the full tafseer →موقف سے واپسی :
6 : یَوْمَپذٍ یَّصْدُرُ النَّاسُ (اس روز لوگ لوٹیں گے) قبور میں نکلنے کے مقامات سے موقف حساب کی طرف۔ اَشْتَاتًا (مختلف جماعتیں ہو کر) سفید چہرے والے مطمئن لوگوں کی جماعت۔ نمبر 2۔ سیاہ چہرے والے بےچین لوگوں کا گروہ۔ نمبر 2۔ موقف حساب سے متفرق راستوں جنت و دوزخ کی طرف لوٹیں گے۔ لِّیُرَوْا اَعْمَالَھُمْ (تاکہ اپنے اعمال کو دیکھ لیں) اعمال سے جزائے اعمال مراد ہے۔
Read the full tafseer →6 ۔” یومئذ یصدر الناس “ لوگ حساب کے لئے ٹھہرنے کی جگہ سے پیش ہونے کے بعد لوٹیں گے۔ ” اشتاتا “ جدا جدا۔ پس دائیں والے جنت کی طرف جائیں گے اور بائیں والے جہنم کی طرف جیسے اللہ تعالیٰ کا قول ” یومئذ یتفرقون “…” یومئذ یصدعون “ ہے۔ ” لیروا اعمالھم “ تاکہ ان کو ان کے اعمال کی جزاء دکھائی جائے اور معنی یہ ہے کہ وہ موقف سے جدا جدا ہوکر لوٹیں تاکہ وہ اپنی منازل پر اتریں جنت اور جہنم میں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–8
1۔ 8۔ دجال کا پیدا ہونا سورج کا مغرب سے نکلنا۔ لال آندھی کا آنا۔ جس طرح یہ چیزیں دنیا کی مدت اخیر ہونے کی علامتیں ہیں اسی طرح اس وقت ایک زلزلہ بھی لال آندھی کے آنے کے بعد آئے گا جس کا ذکر ترمذی 1 ؎ وغیرہ میں حضرت ابوہریرہ ؓ وغیرہ کی روایت سے آیا ہے اور ایک زلزلہ دوسرا صور پھونکا جائے گا جس آئے گا جس کا ذکر قرآن شریف میں کئی جگہ آیا ہے اس آیت میں جو زلزلہ کا ذکر ہے بعض مفسر کہتے ہیں کہ اس سے پہلا زلزلہ مراد ہے اور بعض کہتے ہیں دوسرا زلزلہ مراد ہے۔ اس زلزلہ کے ساتھ ہی اللہ تعالیٰ نے حساب و کتاب اور زمین کی شہادت کا ذکر فرمایا ہے اور یہ باتیں تو ضرور دوسرے صور کے بعد کی ہیں اس لئے اس زلزلہ سے…
Read the full tafseer →(يَوْمَىِٕذٍ يَّصْدُرُ النَّاسُ ) اس دن لوگ آئیں گے۔ یعنی قیامت کے میدان سے جب اللہ تعالیٰ ان کے درمیان فیصلہ کرے گا ( اَشْتَاتًا) مختلف گروہوں کی صورت میں ( لِّيُرَوْا اَعْمَالَهُمْ ) تاکہ اللہ تعالیٰ ان کو ان کی برائیاں اور نیکیاں دکھائے جو ان سے صادر ہوئی ہیں اور ان کو ان اعمال کی پوری جزا کا مشاہدہ کرائے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–7
(6) روز قیامت کی حاضری اور جوابدہی کا ذکرو بیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اس روز لوگ پلٹیں گے مختلف گروہوں اور جماعتوں کی شکل میں یعنی اپنی اپنی قبروں سے میدان محشر کی طرف تاکہ ہر کوئی اپنے زندگی بھر کے کیے کرائے کا بھرپور صلہ و بدلہ پاس کے، سو یہ سب فوج در فوج اور گروہ در گروہ وہاں پہنچیں گے، جیسا کہ سورة نبا میں ارشاد فرمایا گیا " یوم ینفخ فی الصور فتاتون افواجا۔ ( جس دن پھونک مار دی جائے گی صور میں تو تم تم سب لوگ فوج در فوج امڈے چلے آؤ گے) نیز دوسرا مطلب اس کا یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اس روز مختلف حالتوں میں پلٹیں گے میدان حشر سے اپنے اپنے آخری ٹھکانوں کی طرف داہنے ہاتھ شاداں وفرحاں جنت اور اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–8
