100. Surah Al-Aadiyaat
العادياتThe Chargers · 11 ayahsبصیرتِ قرآن
تعارف
تعارف
تعارف : ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے گھوڑوں کی قسم کھائی ہے جو اپنے مالک کے ایک اشارے پر ہانپتے، فراٹے بھرتے اور سرپٹ دوڑتے ہیں۔ جب اس کا مالک پتھریلی زمین پر تیز دوڑاتا ہے تو ان کے ٹاپوں سے چنگاریاں سی اڑتی نظر آتی ہیں۔ سویرا کسی دشمن پر حملہ کرنا ہو تو وہ صبح ہی صبح چھاپے مارنے کے لیے تیار رہتے ہیں۔ پھر وہ پورے میدان جنگ کو گردوغبار سے ڈھانپ دیتے ہیں۔ وہ تیزی سے دشمن کے لشکروں کی اندرونی صفوں میں جاگھستے ہیں اور وہ اپنی جان کی پرواہ نہیں کرتے۔ فرمایا کہ گھوڑا جو بےزبان جانور ہے جب اس کا مالک اسے دانہ اور گھاس کھلاتا اور پانی پلاتا ہے، اس کے رہنے کی جگہ بناتا ہے تو وہ جانور اپنے مالک کے احسان کو پہچانتا ہے اور ہر وقت اس کی خدمت اور اپنی جان نچھاور کرنے کے لیے تیار رہتا ہے۔ حالانہ گھوڑے کے مالک نے نہ تو اس گھوڑے کو پیدا کیا، نہ گھاس، دانے اور پانی کو اس نے پیدا کیا وہ مالک محض یہ چیزیں اس تک پہنچانے کا ذریعہ بنتا ہے مگر اس جانور کا حال یہ ہے کہ اپنے کھلانے پلانے والے کو اپنا محسن سمجھتا ہے۔ دوڑانے سے دوڑتا ہے، سموں سے چنگاریاں اڑاتا ہے، صبح ہو یا شام وہ ہر وقت اپنے مالک کی اطاعت و فرماں بردار کے لیے تیار رہتا ہے۔ میدان جنگ میں اس کے دوڑنے سے گردوغبار کے بادل چھا جاتے ہیں۔ اس کی وفاداری کا یہ حال ہوتا ہے کہ وہ اپنی جان کی پرواہ کئے بغیر دشمن کی صفوں کے بیچ میں گھس جاتا ہے اور اپنے مالک کی حفاظت کرتا ہے۔ فرمایا کہ ایک جانور کو ذرا سے دانے پانی کیا تنی قدر ہے وہ ہر وقت مالک کے سامنے سرجھکائے حکم کا منتظر رہتا ہے لیکن انسان کس قدر ناشکرا ہے اسے اللہ نے پیدا کیا، زندگی گزارنے کی ہر چیز عطا کی، زمین و آسمان، چاند ، سورج ، ستارے، نباتات، جمادات اور حیوانات کو اس کی خدمات میں لگادیا۔ اس کو عقل و شور اور فہم و فراست عطا کی ، ذرہ ذرہ کو اس کے تابع کردیا، اس کی ہدایت کے لیے اس نے پیغمبروں وار کتابوں کو بھیجا مگر اس کا یہ حال ہے کہ دنیا کی ذراسی دولت کی محبت میں ہو اس طرح غرق ہوجاتا ہے کہ اپنے خالق ومالک کو بھول جاتا ہے۔ نافرمانی اور ناشکری پر اس کا اپنا وجود ہی گواہ بن جاتا ہے لیکن وہ نہیں سوچتا کہ دنیا کے یہ اسباب کب تک استعمال کرے گا۔ یہ مال و دولت اس کے کب تک کام آئیں گے۔ موت کے ساتھ ہی یہ تمام چیزیں اس سے چھوٹ جائیں گی اور قبر میں کوئی چیز اس کے ساتھ نہ جائے گی۔ فرمایا کہ اس کے بعد انسان کو اس کی قبر سے اٹھایا جائیگا۔ میدان حشر میں اس کا اعمال نامہ اس کے حوالے کردیا جائے گا پھر اس کو ہوش آئے گا کہ وہ اپنے جن کرتوتوں کو دنیا سے چھپایا کرتا تھا ان تمام باتوں سے اس کا رب پہلے ہی واقف تھا۔ پھر اس وقت اس کا شرمندہ ہونا اس کے کسی کام نہ آئے گا۔ اسی مضمون کو اللہ تعالیٰ نے سورة العادیات میں بیان فرمایا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے پروردگار کا شکر ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور آخرت میں ہر طرح کی رسوائیوں اور ذلتوں سے محفوظ فرمائے۔ آمین
وَ الْعٰدِیٰتِ ضَبْحًاۙ Open ayah 100:1 in the Quran reader
ان گھوڑوں کی قسم جو دوڑتے ہوئے ہانپتے ہیں
فَالْمُوْرِیٰتِ قَدْحًاۙ Open ayah 100:2 in the Quran reader
پھر وہ جو (اپنے سموں سے پتھروں پر ٹارپ مارتے ہوئے) چنگاریاں اڑاتے ہیں
فَالْمُغِیْرٰتِ صُبْحًاۙ Open ayah 100:3 in the Quran reader
پھر ان کی قسم جو صبح کے وقت چھاپے مارتے ہیں
فَاَثَرْنَ بِهٖ نَقْعًاۙ Open ayah 100:4 in the Quran reader
پھر وہ گردوغبار اڑاتے ہیں
فَوَسَطْنَ بِهٖ جَمْعًاۙ Open ayah 100:5 in the Quran reader
پھر وہ (دشمن کی فوج کے) مجمع میں جاگھستے ہیں
اِنَّ الْاِنْسَانَ لِرَبِّهٖ لَكَنُوْدٌۚ Open ayah 100:6 in the Quran reader
بیشک انسان اپنے رب کا بہت ناشکرا ہے
وَ اِنَّهٗ عَلٰى ذٰلِكَ لَشَهِیْدٌۚ Open ayah 100:7 in the Quran reader
اور بیشک انسان اس ناشکری پر خواد ہی گواہ ہے (جو جانتا ہے مگر مانتا نہیں)
وَ اِنَّهٗ لِحُبِّ الْخَیْرِ لَشَدِیْدٌؕ Open ayah 100:8 in the Quran reader
اور بیشک آدمی مال کی محبت میں بڑا سخت ہے
اَفَلَا یَعْلَمُ اِذَا بُعْثِرَ مَا فِی الْقُبُوْرِۙ Open ayah 100:9 in the Quran reader
کیا اس کو یہ نہیں معلوم کہ جب مردے قبر سے اٹھا کر کھڑے کردئیے جائیں گے
وَ حُصِّلَ مَا فِی الصُّدُوْرِۙ Open ayah 100:10 in the Quran reader
اور جو کچھ سینوں میں محفوظ ہے وہ کھول دیا جائے گا
اِنَّ رَبَّهُمْ بِهِمْ یَوْمَئِذٍ لَّخَبِیْرٌ۠ Open ayah 100:11 in the Quran reader
بیشک آپ کا پروردگار تو اس دن ان کے احوال سے واقف ہی ہوگا