Al-Aadiyaat 100:1

100. Al-Aadiyaatالعاديات

The Chargers · Meccan · 11 ayahs · 1 ruku

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

100:1

وَالْعٰدِیٰتِ ضَبْحًا ۟ۙوَالۡعٰدِيٰتِ ضَبۡحًا

ان سرپٹ دوڑنے والے گھوڑوں کی قسم جو ہانپ اٹھتےہیں

— Fateh Muhammad Jalandhari

By the racers, panting,

— Saheeh International

Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 25 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Aadiyaat

All translations of 100:1

قسم ہے اُن (گھوڑوں) کی جو پھنکارے مارتے ہوئے دوڑتے ہیں

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

ان سرپٹ دوڑنے والے گھوڑوں کی قسم جو ہانپ اٹھتےہیں

— مولانا فتح محمد جالندہری

ہانپتے ہوئے دوڑنے والے گھوڑوں کی قسم!

— مولانا محمد جوناگڑہی

قسم ہے ان گھوڑوں کی جو ہانپ ہانپ کر دوڑتے ہیں۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

قسم ان کی جو دوڑتے ہیں سینے سے آواز نکلتی ہوئی

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

(میدانِ جہاد میں) تیز دوڑنے والے گھوڑوں کی قَسم جو ہانپتے ہیں،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

قسم ہے ان (گھوڑوں) کی جو پیٹ اور سینے سے آواز نکالتے ہوئے دوڑنے والے ہیں !

— مولانا عبد السلام بھٹوی

قسم ان گھوڑوں کی جو دوڑتے وقت ہانپتے ہیں

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

گواہی دیتے ہیں ہانپتے ،

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

قسم ہے ان (گھوڑوں) کی جو دوڑتے ہیں ہانپتے ہوئے

— مولانا اسحاق مدنی

قسم ہے گھوڑوں کی جو ہانپتے ہوئے دوڑتے ہیں

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

قسم ہے ان گھوڑوں کی جو دوڑتے ہیں ہانپتے ہوئے۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

ان سر پٹ دوڑنے والوں۔ (گھوڑوں) کی قسم جو ہانپ اٹھتے ہیں

— محترمہ رفعت اعجاز

By (the horses) that charge snorting,

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

(I swear) by those (horses) that run snorting,

— Muhammad Taqi Usmani

(I swear) by those (horses) that run snorting,

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

By the `Adiyat (steeds), snorting.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

By the racers, panting,

— Saheeh International

(I swear) by the snorting chargers (of the warriors), whose hoofs strike against the rocks

— Muhammad Sarwar

I swear by the runners breathing pantingly,

— Muhammad Habib Shakir

By the chargers panting,

— Abdul Majid Daryabadi

By the (Steeds) that run, with panting (breath),

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 100:1

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 1–11

انسان کا نفسیاتی تجزیہ : مجاہدین کے گھوڑے جبکہ اللہ کی راہ میں جہاد کے لیے ہانپتے اور ہنہاتے ہوئے دوڑتے ہیں ان کی اللہ تبارک و تعالیٰ قسم کھاتا ہے پھر اس تیزی میں دوڑتے ہوئے پتھروں کے ساتھ ان کے نعل کا ٹکرانا اور اس رگڑ سے آگ کی چنگاڑیاں اڑنا پھر صبح کے وقت دشمن پر ان کا چھاپہ مارنا اور دشمنان رب کو تہہ وبالا کرنا آنحضرت ﷺ کی یہی عادت مبارک تھی کہ دشمن کی کسی بستی پر آپ جاتے تو وہاں رات کو ٹھہر کر کام لگا کر سنتے اگر اذان کی آواز آگئی تو آپ رک جاتے نہ آتی تو لشکر کو حکم دیتے کہ بزن بول دیں پھر ان گھوڑوں کا گردو غبار اڑانا اور ان سب کا دشمنوں کے درمیان گھس جانا ان سب چیزوں کی قسم کھا کر پھر…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة العدیات 1 آیت کے الفاظ میں یہ تصریح نہیں ہے کہ دوڑنے والوں سے مراد گھوڑے ہیں، بلکہ صرف والْعٰدِيٰتِ (قسم ہے دوڑنے والوں کی) فرمایا گیا ہے۔ اسی لیے مفسرین کے درمیان اس باب میں اختلاف ہوا ہے کہ دوڑنے والوں سے مراد کیا ہے۔ صحابہ وتابعین کا ایک گروہ اس طرح گیا ہے کہ اس سے مراد گھوڑے ہیں، اور ایک دوسرا گروہ یہ کہتا ہے کہ اس سے مراد اونٹ ہیں۔ لیکن چونکہ دوڑتے ہوئے وہ خاص قسم کی آواز جسے ضبح کہتے ہیں، گھوڑوں ہی کی شدت تنفس سے نکلتی ہے، اور بعد کی آیات بھی جن میں چنگاریاں جھاڑنے اور صبح سویرے کسی بستی پر چھاپہ مارنے اور وہاں گرد اڑانے کا ذکر آیا ہے، گھوڑوں ہی پر راست آتی ہیں، اس لیے اکثر محققین…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