قیامت کا واقعہ اعمال کا اندراج اور گواہی
تشریح : یہاں قیامت کا ذکر کرتے ہوئے زمین کے حالات بتائے جا رہے ہیں کہ زمین میں شدید زلزلہ آئے گا، جیسے انڈہ توڑو تو اس کے اندر کا مال سفیدی زردی سب باہر نکل آتا ہے ایسے ہی زمین کا حال ہوگا۔ ہم زمین کے بارے میں کافی بحث کرچکے ہیں۔ مختصراً عرض ہے کہ زمین کی اوپر کی سطح نے اس کے اندر کے سارے مال کو محفوظ کر رکھا ہے۔ وہ مال ہے تیل گیس ' معدنیات ' کوئلہ ' ہیرے اور قیمتی پتھر یہ سب کچھ سمندر کی طرح موجیں مار رہا ہے۔ جس کی نشاندہی قرآن پاک میں کی گئی ہے۔ اور اس کی تصدیق ان آتش فشاں پہاڑوں سے نکلنے والے لاوے سے ہوتی رہتی ہے جو اکثر و بیشتر پہاڑ کی کسی نہ کسی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–8
سورة الزلزال
آیات 1 تا 8۔
اسرار ومعارف۔
جب زمین کو جھنجھوڑ ڈالا جائے گا ، یعنی قیامت قائم ہوگی اور زمین تمام لوگوں کو اور مال وزر کو اگل دے گی یا وہ راز جو بہرحال اس کے پاس محفوظ ہوں گے کھول دے گی تو انسان کہہ اٹھے گا زمین کو کیا ہوگیا اس نے تو سب کچھ بتادیا۔ ہاں ضرور بتائے گی کہ تیرے پروردگار کا حکم اس کو بتانے ہی کا ہوگا اس روز لوگ الگ الگ طبقے اور جماعتیں بن جائیں گے جس طرح کے لوگوں اور کردار کی رفاقت دنیا میں اختیار کی اسی طرح کے گروپوں میں کھڑے ہوں گے کہ اپنے اعمال کے نتائج کو دیکھیں جس کسی نے ذرہ برابر بھی نیکی کی ہوگی وہ اس کا بدلہ پائے گا اس سے علماء نے دلیل اختیار فرمائی ہے کہ جس کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–8
ف 4 یا یہ مطلب ہے کہ ’ حساب کتاب کی جرگہ سے جنت یا دوزخ کی طرف) پلٹیں گے۔ “ الگ الگ کا مطلب یہ ہے کہ ان میں سے کوئی خوفزدہ ہوگا، کوئی بےخوف کسی کا رنگ اہل جنت کا یعنی سید ہوگا اور کسی کا ہل دوزخ کا یعنی سیاہ کوئی دائیں طرف چل رہا ہوگا اور کوئی بائیں طرف یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ کافر ایک گروہ ہوں گے، مشرک ایک گروہ اور منافق ایک گروہ اسی طرح شرابی ایک گروہ ہوں گے، بدکار ایک گروہ چور ایک گرروہ وعلی ہذا القیاس۔5 تاکہ برے عمل والوں کی رسوائی ہو اور نیک عمل والوں کی سرخروئی
Read the full tafseer →(99:6) یومئذ یصدر الناس اشتاتا لیرو اعمالہم : یومئذ۔ پہلے یومئذ سے بدل ہے۔ بمعنی اس روز۔ ان واقعات کے وقوع کے دن۔ یصدر مضارع واحد مذکر غائب صدر (باب نصر، ضرب) سے مصدر بمعنی لوٹنا۔ مڑنا۔ سینہ پر مارنا۔ پانی پی کر گھاٹ سے واپس ہونا۔ صادر۔ چشمہ سے پانی پی کر واپس آنے والا۔ اسم فاعل وارد کی ضد ہے۔
مصدر وہ اسم جس سے تمام افعال اور صفت کے صیغت مشتق ہوتے ہیں۔ اشتاتا۔ جدا جدا۔ طرح طرح۔ شت اور شتات کی جمع ہے ۔ اشتاتا فاعل ہے یصدر کے فاعل سے۔
