Az-Zalzala 99:8

Az-Zalzala · from ayah 8

99:8

وَمَنْ یَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا یَّرَهٗ ۟۠وَمَنۡ يَّعۡمَلۡ مِثۡقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا يَّرَهٗ

اور جس نے ذرہ بھر برائی کی ہوگی وہ اسے دیکھ لے گا

— Fateh Muhammad Jalandhari

And whoever does an atom's weight of evil will see it.

— Saheeh International

Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 24 of juzع

Read the whole surah · Surah Az-Zalzala

All translations of 99:8

اور جس نے ذرہ برابر بدی کی ہوگی وہ اس کو دیکھ لے گا

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور جس نے ذرہ بھر برائی کی ہوگی وہ اسے دیکھ لے گا

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور جس نے ذره برابر برائی کی ہوگی وه اسے دیکھ لے گا

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور جس نے ذرہ برابر کوئی برائی کی ہوگی، وہ اسے دیکھے گا۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور جو ایک ذرہ بھر برائی کرے اسے دیکھے گا

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور جس نے ذرہ بھر برائی کی ہوگی وہ اسے (بھی) دیکھ لے گا،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور جس نے ذرہ بھر بدی کی ہوگی وہ (بھی) اسے دیکھ لے گا

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور جس نے ذرہ برابر بدی کی ہوگی وہ بھی اسے دیکھے گا

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور جس نے ذرہ برابر کوئی برائی کی ہوگی تو وہ بھی اس کو دیکھ لے گا

— مولانا اسحاق مدنی

اور جس کسی نے ذرہ بھر بھی بدی کی ہوگی اسے بھی دیکھ لے گا۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور جس کسی نے ذرّہ کے ہم وزن کوئی بدی کی ہوگی وہ بھی اسے دیکھ لے گا۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور جس نے ذرہ بھر برائی کی ہوگی وہ اس کو دیکھ لے گا

— محترمہ رفعت اعجاز

and whoever does an atom's weight of evil shall see it.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

And whoever does evil (even) to the weight of a particle will see it.

— Muhammad Taqi Usmani

And whoever does evil (even) to the weight of a particle will see it.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And whosoever does evil equal to the weight of a speck of dust shall see it.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And whoso doeth ill an atom's weight will see it then.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And whoever does an atom's weight of evil will see it.

— Saheeh International

will see it and whoever has done an atom's weight of evil, will also see it.

— Muhammad Sarwar

And he who has done an atom's weight of evil shall see it.

— Muhammad Habib Shakir

And whosoever hath worked ill Of an atom's weight shall behold it.

— Abdul Majid Daryabadi

And anyone who has done an atom's weight of evil, shall see it.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 99:8

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 1–8

مرحلہ وار قیامت : زمین اپنے نیچے سے اوپر تک کپکپانے لگے گی اور جتنے مردے اس میں ہیں سب نکال پھینکے گی۔ جیسے اور جگہ ہے (يٰٓاَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوْا رَبَّكُمْ ۚ اِنَّ زَلْزَلَةَ السَّاعَةِ شَيْءٌ عَظِيْمٌ) 22۔ الحج :1) لوگو اپنے رب سے ڈرو یقین مانو کہ قیامت کا زلزلہ اس دن کا بھونچال بڑی چیز ہے اور جگہ ارشاد ہے (وَاِذَا الْاَرْضُ مُدَّتْ ۙ) 84۔ الانشقاق :3) جبکہ زمین کھینچ کھانچ کر برابر ہموار کردی جائیگی اور اس میں جو کچھ ہے وہ اسے باہر ڈال دے گی اور بالکل خالی ہو جائیگی صحیح مسلم شریف میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں زمین اپنے کلیجے کے ٹکڑوں کو اگل دے گی سونا چاندی مل ستونوں کے باہر نکل پڑے…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الزلزال 7 اس ارشاد کا ایک سیدھا سادھا مطلب تو یہ ہے اور یہ بالکل صحیح ہے کہ آدمی کی کوئی ذرہ برابر نیکی یا بدی بھی ایسی نہیں ہوگی جو اس کے نامہ اعمال میں درج ہونے سے رہ گئی ہو، اسے وہ بہرحال دیکھ لے گا۔ لیکن اگر دیکھنے سے مراد اس کی جزا و سزا دیکھنا لیا جائے تو اس کا یہ مطلب لینا بالکل غلط ہے کہ آخرت میں ہر چھوٹی سے چھوٹی نیکی کی جزا اور ہر چھوٹی سے چھوٹی بدی کی سزا ہر شخص کو دی جائے گی، اور کوئی شخص بھی وہاں اپنی کسی نیکی کی جزا اور کسی بدی کی سزا پانے سے نہ بچے گا۔ کیونکہ تو اس کے معنی یہ ہوں گے کہ ایک ایک برے عمل کی سزا اور ایک ایک اچھے عمل کی جزا الگ الگ دی جائے گی۔ دوسرے اسکے معنی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