خلاصہ تفسیر قسم ہے ان گھوڑوں کی جو ہانپتے ہوئے دوڑتے ہیں پھر (پتھر پر) ٹاپ مار کر آگے جھاڑتے ہیں پھر صبح کے وقت تاخت تاراج کرتے ہیں پھر اس وقت غبارا ڑاتے ہیں پھر اس وقت (دشمنوں کی) جماعت میں جا گھستے ہیں (مراد اس سے لڑائی کے گھوڑے ہیں۔ جہاد ہو یا غیر جہاد، عرب چونکہ حرب وضرب اور جنگ کے عادی تھے جس کے لئے گھوڑے پالتے تھے ان کی مناسبت سے ان جنگی گھوڑوں کی قسم کھائی گئی آگے جواب قسم ہے کہ) بیشک (کافر) آدمی اپنے پروردگار کا بڑا ناشکر ہے اور اس کی خود بھی اس کی خبر ہے (کبھی ابتداء ہی اور کبھی کچھ غور کے بعد اپنی ناشکری کا احساس کرلیتا ہے) اور وہ مال کی محبت میں بڑا مظبوط ہے (یہی اس کی ناشکری کا…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

’عَادِیَاتٌ‘ سے مراد: ’عَادِیَاتٌ‘ کے معنی دوڑنے والے کے ہیں لیکن یہاں یہ جنگی گھوڑوں کی صفت کے طور پر آیا ہے، دلیل اس کی یہ ہے کہ آگے چار صفتیں، جو ترتیب کے ساتھ آئی ہیں، وہ جنگی گھوڑوں کے سوا کسی اور چیز پر منطبق نہیں ہوتیں۔ بعض لوگوں نے اس سے مزدلفہ میں اونٹوں کو مراد لیا ہے، لیکن اس کا کوئی قرینہ موجود نہیں ہے۔ آگے کی صفتیں، جیسا کہ ہم نے اشارہ کیا، اونٹوں کی نہیں ہو سکتیں۔ ایک رائے یہ بھی ہے کہ اس سے غازیوں کے گھوڑے مراد ہیں۔ لیکن اس تخصیص کے لیے بھی کوئی قرینہ موجود نہیں ہے۔ خاص طور پر مقسم علیہ سے تو یہ بات بالکل ہی بے جوڑ ہو جائے گی۔ مقسم علیہ یہاں ’إِنَّ الْإِنۡسَانَ لِرَبِّہٖ…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

1۔ 1 عادیات، عادیۃ کی جمع ہے۔ یہ عدو سے ہے جیسے غزو ہے غازیات کی طرح اس کے واؤ کو بھی یا سے بدل دیا گیا ہے۔ تیز رو گھوڑے۔ ضبح کے معنی بعض کے نزدیک ہانپنا اور بعض کے نزدیک ہنہنانا ہے۔ مراد وہ گھوڑے ہیں جو ہانپتے یا ہنہناتے ہوئے جہاد میں تیزی سے دشمن کی طرف دوڑتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 1–5

اللہ تعالیٰ یہاں سواروں کے دستے کی قسم اٹھاتے ہیں۔ ان کی ایک ایک جنگی حرکت کو ترتیب کے ساتھ لایا جاتا ہے۔ جب یہ دستہ اپنے حملے کا آغاز کرتا ہے اور تیز رفتاری کے ساتھ منزل کی طرف بڑھتا ہے۔ گھوڑے پھنکارمارتے آگے جارہے ہیں۔ یہ اپنے سموں سے پتھروں سے چنگاڑیاں نکالتے جاتے ہیں۔ پھر عین صبح کے وقت یہ دشمن پر ٹوٹ پڑتے ہیں ، یہ حملہ نہایت سرعت کے ساتھ ہوتا ہے اور اچانک ہوتا ہے۔ حملہ کے وقت گھوڑوں کی بھگدڑ سے غبار اڑتا ہے۔ کیونکہ دشمن حملے کے لئے تیار نہیں ہوتا اور اس کی حرکات غیر مرتب ہیں ، جب یہ دستہ دشمن کی صفوں میں خلاف توقع جاگھستا ہے تو سخت انتشار و اضطراب برپا ہوجاتا ہے۔ یہ کسی بھی حملہ کے وہ پے…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 1–2

آیت 2{ فَالْمُوْرِیٰتِ قَدْحًا۔ } ”پھر وہ ُ سم مار کر چنگاریاں نکالتے ہیں۔“ جب سرپٹ دوڑتے ہوئے گھوڑوں کے سم کسی پتھر وغیرہ سے ٹکراتے ہیں تو ان سے چنگاریاں نکلتی دکھائی دیتی ہیں۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

1 عَادِیَاتٌ کا لغوی مفہوم :۔ عَادِیَاتٌ: عادیۃ کی جمع ہے جو عادی کا مونث ہے اور عادی بمعنی وہ جماعت جو قتل و قتال کے لیے تیار ہوا اور تَعَادَالْقَوْمُ بمعنی لوگوں نے دوڑ میں مقابلہ کیا اور عَدَاالْفَرْسِ بمعنی گھوڑے نے دوڑ لگائی اور عادِیَاتٌ سے مراد وہ جنگ پر جانے والے (گھوڑے) ہیں جو مقابلہ کی دوڑ میں حصہ لیتے رہے ہوں۔ واضح رہے کہ عادیات کے معنی میں گھوڑوں کا مفہوم شامل نہیں ہے۔ بلکہ ضَبْحًا کا لفظ عادیات کو گھوڑوں سے مخصوص کردیتا ہے۔ کیونکہ ضبح صرف اس آواز کو کہتے ہیں جو سرپٹ دوڑنے کی وجہ سے گھوڑوں کے منہ سے نکلتی ہے۔ یعنی گھوڑوں کا ہانپنا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 1–5

