100. Surah Al-Aadiyaat

العادياتThe Chargers · 11 ayahsتفسیر درِ منثور

Ayahs 100:1–11

وَ الْعٰدِیٰتِ ضَبْحًاۙ Open ayah 100:1 in the Quran reader

قسم ہے ان گھوڑوں کی جو دوڑنے والے ہیں ہانپتے ہوئے

فَالْمُوْرِیٰتِ قَدْحًاۙ Open ayah 100:2 in the Quran reader

پھر ٹاپ مار کر آگ جلانے والے ہیں

فَالْمُغِیْرٰتِ صُبْحًاۙ Open ayah 100:3 in the Quran reader

پھر صبح کے وقت غارت گری کرنے والے ہیں

فَاَثَرْنَ بِهٖ نَقْعًاۙ Open ayah 100:4 in the Quran reader

پھر اس وقت غبار اڑاتے ہیں

فَوَسَطْنَ بِهٖ جَمْعًاۙ Open ayah 100:5 in the Quran reader

پھر اس وقت جماعت کے درمیان گھس جاتے ہیں

اِنَّ الْاِنْسَانَ لِرَبِّهٖ لَكَنُوْدٌۚ Open ayah 100:6 in the Quran reader

بیشک انسان اپنے رب کا بڑا ہی ناشکرا ہے

وَ اِنَّهٗ عَلٰى ذٰلِكَ لَشَهِیْدٌۚ Open ayah 100:7 in the Quran reader

اور بیشک وہ اس بات پر گواہ ہے

وَ اِنَّهٗ لِحُبِّ الْخَیْرِ لَشَدِیْدٌؕ Open ayah 100:8 in the Quran reader

اور بیشک وہ خیر کی محبت میں بہت سخت ہے

اَفَلَا یَعْلَمُ اِذَا بُعْثِرَ مَا فِی الْقُبُوْرِۙ Open ayah 100:9 in the Quran reader

کیا وہ نہیں جانتا جب وہ اٹھائے جائیں گے جو قبروں میں ہیں

وَ حُصِّلَ مَا فِی الصُّدُوْرِۙ Open ayah 100:10 in the Quran reader

اور جو کچھ سینوں میں ہے اسے ظاہر کیا جائے گا

اِنَّ رَبَّهُمْ بِهِمْ یَوْمَئِذٍ لَّخَبِیْرٌ۠ Open ayah 100:11 in the Quran reader