ومن یعمل مثقال ذرة سرایرہ مراد اس سے وہ شر ہے جس سے اپنی زندگی میں توبہ نہ کرلی ہو کیونکہ توبہ سے گناہوں کا معاف ہونا قرآن و سنت میں یقینی طور پر ثابت ہے۔ البتہ جس گناہ سے توبہ نہ کی ہے وہ چھوٹا ہو یا بڑا آخرت میں اس کا نتیجہ ضرور سامنے آئے گا۔ اسی لئے رسول اللہ ﷺ نے حضرت صدیقہ عائشہ کو مخاطب کر کے فرمایا کہ دیکھو ایسے گناہوں سے بچنے کا پورا اہتمام کرو جن کو چھوٹا یا حقیر سمجھا جاتا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس پر بھی مواخذہ ہونا ہے (رواہ النسائی وابن ماجہ عنہا) حضرت عبداللہ بن مسعود نے فرمایا کہ یہ آیت قرآن کی سب سے زیادہ مسحتکم اور جامع آیت ہے اور حضرت انس کی ایک طویل حدیث میں ہے کہ…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 7–8

یہ اس اجمال کی تفصیل بیان ہوئی ہے۔ فرمایا کہ جس نے ذرہ کے برابر بھی نیکی کی ہو گی وہ بھی اس کے سامنے آئے گی اور جس نے ذرہ کے برابر برائی کی ہو گی وہ بھی اس کے سامنے آئے گی۔ یہاں یہ امر ملحوظ رہے کہ ہر مومن و کافر کی ہر چھوٹی بڑی نیکی یا بدی اس کے سامنے آئے گی تو ضرور لیکن اس قاعدے کے مطابق آئے گی جو اللہ تعالیٰ نے قرآن کے دوسرے مقامات میں بیان فرمایا ہے یعنی ایک مومن یہ دیکھے گا کہ اس سے نیکیوں کے ساتھ فلاں فلاں غلطیاں بھی صادر ہوئی ہیں لیکن اللہ تعالیٰ نے اس کی فلاں فلاں نیکیوں کو ان کا کفارہ بنا دیا ہے۔ اسی طرح ایک کافر یہ دیکھے گا کہ اس نے بدیوں کے ساتھ کچھ نیک کام بھی کیے ہیں لیکن اس کے…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

8۔ 1 وہ اس پر سخت پشیمان اور مضطرب ہوگا۔ ذرۃ بعض کے نزدیک چیونٹی سے بھی چھوٹی چیز ہے۔ بعض اہل لغت کہتے ہیں، انسان زمین پر ہاتھ مارتا ہے، اس سے اس کے ہاتھ پر جو مٹی لگ جاتی ہے وہ ذرہ ہے۔ بعض کے نزدیک سوراخ سے آنے والی سورج کی شعاعوں میں گردوغبار کے جو ذرات سے نظر آتے ہیں، وہ ذرہ ہے۔ لیکن امام شوکانی نے پہلے معنی کو اولیٰ کہا ہے۔ امام مقاتل کہتے ہیں کہ یہ سورت ان دو آدمیوں کے بارے میں نازل ہوئی ہے جن میں سے ایک شخص، سائل کو تھوڑا سا صدقہ دینے میں تامل کرتا اور دوسرا شخص چھوٹا گناہ کرنے میں کوئی خوف محسوس نہ کرتا تھا۔ (فتح القدیر)

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 7–8

4: بُرائی سے مراد وہ برائی ہے جس سے کسی شخص نے دنیاوی زندگی میں اس سے توبہ نہ کی ہو، کیونکہ سچی توبہ سے گناہ معاف ہو کر ایسے ہوجاتے ہیں جیسے وہ کئے ہی نہیں تھے اور سچی توبہ میں یہ بات بھی داخل ہے کہ جس گناہ کی تلافی ممکن ہو اس کی تلافی بھی کی جائے، مثلاً کسی کا حق ہے تو اسے دیدیا جائے، یا اس سے معاف کرالیا جائے، یا فرائِض چھوٹے ہیں تو ان کی قضا کرلی جائے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

فمن یعمل ................................ یرہ (8:99) ” پھر جس نے ذرا برابر نیکی کی ہوگی وہ اس کو دیکھے گا اور جس نے ذرہ برابر بدی کی ہوگی وہ اس کو دیکھے گا “۔ پرانے مفسرین ذرے کی تفسیر مچھر کے برابر کرتے تھے۔ وہ کہتے تھے ذرہ وہ اڑنے والا چھوٹا ایٹم ہے جو سورج کی روشنی میں نظر آیا کرتا ہے۔ دراصل اس دور میں یہ وہ چھوٹی سے چھوٹی مقدار تھی جس کا وہ لوگ تصور کرسکتے تھے لیکن آج کے جدید زمانے میں ہم جانتے ہیں کہ ذرہ کیا ہے۔ وہ ایک متعین جسم ہے اور یہ یہ ذرہ سے بہت چھوٹا ہے جو فضا میں اڑرہا ہوتا ہے اور جو سورج کی روشنی میں نظر آتا ہے اس لئے کہ ہوا میں اڑنے والی یہ چھوٹی سی مقدار محض آنکھ سے دیکھی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 7–8

10 یعنی ہر ایک کا ذرہ ذرہ عمل بھلا ہو یا برا اس کے سامنے ہوگا اور حق تعالیٰ جو کچھ معاملہ ہر ایک عمل کے متعلق فرمائیں گے وہ بھی آنکھوں سے نظر آجائے گا۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 8{ وَمَنْ یَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّۃٍ شَرًّا یَّرَہٗ۔ } ”اور جس کسی نے ذرّہ کے ہم وزن کوئی بدی کی ہوگی وہ بھی اسے دیکھ لے گا۔“ عربی لغت کے مطابق چیونٹی کے انڈے سے نکلنے والے بچے کو ”ذرّہ“ کہا جاتا ہے۔ یعنی بہت چھوٹی اور حقیر چیز۔ اسی مفہوم میں لفظ ”ذرّہ“ اردو میں بھی مستعمل ہے۔ یہ آیت انسان کو اس اہم حقیقت پر متنبہ کرتی ہے کہ چھوٹی سے چھوٹی نیکی بھی بہرحال اپنا ایک وزن اور اپنی ایک قدر رکھتی ہے ‘ اور چھوٹی سے چھوٹی بدی بھی حساب میں آنے والی چیز ہے۔ بسا اوقات انسان نیکی کے چھوٹے سے کام کو حقیر سمجھ کر نظر انداز کردیتا ہے ‘ اور بعض اوقات صغیرہ گناہوں کی پروا نہیں کرتا۔ یہ درست طرزعمل نہیں…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