1۔ ان گھوڑوں سے مراد لڑائی کے گھوڑے ہیں، جن کے اوصاف سے اہل عرب خوب واقف تھے۔ (آیت) ” ضبحا “۔ گھوڑے عادۃ تیز دوڑ کے بعد ہانپنے لگتے ہیں، (آیت) ” فالموریت قدحا “۔ یعنی ان کی نعلوں سے پہاڑوں کے پتھر آگ دے اٹھتے ہیں، کنایہ کمال گرم رفتاری سے ہے (آیت) ” فالمغیرت صبحا “۔ عرب میں عام دستور صبح سویرے تاخت کرنے کا تھا۔ (آیت) ” فاثرن بہ نقعا “۔ کمال تیز رفتاری کے باعث ان کے قدموں سے غبار اڑتا ہے۔ (آیت) ” فوسطن بہ جمعا “۔ یعنی جماعت اعداء میں در آتے ہیں۔ بہ میں ب زائدہ تاکید کے لئے ہے۔ حضرات صوفیہ نے ان صفات سے اپنے مذاق کے مطابق اشارات معرفت خوب نکالے ہیں، مثلا ! کچھ ” اشغال حرکت نفس “ میں مشغول رہتے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 1–11

ترجمہ :۔ شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے، قسم ہے ان گھوڑوں کی جو جہاد میں پھنکارتے ہوئے (ہانپتے ہوئے) دوڑتے ہیں، ضبح جوف (پیٹ) کی اس آواز کو کہتے ہیں جو دوڑتے وقت نکلتی ہے، پھر ان گھوڑوں کی جو ٹاپوں سے چنگاریاں جھاڑتے ہیں پھر ان گھوڑوں کی جو صبح سویرے دشمن پر شب خون مارتے ہیں، اپنے سوار کے شب خوب مارنے سے پھر اس موقع پر یعنی اپنے دوڑنے کی جگہ یا اس وقت اپنی شدید حرکت کی وجہ سے غبار اڑاتے ہیں پھر اسی غبار میں دشمن کے مجمع میں گھس جاتے ہیں یعی ان کے وسط تک پہنچ جاتے ہیں اور فعل کا عطف اسم پر اس لئے درست ہے کہ اسم فعل کی تاویل میں ہے، یعنی معنی میں واللاتی عدون،…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

والعدیت ضبحا . العٰدیٰت سے مراد ہیں ‘ غازیوں کے گھوڑے جو راہ خدا میں دوڑتے ہیں ‘ حضرت ابن عباس ‘ مجاہد ‘ عکرمہ ‘ حسن بصری ‘ کلبی ‘ قتادہ اور ابو العالیہ وغیرہ کا یہی قول ہے ‘ مذکورہ بالا شان نزول اور والعادیات کے اس تفسیری معنی پر اس سورت کا مدنی ہونا ظاہر ہوتا ہے کیونکہ ہجرت سے پہلے جہاد نہیں تھا لیکن اگر سورت کو مکی مان لیا جائے تو پھر غازیوں کے گھوڑوں کی قسم ایک پیشین گوئی کے بجائے ہوگی (گویا پیشین گوئی ہے کہ آئندہ جہاد کا حکم ہوگا اور غازیوں کے گھوڑے ہوں گے) ۔ ضَبْحًا کا فعل محذوف ہے اور پورا جملہ حال واقع ہوا ہے یعنی ہانپتے ہوئے ‘ دوڑنے کے وقت گھوڑے کی سانس کی آواز کو ضبحٌ کہتے ہیں۔ حضرت…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 1–2

(1۔ 2) رسول اکرم صلی اللہ نے بنی کنانہ کی طرف ایک لشکر روانہ فرمایا آپ کے پاس اس کی خبر آنے میں تاخیر ہوئی جس سے آپ پریشان ہوئے تب اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کریم کو ان کی حالت سے بطور قسم کے آگاہ فرمایا کہ قسم ہے ان غازیوں کے گھوڑوں کی جو ہانپتے ہوئے دوڑتے ہیں پھر پتھر پر ٹاپ مار کر آگ جھاڑتے ہیں جیسا کہ پتھر کی آگ یہی اس سورة کا شان نزول ہے حضرت عبداللہ بن عباس سے بھی یہی مروی ہے۔ کہ ابی حباب کی آگ کی طرح اس سے بھی فائدہ نہیں ۃ وتا یہ عرب میں ایک بہت بخیل آدمی تھا جب لشکر میں ہوتا تو کھانے پکانے کے لیے آگ نہیں جلاتا تھا جب سب لشکر والے سوجاتے تب یہ آگ جلاتا اور پھر اگر کوئی درمیان میں اٹھ جاتا…

