Az-Zalzala 99:7

Az-Zalzala · from ayah 7

99:7

فَمَنْ یَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَیْرًا یَّرَهٗ ۟ؕفَمَنۡ يَّعۡمَلۡ مِثۡقَالَ ذَرَّةٍ خَيۡرًا يَّرَهٗ

تو جس نے ذرہ بھر نیکی کی ہو گی وہ اس کو دیکھ لے گا

— Fateh Muhammad Jalandhari

So whoever does an atom's weight of good will see it,

— Saheeh International

Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 24 of juz

Read the whole surah · Surah Az-Zalzala

All translations of 99:7

پھر جس نے ذرہ برابر نیکی کی ہوگی وہ اس کو دیکھ لے گا

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

تو جس نے ذرہ بھر نیکی کی ہو گی وہ اس کو دیکھ لے گا

— مولانا فتح محمد جالندہری

پس جس نے ذره برابر نیکی کی ہوگی وه اسے دیکھ لے گا

— مولانا محمد جوناگڑہی

چنانچہ جس نے ذرہ برابر کوئی اچھائی کی ہوگی وہ اسے دیکھے گا۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

جو ایک ذرہ بھر بھلائی کرے اسے دیکھے گا،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

تو جس نے ذرہ بھر نیکی کی ہوگی وہ اسے دیکھ لے گا،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

چناچہ جس نے ذرہ بھر نیکی کی ہوگی وہ اسے دیکھ لے گا

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

پس جس نے ذرہ برابر بھی نیکی کی ہوگی وہ بھی اس کو دیکھے گا

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

پھر جس نے ذرہ برابر کوئی نیکی کی ہوگی وہ اس کو خود دیکھ لے گا

— مولانا اسحاق مدنی

سو جو کوئی ذرہ بھر بھی نیکی کرے گا اسے دیکھ لے گا

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

توجس کسی نے ذرّہ کے ہم وزن بھی کوئی نیکی کی ہوگی وہ اسے دیکھ لے گا۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

تو جس نے ذرہ بھر نیکی کی ہوگی وہ اس کو دیکھ لے گا

— محترمہ رفعت اعجاز

So, whoever does an atom's weight of good shall see it;

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

So, whoever does any good act (even) to the weight of a particle will see it.

— Muhammad Taqi Usmani

So, whoever does any good act (even) to the weight of a particle will see it.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

So, whosoever does good equal to the weight of a speck of dust shall see it.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And whoso doeth good an atom's weight will see it then,

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

So whoever does an atom's weight of good will see it,

— Saheeh International

Whoever has done an atom's weight of good,

— Muhammad Sarwar

So. he who has done an atom's weight of good shall see it

— Muhammad Habib Shakir

Then whosoever hath worked good of an atom's weight shall behold it

— Abdul Majid Daryabadi

Then shall anyone who has done an atom's weight of good, see it!

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 99:7

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 1–8

مرحلہ وار قیامت : زمین اپنے نیچے سے اوپر تک کپکپانے لگے گی اور جتنے مردے اس میں ہیں سب نکال پھینکے گی۔ جیسے اور جگہ ہے (يٰٓاَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوْا رَبَّكُمْ ۚ اِنَّ زَلْزَلَةَ السَّاعَةِ شَيْءٌ عَظِيْمٌ) 22۔ الحج :1) لوگو اپنے رب سے ڈرو یقین مانو کہ قیامت کا زلزلہ اس دن کا بھونچال بڑی چیز ہے اور جگہ ارشاد ہے (وَاِذَا الْاَرْضُ مُدَّتْ ۙ) 84۔ الانشقاق :3) جبکہ زمین کھینچ کھانچ کر برابر ہموار کردی جائیگی اور اس میں جو کچھ ہے وہ اسے باہر ڈال دے گی اور بالکل خالی ہو جائیگی صحیح مسلم شریف میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں زمین اپنے کلیجے کے ٹکڑوں کو اگل دے گی سونا چاندی مل ستونوں کے باہر نکل پڑے…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 6–7

سورة الزلزال 5 اس کے دو معنی ہوسکتے ہیں۔ ایک یہ کہ ہر ایک اکیلا اپنی انفرادی حیثیت میں ہوگا، خاندان، جتھے، پارٹیاں، قومیں سب بکھر جائیں گی۔ یہ بات قرآن مجید میں دوسرے مقامات پر بھی فرمائی گئی ہے۔ مثلا سورة انعام میں ہے کہ اللہ تعالیٰ اس روز لوگوں سے فرمائے گا کہ " لو اب تم ویسے ہی تن تنہا ہمارے سامنے حاضر ہوگئے جیسا ہم نے پہلی مرتبہ تمہیں پیدا کیا تھا " (آیت 94) اور سورة مریم میں فرمایا یہ " اکیلا ہمارے پاس آئے گا " (آیت 80) اور یہ کہ " ان میں سے ہر ایک قیامت کے روز اللہ کے حضور اکیلا حاضر ہوگا " (آیت 95) دوسرے معنی یہ بھی ہوسکتے ہیں کہ وہ تمام لوگ جو ہزار ہا برس کے دوران میں جگہ جگہ مرے تھے،…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