7 ان دونوں صورتوں میں جو بھی صورت ہو یہ ممکن نہ ہوگا کہ کسی شخص نے کوئی چھوٹی سے چھوٹی نیکی کی ہو لیکن وہ اعمال میں درج ہونے یا ریکارڈ ہونے سے رہ جائے۔ اسی طرح جس شخص نے کوئی چھوٹے سے چھوٹا برائی کا کام کیا ہوگا وہ اسے اپنے اعمال نامہ یا ریکارڈ میں دیکھ لے گا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 7–8

4۔ حدیث نبوی ﷺ میں ان دو 2 آیتوں کیلئے الجامعۃ الفازہ کا لفظ آیا ہے، یعنی جو اصل ان میں بیان کردی گئی ہے وہ جامع اور منفرد ہے، اور اس میں شک نہیں کہ یہ آیتیں قانون مجازات کی تصویر کشی نہایت خوبی وخوش اسلوبی و جامعیت کے ساتھ کررہی ہیں۔ (آیت) ” خیرایرہ “۔ اس اقل قلیل خیر کو بھی جنت میں پالے گا خیر کے خیر باقی رہنے کی شرط یہ ہے کہ اسے کفر سے فناء نہ کردیا گیا ہو۔ (آیت) ” شرا یرہ “۔ اس اقل قلیل شرک کو بھی دوزخ میں پالے گا۔ ” شر “ کے شر باقی رہنے کی شرط یہ ہے کہ اسے توبہ اور ایمان سے زائل نہ کردیا گیا ہو۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 2–8

واخرجت الارض اثقالھا اسی مضمون کو سورة انشقاق میں اس طرح بیان فرمایا گیا ہے ” والقت مافیھا وتخلت ‘ اور جو کچھ اس کے اندر ہے اسے باہر پھینک کر خالی ہوجائے گی، اس کے متعدد مطلب ہیں، ایک یہ کہ مرے ہوئے انسان زمین کے اندر جہا اور جس شکل میں بھی پڑے ہوں گے ان سب کو وہ نکال کر باہر پھینک دے گی، اس مفہوم پر بعد کا فقرہ یعنی ” وقال الانسان مالھا “ دلالت کررہا ہے، یعنی انسانی منتشر اجزاء جمع ہو کر ازسرنو اسی شکل و صورت میں جمع ہوجائیں گے، جس میں وہ دنیوی زندگی کی حالت میں تھے، کیونکہ اگر ایسا نہ ہو تو وہ یہ کیسے کہیں گے کہ زمین کو یہ کیا ہو رہا ہے ؟ دوسرا مطلب یہ ہے کہ صرف مردہ انسانوں ہی کو باہر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ومن یعمل مثقال ذرہ شرا یرہ . یعنی اگر گناہوں کی معافی نہ ہوئی تو جس نے ذرّہ برابر بدی کی ہوگی اس کو اس بدی کی سزا دیکھنی (یعنی اٹھانی) پڑے گی۔ ہم نے عدم مغفرت کی قید اس لیے لگائی کہ آیات اور احادیث سے بغیر توبہ کے گناہوں کے بخشے جانے کا جواز ثابت ہے۔ اللہ نے فرمایا ہے : اللہ اس بات کو تو نہیں بخشے گا کہ اس کے ساتھ شرک کیا جائے اور شرک کے علاوہ جس کے گناہ چاہے گا بخش دے گا۔ دوسری آیت میں ہے جس کے گناہ چاہے گا معاف کر دیگا اور جس کو چاہے گا عذاب دیگا۔ تیسری آیت ہے رب کی رحمت سے سوائے گمراہوں کے اور کوئی آس نہیں توڑتا۔ چوتھی آیت ہے اللہ کی رحمت سے ناامید نہ ہو ‘ انکے علاوہ اور بھی اسی طرح کی…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 7–8

(7۔ 8) کچھ لوگوں کا خیال تھا کہ معمولی سی نیکی پر ثواب نہیں ملتا اور چھوٹے گناہ پر گرفت نہیں ہوتی تو اللہ تعالیٰ نے ان کو معمولی نیکی ترغیب دی اور چھوٹے گناہ سے بھی خوف دلایا ہے کہ جو شخص ذرہ برابر نیکی کرے گا وہ اس کو اپنے نامہ اعمال میں دیکھ لے گا جس سے خوش ہوگا یا یہ کہ مومن اپنی نیکی کا صلہ آخرت میں اور کافر دنیا میں دیکھ لے گا اور جو شخص ذرہ برابر بھی بدی اور گناہ کرے گا وہ اس کو اپنے نامہ اعمال میں دیکھ لے گا جس سے غمگین ہوگا یا یہ کہ مومن اسے دنیا میں اور کافر آخرت میں دیکھ لے گا۔ شان نزول : وَمَنْ يَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا يَّرَهٗ الخ ابن ابی حاتم نے سعید بن جبیر سے روایت کیا…