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

(والعدیت ضبحاً :”العدیت“ ”عدا یعدوا عدوا“ (ن) (دوڑنا) سے اسم فاعل ہے، دوڑنے والے۔ ”صبح“ اس آواز کو کہتے ہیں جو گھوڑے کے تیز دوڑنے کی وجہ سے اس کے جوف سے نکلتی ہے، جو نہ سانس کی آواز ہوتی ہے اور ہنہنانے کی، اس لئے اس کا معنی ”ہانپ کر“ کرنا محل نظر ہے۔ آیت میں اگرچہ گھوڑوں کا لفظ نہیں، مگر لغت عرب میں ”ضبح“ کا لفظ گھوڑے کیلئے آتا ہے یا کتے کے لئے، کیونکہ یہ مخصوص آواز انھی دو جانوروں سے نکلتی ہے۔ اس جگہ کتے مراد ہو ہی نہیں سکتے، اس لئے گھوڑے ہی مراد ہیں۔ یہاں تیز دوڑنے والے گھوڑوں کو بطور شاہد پیش کیا گیا ہے، وہ گھوڑے مسلمانوں کے ہوں یا کافروں کے، انہیں غازیوں کے ساتھ مخصوص بھی نہیں کیا گیا،…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

قسم ہے تیز دوڑنے والے گھوڑوں کی۔ جب وہ سینہ سے آواز نکالتے ہیں، پھر پتھروں سے آگ نکالتے ہیں سم مار کر۔ والعدیت ضبحا۔ ان گھوڑوں کی قسم جو دوڑتے ہیں۔ عام مفسرین اور اہل لغت نے یہی کہا ہے وہ اللہ کی راہ میں دوڑتے ہیں اور آواز نکالتے ہیں۔ قتادہ نے کہا : جب وہ دوڑتے ہیں تو وہ آواز نکالتے ہیں۔ فراء نے کہا : صبح گھوڑوں کے سانسوں کی آواز ہے جب وہ دوڑ رہے ہوں۔ حضرت ابن عباس نے کہا : جانوروں میں سے گھوڑے، کتے اور لومڑی کے علاوہ کوئی بھی چیز دوڑتے وقت آواز نہیں نکالتی۔ ایک قول یہ کیا گیا کہ ان کے منہ پر کوئی چیز چڑھا دی جاتی ہے تاکہ وہ ہنہنا نہ سکے کہ دشمن اس کے بارے میں آگاہ ہوجائے اس حالت میں قوت کے…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 1–11

1۔ ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ سورة والعدیت مکہ میں نازل ہوئی۔ 2۔ محمد بن نصر نے عطا بن ابی رباح کے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اذا زلزلت الارض آدھے قرآن کے برابر ہے اور والعدیت آدھے قرآن کے برابر ہے۔ 3۔ محمد بن نصر نے عطا بن ابی رباح کے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اذا زلزت آدھے قرآن کے برابر ہے آیت والعدیت آدھے قرآن کے برابر ہے اور قل ہوا للہ احد تہائی قرآن کے برابر ہے اور قل یا ایہا الکفرون چوتھائی قرآن کے برابر ہے۔۔ 4۔ البزار وابن المنذر وابن ابی حاتم والدار قطنی فی الافراد وابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ رسول…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[وَالْعٰدِيٰتِ ضَبْحًا : قسم ہے ہانپتے ہوئے تیز دوڑنے والوں (گھوڑوں) کی ] ض ب ح [ضَبْحًا : (ف) دوڑتے ہوئے سینے سے آواز نکالنا۔ ہانپنا۔ زیر مطالعہ آیت۔ 1 ۔] ترکیب : عربی میں عام طور پر گھوڑوں کے لیے جمع مؤنث کے صیغے استعمال کیے جاتے ہیں۔ ان آیات میں جمع مؤنث کے صیغوں کا ترجمہ اردو محاورے کے مطابق جمع مذکر میں کیا جائے گا، (آیت۔ 1) ضَبْحًا حال ہونے کی وجہ سے حالت نصب میں ہے۔ نوٹ 1: قرآن مجید جس چیز کی قسم کھا کر کوئی مضمون بیان فرماتا ہے تو اس چیز کو اس مضمون کے ثبوت میں دخل ہوتا ہے۔ یہاں جنگی گھوڑوں کی خدمات کا ذکر اس بات کی شہادت میں لایا گیا ہے کہ انسان بڑا ناشکرا ہے۔ تشریح اس کی یہ ہے…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 1–2

یہ سورة العادیات کا ترجمہ ہے اس میں گھوڑوں کی پانچ حالتوں کی قسم کھا کر انسان کا ناشکرا ہونا بتایا ہے۔ عادیات سے دوڑنے والے گھوڑے۔ ضبحا سے وہ گھوڑے مراد ہیں جو دوڑتے وقت ہانپتے ہیں یہ لفظ فعل محذوف تضح کا مفعول مطلق ہے، اور الموریات اور ی یوری سے اسم فاعل کا صیغہ ہے جس کا معنی آگ جلانے کا ہے اور قدحا اس کا مفعول ہے چقماق کو ایک دوسرے پر مار کر آگ لگانے کو قدح کہا جاتا ہے۔ دونوں آیتوں کا مطلب یہ ہوا کہ قسم ہے ان گھوڑوں کی جو دوڑتے ہوئے ہانپنے والے ہیں اور جو چلتے ہوئے آگ جلانے والے ہیں یعنی جس طرح چقماق سے آگ نکلتی ہے اسی طرح ان کے پاؤں مارنے سے آگ نکلتی ہے (خاص کر جن میں لوہے کے نعل لگے ہوئے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–11