فمن یعمل مثقال ذرة خیراً یرہ، آیت میں خیر سے مراد وہ خیر ہے جو شرعاً معتبر ہے، ینی جو ایمان کے ساتھ ہو بغیر ایمان کے اللہ کے نزدیک کوئی نیک عمل نیک نہیں، یعنی آخرت میں ایسے نیک عمل کا جو حالت کفر میں کیا ہے کوئی اعتبار نہیں ہوگا کہ دنیا میں اس کو اس کا بدلہ دے دیا جائے اسی لئے اس آیت سے اس پر استدلال کیا گیا ہے کہ جس شخص کے دل میں ایک ذرہ برابر ایمان ہوگا وہ بالاخر جہنم سے نکال لیا جاوے گا کیونکہ اس آیت کے وعدہ کے مطابق اس کو اپنی نیکی کا پھل بھی آخرت میں ملنا ضرور ہے اور کوئی بھی نیکی نہ ہو تو خود ایمان بہت بڑی نیکی ہے۔ اس لئے کوئی مومن کتنا ہی گناہگار ہو ہمیشہ جہنم میں نہ رہے گا البتہ کافر…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 7–8

یہ اس اجمال کی تفصیل بیان ہوئی ہے۔ فرمایا کہ جس نے ذرہ کے برابر بھی نیکی کی ہو گی وہ بھی اس کے سامنے آئے گی اور جس نے ذرہ کے برابر برائی کی ہو گی وہ بھی اس کے سامنے آئے گی۔ یہاں یہ امر ملحوظ رہے کہ ہر مومن و کافر کی ہر چھوٹی بڑی نیکی یا بدی اس کے سامنے آئے گی تو ضرور لیکن اس قاعدے کے مطابق آئے گی جو اللہ تعالیٰ نے قرآن کے دوسرے مقامات میں بیان فرمایا ہے یعنی ایک مومن یہ دیکھے گا کہ اس سے نیکیوں کے ساتھ فلاں فلاں غلطیاں بھی صادر ہوئی ہیں لیکن اللہ تعالیٰ نے اس کی فلاں فلاں نیکیوں کو ان کا کفارہ بنا دیا ہے۔ اسی طرح ایک کافر یہ دیکھے گا کہ اس نے بدیوں کے ساتھ کچھ نیک کام بھی کیے ہیں لیکن اس کے…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 7–8

4: بُرائی سے مراد وہ برائی ہے جس سے کسی شخص نے دنیاوی زندگی میں اس سے توبہ نہ کی ہو، کیونکہ سچی توبہ سے گناہ معاف ہو کر ایسے ہوجاتے ہیں جیسے وہ کئے ہی نہیں تھے اور سچی توبہ میں یہ بات بھی داخل ہے کہ جس گناہ کی تلافی ممکن ہو اس کی تلافی بھی کی جائے، مثلاً کسی کا حق ہے تو اسے دیدیا جائے، یا اس سے معاف کرالیا جائے، یا فرائِض چھوٹے ہیں تو ان کی قضا کرلی جائے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 6–7

ایک لمحہ میں ہم دیکھتے ہیں کہ لوگ قبروں سے اٹھتے چلے آرہے ہیں۔ یومئذ .................... اشتاتا (6:99) ” اس روز لوگ متفرق حالت میں پلٹیں گے “۔ ہم دیکھتے ہیں کہ وہ مختلف گروہوں مختلف اطراف سے چلے آرہے ہیں۔ یوں لگتا ہے کہ گویا وہ بکھری ہوئی ٹڈیاں ہیں۔ کانھم .................... منتشر ” گویا کہ یہ لوگ بکھری ہوئی ٹڈیاں ہیں “۔ یہ ایک ایسا منظر ہے جو اس سے قبل انسان نے کبھی نہیں دیکھا ، یہ کہ لوگوں کی نسلیں ، اگلوں پچھلوں کی یہاں سے اور وہاں سے اٹھ رہی ہیں۔ جس طرح دوسری جگہ آیا۔ یوم تشقق .................... سراعا ” وہ دن جبکہ زمین پھٹے گی اور وہ اس میں سے تیزی تیزی سے نکل بھاگیں گے “۔ منظر یوں ہے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 7–8

10 یعنی ہر ایک کا ذرہ ذرہ عمل بھلا ہو یا برا اس کے سامنے ہوگا اور حق تعالیٰ جو کچھ معاملہ ہر ایک عمل کے متعلق فرمائیں گے وہ بھی آنکھوں سے نظر آجائے گا۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 6–7

آیت 6{ یَوْمَئِذٍ یَّصْدُرُ النَّاسُ اَشْتَاتًاج } ”اس دن لوگ علیحدہ علیحدہ ہو کر نکل پڑیں گے“ اَشْتَاتًا جمع ہے شَتٌّکی ‘ یعنی منتشر و متفرق۔ نصب حالیت کی وجہ سے ہے۔ اسی معنی میں یہ لفظ سورة اللیل کی اس آیت میں بھی آیا ہے : { اِنَّ سَعْیَکُمْ لَشَتّٰی۔ } کہ تم انسان بظاہر ایک جیسے نظر آتے ہو لیکن تمہاری سعی و جہد کے رخ بالکل مختلف ہیں۔ { لِّیُرَوْا اَعْمَالَہُمْ۔ } ”تاکہ انہیں ان کے اعمال دکھا دیے جائیں۔“ اس منظر کی ایک جھلک سورة الکہف کی اس آیت میں بھی دکھائی گئی ہے : { وَوُضِعَ الْکِتٰبُ فَتَرَی الْمُجْرِمِیْنَ مُشْفِقِیْنَ مِمَّا فِیْہِ وَیَقُوْلُوْنَ یٰوَیْلَتَنَا مَالِ ہٰذَا الْکِتٰبِ…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 6–7

