100. Surah Al-Aadiyaat

العادياتThe Chargers · 11 ayahsتفسیر الکتاب

Ayahs 100:1–2

وَ الْعٰدِیٰتِ ضَبْحًاۙ Open ayah 100:1 in the Quran reader

(ہم کو) قسم ہے ان (گھوڑوں) کی جو دوڑتے دوڑتے ہانپ اٹھتے ہیں

فَالْمُوْرِیٰتِ قَدْحًاۙ Open ayah 100:2 in the Quran reader

پھر (پتھروں پر) ٹاپ مار کر چنگاریاں جھاڑتے ہیں،

[1] گھوڑوں کے سموں پر کیونکہ آہنی نعل لگے ہوتے ہیں اس وجہ سے جب وہ پتھریلی زمین پر دوڑتے ہیں تو ان کے سموں کی ضرب سے چقماق کی طرح چنگاریاں نکلتی ہیں۔
Ayahs 100:3–6

فَالْمُغِیْرٰتِ صُبْحًاۙ Open ayah 100:3 in the Quran reader

پھر صبح کے وقت (دشمنوں پر) چھاپہ مارتے ہیں

فَاَثَرْنَ بِهٖ نَقْعًاۙ Open ayah 100:4 in the Quran reader

پھر اس کے ساتھ گردوغبار اڑاتے ہیں

فَوَسَطْنَ بِهٖ جَمْعًاۙ Open ayah 100:5 in the Quran reader

پھر اس حالت میں (دشمنوں کی) جماعت میں جا گھستے ہیں۔

اِنَّ الْاِنْسَانَ لِرَبِّهٖ لَكَنُوْدٌۚ Open ayah 100:6 in the Quran reader

بیشک انسان اپنے رب کا بڑا ہی ناشکرا ہے،

[2] یہ ہے وہ بات جس پر قسم کھائی گئی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جو انسان گھوڑوں کی یہ ساری جاں نثاریاں دیکھتا ہے اور ان کی قربانیوں سے بہرہ مند ہوتا ہے اسے یہ سوچنے کی توفیق نہیں ہوتی کہ وہ بھی اپنے رب کا غلام ہے اور اس پر بھی یہ فرض عائد ہوتا ہے کہ وہ بھی انہی کی طرح اپنے رب کی اطاعت میں سرگرم رہے۔ اگر وہ ایسا نہیں کرتا تو وہ سخت ناشکرا ہے کیونکہ گھوڑا جانور ہو کر اپنے مالک کا حق پہچانتا ہے اور یہ انسان ہو کر اپنے خالق کا حق نہیں پہچانتا۔
Ayah 100:7

وَ اِنَّهٗ عَلٰى ذٰلِكَ لَشَهِیْدٌۚ Open ayah 100:7 in the Quran reader

اور وہ خود اس پر گواہ ہے،

[3] یعنی اس کا ضمیر اس پر گواہ ہے، اس کے اعمال اس پر گواہ ہیں اور بہت سے کافر انسان خود اپنی زبان سے بھی علانیہ ناشکری کا اظہار کرتے ہیں۔
Ayah 100:8

وَ اِنَّهٗ لِحُبِّ الْخَیْرِ لَشَدِیْدٌؕ Open ayah 100:8 in the Quran reader

اور وہ مال کی محبت میں بہت سخت ہے۔

[4] یعنی وہ مال کی محبت میں غرق ہے۔ وہ جو کچھ اپنے رب کی بخشش و عنایات سے پاتا ہے اس کو اپنی تدبیر و قابلیت کا کرشمہ سمجھتا ہے اور اس میں مالک حقیقی کا کوئی حق تسلیم کرنے کے لئے تیار نہیں ہوتا۔
Ayahs 100:9–11

اَفَلَا یَعْلَمُ اِذَا بُعْثِرَ مَا فِی الْقُبُوْرِۙ Open ayah 100:9 in the Quran reader

تو کیا اس کو (اتنی بات بھی) معلوم نہیں کہ قبروں میں جو (مردے) مدفون ہیں جب (جِلا) اٹھائے جائیں گے

وَ حُصِّلَ مَا فِی الصُّدُوْرِۙ Open ayah 100:10 in the Quran reader

اور (لوگوں کے) سینوں میں جو کچھ (مخفی) ہے وہ آشکار ہوجائے گا۔

اِنَّ رَبَّهُمْ بِهِمْ یَوْمَئِذٍ لَّخَبِیْرٌ۠ Open ayah 100:11 in the Quran reader

بیشک اس دن ان کا رب ان کے حال سے بخوبی واقف ہوگا۔

[5] یعنی اللہ تعالیٰ کو ہر شخص کے بارے میں خوب معلوم ہوگا کہ وہ دنیا میں کیا کچھ کرتا رہا۔