سرگرمی بہائم در اطاعت مالک ونافرمانی وناشکری انسان بآقاء رب العالمین : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” والعدیت ضبحا ...... الی ........ ان ربھم بھم یومئذ لخبیر “۔ (ربط) گزشتہ سورت میں مجازات اعمال کا قانون بیان کیا گیا تھا اور یہ کہ انسان اپنی زندگی میں جو بھی نیکی یا بدی کا عمل کرے گا روز قیامت قیامت کا اس بدلہ پاکر رہے گا، اب اس سورت میں انسان کی غفلت و لاپرواہی اور اپنے رب کی ناشکری کی مذموم خصلت بیان کی جارہی ہے اور یہ کہ دراصل اس روش کا منشاء حرص مال، لالچ اور نفس کی خواہش ہے، اس کے پیچھے پڑکر انسان اپنے رب کو بھلا دیتا ہے اور اس سے غافل ہوجاتا ہے کہ مرنے کے بعد اس کو دوبارہ زندہ ہونا اور…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 1–7

2:۔ ” والعادیات ضبحا “ ہانپ ہانپ کر دوڑنے والے گھوڑے۔ ” فالموریات قدحا “ پتھریلی زمین پر دوڑتے وقت اپنے سموں سے چنگاریاں نکالنے والے۔ ” فالمغیرات صبحا “ پھر صبح صبح لوٹ مار کرنے والے۔ ” فاثرن بہ نقعا “ دوڑتے وقت گرد و غبار اڑاتے ہیں۔ ” فوسطن بہ جمعا “ پھر تیز رفتار کے ساتھ جماعتوں کے اندر گھس جاتے ہیں۔ ” ان الانسان لربہ لکنود “ یہ لوٹ مار کرنے والے گھوڑے اس پر شاہد ہیں کہ انسان اپنے پروردگار کا نہایت ہی ناشکر گذار ہے۔ قالہ الشیخ (رح) تعالی۔ عامۃ المفسرین کے نزدیک یہ صفتیں مجاہدین کے گھوڑوں کی ہیں اور بعض کے نزدیک ان صفات سے فرشتے مراد ہیں۔ ” وانہ علی ذلک لشہید “ مذکورہ شواہد کے علاوہ انسان…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 1–11

مکی زندگی میں نازل ہوئی ، تاہم حضرت عبداللہ بن عباس ، حضرت قتادہ اور امام مالک سے منقول ہے کہ یہ مدنی سورة ہے۔ اس کی گیارہ آیات ہیں۔ یہ سورة چالیس الفاظ اور ایک سو تریسٹھ حروف پر مشتمل ہے۔ گزشتہ سورة کے ساتھ ربط سابقہ سورة زلزال میں انسان کے جزائے عمل کا ذکر تھا کہ جزائے عمل کا واقع ہونا لازم ہے۔ اس سے پہلی سورة البینتہ میں اسلامی تعلیمات کا خلاصہ ہے ۔ انسان کو اللہ کی عبادت کرنی چاہئے اور حنیف بن کر رہنا چاہئے۔ بدنی اور مالی عبادات یعنی مال اور زکواۃ پر کاربند ہونا چاہئے۔ خدا کا خوف ہر وقت دل میں جاگزیں ہونا چاہئے۔ اس سورة مبارکہ میں ان بیماریوں کا ذکر ہے جو کہ مذکورہ بالا پروگرم پر عمل…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَالْعٰدِيٰتِ ضَبْحًا۝ 1 ۙ عادیات العادیات : جمع العادية مؤنّث العادي، اسم فاعل من عدا بمعنی رکض وزنه فاعل، وفيه إعلال بالقلب، أصله العادو، تحرّكت الواو بعد کسر قلبت ياء جمع ہے عادیۃ کی۔ اس کا مادہ عدد ہے جس سے اسم فاعل کا صیغہ واحد مؤنث عادوۃ ہے واو ما قبل مکسور کو یاء سے بدل دیا عادیۃ ہوا۔ جس کی جمع عادیات ہوئی جیسے غزو کی جمع غازیات ( جمع مؤنث غائب کا صیغہ) ( اعراب القرآن) ضبح مصدر الثلاثيّ ضبحت الخیل تضبح باب فتح أي أسمعت صوتا ليس بصهيل ولا حمحمة، وزنه فعل بفتح فسکون ضبح قال تعالی: وَالْعادِياتِ ضَبْحاً [ العادیات/ 1] ، قيل : الضَّبْحُ : صوتُ أنفاس الفرس تشبيها بالضِّبَاحِ ، وهو صوت…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 1–11

ترکیب ¦ وللقسم العادیات جمع عادیۃ من العدود ھوالمشی بسرعۃٍ فقلبت الواؤ یائً لکسرۃ ما قبلھا کا لغازیات من الغزو۔ والمراد بھا الخیل الجھادیۃ دقیل بعیر الحجاج ضبحا الضبح صوت اجواف الخیل اذا عدت وقیل السیر و نوع من العد و یقال ضبح الفرس اذا عد ابشدۃ من الضبح بمعنی الدفع وکان الحاء بدل من العین علی الاول منصوب علی الحال ای ضابحات وعلی الثانی مفعول مطلق موکد لاسم الفاعل و یجوزان یکون مصدر الفعل محدوف ای یضیح ضبحا۔ فالمو ریات قدحًا عطف العادیات من الایراء و ھوا اخراج النار جمع موریۃ والقدح الصک فجعل ضرب الخیل بحوا فرھا کالقدح بالزنا دوالکلام فی نصب قدحا کا لکالم ضبحا فالمغیرات ای التی تغیر علی العدو…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 1–5