لیروا۔ لام تعلیل کا ہے یروا ماضی جمع مذکر غائب رؤیۃ (باب فتح) مصدر سے کہ ان کو دکھائے جائیں۔
اعمالہم : مضاف الیہ۔ مل کر یروا کا مفعول مالم یسم فاعلہ۔ اس روز لوگ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–8
لغات القرآن۔
زلزلت۔ ہلاڈالی گئی۔ اثقال۔ بوجھ۔ مالھا ۔ کیا ہوگیا اسے ؟ ۔ تحدت۔ بیان کردے گی۔ اخبر۔ خبریں۔ حالات۔ یصدر۔ باہر نکلنے گا۔ لوٹے گا۔ اشتات۔ مختلف گروہ۔ مثقال ۔ وزن۔ برابر۔ یرہ۔ وہ اس کو دیکھ گا۔
تشریح :
نبی کریم حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے کہ جب زمین پر ایک شخص بھی اللہ اللہ کہنے والا نہ رہے گا تو نظام کائنات کو درہم برہم کرکے ہر چیز پر فنا کی کیفیت طاری کردی جائے گی۔ اسی کو قیامت کہا جاتا ہے جو برحق ہے اور اس کے آنے میں ذرا بھی شک نہیں ہے۔ لیکن پہلا صور پھونکے جانے کے بعد کیا ہوگا اس کو اس سورت میں بیان فرمایا گیا ہے۔ ارشاد ہے کہ جب زمین مسلسل جھٹکوں اور زلزلوں سے ہلا ماری…
Read the full tafseer →(ف 1) یعنی اس روز آدمی اپنی قبروں سے میدان محشر میں طرح طرح کی جماعتیں بن کر حاضر ہوں گے ایک گروہ شرابیوں کا ہوگا ایک زانیوں کا ایک ظالموں کا ایک چوروں کا ایک کافروں کا پھرحساب سے فارغ ہوکرجولوٹیں گے تو کچھ جماعتیں جنتی اور کچھ دوزخی ہوکر جنت اور دوزخ کی طرف چلی جائیں گی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–8
[2] یعنی اس دن لوگ قبروں سے اسی طرح نکلیں گے کہ کسی کے ساتھ نہ ان کے اہل خاندان ہوں گے نہ اعزہ و اقربا اور نہ ان کا جتھا ہوگا اور نہ مزعومہ شرکاء شفعائ، بلکہ ہر شخص اپنے اعمال کی جواب دہی کے لئے اپنے رب کے حضور تنہا حاضر ہوگا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–8
ف 1: سابقہ سورة کا اختتام ان آیتوں پر ہوا تھا کہ منکرین بدترین خلائق ہیں اور ان کو جو سزا ملے گی ۔ وہ بھی بدترین مقام پر فائز ہوں گے ۔ سوال یہ پیدا ہوتا تھا کہ یہ وقت مکافات اور جزا کا کب آئے گا ۔ جب لفخہ ثانیہ کے وقت زمین میں ایک شدید حرکت اور جنبش ہوگی ۔ اور زمین اپنے تمام ذخائر وخزائن اگل دے گی ۔ اس وقت یہ لوگ کہیں گے کہ یہ کیا ہونے والا ہے ۔ اس وقت یہ بےزبان زمین بتائے گی کہ اس کے سینے پر انسانوں نے کیسی معصیت کوشی کی زندگی بسر کی ہے ۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس کو اس نوع کی تلقین کررکھی ہوگی ۔ یہ وہ دن ہوگا جب لوگ گروہ درگروہ موقف حساب سے واپس ہوں گے ۔ وہ لوگ دیکھیں گے کہ ذرہ برابر نیکی جو…
Read the full tafseer →(6) اس دن لوگ مختلف جماعتیں بن کر موقف حساب سے واپس ہوں گے تاکہ ان کو ان کے اعمال دکھائے جائیں۔ یعنی ان کے اعمال کے ثمرات اور نتائج ان کو دکھائے جائیں مطلب یہ ہے کہ موقف حساب سے اس طرح لوٹیں گے کہ بعض جماعتیں دوزخیوں کی ہوں گی اور بعض اہل جنت کی ہونگی، دوزخی دوزخ میں اور جنتی جنت میں چلے جائیں گے تاکہ دوزخی اپنے اعمال کی پاداش بھگتیں اور اہل جنت جنت میں پہنچ کر اپنا صلہ پائیں۔ لیروا اعمالھم کا یہ مطلب ہے کہ جو کچھ دنیا میں کہا ہے اس کا پھل دیکھیں یہ معنی بھی ہوسکتے ہیں کہ قبروں سے نکل کر ان کی ٹولیاں بنادی جائیں۔ ایک ٹولی زانیوں کی ایک شرابیوں کی ایک ٹولی چوروں کی ایک بےنمازیوں کی ایک روز…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–8