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 7–8

8(1) فمن یعمل مثقال ذرۃ…:”یرہ“ اصل میں ”یراہ“ ہے، جو ”رای یری رویۃ“ کا فعل مضارع ہے،”فمن یعمل“ شرط کی جزا ہونے کی وجہ سے مجزوم ہے، اسلئے الف حذف ہوگیا۔”ذرۃ“ بکھرے ہوئے غبار کا چھوٹے سے چھوٹا حصہ جو روشن دان میں سورج کی شعاعوں سے چمکتا ہوا نظر آتا ہے۔ چھوٹی چیوٹنی کو بھی ”ذرہ“ کہتے ہیں کافر ہو یا مسلمان، ذرہ بھر نیکی کی ہوگی تو دیکھ لے گا اور ذرہ بھر برائی کی ہوگی تو دیکھ لے گا، اعمال کے دفتر سے کوئی چیز غائب نہیں ہوگی۔ جیسا کہ فرمایا، (ووجدواما عملوا حاضراً ولا یظلم ربک احداً) (الکھف : 39)”اور انہوں نے کیا اسے حاضر پائیں گے اور تیرا رب کسی پر ظلم نہیں کرتا۔“ البتہ اعمال کی جزا اللہ تعالیٰ کے…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 7–8

پس جس نے ذرہ برابر بھی نیکی کی ہوگی وہ اسے دیکھ لے گا، اور جس نے ذرہ برابر برائی کی ہوگی وہ (بھی) اسے دیکھ لے گا۔ اس میں تین مسائل ہیں : قیامت کے دن خیر و شر کو دیکھنے کے اعتبار سے مومن و کافر کا فرق : مسئلہ نمبر 1 : فمن یعمل مثقال ذرۃ خیرا یرہ۔ حضرت ابن عباس کہا کرتے تھے : کافروں میں سے جو رائی کے دانہ کے برابر اچھا عمل کرے گا وہ اس کی جزا دنیا میں دیکھ لے گا، آخرت میں اسے کوئی ثواب نہیں دیا جائے گا اور جس نے رائی کے دانہ برابر برائی کی اسے آخرت میں سزا دی جائے گی ساتھ ساتھ شرک کی سزا بھی دی جائے گی۔ مومنین میں سے جس نے ذرہ برابر برائی کی ہوگی وہ اس کی سزا دنیا میں دیکھ لے گا جب وہ مرے گا تو…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 1–8

1۔ ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ سورة اذا زلزلت مدینہ میں نازل ہوئی 2۔ ابن مردویہ نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ اذا زلزلت مدینہ میں نازل ہوئی۔ 3۔ احمد وابوداوٗد والنسائی والحاکم وصححہ وابن مردویہ اور بیہقی نے شعب الایمان میں عبداللہ بن عمرو ؓ سے روایت کیا کہ ایک آدمی رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اور کہنے لگا یا رسول اللہ ! مجھے کچھ پڑھا دیجیے آپ نے فرمایا ” المر “ والی تین سورتیں پڑھ۔ اس نے کہا میں بوڑھا ہوگیا ہوں دل بھی سخت ہوگیا ہے اور زبان بھی موٹی ہوگئی ہے یعنی سخت کلامی پر اتر آئی ہے۔ آپ نے فرمایا حم والی تین سورتیں پڑھ۔ اس نے پھر پہلے کی طرح کہا۔ آپ نے فرمایا تین سورتیں مسجلات میں سے…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[وَمَنْ يَّعْمَلْ : اور جس نے (بھی) عمل کیا ][ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا : کسی ذرہ کے ہم وزن کسی برائی کا ][ يَّرَهٗ : تو وہ دیکھ لے گا اس کو ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 7–8

پھر اس اجمال کی تفصیل بیان فرمائی (گوہ وہ تفصیل بھی اجمال کو لیے ہوئے ہے جو بڑی محکم اور فیصلہ کن بات کرنے والی ہے) ارشاد فرمایا ﴿ فَمَنْ يَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَّرَهٗؕ007 ﴾ (سو جو شخص ذرہ برابر بھی کوئی خیر کا کام کرے گا اسے دیکھ لے گا اور جنت میں نعمتوں سے نوازا جائے گا) ۔ ﴿وَ مَنْ يَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا يَّرَهٗ (رح) 008﴾ (اور جس شخص نے ایک ذرہ برابر کوئی شر (یعنی برائی) کا کام کیا وہ اس کو دیکھ لے گا) یعنی اس کی سزا پالے گا اور اپنے کیے کا انجام دیکھ لے گا۔ ان دونوں آیتوں میں خیر اور شر اور اصحاب خیر اور اصحاب شر کے بارے میں دو ٹوک فیصلہ فرمایا ہے ایمان ہو یا کفر،…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–8

حوادث وزلازل بوقت وقوع قیامت : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” اذا زلزلت الارض زلزالھا ........ الی ........ ذرۃ شرایرہ “۔ (ربط) گزشتہ سورت کا مضمون اہل سعادت وشقاوت کے اعمال وافعال اور ان کے انجام پر مشتمل تھا اور اصول سعادت اور حق تعالیٰ کے انعامات کے استحقاق کی بنیاد یہ بیان کی گئی تھی کہ وہ خشیت خداوندی ہے اور (آیت) ” ذلک لمن خشی ربہ “۔ فرما کر اس حقیقت کو واضح کردیا گیا تھا، اب اس سورت میں سعادت وشقاوت کے ثمرات مرتب ہونے کا وقت بتایا جارہا ہے کہ وہ قیامت ہے اور قیامت کا قائم ہونا، نظام عالم کا درہم برہم ہوجانا ہے اور وہی دن زندگی کے اعمال کا محاسبہ کرتا رہے اور اللہ رب العزت کی بارگاہ میں…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 7–8