5 اس آیت کے دو مطلب ہوسکتے ہیں۔ ایک یہ کہ سب انسان متفرق اور الگ ہوجائیں گے اور ہر ایک سے انفرادی طور پر اللہ کے ہاں باز پرس ہوگی۔ اور دوسرا یہ کہ جرائم کی نوعیت کے لحاظ سے ان کے الگ الگ گروہ بن جائیں گے۔ شرابیوں کا گروہ الگ ہوگا، زانیوں کا الگ، چوروں کا الگ، ڈاکوؤں اور لٹیروں کا الگ، غرض ہر انسان اپنے اپنے ہم جنسوں سے مل جائے گا۔ 6 یہاں صرف اعمال کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ یعنی سب قسم کے لوگوں کو ان کے اعمال دکھا دیئے جائیں گے اور اس کی صورت وہی ہوگی جو اوپر مذکور ہوئی۔ یعنی ان کے اعمال کی فلمیں ہر ایک کو دکھا دی جائیں گی۔ تاکہ کسی شک وشبہ کی گنجائش باقی نہ رہے اور اس کا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 7–8

4۔ حدیث نبوی ﷺ میں ان دو 2 آیتوں کیلئے الجامعۃ الفازہ کا لفظ آیا ہے، یعنی جو اصل ان میں بیان کردی گئی ہے وہ جامع اور منفرد ہے، اور اس میں شک نہیں کہ یہ آیتیں قانون مجازات کی تصویر کشی نہایت خوبی وخوش اسلوبی و جامعیت کے ساتھ کررہی ہیں۔ (آیت) ” خیرایرہ “۔ اس اقل قلیل خیر کو بھی جنت میں پالے گا خیر کے خیر باقی رہنے کی شرط یہ ہے کہ اسے کفر سے فناء نہ کردیا گیا ہو۔ (آیت) ” شرا یرہ “۔ اس اقل قلیل شرک کو بھی دوزخ میں پالے گا۔ ” شر “ کے شر باقی رہنے کی شرط یہ ہے کہ اسے توبہ اور ایمان سے زائل نہ کردیا گیا ہو۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 2–8

واخرجت الارض اثقالھا اسی مضمون کو سورة انشقاق میں اس طرح بیان فرمایا گیا ہے ” والقت مافیھا وتخلت ‘ اور جو کچھ اس کے اندر ہے اسے باہر پھینک کر خالی ہوجائے گی، اس کے متعدد مطلب ہیں، ایک یہ کہ مرے ہوئے انسان زمین کے اندر جہا اور جس شکل میں بھی پڑے ہوں گے ان سب کو وہ نکال کر باہر پھینک دے گی، اس مفہوم پر بعد کا فقرہ یعنی ” وقال الانسان مالھا “ دلالت کررہا ہے، یعنی انسانی منتشر اجزاء جمع ہو کر ازسرنو اسی شکل و صورت میں جمع ہوجائیں گے، جس میں وہ دنیوی زندگی کی حالت میں تھے، کیونکہ اگر ایسا نہ ہو تو وہ یہ کیسے کہیں گے کہ زمین کو یہ کیا ہو رہا ہے ؟ دوسرا مطلب یہ ہے کہ صرف مردہ انسانوں ہی کو باہر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

فمن یعمل . یہاں سے آخر سورت تک لیروا کی تفصیل ہے۔ ابن ابی حاتم نے سعید بن جبیر کا قول نقل کیا ہے کہ جب آیت : ویطعمون الطعام علٰی حبہ ..... نازل ہوئی تو مسلمانوں کا خیال ہوا کہ اگر ہم کو کچھ تھوڑی سی چیز (راہ خدا میں) دیں گے تو اس کا اجر نہیں ملے گا۔ کچھ دوسرے لوگوں کا خیال ہوا کہ اگر کوئی حقیر سا گناہ ہوجائے مثلاً کوئی جھوٹی بات یا نامحرم پر ایک نظر تو اس پر عذاب نہ ہوگا وعید عذاب تو بڑے گناہوں کے لیے ہے ‘ اس پر اللہ نے مذکورہ آیت نازل فرمائی۔ مثقال ذرۃ خیر یرہ . یعنی جو شخص چھوٹی چیونٹی کے وزن کی برابر یا اس سے بھی کم نیکی کرے گا تو اس کے سامنے آئے گی (نملہ چھوٹی چیونٹی۔ یہاں حقیر وزن مراد…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 7–8

(7۔ 8) کچھ لوگوں کا خیال تھا کہ معمولی سی نیکی پر ثواب نہیں ملتا اور چھوٹے گناہ پر گرفت نہیں ہوتی تو اللہ تعالیٰ نے ان کو معمولی نیکی ترغیب دی اور چھوٹے گناہ سے بھی خوف دلایا ہے کہ جو شخص ذرہ برابر نیکی کرے گا وہ اس کو اپنے نامہ اعمال میں دیکھ لے گا جس سے خوش ہوگا یا یہ کہ مومن اپنی نیکی کا صلہ آخرت میں اور کافر دنیا میں دیکھ لے گا اور جو شخص ذرہ برابر بھی بدی اور گناہ کرے گا وہ اس کو اپنے نامہ اعمال میں دیکھ لے گا جس سے غمگین ہوگا یا یہ کہ مومن اسے دنیا میں اور کافر آخرت میں دیکھ لے گا۔ شان نزول : وَمَنْ يَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا يَّرَهٗ الخ ابن ابی حاتم نے سعید بن جبیر سے روایت کیا…