وَالْعٰدِیٰتِ ضَبْحًا۔ فَالْمُوْرِیٰتِ قَدْحًا۔ فَالْمُغِیْرٰتِ صُبْحًا۔ فَاَثَرْنَ بِہٖ نَقْعًا۔ فَوَسَطْنَ بِہٖ جَمْعًا۔ (العٰدیٰت : 1 تا 5) (قسم ہے تیز دوڑنے والے گھوڑوں کی، جب وہ سینہ سے آواز نکالتے ہیں۔ پھر ٹاپوں کی ٹھوکر سے چنگاریاں نکالتے ہیں۔ پھر اچانک صبح کے وقت حملہ کرتے ہیں۔ پھر اس موقع پر گردوغبار اڑاتے ہیں۔ پھر اسی حالت میں دشمن کے لشکر میں جا گھستے ہیں۔ ) پانچ قسموں کا مفہوم آیات میں صفات کا ذکر کیا گیا ہے، موصوف کا نہیں۔ یعنی یہ بات واضح نہیں کی گئی کہ یہ صفات کن کی ہے۔ گھوڑوں کی ہیں یا اونٹوں کی۔ اس لیے مفسرین کے درمیان اختلاف ہوا ہے کہ ان صفات کے موصوف کون ہیں۔ صحابہ اور…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 1–5

فہم القرآن ربط سورت : سورة زلزال کا اختتام اس بات پر ہوا ہے کہ جس نے نیکی کی وہ اپنی نیکی کو دیکھ لے گا اور جس نے برائی کی وہ بھی اپنی برائی کو اپنے سامنے پائے گا۔ العادیات کا مرکزی مضمون یہ ہے کہ قیامت کے دن ہر انسان کو قبر سے اٹھایا جائے گا اور جو کچھ اس نے کیا ہے اس کے سامنے رکھ دیا جائے گا۔ اللہ تعالیٰ نے اس سورة مبارکہ کی ابتدا میں پانچ قسمیں اٹھائی ہیں جو جنگ کے دوران گھوڑوں کی مختلف حالتوں سے متعلق ہیں۔ ارشاد ہوا کہ قسم ہے ان گھوڑوں کی جو تیز دوڑتے ہوئے ہانپتے ہیں پھر اپنی ٹاپوں سے چنگاریاں نکالتے ہیں پھر صبح کے وقت دشمن پر دھاوابولتے ہیں اور گردوغبار اڑاتے ہوئے دشمن کے لشکر میں گھس…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

1 : وَ الْعٰدِیٰتِ ضَبْحًا (قسم ہے ان گھوڑوں کی جو ہانپتے ہوئے دوڑتے ہیں) اللہ تعالیٰ نے اس میں غازیوں کے ان گھوڑوں کی قسم اٹھائی جو دوڑ کر ہانپنے لگتے ہیں۔ الضبحؔ ہانپتے وقت سانس کی آواز۔ قول ابن عباس ؓ : آپ نے سانس کی اس آواز کی حکایت اَحْ اَحْ سے فرمائی۔ ضبحا فعل محذوف کا مفعول ہونے کی وجہ سے منصوب ہے۔ ای یضبحن ضبحًا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

1 ۔” والعادیات ضبحا “ ابن عباس ؓ ، عطاء مجاہد، عکرمہ ، حسن، کلبی، قتادہ ، مقاتل، ابوالعالیہ رحمہم اللہ اور ان کے علاوہ نے فرمایا ہے یہ اللہ کے راستے میں دوڑنے والے گھوڑے جن کے دوڑنے کی وجہ سے پیٹ میں سے آوازیں آئیں۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں حیوانات میں سے گھوڑے، کتے اور لومڑی کے علاوہ کسی کے دوڑتے وقت پیٹ سے آواز نہیں آتی اور یہ آواز ان جانوروں سے تب آتی ہے جب تھکاوٹ یا گھبراہٹ کی وجہ سے ان کی حالت متغیر ہوجائے اور یہ عرب کے قول سے ہے ” ضبحت النار “ جب آگ اس کا رنگ تبدیل کردے اور اللہ تعالیٰ کا قول ” ضبحا “ مصدر کی بناء پر منصوب ہے۔ اس کا مجاز ” والعادیات تضبح ضبحا “ ہے اور علی ؓ فرماتے ہیں یہ…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 1–11

1۔ 11۔ اللہ تعالیٰ کا دین پھیلانے کے لئے جو لوگ گھوڑوں پر سوار ہو کر مخالف لوگوں پر حملہ کرتے تھے ان کے گھوڑوں کے دوڑنے اور دوڑنے میں ہانپنے اور پتھر پر دوڑتے وقت ان کے نعلوں میں سے آگ کے شعلے جھڑنے اور صبح کے وقت حملہ کرنے اور حملہ کے وقت گرد و غبار اٹھنے اور اس گرد و غبار میں سواروں کے دشمنوں میں گھس جانے کی ان سب باتوں کی اللہ تعالیٰ نے قسم کھا کر فرمایا کہ انسان کی حالت اس بات کی گواہی دیتی ہے کہ وہ بڑا ناشکرا ہے کیونکہ اللہ نے اس کو پیدا کیا۔ اس کی زیست بھر کے سب طرح کے آرام کا بندوست کیا۔ پھر یہ انسان اللہ کو چھوڑ کر اوروں کو اپنا معبود ٹھہراتا ہے اس سے بڑھ کر اور کون سی حالت ناشکری کی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