6:۔ ” فمن یعمل “ نیک و بد کی تفصیل ہے جس نے ذرہ بھر نیکی کی ہوگی اس کو اس کی بھی جزاء ملے گی اور وہ اس کی جزاء وہاں دیکھ لے گا اور جس نے ذرہ بھر برائی کی ہوگی وہ بھی اس کی جزاء دیکھ لے گا بشرطیکہ عفو نہ کیا گیا ہو۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 1–8

موضوع اس سورة کا موضوع جزائے عمل ہے اگرچہ سورة تو مختصر ہے تاہم موضوع کے لحاظ سے جامع اور مانع سورة ہے۔ اس سورة میں اس بات کی وضاحت کی گئی ہے کہ جو بھی اعمال اس دنیا میں کرتا ہے ان کی جزاء لازم ہے۔ جس طرح انسان کوئی چیز کھاتا ہے تو اس کے نتیجے میں بدہضمی پیدا ہوتی ہے۔ اسی طرح انسان جو عمل کرتا ہے۔ اس کے ساتھ اس کی جزاء بھی لازم ہے ، جس طرح پیدائش کے ساتھ موت لازم ہے اور جس طرح طلوع کے ساتھ غروب لازم ہے۔ ایسے ہی عمل کے ساتھ جزائے عمل کا ہونا ضروری ہے۔ اس سورة مبارکہ میں یہی بات سمجھائی گئی ہے۔ فضیلت حدیث پاک میں اس سورة کی بہت فضیلت آئی ہے۔ ایک شخص حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَمَنْ يَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّۃٍ شَرًّا يَّرَہٗ۝ 8 ۧ مِثْقَال : ما يوزن به، وهو من الثّقل، وذلک اسم لکل سنج قال تعالی: وَإِنْ كانَ مِثْقالَ حَبَّةٍ مِنْ خَرْدَلٍ أَتَيْنا بِها وَكَفى بِنا حاسِبِينَ [ الأنبیاء/ 47] ، وقال تعالی: فَمَنْ يَعْمَلْ مِثْقالَ ذَرَّةٍ خَيْراً يَرَهُ وَمَنْ يَعْمَلْ مِثْقالَ ذَرَّةٍ شَرًّا يَرَهُ [ الزلزلة/ 7- 8] ، وقوله تعالی: فَأَمَّا مَنْ ثَقُلَتْ مَوازِينُهُ فَهُوَ فِي عِيشَةٍ راضِيَةٍ [ القارعة/ 6- 7] ، فإشارة إلى كثرة الخیرات، وقوله تعالی: وَأَمَّا مَنْ خَفَّتْ مَوازِينُهُ [ القارعة/ 8] ، فإشارة إلى قلّة الخیرات . والثقیل والخفیف يستعمل علی وجهين : أحدهما علی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 7–8

ترکیب ¦ الفاء للتفسیر من موصولۃ مبتدء خبر منصوب علی انہ تمیز من مثقال ذرۃ یرہ خبرہ ویمکن ان تکون من شرطیۃ یرہ جواب الشرط و قیل خیرا بدل من مثقال ذرۃ قراء الجمھوریرہ فی الموضعین بضم الھاء وصلاً و سکونھا وقفاً وقرء ہشام بسکونھا وقفًا و قرء ہشام بسکونھا وقفًا ود صلاً و قز المجھور ہر فی الموضعین مبینا للفاعل وقریٔ مبینا للمفعول ای یریہ اللہ ایاہ وقرئیراہ علی تو ھم ان من موصولۃ او علی تقدیر الجزم بخدف الحرکۃ المقدرۃ فی الفعل۔ مثقال بالکسر سنگ زرودینار صراح ای زنۃ ذرۃ۔ والذرۃ ھوان یضرب الرجل بیدہ علی الارض فما علق من التراب فھو ذرہّ وقیل ما یریٰ فی شعاع الشمس من الھباء۔ تفسیر ¦ اب اعمال دیکھنے کی…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 7–8

فَمَنْ یَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّۃٍ خَیْرًا یَّرَہٗ ۔ وَمَنْ یَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّۃٍ شَرًّا یَّرَۃٗ ۔ (الزلزال : 7، 8) (اور جس نے ذرہ برابر بھی نیکی کی ہوگی، وہ اس کو دیکھ لے گا۔ اور جس نے ذرہ برابر بدی کی ہوگی، وہ بھی اسے دیکھے گا۔ ) ہر چھوٹا بڑا عمل سامنے آجائے گا اس آیت کے مفہوم کا ایک پہلو وہ ہے جس کا تعلق ہر شخص کے احساسِ ذمہ داری سے ہے۔ اور دوسرا اس کا مفہوم وہ ہے جس کا تعلق اسلام کے قانونِ جزا و سزا سے ہے۔ جہاں تک احساس کا تعلق ہے اس حوالے سے یہاں یہ فرمایا جارہا ہے کہ انسان ایک ذمہ دار مخلوق ہے جو اپنے ہر اچھے یا برے کام کے لیے اللہ تعالیٰ کے سامنے جوابدہ ہے۔ جسے لپیٹ کر ایک جگہ…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 6–8