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 7–8

8(1) فمن یعمل مثقال ذرۃ…:”یرہ“ اصل میں ”یراہ“ ہے، جو ”رای یری رویۃ“ کا فعل مضارع ہے،”فمن یعمل“ شرط کی جزا ہونے کی وجہ سے مجزوم ہے، اسلئے الف حذف ہوگیا۔”ذرۃ“ بکھرے ہوئے غبار کا چھوٹے سے چھوٹا حصہ جو روشن دان میں سورج کی شعاعوں سے چمکتا ہوا نظر آتا ہے۔ چھوٹی چیوٹنی کو بھی ”ذرہ“ کہتے ہیں کافر ہو یا مسلمان، ذرہ بھر نیکی کی ہوگی تو دیکھ لے گا اور ذرہ بھر برائی کی ہوگی تو دیکھ لے گا، اعمال کے دفتر سے کوئی چیز غائب نہیں ہوگی۔ جیسا کہ فرمایا، (ووجدواما عملوا حاضراً ولا یظلم ربک احداً) (الکھف : 39)”اور انہوں نے کیا اسے حاضر پائیں گے اور تیرا رب کسی پر ظلم نہیں کرتا۔“ البتہ اعمال کی جزا اللہ تعالیٰ کے…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 7–8

پس جس نے ذرہ برابر بھی نیکی کی ہوگی وہ اسے دیکھ لے گا، اور جس نے ذرہ برابر برائی کی ہوگی وہ (بھی) اسے دیکھ لے گا۔ اس میں تین مسائل ہیں : قیامت کے دن خیر و شر کو دیکھنے کے اعتبار سے مومن و کافر کا فرق : مسئلہ نمبر 1 : فمن یعمل مثقال ذرۃ خیرا یرہ۔ حضرت ابن عباس کہا کرتے تھے : کافروں میں سے جو رائی کے دانہ کے برابر اچھا عمل کرے گا وہ اس کی جزا دنیا میں دیکھ لے گا، آخرت میں اسے کوئی ثواب نہیں دیا جائے گا اور جس نے رائی کے دانہ برابر برائی کی اسے آخرت میں سزا دی جائے گی ساتھ ساتھ شرک کی سزا بھی دی جائے گی۔ مومنین میں سے جس نے ذرہ برابر برائی کی ہوگی وہ اس کی سزا دنیا میں دیکھ لے گا جب وہ مرے گا تو…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 1–8

1۔ ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ سورة اذا زلزلت مدینہ میں نازل ہوئی 2۔ ابن مردویہ نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ اذا زلزلت مدینہ میں نازل ہوئی۔ 3۔ احمد وابوداوٗد والنسائی والحاکم وصححہ وابن مردویہ اور بیہقی نے شعب الایمان میں عبداللہ بن عمرو ؓ سے روایت کیا کہ ایک آدمی رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اور کہنے لگا یا رسول اللہ ! مجھے کچھ پڑھا دیجیے آپ نے فرمایا ” المر “ والی تین سورتیں پڑھ۔ اس نے کہا میں بوڑھا ہوگیا ہوں دل بھی سخت ہوگیا ہے اور زبان بھی موٹی ہوگئی ہے یعنی سخت کلامی پر اتر آئی ہے۔ آپ نے فرمایا حم والی تین سورتیں پڑھ۔ اس نے پھر پہلے کی طرح کہا۔ آپ نے فرمایا تین سورتیں مسجلات میں سے…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[فَمَنْ يَّعْمَلْ : پس جس نے (بھی) عمل کیا ][ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا : کسی ذرہ کے ہم وزن کسی بھلائی کا ][ يَّرَهٗ : تو وہ دیکھ لے گا اس کو ] (آیت۔ 7) مَنْ شرطیہ ہے۔ اس لیے یَعْمَلْ مجزوم آیا ہے۔ یَرٰی جواب شرط ہونے کی وجہ سے مجزوم ہوا تو اس کی یا گرگئی۔ ترجمہ جملہ شرطیہ کے لحاظ سے ہوگا۔ یَعْمَلْ کا مفعول خَیْرًا ہے جو نکرہ مخصوصہ ہے۔ مِثْقَالَ ذَرَّۃٍ اس کی خصوصیت مقدم ہے۔ نوٹ 3: آیت۔ 7 ۔ میں خیر سے مراد وُہ خیر ہے جو شرعاً معتبر ہے یعنی جو ایمان کے ساتھ ہو۔ بغیر ایمان کے کوئی نیک عمل اللہ کے نزدیک نیک نہیں یعنی آخرت میں ایسے نیک عمل کا جو حالت کفر میں کیا گیا تھا، کوئی اعتبار نہیں ہوگا،…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 7–8