اللہ تبارک وتعالی نے گھوڑوں کی قسم کھائی ہے کیونکہ ان کے اندر اللہ تعالیٰ کی روشنی اور نمایاں اور ظاہری نعمتیں ہیں جو تمام خلائق کو معلوم ہیں اور اللہ تعالیٰ نے گھوڑوں کی ان کے اس حال میں قسم کھائی جس حال میں حیوانات کی تمام انواع میں سے کوئی حیوان ان کے ساتھ مشارکت نہیں کرسکتا۔ فرمایا (وَالْعٰدِيٰتِ ضَبْحًا) یعنی بہت قوت کے ساتھ دوڑنے والے گھوڑوں کی قسم جبکہ ان سے ہانپنے کی آواز آرہی ہے۔ اضبح گھوڑوں کی سانس کی آواز جو تیز دوڑتے وقت ان کے سینوں سے نکلتی ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

(1) " عادیات " کا معنی و مطلب ؟ " عادیات " عدد سے ماخوذ ہے جس کے معنی دوڑنے کے آتے ہیں، سو " عادیات " کا معنی ہے دوڑنے والے، اس کا موصوف یہاں پر مذکور نہیں، لیکن آگے کے قرائن سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ صفت گھوڑوں کی ہے، اسی لیے ہم نے اس کا ترجمہ اس طرح کیا ہے۔ یعنی " قسم ہے ان گھوڑوں کی جو دوڑتے ہیں ہانپتے ہیں "۔ اگرچہ بعض حضرات نے ان صفات کا موصوف اونٹوں کو قرار دیا ہے مگر آگے جو " ضبح " یعنی ہانپنے اور " ایرائ " یعنی ٹاپ مار کر آگ نکالنے اور " اغارۃ " یعنی صبح ہوتے ہی لوٹ ڈالنے اور تخت و تاج کرنے کا ذکر آیا ہے، وہ گھوڑوں پر ہی صحیح طور پر چسپاں ہوسکتا ہے، نہ کہ اونٹوں پر اس لیے صحیح قول کے…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 1–11

گھوڑے کی وفاداری سے بندہ سبق سیکھے تشریح : یہ سورت پوری کی پوری انسان کو راہ ہدایت دکھانے، آخرت، حساب کتاب اور اس سچی خبر کی تصدیق میں ہی نازل کی گئی ہے کہ دنیا کے عیش و آرام مال و دولت میں اس قدر مگن نہ ہوجاؤ کہ اپنے پیدا کرنے والے ' پرورش کرنے والے اور پھر اپنے آخری ٹھکانے سے ہی غافل ہوجاؤ۔ اس سچائیـ کو مزید تقویت دینے کے لیے اللہ تعالیٰ اس وفادار ' مضبوط اور انتہائی فرمانبردار پر خلوص جانور کی قسم کھا رہا ہے جو کہ تمام مفسرین کی رائے کے مطابق گھوڑا ہی ہوسکتا ہے۔ کیونکہ تمام جانوروں میں سب سے زیادہ انسان کے کام آنے والا خاص طور سے جنگوں میں ' سفر میں اور بار برداری میں گھوڑا ہی ہے۔ یہ بڑا…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–11

سورة العادیات۔ آیات 1 تا 11 اسرار ومعارف۔ قسم ہے جہاد میں دوڑنے والے گھوڑوں کی انکی مشقت کی ان کے نعلوں سے چنگاریاں نکلتی ہیں اور جب وہ علی الصبح کسی پر ٹوٹ پڑتے ہیں اور پھر جب ہر طرف گرد اڑتی ہے اور دشمنوں کی فوج میں گھس پڑتے ہیں یعنی جہاد کا یہ سارامنظر اس بات پہ گواہ ہے انسان اپنے پروردگار کا سخت ناشکرا ہے کہ جو بات یعنی نظام اسلام اس کی بھلائی کے لیے تھا اس کے لیے روکاوٹ بن گیا اور اس کے نفاذ کے لیے جہاد کی ضرورت پیش آئی اللہ کو وہ جانور بھی پیارے ہیں جو اس کی راہ میں جہاد میں کام آئیں اور یہ انسان ہو کر اور خوب جانتے ہوئے کہ اسلام ہی سلامتی ہے اور یہ حق ہے پھر بھی اس کی مخالفت پہ کمربستہ…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(100:1) والعدیت ضبحا : جملہ قسمیہ ہے۔ واؤ قسم کے لئے ہے۔ العدیت جمع ہے عادیۃ کی۔ اس کا مادہ عدد ہے جس سے اسم فاعل کا صیغہ واحد مؤنث عادوۃ ہے واو ما قبل مکسور کو یاء سے بدل دیا عادیۃ ہوا۔ جس کی جمع عادیات ہوئی جیسے غزو کی جمع غازیات (جمع مؤنث غائب کا صیغہ) ضبحا۔ کی درج ذیل دو صورتیں ہیں۔ (1) ضبحا مصدر ہے منصوب ہے جس کا فعل یضبحن (باب فتح) محذوف ہے ای یضبحن ضبحا اور جملہ موضع حال میں ہے (2) ضبحا مفعول مطلق ہے اسم فاعل کی تاکید کے لئے ہے۔ العدیت : تیز دوڑنے والی گھوڑیاں یا گھوڑے۔ عدو سے اسم فاعل کا صیغہ جمع مؤنث ہے۔ امام راغب فرماتے ہیں :۔ عدو کے معنی ہیں تجاوز کرنے اور پیوستگی ختم کرنے کے۔…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–11