فہم القرآن ربط کلام : محشر کے میدان میں لوگوں کے اکٹھا ہونے کیا ہمیت اور ہر کسی کا اپنے اعمال کا سامنا کرنا۔ قرآن مجید اور حدیث رسول میں یہ بات بڑی تفصیل کے ساتھ بیان ہوئی ہے کہ لوگ اپنی قبروں سے نکل کر محشر کے میدان کی طرف جائیں گے۔ لوگوں کے جمع کرنے کے بارے میں قرآن مجید میں دو طرح کی آیات وارد ہوئی ہیں۔ ” جس دن صور میں پھونک ماری جائے گی تم گروہ در گروہ نکل آؤ گے۔ “ (النبا : 18) ” قیامت کے دن سب اکیلے اکیلے اس کے سامنے حاضر ہوں گے۔ “ (مریم : 95) بظاہر ان آیات کے مفہوم میں تعارض اور تقابل نظر آتا ہے لیکن معمولی توجہ کے ساتھ سمجھنے کی کوشش کی جائے تو بات یوں سمجھ میں آتی ہے کہ قبروں سے لوگ…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

8 : وَمَنْ یَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّۃٍ شَرًّایَّرَہٗ (جو شخص ذرہ برابر بدی کرے گا وہ اس کو دیکھ لے گا) ایک قول : یہ کفار کے متعلق ہے اور پہلی آیت ایمان والوں کے متعلق ہے۔ حکایت : ایک بدو نے خیرًا یرہٗ کو مؤخر کردیا۔ اس کو کسی نے کہا تو نے آیت میں تقدیم و تاخیر کردی۔ تو اس نے یہ شعرپڑھا ؎ خُذْ بَطْنَ ہَرْشَی او قَفَاہَا فَاِنَّہٗ کِلَا جَانَبَیْ ہَرْشَی لہن طریق وادی ہر شی کے درمیان میں چلو یا کنارے پر اس کے دونوں جانب راستہ کی گنجائش ہے۔ ایک روایت میں ہے کہ فرزدق کا دادا خدمت نبوی ﷺ میں آیا تاکہ وہ پڑھے۔ آپ ﷺ نے اس کے سامنے یہ آیت پڑھی۔ تو کہنے لگا حسبی۔ حسبی یہ مجھے کافی ہے کافی ہے۔ یہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

ومن یعمل مثقال ذرۃ شرا یرہ کی تفسیر 8 ۔” ومن یعمل مثقال ذرۃ شرایرہ “ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں مومن وکافر نے دنیا میں کوئی خیر وشر کا عمل نہیں کیا ہوگا مگر اللہ تعالیٰ اس کو وہ قیامت کے دن دکھائیں گے۔ پس بہرحال مومن تو اپنی نیکیاں اور برائیاں دیکھے گا۔ پس اللہ تعالیٰ اس کی برائیاں معاف کردیں گے اور نیکیوں پر ثواب دیں گے اور بہرحال کافر تو اس کی نیکیاں رد کردی جائیں گی اور برائیوں کی وجہ سے عذاب دیا جائے گا۔ محمد بن کعب (رح) اس آیت کے بارے میں فرماتے ہیں ” فمن یعمل مثقال ذرۃ شرایرہ “ کافروں میں سے وہ اپنے ثواب کو دنیا میں اپنے جان ومال اور اہل واولاد میں دیکھ لے گا حتیٰ کہ دنیا سے نکلے گا تو اس کے…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 1–8

1۔ 8۔ دجال کا پیدا ہونا سورج کا مغرب سے نکلنا۔ لال آندھی کا آنا۔ جس طرح یہ چیزیں دنیا کی مدت اخیر ہونے کی علامتیں ہیں اسی طرح اس وقت ایک زلزلہ بھی لال آندھی کے آنے کے بعد آئے گا جس کا ذکر ترمذی 1 ؎ وغیرہ میں حضرت ابوہریرہ ؓ وغیرہ کی روایت سے آیا ہے اور ایک زلزلہ دوسرا صور پھونکا جائے گا جس آئے گا جس کا ذکر قرآن شریف میں کئی جگہ آیا ہے اس آیت میں جو زلزلہ کا ذکر ہے بعض مفسر کہتے ہیں کہ اس سے پہلا زلزلہ مراد ہے اور بعض کہتے ہیں دوسرا زلزلہ مراد ہے۔ اس زلزلہ کے ساتھ ہی اللہ تعالیٰ نے حساب و کتاب اور زمین کی شہادت کا ذکر فرمایا ہے اور یہ باتیں تو ضرور دوسرے صور کے بعد کی ہیں اس لئے اس زلزلہ سے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 7–8

(فَمَنْ يَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَّرَهٗ ۔ وَمَنْ يَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا يَّرَهٗ ) پس جس نے ذرہ بھر نیکی کی ہوگی وہ اس کو دیکھ لے گا اور جس نے ذرہ بھر برائی کی ہوگی وہ اسے دیکھ لے گا یہ خیرو شر کے تمام اعمال کو شامل ہے کیونکہ جب وہ ذرہ بھر وزن کو دیکھ سکے گا جو حقیر ترین چیز ہے اسے اس کی جزا بھی دی جائے گی تب وہ اعمال جو وزن میں اس سے زیادہ ہوں گے ان کا دکھا دینا تو زیادہ اولی ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا (یوم تجد کل نفس ماعملت۔۔ تا۔۔۔۔ بعیدا۔ آل عمران۔ 30) جس دن ہر شخص اپنے بھلائی کے عمل اور برائی کے عمل کو موجود پائے گا اور تمنا کرے گا کہ کاش، برائیوں اور اس کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