پھر اس اجمال کی تفصیل بیان فرمائی (گوہ وہ تفصیل بھی اجمال کو لیے ہوئے ہے جو بڑی محکم اور فیصلہ کن بات کرنے والی ہے) ارشاد فرمایا ﴿ فَمَنْ يَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَّرَهٗؕ007 ﴾ (سو جو شخص ذرہ برابر بھی کوئی خیر کا کام کرے گا اسے دیکھ لے گا اور جنت میں نعمتوں سے نوازا جائے گا) ۔ ﴿وَ مَنْ يَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا يَّرَهٗ (رح) 008﴾ (اور جس شخص نے ایک ذرہ برابر کوئی شر (یعنی برائی) کا کام کیا وہ اس کو دیکھ لے گا) یعنی اس کی سزا پالے گا اور اپنے کیے کا انجام دیکھ لے گا۔ ان دونوں آیتوں میں خیر اور شر اور اصحاب خیر اور اصحاب شر کے بارے میں دو ٹوک فیصلہ فرمایا ہے ایمان ہو یا کفر،…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–8

حوادث وزلازل بوقت وقوع قیامت : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” اذا زلزلت الارض زلزالھا ........ الی ........ ذرۃ شرایرہ “۔ (ربط) گزشتہ سورت کا مضمون اہل سعادت وشقاوت کے اعمال وافعال اور ان کے انجام پر مشتمل تھا اور اصول سعادت اور حق تعالیٰ کے انعامات کے استحقاق کی بنیاد یہ بیان کی گئی تھی کہ وہ خشیت خداوندی ہے اور (آیت) ” ذلک لمن خشی ربہ “۔ فرما کر اس حقیقت کو واضح کردیا گیا تھا، اب اس سورت میں سعادت وشقاوت کے ثمرات مرتب ہونے کا وقت بتایا جارہا ہے کہ وہ قیامت ہے اور قیامت کا قائم ہونا، نظام عالم کا درہم برہم ہوجانا ہے اور وہی دن زندگی کے اعمال کا محاسبہ کرتا رہے اور اللہ رب العزت کی بارگاہ میں…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 7–8

6:۔ ” فمن یعمل “ نیک و بد کی تفصیل ہے جس نے ذرہ بھر نیکی کی ہوگی اس کو اس کی بھی جزاء ملے گی اور وہ اس کی جزاء وہاں دیکھ لے گا اور جس نے ذرہ بھر برائی کی ہوگی وہ بھی اس کی جزاء دیکھ لے گا بشرطیکہ عفو نہ کیا گیا ہو۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 1–8

موضوع اس سورة کا موضوع جزائے عمل ہے اگرچہ سورة تو مختصر ہے تاہم موضوع کے لحاظ سے جامع اور مانع سورة ہے۔ اس سورة میں اس بات کی وضاحت کی گئی ہے کہ جو بھی اعمال اس دنیا میں کرتا ہے ان کی جزاء لازم ہے۔ جس طرح انسان کوئی چیز کھاتا ہے تو اس کے نتیجے میں بدہضمی پیدا ہوتی ہے۔ اسی طرح انسان جو عمل کرتا ہے۔ اس کے ساتھ اس کی جزاء بھی لازم ہے ، جس طرح پیدائش کے ساتھ موت لازم ہے اور جس طرح طلوع کے ساتھ غروب لازم ہے۔ ایسے ہی عمل کے ساتھ جزائے عمل کا ہونا ضروری ہے۔ اس سورة مبارکہ میں یہی بات سمجھائی گئی ہے۔ فضیلت حدیث پاک میں اس سورة کی بہت فضیلت آئی ہے۔ ایک شخص حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

فَمَنْ يَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّۃٍ خَيْرًا يَّرَہٗ۝ 7 ۭ عمل العَمَلُ : كلّ فعل يكون من الحیوان بقصد، فهو أخصّ من الفعل لأنّ الفعل قد ينسب إلى الحیوانات التي يقع منها فعل بغیر قصد، وقد ينسب إلى الجمادات، والعَمَلُ قلّما ينسب إلى ذلك، ولم يستعمل العَمَلُ في الحیوانات إلّا في قولهم : البقر العَوَامِلُ ، والعَمَلُ يستعمل في الأَعْمَالِ الصالحة والسّيّئة، قال : إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحاتِ [ البقرة/ 277] ( ع م ل ) العمل ہر اس فعل کو کہتے ہیں جو کسی جاندار سے ارادۃ صادر ہو یہ فعل سے اخص ہے کیونکہ فعل کا لفظ کبھی حیوانات کی طرف بھی منسوب کردیتے ہیں جن سے بلا قصد افعال سر زد ہوتے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 7–8

ترکیب ¦ الفاء للتفسیر من موصولۃ مبتدء خبر منصوب علی انہ تمیز من مثقال ذرۃ یرہ خبرہ ویمکن ان تکون من شرطیۃ یرہ جواب الشرط و قیل خیرا بدل من مثقال ذرۃ قراء الجمھوریرہ فی الموضعین بضم الھاء وصلاً و سکونھا وقفاً وقرء ہشام بسکونھا وقفًا و قرء ہشام بسکونھا وقفًا ود صلاً و قز المجھور ہر فی الموضعین مبینا للفاعل وقریٔ مبینا للمفعول ای یریہ اللہ ایاہ وقرئیراہ علی تو ھم ان من موصولۃ او علی تقدیر الجزم بخدف الحرکۃ المقدرۃ فی الفعل۔ مثقال بالکسر سنگ زرودینار صراح ای زنۃ ذرۃ۔ والذرۃ ھوان یضرب الرجل بیدہ علی الارض فما علق من التراب فھو ذرہّ وقیل ما یریٰ فی شعاع الشمس من الھباء۔ تفسیر ¦ اب اعمال دیکھنے کی…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 7–8