العدیت۔ دوڑنے والے گھوڑے۔ ضبح۔ ہانپتے ہوئے۔ الموریت۔ چنگاریاں نکالنے والے۔ قدح۔ آگ جھاڑ کر۔ المغیرات۔ وہ حملہ کرنے والے ہیں۔ اثرن۔ اٹھاتے ہیں۔ نقع۔ گردوغبار۔ وسطن۔ وہ بیچ میں گھس جاتے ہیں۔ کنود ۔ ناشکرا۔ شہید۔ گواہ۔ الخیر۔ مال و دولت۔ بعثر۔ باہر نکالا گیا۔ حصل۔ حاصل کیا گیا۔ تشریح : انسان کیچ اروں طرف اللہ نے اتنی نعمتوں کو بکھیر رکھا ہے جنہیں شمار کرنا بھی ممکن نہیں ہے۔ یہ نعمتیں انسان سے اس بات کا مطالبہ کرتی نظر آتی ہیں کہ اسے ہر سانس میں اللہ کا شکر ادا کرنا چاہیے۔ اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت میں زندگی گزارنی چاہیے۔ اسے وہی کرنا چاہیے جس کے کرنے کا اس کو حکم دیا گیا ہے اور ہر اس بات سے…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 1–11

جہاد کی اہمیت وفضیلت۔ (ف 1) اللہ تعالیٰ کا دین پھیلانے کے لیے جو لوگ گھوڑوں پر سوار ہوکر مخالف لوگوں پر حملہ کرتے ہیں ان کے گھوڑوں کے دوڑنے اور دوڑنے میں ہانپنے اور پتھر پر دوڑتے وقت ان کے نعلوں میں سے آگ کے شعلے جھڑنے اور صبح کے وقت حملہ کرنے اور حملہ کے وقت گردوغبار اٹھنے اور اس گردوغبار میں سواروں کے دشمنوں میں گھس جانے کی (حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں یہ جہاد والے سواروں کی ایک قسم ہے اس سے بڑا کون ساعمل ہوگا، کہ اللہ کے کام پر اپنی جان دینے کو حاضر ہیں اور یہ جہاد کرنے والے سواروں کی اللہ کی راہ میں سرفروشی وجانبازی بتلاتی ہے کہ وفادار وشکرگذار بندے ایسے ہوتے ہیں) ان سب باتوں کی اللہ تعالیٰ…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 1–2

[1] گھوڑوں کے سموں پر کیونکہ آہنی نعل لگے ہوتے ہیں اس وجہ سے جب وہ پتھریلی زمین پر دوڑتے ہیں تو ان کے سموں کی ضرب سے چقماق کی طرح چنگاریاں نکلتی ہیں۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(1) قسم ہے ان گھوڑوں کی جو ہانپتے ہوئے دوڑنے والے ہیں - یعنی تیز دوڑنے میں ان کے سانس کی آواز سننے میں آتی ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

قسم ہے ان گھوڑوں کے رب کی جو بھاگ بھاگ کر ہانپنے لگتے ہیں 1 ؎ ( عادیت) دوڑنے والے گھوڑے یا اونٹنیاں ۔ عادیات عادیۃ کی جمع ہے جو بمعنی تیز دوڑانے والی کے ہیں اور عدو سے مشتق ہے جس کے معنی تیز روی کے ہیں ۔ وائو کو ما قبل کے مکسور ہونے کی وجہ سے یا سے تبدیل کردیا جس طرح غازیات میں ہے جو غزو سے بنا ہے۔ (تفسیر فتح القدیرقاضی شوکانی) امام راغب (رح) فرماتے ہیں کہ عدو کے معنی ہیں تجاوز کرنے اور پیوستگی کو ختم کرنے کے اب اگر یہ چیز چلنے میں ہو تو اس کو عدو ( دوڑنا) کہتے ہیں یہاں ( عادیات) سے کیا مراد ہے ؟ اس کے متعلق دو اقوال ہیں ایک یہ کہ غازیوں کے گھوڑوں کی صفت بیان کی گئی ہے۔ ( ابن عباس ، عطاء ،…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Place of Revelation According to Sayyidna Ibn Masud, Jabir, Hasan Basri, ` Ikramah and ` Ata' رحمۃ اللہ علیہم Surah Al-` Adiyat was revealed in Makkah and, according to Sayyidna Ibn ` Abbas, Anas ؓ ، Imam Malik and Qatadah رحمۃ اللہ علیہما ، the Surah was revealed in Madinah. [ Qurtubi ]. In this Surah Allah describes the special features of war-horses or chargers, and swears by them. The subject of the oath states that man is very ungrateful to his Lord. It has been explained time and again previously that it is the prerogative of Allah to swear oath by any of his creatures to recount an…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

1 There is no indication in the words of the verse to show whether "those who run" imply the horses; only the word waI- `Adiyat (by, those who run) has been used. That is why the commentators have disputed as to what is implied by "those who run" ..One section of the Companions and their immediate successors has been to think that it implies the horses; another section says that it implies the camels. But since the peculiar sound called dabh is produced only by the panting, snorting horses, and the following verses also in which mention has been made of striking sparks and raiding a…

Read the full tafseer →