(8) ہر کسی کا ریکارڈ اس کے سامنے : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ جس نے جو کیا ہوگا اس روز وہ اس کے سامنے ہوگا، نیک عمل کیا ہوگا تو بھی اور برا کیا ہوگا تو بھی، کہ اس کے زندگی بھر کے کیے کرائے کا سب ریکارڈ اس کے سامنے رکھ دیا جائے گا تاکہ اس طرح عدل و انصاف کے تقاضے پورے ہوسکیں اپنی آخری اور کامل شکل میں اور بھر پور طریقے سے اور اپنی آخری شکل میں پورے ہو سکیں اور کسی کے لیے کسی اعتراض وغیرہ کی کوئی گنجائش باقی نہ رہ سکے۔ فکن اللھم لنا وجعلنا لک وارزقنا التوفیق 1 لما تحب وترضی من القول والعمل، برحمتک یا ارحم الرحمین۔ اللہ اس روز کامیاب اور سرخرو ہونے والوں میں سے کردے، آمین ثم آمین یا رب…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 1–8

قیامت کا واقعہ اعمال کا اندراج اور گواہی تشریح : یہاں قیامت کا ذکر کرتے ہوئے زمین کے حالات بتائے جا رہے ہیں کہ زمین میں شدید زلزلہ آئے گا، جیسے انڈہ توڑو تو اس کے اندر کا مال سفیدی زردی سب باہر نکل آتا ہے ایسے ہی زمین کا حال ہوگا۔ ہم زمین کے بارے میں کافی بحث کرچکے ہیں۔ مختصراً عرض ہے کہ زمین کی اوپر کی سطح نے اس کے اندر کے سارے مال کو محفوظ کر رکھا ہے۔ وہ مال ہے تیل گیس ' معدنیات ' کوئلہ ' ہیرے اور قیمتی پتھر یہ سب کچھ سمندر کی طرح موجیں مار رہا ہے۔ جس کی نشاندہی قرآن پاک میں کی گئی ہے۔ اور اس کی تصدیق ان آتش فشاں پہاڑوں سے نکلنے والے لاوے سے ہوتی رہتی ہے جو اکثر و بیشتر پہاڑ کی کسی نہ کسی…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–8

سورة الزلزال آیات 1 تا 8۔ اسرار ومعارف۔ جب زمین کو جھنجھوڑ ڈالا جائے گا ، یعنی قیامت قائم ہوگی اور زمین تمام لوگوں کو اور مال وزر کو اگل دے گی یا وہ راز جو بہرحال اس کے پاس محفوظ ہوں گے کھول دے گی تو انسان کہہ اٹھے گا زمین کو کیا ہوگیا اس نے تو سب کچھ بتادیا۔ ہاں ضرور بتائے گی کہ تیرے پروردگار کا حکم اس کو بتانے ہی کا ہوگا اس روز لوگ الگ الگ طبقے اور جماعتیں بن جائیں گے جس طرح کے لوگوں اور کردار کی رفاقت دنیا میں اختیار کی اسی طرح کے گروپوں میں کھڑے ہوں گے کہ اپنے اعمال کے نتائج کو دیکھیں جس کسی نے ذرہ برابر بھی نیکی کی ہوگی وہ اس کا بدلہ پائے گا اس سے علماء نے دلیل اختیار فرمائی ہے کہ جس کے…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 6–8

ف 4 یا یہ مطلب ہے کہ ’ حساب کتاب کی جرگہ سے جنت یا دوزخ کی طرف) پلٹیں گے۔ “ الگ الگ کا مطلب یہ ہے کہ ان میں سے کوئی خوفزدہ ہوگا، کوئی بےخوف کسی کا رنگ اہل جنت کا یعنی سید ہوگا اور کسی کا ہل دوزخ کا یعنی سیاہ کوئی دائیں طرف چل رہا ہوگا اور کوئی بائیں طرف یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ کافر ایک گروہ ہوں گے، مشرک ایک گروہ اور منافق ایک گروہ اسی طرح شرابی ایک گروہ ہوں گے، بدکار ایک گروہ چور ایک گرروہ وعلی ہذا القیاس۔5 تاکہ برے عمل والوں کی رسوائی ہو اور نیک عمل والوں کی سرخروئی

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(99:8) ومن یعمل مثقال ذرۃ شرایرہ۔ اس کا عطف جملہ سابقہ پر ہے۔ اور جس نے ذرہ بھر برائی کی وہ اس کو دیکھ لے گا۔ ترکیب کے لئے آیت بالا 99:7 ۔ ملاحظہ ہو۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–8

لغات القرآن۔ زلزلت۔ ہلاڈالی گئی۔ اثقال۔ بوجھ۔ مالھا ۔ کیا ہوگیا اسے ؟ ۔ تحدت۔ بیان کردے گی۔ اخبر۔ خبریں۔ حالات۔ یصدر۔ باہر نکلنے گا۔ لوٹے گا۔ اشتات۔ مختلف گروہ۔ مثقال ۔ وزن۔ برابر۔ یرہ۔ وہ اس کو دیکھ گا۔ تشریح : نبی کریم حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے کہ جب زمین پر ایک شخص بھی اللہ اللہ کہنے والا نہ رہے گا تو نظام کائنات کو درہم برہم کرکے ہر چیز پر فنا کی کیفیت طاری کردی جائے گی۔ اسی کو قیامت کہا جاتا ہے جو برحق ہے اور اس کے آنے میں ذرا بھی شک نہیں ہے۔ لیکن پہلا صور پھونکے جانے کے بعد کیا ہوگا اس کو اس سورت میں بیان فرمایا گیا ہے۔ ارشاد ہے کہ جب زمین مسلسل جھٹکوں اور زلزلوں سے ہلا ماری…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