فَمَنْ یَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّۃٍ خَیْرًا یَّرَہٗ ۔ وَمَنْ یَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّۃٍ شَرًّا یَّرَۃٗ ۔ (الزلزال : 7، 8) (اور جس نے ذرہ برابر بھی نیکی کی ہوگی، وہ اس کو دیکھ لے گا۔ اور جس نے ذرہ برابر بدی کی ہوگی، وہ بھی اسے دیکھے گا۔ ) ہر چھوٹا بڑا عمل سامنے آجائے گا اس آیت کے مفہوم کا ایک پہلو وہ ہے جس کا تعلق ہر شخص کے احساسِ ذمہ داری سے ہے۔ اور دوسرا اس کا مفہوم وہ ہے جس کا تعلق اسلام کے قانونِ جزا و سزا سے ہے۔ جہاں تک احساس کا تعلق ہے اس حوالے سے یہاں یہ فرمایا جارہا ہے کہ انسان ایک ذمہ دار مخلوق ہے جو اپنے ہر اچھے یا برے کام کے لیے اللہ تعالیٰ کے سامنے جوابدہ ہے۔ جسے لپیٹ کر ایک جگہ…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 6–8

فہم القرآن ربط کلام : محشر کے میدان میں لوگوں کے اکٹھا ہونے کیا ہمیت اور ہر کسی کا اپنے اعمال کا سامنا کرنا۔ قرآن مجید اور حدیث رسول میں یہ بات بڑی تفصیل کے ساتھ بیان ہوئی ہے کہ لوگ اپنی قبروں سے نکل کر محشر کے میدان کی طرف جائیں گے۔ لوگوں کے جمع کرنے کے بارے میں قرآن مجید میں دو طرح کی آیات وارد ہوئی ہیں۔ ” جس دن صور میں پھونک ماری جائے گی تم گروہ در گروہ نکل آؤ گے۔ “ (النبا : 18) ” قیامت کے دن سب اکیلے اکیلے اس کے سامنے حاضر ہوں گے۔ “ (مریم : 95) بظاہر ان آیات کے مفہوم میں تعارض اور تقابل نظر آتا ہے لیکن معمولی توجہ کے ساتھ سمجھنے کی کوشش کی جائے تو بات یوں سمجھ میں آتی ہے کہ قبروں سے لوگ…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

7 : فَمَنْ یَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّۃٍ (پس جو شخص ذرہ برابر نیکی کرے گا) ذرۃؔ: چھوٹی چیونٹی۔ خَیْرًا یَّرَہٗ (بھلائی وہ اس کو دیکھ لے گا) نحو : خیراً یہ تمیز ہے یرہؔ اس عمل کا بدلہ دیکھ لے گا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

7 ۔” فمن یعمل مثقال ذرۃ “ چھوٹی چیونٹی کے وزن کے برابر۔ یہ عام چیونٹی سے بھی بہت چھوٹی ہوتی ہے۔ ” خیرایرہ “۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 1–8

1۔ 8۔ دجال کا پیدا ہونا سورج کا مغرب سے نکلنا۔ لال آندھی کا آنا۔ جس طرح یہ چیزیں دنیا کی مدت اخیر ہونے کی علامتیں ہیں اسی طرح اس وقت ایک زلزلہ بھی لال آندھی کے آنے کے بعد آئے گا جس کا ذکر ترمذی 1 ؎ وغیرہ میں حضرت ابوہریرہ ؓ وغیرہ کی روایت سے آیا ہے اور ایک زلزلہ دوسرا صور پھونکا جائے گا جس آئے گا جس کا ذکر قرآن شریف میں کئی جگہ آیا ہے اس آیت میں جو زلزلہ کا ذکر ہے بعض مفسر کہتے ہیں کہ اس سے پہلا زلزلہ مراد ہے اور بعض کہتے ہیں دوسرا زلزلہ مراد ہے۔ اس زلزلہ کے ساتھ ہی اللہ تعالیٰ نے حساب و کتاب اور زمین کی شہادت کا ذکر فرمایا ہے اور یہ باتیں تو ضرور دوسرے صور کے بعد کی ہیں اس لئے اس زلزلہ سے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 7–8

(فَمَنْ يَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَّرَهٗ ۔ وَمَنْ يَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا يَّرَهٗ ) پس جس نے ذرہ بھر نیکی کی ہوگی وہ اس کو دیکھ لے گا اور جس نے ذرہ بھر برائی کی ہوگی وہ اسے دیکھ لے گا یہ خیرو شر کے تمام اعمال کو شامل ہے کیونکہ جب وہ ذرہ بھر وزن کو دیکھ سکے گا جو حقیر ترین چیز ہے اسے اس کی جزا بھی دی جائے گی تب وہ اعمال جو وزن میں اس سے زیادہ ہوں گے ان کا دکھا دینا تو زیادہ اولی ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا (یوم تجد کل نفس ماعملت۔۔ تا۔۔۔۔ بعیدا۔ آل عمران۔ 30) جس دن ہر شخص اپنے بھلائی کے عمل اور برائی کے عمل کو موجود پائے گا اور تمنا کرے گا کہ کاش، برائیوں اور اس کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 6–7