ف 3۔ بشرطیکہ اس وقت تک وہ خیر و شر باقی رہی ہو، ورنہ اگر کفر سے وہ خیر فنا ہوچکی ہو یا تو بہ و ایمان سے وہ شر زائل ہوچکا ہو وہ اس میں داخل ہی نہیں کیونکہ وہ خیر نہ رہی اور وہ شر شر نہ رہا، جب مدار حکم نہ رہا حکم بھی ثابت نہ ہوگا۔
Read the full tafseer →آج کے دن لوگ مختلف ہوں گے اور اپنے اعمال کے نتائج کو دیکھیں گے
6 ؎ (یصدر) واحد مذکر غائب مضارع صدر واپس لوٹیں گے۔ صدر سینہ ۔ ہرچیز کا اگلا حصہ سامنے کا حصہ ( مصدر نصر و ضرب) لوٹنا ، لوٹانا ، سینہ پر مارنا ، پانی پی کر گھات پر سے واپس آنا ۔ صادر گھاٹ سے پانی پی کر واپس آنے والا وارد کا مقابل مصدر وہ اسم جس سے تمام افعال اور صفت کے صیغے مشتق ہوتے ہیں اصدار لوٹانا۔ ( اشناتا) جدا جدا ، طرح طرح شت اور شتات کی جمع ہے جس کے معنی پراگندہ اور متفرق ہونے کے ہیں ۔ زمانہ کے حالات کی تصویر سامنے لانے کے لیے وقت کی ایک اکائی تصویر کرلو جس کی مدت بیس ، تیس ، چالیس یا پچاس سال مقرر کرلو اور پھر تجویز کر کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–6
Verse [ 2] وَأَخْرَجَتِ الْأَرْضُ أَثْقَالَهَا (and the earth will bring forth its burdens.) Muslim has recorded in his Sahih from Abu Hurairah ؓ that the Messenger of Allah ﷺ said:
"The earth will throw out the pieces of its liver [ contents ]. Gold and silver will come out like columns. A murderer will come and say: 'I killed for this?' The one who broke the ties of kinship will say: 'For this I severed the ties of kinship?' The thief will say: 'For this I got my hand amputated?' Then they will leave it there, and no one will take anything from it."
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–7
5 This can have two meanings: (1) That each man with present himself in his own individual capacity--families, groups, parties, nations, all will scatter away. This thing has been said at other places also in the Qur'an, e.g., according to Surah Al-An`am 94, Allah on that Day will say to the people "So, you have come before Us all alone, as We created you at first", and in Surah Maryam: "He will appear before Us all alone" (v 80) , and "Everyone of them will be presented before Him individually on the Resurrection Day" (v 95) (2) That the people who during thousands and thousands of years had…
Read the full tafseer →