(ف 3) یعنی ہر ایک کا ذرہ ذرہ وہ عمل بھلا ہو یابرا، اس کے سامنے ہوگا، اور اللہ تعالیٰ جو کچھ معاملہ ہر ایک عمل کے متعلق فرمائے گا، وہ بھی آنکھوں سے نظر آجائے گا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 6–8

[2] یعنی اس دن لوگ قبروں سے اسی طرح نکلیں گے کہ کسی کے ساتھ نہ ان کے اہل خاندان ہوں گے نہ اعزہ و اقربا اور نہ ان کا جتھا ہوگا اور نہ مزعومہ شرکاء شفعائ، بلکہ ہر شخص اپنے اعمال کی جواب دہی کے لئے اپنے رب کے حضور تنہا حاضر ہوگا۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 1–8

ف 1: سابقہ سورة کا اختتام ان آیتوں پر ہوا تھا کہ منکرین بدترین خلائق ہیں اور ان کو جو سزا ملے گی ۔ وہ بھی بدترین مقام پر فائز ہوں گے ۔ سوال یہ پیدا ہوتا تھا کہ یہ وقت مکافات اور جزا کا کب آئے گا ۔ جب لفخہ ثانیہ کے وقت زمین میں ایک شدید حرکت اور جنبش ہوگی ۔ اور زمین اپنے تمام ذخائر وخزائن اگل دے گی ۔ اس وقت یہ لوگ کہیں گے کہ یہ کیا ہونے والا ہے ۔ اس وقت یہ بےزبان زمین بتائے گی کہ اس کے سینے پر انسانوں نے کیسی معصیت کوشی کی زندگی بسر کی ہے ۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس کو اس نوع کی تلقین کررکھی ہوگی ۔ یہ وہ دن ہوگا جب لوگ گروہ درگروہ موقف حساب سے واپس ہوں گے ۔ وہ لوگ دیکھیں گے کہ ذرہ برابر نیکی جو…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(8) اور جس نے ذرہ برابر برائی کی ہوگی وہ اس کو دیکھ لے گا۔ یعنی جس برائی پر مرتے دم تک رہا اور نہ توبہ کی اور نہ ایمان لایا اسی طرح جس نیکی پر آخر دم تک رہا۔ اور اس سے پھرا انہیں ذرہ عام طور پر سمجھا جاتا ہے لال چیونٹی بہت چھوٹی ہوتی ہے یعنی اس کے ہم وزن نیکی اور بدی اس دن پوشیدہ نہ رہے گی۔ نبی کریم ﷺ نے اس آیت کا نام جامعہ فاذہ فرمایا۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 5–8

ف 3۔ بشرطیکہ اس وقت تک وہ خیر و شر باقی رہی ہو، ورنہ اگر کفر سے وہ خیر فنا ہوچکی ہو یا تو بہ و ایمان سے وہ شر زائل ہوچکا ہو وہ اس میں داخل ہی نہیں کیونکہ وہ خیر نہ رہی اور وہ شر شر نہ رہا، جب مدار حکم نہ رہا حکم بھی ثابت نہ ہوگا۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

اور جس نے ذرہ برابر بھی نیکی کی ہوگی وہ بھی اس کو دیکھ لے گا 8 ؎ اگر نیکی کا اجر اور بدلہ ہے تو بلا شبہ برائی بھی اپنے کرنے والے کے لیے اس کا عوض رکھتی ہے اور جس طرح عمل خیر کا بدلہ قیامت کے روز ملے گا عمل بد کا وبال بھی اپنے سر لینا ہوگا اور جس طرح اچھے عمل سے انسان اس دنیا میں بھی مستفید ہوتا ہے اسی طرح عمل بد کا وبال بھی دنیوی زندگی میں اس پر پڑتا ہے پھر جب طے ہے کہ اپنے لیے کاٹتا وہی ہے جو بوتا ہے اور پھر یہ بھی کہ جو کچھ بوتا ہے وہی کچھ کاٹتا ہے بلا شبہ یہ حقیقت ہے لیکن راستہ لینے والے جب انسان کو باور کراتے ہیں کہ یہ قسمت کے سودے ہیں بعض ایسے ہوتے ہیں جو گندم بوتے ہیں لیکن گند نا ان کو…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Verse [ 8] وَمَن يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّ‌ةٍ شَرًّ‌ا يَرَ‌هُ (And Whoever does evil [ even ] to the weight of a particle shall see it.) By 'evil' here is meant the evil for which the evil-doer has not repented. The Qur'an and the Sunnah bear ample testimony to the fact that any sinner who sincerely repents for his sins Allah will most certainly accept his repentance. However, the sins for which the sinners have not repented in this world shall certainly bring their results, no matter how trivial or petty they might have been in their appearance. That is why the Messenger of Allah ﷺ warned…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

7 A simple and straightforward meaning of this statement, and it is right and correct, is that not an atom's weight of good or evil done by a person, will have been left unrecorded in his conduct book, and he.will see it in any case. But if seeing is taken to imply seeing its reward and punishment, it will be wrong to take it in the meaning that in the Hereafter every person will be rewarded for his most minor offence, and no one will be left un-rewarded for a good and unpunished for an evil done by him. For in the first place, it would mean that each evil act will be punished and each good…

Read the full tafseer →