(6) روز قیامت کی حاضری اور جوابدہی کا ذکرو بیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اس روز لوگ پلٹیں گے مختلف گروہوں اور جماعتوں کی شکل میں یعنی اپنی اپنی قبروں سے میدان محشر کی طرف تاکہ ہر کوئی اپنے زندگی بھر کے کیے کرائے کا بھرپور صلہ و بدلہ پاس کے، سو یہ سب فوج در فوج اور گروہ در گروہ وہاں پہنچیں گے، جیسا کہ سورة نبا میں ارشاد فرمایا گیا " یوم ینفخ فی الصور فتاتون افواجا۔ ( جس دن پھونک مار دی جائے گی صور میں تو تم تم سب لوگ فوج در فوج امڈے چلے آؤ گے) نیز دوسرا مطلب اس کا یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اس روز مختلف حالتوں میں پلٹیں گے میدان حشر سے اپنے اپنے آخری ٹھکانوں کی طرف داہنے ہاتھ شاداں وفرحاں جنت اور اس…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 1–8

قیامت کا واقعہ اعمال کا اندراج اور گواہی تشریح : یہاں قیامت کا ذکر کرتے ہوئے زمین کے حالات بتائے جا رہے ہیں کہ زمین میں شدید زلزلہ آئے گا، جیسے انڈہ توڑو تو اس کے اندر کا مال سفیدی زردی سب باہر نکل آتا ہے ایسے ہی زمین کا حال ہوگا۔ ہم زمین کے بارے میں کافی بحث کرچکے ہیں۔ مختصراً عرض ہے کہ زمین کی اوپر کی سطح نے اس کے اندر کے سارے مال کو محفوظ کر رکھا ہے۔ وہ مال ہے تیل گیس ' معدنیات ' کوئلہ ' ہیرے اور قیمتی پتھر یہ سب کچھ سمندر کی طرح موجیں مار رہا ہے۔ جس کی نشاندہی قرآن پاک میں کی گئی ہے۔ اور اس کی تصدیق ان آتش فشاں پہاڑوں سے نکلنے والے لاوے سے ہوتی رہتی ہے جو اکثر و بیشتر پہاڑ کی کسی نہ کسی…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–8

سورة الزلزال آیات 1 تا 8۔ اسرار ومعارف۔ جب زمین کو جھنجھوڑ ڈالا جائے گا ، یعنی قیامت قائم ہوگی اور زمین تمام لوگوں کو اور مال وزر کو اگل دے گی یا وہ راز جو بہرحال اس کے پاس محفوظ ہوں گے کھول دے گی تو انسان کہہ اٹھے گا زمین کو کیا ہوگیا اس نے تو سب کچھ بتادیا۔ ہاں ضرور بتائے گی کہ تیرے پروردگار کا حکم اس کو بتانے ہی کا ہوگا اس روز لوگ الگ الگ طبقے اور جماعتیں بن جائیں گے جس طرح کے لوگوں اور کردار کی رفاقت دنیا میں اختیار کی اسی طرح کے گروپوں میں کھڑے ہوں گے کہ اپنے اعمال کے نتائج کو دیکھیں جس کسی نے ذرہ برابر بھی نیکی کی ہوگی وہ اس کا بدلہ پائے گا اس سے علماء نے دلیل اختیار فرمائی ہے کہ جس کے…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 6–8

ف 4 یا یہ مطلب ہے کہ ’ حساب کتاب کی جرگہ سے جنت یا دوزخ کی طرف) پلٹیں گے۔ “ الگ الگ کا مطلب یہ ہے کہ ان میں سے کوئی خوفزدہ ہوگا، کوئی بےخوف کسی کا رنگ اہل جنت کا یعنی سید ہوگا اور کسی کا ہل دوزخ کا یعنی سیاہ کوئی دائیں طرف چل رہا ہوگا اور کوئی بائیں طرف یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ کافر ایک گروہ ہوں گے، مشرک ایک گروہ اور منافق ایک گروہ اسی طرح شرابی ایک گروہ ہوں گے، بدکار ایک گروہ چور ایک گرروہ وعلی ہذا القیاس۔5 تاکہ برے عمل والوں کی رسوائی ہو اور نیک عمل والوں کی سرخروئی

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(99:7) فمن یعمل مثقال ذرۃ خیرا یرہ (یہاں سے لے کر اخیر سورة تک لیروا کی تفسیر ہے) ۔تفسیریہ ہے من شرطیہ۔ من یعمل مثقال ذرۃ جملہ شرطیہ۔ یرہ جواب شرط۔ مثقال اسم مفرد۔ مثاقیل جمع۔ ہموزن ، برابر۔ ثقل مادہ۔ تقیل بھاری۔ وزنی۔ مضاف۔ ذرۃ۔ ذرہ جمع ذرات۔ چھوٹی چیونٹی۔ ذرہ کے ہم وزن نیکی، چھوٹی چیونٹی کے ہم وزن۔ مضاف الیہ۔ مضاف مضاف الیہ مل کر یعمل کا مفعول۔ خیرا۔ مثقال ذرۃ کا بدل۔ ذرہ کے ہموزن نیکی۔ پھر جس نے بھی ذرہ بھر نیکی کی۔ (جملہ شرطیہ) یرہ : میں ہ ضمیر مفعول واحد مذکر غائب جس کا مرجع خیرا ہے۔ وہ اسے دیکھ لے گا۔ (جواب شرط)

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–8

لغات القرآن۔ زلزلت۔ ہلاڈالی گئی۔ اثقال۔ بوجھ۔ مالھا ۔ کیا ہوگیا اسے ؟ ۔ تحدت۔ بیان کردے گی۔ اخبر۔ خبریں۔ حالات۔ یصدر۔ باہر نکلنے گا۔ لوٹے گا۔ اشتات۔ مختلف گروہ۔ مثقال ۔ وزن۔ برابر۔ یرہ۔ وہ اس کو دیکھ گا۔ تشریح : نبی کریم حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے کہ جب زمین پر ایک شخص بھی اللہ اللہ کہنے والا نہ رہے گا تو نظام کائنات کو درہم برہم کرکے ہر چیز پر فنا کی کیفیت طاری کردی جائے گی۔ اسی کو قیامت کہا جاتا ہے جو برحق ہے اور اس کے آنے میں ذرا بھی شک نہیں ہے۔ لیکن پہلا صور پھونکے جانے کے بعد کیا ہوگا اس کو اس سورت میں بیان فرمایا گیا ہے۔ ارشاد ہے کہ جب زمین مسلسل جھٹکوں اور زلزلوں سے ہلا ماری…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

(ف 2) یعنی میدان حشر میں ان کے عمل دکھلادیے جائیں گے تاکہ بدکاروں کو ایک طرح کی رسوائی اور نیکوکاروں کو ایک قسم کی سرخروئی حاصل ہو۔

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 6–8

[2] یعنی اس دن لوگ قبروں سے اسی طرح نکلیں گے کہ کسی کے ساتھ نہ ان کے اہل خاندان ہوں گے نہ اعزہ و اقربا اور نہ ان کا جتھا ہوگا اور نہ مزعومہ شرکاء شفعائ، بلکہ ہر شخص اپنے اعمال کی جواب دہی کے لئے اپنے رب کے حضور تنہا حاضر ہوگا۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 1–8

ف 1: سابقہ سورة کا اختتام ان آیتوں پر ہوا تھا کہ منکرین بدترین خلائق ہیں اور ان کو جو سزا ملے گی ۔ وہ بھی بدترین مقام پر فائز ہوں گے ۔ سوال یہ پیدا ہوتا تھا کہ یہ وقت مکافات اور جزا کا کب آئے گا ۔ جب لفخہ ثانیہ کے وقت زمین میں ایک شدید حرکت اور جنبش ہوگی ۔ اور زمین اپنے تمام ذخائر وخزائن اگل دے گی ۔ اس وقت یہ لوگ کہیں گے کہ یہ کیا ہونے والا ہے ۔ اس وقت یہ بےزبان زمین بتائے گی کہ اس کے سینے پر انسانوں نے کیسی معصیت کوشی کی زندگی بسر کی ہے ۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس کو اس نوع کی تلقین کررکھی ہوگی ۔ یہ وہ دن ہوگا جب لوگ گروہ درگروہ موقف حساب سے واپس ہوں گے ۔ وہ لوگ دیکھیں گے کہ ذرہ برابر نیکی جو…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 5–8

ف 3۔ بشرطیکہ اس وقت تک وہ خیر و شر باقی رہی ہو، ورنہ اگر کفر سے وہ خیر فنا ہوچکی ہو یا تو بہ و ایمان سے وہ شر زائل ہوچکا ہو وہ اس میں داخل ہی نہیں کیونکہ وہ خیر نہ رہی اور وہ شر شر نہ رہا، جب مدار حکم نہ رہا حکم بھی ثابت نہ ہوگا۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

جس نے ذرہ برابر نیکی کی ہوگی وہ اسے دیکھ لے گا 7 ؎ گزشتہ آیت میں بیان کیے گئے اصول کی مزید وضاحت کی جا رہی ہے اور قرآن کریم نے یہ مضمون متعددمقامات پر بیان کیا ہے کہ انسان ایک ذمہ دار مخلوق ہے۔ وہ جو بھی اچھے یا برے اعمال کرتا ہے اس کے لیے جوابدہ ہے۔ قرآن کریم کہتا ہے کہ یہ انسان کی سخت غلطی ہے کہ دو دوسرے جانوروں اور حیوانوں کی طرح اپنے آپ کو عبث اور بےکار مخلوق خیال کرتا ہے ۔ اس کی وضاحت ہم نے عروۃ الوثقیٰ ، جلد ششم سورة المؤمنون کی آیت 115 میں تفصیل سے بیان کردی ہے وہاں سے ملاحظہ کریں اور اگر مزید وضاحت چاہتے ہوں تو اس کے لیے آپ کو عروۃ الوثقیٰ ، جلد پنجم سورة الاسراء کی آیت 36 کی تفسیر…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Verse [ 7] فَمَن يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّ‌ةٍ خَيْرً‌ا يَرَ‌هُ (So, whoever does good [ even ] to the weight of a particle shall see it.) The word 'good' here refers to what is good in terms of Shari` ah, that is, only a good deed done in the wake of faith is recognized by Allah. Any good deed done in the state of disbelief is not recognized, and consequently it will not be rewarded in the Hereafter, though it might have been rewarded in this world. It is argued on the basis of this verse that anyone who has an atom's weight of faith will eventually be taken out of Hell. The reason being that,…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 6–7

5 This can have two meanings: (1) That each man with present himself in his own individual capacity--families, groups, parties, nations, all will scatter away. This thing has been said at other places also in the Qur'an, e.g., according to Surah Al-An`am 94, Allah on that Day will say to the people "So, you have come before Us all alone, as We created you at first", and in Surah Maryam: "He will appear before Us all alone" (v 80) , and "Everyone of them will be presented before Him individually on the Resurrection Day" (v 95) (2) That the people who during thousands and thousands of years had…

Read the full tafseer →