بیشک ان کا رب ان سے اس دن پوری طرح ضرور باخبر ہوگا

1۔ ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ سورة والعدیت مکہ میں نازل ہوئی۔ 2۔ محمد بن نصر نے عطا بن ابی رباح کے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اذا زلزلت الارض آدھے قرآن کے برابر ہے اور والعدیت آدھے قرآن کے برابر ہے۔ 3۔ محمد بن نصر نے عطا بن ابی رباح کے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اذا زلزت آدھے قرآن کے برابر ہے آیت والعدیت آدھے قرآن کے برابر ہے اور قل ہوا للہ احد تہائی قرآن کے برابر ہے اور قل یا ایہا الکفرون چوتھائی قرآن کے برابر ہے۔۔ 4۔ البزار وابن المنذر وابن ابی حاتم والدار قطنی فی الافراد وابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے گھڑ سواروں کو بھیجا وہ ایک مہینہ ٹھہرا رہا اس کے بارے میں کوئی خبر آپ کے پاس نہ آئی تو یہ سورت نازل ہوئی آیت والعدیت ضبحا ان گھوڑوں کی قسم جو ہانپتے ہوئے دوڑتے تھے یعنی تیز دوڑنے والے جنہوں نے اپنے پاؤں سے آواز نکالی۔ اور ابن مردویہ کے الفاظ میں ہے کہ جنہوں نے اپنے نتھنوں سے آواز نکالی آیت فالموریت قدحا پھر پتھر پر ٹاپ مار کر آگ جھاڑتے ہیں یعنی وہ اپنے کھروں کو پتھروں پر مارتے ہیں تو آگ نکلتی ہے آیت فالمغیرات صبحا پھر صبح کے وقت دھاوا بولتے ہیں۔ یعنی جنہوں نے صبح کو قت قوم پر دھاوا بولا آیت فاثرن بہ نقعا پھر اس وقت غبار اڑا رہے ہیں۔ یعنی اپنے کھروں کے ساتھ گردوغبار اڑایا۔ آیت فوسطن بہ جمعا پھر اس وقت دشمنوں کی جماعت میں جا گھستے ہیں یعنی انہوں نے دشمن کے ساتھ اکٹھی صبح کی یعنی ان میں جا گھسے۔ دشمن کی طرف روانہ لشکر کا حال 5۔ ابن مردویہ نے دوسری سند سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک فوجی دستہ دشمن کی طرف بھیجا اس کی خبر آنے میں دیر لگی اور یہ بات آپ پر بھاری گذری تو اللہ تعالیٰ نے آپ کو ان کی خبردی جو ان کے معاملات تھے ان سے آگاہ کیا اور فرمایا آیت والعدیت ضبحا سے مراد ہے گھوڑے چلتے ہیں تو اپنے سموں کو پتھروں کے ساتھ مار کر آگ روشن کرتے اپنے کھروں کے ساتھ گردوغبار اڑایا کہتے ہیں کہ گھوڑے تیز دوڑے تے ہیں اور النقع سے مراد ہے غبار آیت فوسطن بہ جمعا میں الجمع سے مراد ہے دشمن۔ یعنی پھر وہ اس وقت دشمن کے لشکر میں گھس جاتے ہیں۔ 6۔ عبد بن حمید نے ابو صالح (رح) سے روایت کیا کہ میں نے عکرمہ ؓ نے آیت والعدیت کے بارے میں مباحثی کیا بن عباس ؓ نے فرمایا یہ میدان جنگ کے گھوڑے ہیں اور ان کی آواز اس وقت نکلت ہے جب ان کو تیار کرکے ان کی لگامیں آگے بڑھنے کے لیے ڈھیلی چھوڑدی جاتی ہیں آیت فالموریت قدحا یعنی انہوں نے مشرکین کو ان کے مکروفریب دکھائے آیت فالمغیرات صبحا یعنی وہ صبح کے وقت دشمن پر دھاوا بولتے ہیں فوسطن بہ جمعا یعنی جب دشمن میں جاگھستے ہیں ابو صالح نے کہا میں نے کہا کہ علی ؓ نے فرمایا کہ اس سے حج میں جانے والا اونٹ مراد ہے اور میرا آقا تمہارے آقا سے بڑھ کر عالم تھا۔ 7۔ ابن جریر وابن ابی حاتم وابن الانباری فی المصاحف والحاکم وصححہ وابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ اس درمیان کہ میں کمرے میں بیٹھا ہوا تھا۔ اچانک میرے پاس ایک آدمی آیا اس نے آیت والعدیت ضبحا کے بارے میں پوچھا میں نے کہا وہ گھوڑے جب اللہ کے راستے میں حملہ ا اور ہوتے ہیں پھر وہ رات کی طرف ٹھکانا پکڑتے ہیں اور وہ لوگ اپنے لیے کھانا تیار کرتے ہیں اور اپنے لیے آگ روشن کرتے ہیں پھر وہ آدمی مجھ سے دور ہٹ گیا اور عی بن ابی طالب ؓ کے پاس چلا گیا اور وہ زمزم کے کنوئیں کے قریب تشریف فرما تھے اس نے ان سے آیت والعدیت ضبحا کے بارے میں پوچھا۔ انہوں نے فرمایا اس کے بارے میں مجھ سے پہلے تو نے کسی اور سے بھی پوچھا اس نے کہا ہاں ! میں نے اس کے بارے میں ابن عباس ؓ سے پوچھا تو انہوں نے فرمایا اس سے وہ گھوڑے مراد ہے جب وہ اللہ کے راستے میں حملہ آور ہوتے ہیں۔ علی ؓ نے فرمایا تو چلا جا اور ان کو بلا کرلے آؤ جب وہ آپ کے قریب جا کر کھڑا ہوا تو علی ؓ نے فرمایا تو لوگوں کو ایسی چیز کے بارے میں فتویٰ دیتا ہے جس کا تجھے علم نہیں۔ اللہ کی قسم ! سب سے اول غزوہ اسلام میں بدر تھا اور ہمارے ساتھ صرف دو گھوڑے تھے۔ ایک گھوڑا زبیر ؓ کا تھا اور ایک گھوڑا مقداد بن اسود ؓ کا تھا تو آیت والعدیت ضبحا کیسے ہوسکتے ہیں۔ بیشک وہ گھوڑے جو ہانپتے ہوئے دوڑتے ہیں وہ عرفہ سے مزدلفہ تک ہی۔ جب وہ مزدلفہ میں پہنچے تو انہوں نے آگ روشن کی آیت فالمغیرات صبحا اور وہ صبح کے وقت مزدلفہ سے منیٰ کی طرف جاتے ہیں پس یہی جمع ہے آیت فاثرن بہ نقعا سے مراد زمین کا غبار ہے جو اس وقت اڑتا ہے جب وہ اپنے پاؤں اور کھروں کے ساتھ زمین کو روندتے ہیں۔ ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ میں اپنی بات سے رک گیا اور میں نے اس بات کی طرف رجوع کرلیا جو علی ؓ نے فرمایا۔ 8۔ ابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم اعمش کے طریق سے ابراہیم سے روایت کیا کہ اور انہوں نے عبداللہ ؓ سے روایت کیا کہ آیت والعدیت ضبحا سے مراد ہے اونٹ اور ابراہیم (رح) نے فرمایا کہ علی ؓ نے بھی فرمایا کہ یہ اونٹوں کی صفات ہیں۔ اور ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ یہ گھوڑوں کی صفات ہیں۔ علی ؓ کو جب ابن عباس ؓ کا قول پہنچا تو فرمایا کہ بدر کے دن ہمارے پاس گھوڑے نہیں تھے۔ ابن عباس ؓ نے فرمایا یہ ان گھوڑوں کی صفات ہیں جو ایک غزوہ میں بھیجے گئے تھے۔ 9۔ عبد بن حمید نے عامر (رح) سے روایت کیا کہ علی اور ابن عباس ؓ کے درمیان آیت والعدیت ضبحا کے بارے میں اختلاف ہوگیا۔ ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ اس سے گھوڑے مراد ہیں اور علی ؓ نے فرمایا اے فلانی کے بیٹے تو نے جھوٹ کہا اللہ کی قسم ! ہمارے ساتھ بدر کے دن کوئی گھوڑا نہ تھا سوائے مقداد ؓ کے۔ اور وہ ایک چتکبرے گھوڑے پر سوار تھے۔ راوی نے کہا علی ؓ فرماتے تھے کہ اس سے اونٹ مراد ہیں۔ ابن عباس ؓ نے فرمایا کیا تو نے نہیں دیکھا کہ وہی گرد و غبار کو اڑاتے ہیں پس وہ ہر چیز کو اپنے کھروں سے اڑاتے ہیں۔ 10 عبد بن حمید والحاکم وصححہ نے مجاہد کے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت والعدیت ضبحا سے مراد ہیں گھوڑے آیت فالموریت قدحا۔ یعنی وہ آدمی ہے جب وہ چقماق کو جلائے آیت فالمغیرات صبحا یعنی وہ گھوڑے صبح سویرے اپنے دشمن پر دھاوا بولتے ہیں آیت فاثرن بہ نقعا سے مراد مٹی ار گردوغبار ہے آیت فوسطن بہ جمعا میں جمعا سے مراد دشمن کا لشکر ہے آیت ان الانسان لربہ لکنود بیشک انسان اپنے رب کا بڑا ناشکرا ہے یعنی ناشکرا ہے۔ 11۔ عبد بن حمید نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ ابن عباس ؓ نے آیت والعدیت ضبحا کے بارے میں فرمایا قسم ہے جنت میں تیز دوڑنے والے گھوڑوں کی جبکہ وہ سینے سے آواز نکالتے ہیں اور ابن مسعود ؓ نے فرمایا قسم ہے حج کے دوران تیز دوڑنے والے گھوڑوں کی۔ 12۔ عبدالرزاق و سعید بن منسور وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے عمرو بن دینار کے طریق سے عطاء سے روایت کیا اور انہوں نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت والعدیت ضبحا کے بارے میں فرمایا کہ جانوروں میں سے کوئی چیز ایسی نہیں جو ہانپتی ہو سوائے کتے یا گھوڑے کے آیت فالموریت قدحا یعنی آدمی کا مکر چقماق سے پس اس نے آگ سلگا دی آیت فالمغیرات صبحا یعنی گھوڑوں نے صبح سویرے دھاوا بول دیا آیت فاثرن بہ نقعا یعنی وہ غبار جو گھوڑوں کے سموں کے ساتھ اڑتا ہے آیت فوسطن بہ جمعا میں جمع سے مراد ہے دشمن عمرو ؓ نے فرمایا کہ عبید بن عمیر ؓ فرمایا کرتے تھے کہ اس سے اونٹ مراد ہیں۔ 13۔ ابن جریر وابن المنذر نے ابن عباس ؓ سے آیت والعدیت ضبحا کے بارے میں روایت کیا کہ اس سے مراد ہے تیز دوڑنے والے گھوڑے اور ضبحا سے مراد ہے اس کا آواز نکالنا کیا تو نے نہیں دیکھا کہ گھوڑا جب دوڑتا ہو تو وہ ” واح اح “ کی آواز نکالتا ہے اسی کو ضبحا کہتے ہیں۔ 14۔ ابن جریر نے علی ؓ سے روایت کیا کہ ضبحا کا معنی گھوڑے کا ہنہنا نا ہے اور اس کا سانس نکالنا۔ 15۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید وابن جریر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت والعدیت ضبحا سے مراد ہے وہی گھوڑے جو تیز دوڑتے ہیں تو ہانپتے ہیں آیت فالموریت قدحا وہ گھوڑے جو پتھریلی زمین پر آگ روشن کرتے ہیں اپنے کھروں کے ساتھ آیت فالمغیرات صبحا۔ یعنی وہ گھوڑے جو دشمن پر صبح سویرے حملہ کرتے ہیں آیت فاثرن بہ نقعا وہ گھوڑے جو غبار اڑاتے ہیں آیت فوسطن بہ جمعا میں جمع سے مراد ہے کہ وہ دشمن کی قوم میں جا گھستے ہیں آیت ان الانسان لربہ لکنود بیشک انسان ناشکر ہے۔ 16۔ فریابی وعبد بن حمید نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت والعدیت ضبحا سے مراد ہے قسم ہے تیز دوڑنے والے گھوڑوں کی کیا تو نے گھوڑے کی طرف نہیں دیکھا کہ جب وہ تیز دوڑتا ہے تو کس طرح ہانپتا ہے اور اونٹ کبھی نہیں ہانپتا آیت فالموریت قدحا سے مراد مکر ہے۔ عرب کہتے ہیں کہ جب کوئی آدمی اپنے ساتھی کے ساتھ مکر و فریب کا اردہ کرے تو کہتا ہے میں ضرور تیرے لیے چقماق لاؤں گا اور آگ جلادوں گا۔ آیت فالمغیرات صبحا سے مراد ہیں گھوڑے آیت فاثرن بہ نقعا اور وہ اپنے پاؤں کے ساتھ گردوغبار اڑانے والے ہیں۔ آیت فوسطن بہ جمعا میں جمع سے مراد ہے دشمن۔ آیت ان الانسان لربہ لکنود بیشک انسان ناشکرا ہے۔ گھوڑوں کی قسم کھانا 17۔ عبد بن حمید نے عطیہ (رح) سے روایت کیا کہ والعدیت ضبحا سے مراد گھوڑوں کی قسم ہے کیا تو نے گھوڑے کو نہیں دیکھا جب وہ دوڑتا ہے تو وہ نتھنے سے آواز نکالتا ہے آیت فالموریات قدحا اس سے مراد مکر ہے آیت فالمغیرات صبحا سے مراد ہیں گھوڑے آیت فاثن بہ نقعا کہ گھوڑے اڑاتے ہیں غبار کو فوسطن بہ جمعا اس میں جمعا سے مراد مشرکین کا لشکر ہے آیت ان الانسان لربہ لکنود میں لکنود سے مراد ہے بہت زیادہ ناشکرا ہونا۔ 18۔ ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے آیت فالموریت قدحا کے بارے میں روایت کیا کہ اس سے مراد ہے مشرکین کا مکر اور دھوکہ ہے جب وہ مکر کرتے تو وہ آگ روشن کرتے تاکہ وہ بہت تعداد میں دیکھے جائیں۔ 19۔ الطستی نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ نافع بن ازرق (رح) نے ان سے پوچھا کہ مجھے اللہ تعالیٰ کے اس قول آیت فاثرن بہ نقعا کے بارے میں بتائیے تو انہوں نے فرمایا آیت نقعا سے مراد ہے وہ غبار جو گھوڑوں کے سموں سے اڑتا ہے پھر پوچھا کیا عرب کے لوگ اس معنی سے واقف ہیں ؟ فرمایا ہاں کیا حسان بن ثابت ؓ کو تو نے نہیں سنا وہ کہتا یہ۔ عدمنا خیلنا ان لم تروھا تثیر النقع موعیدہا کداء ہم اپنے گھوڑے گم کردیں گے اگر تم نے ان کو سیراب نہ کیا غبار اڑانے لگے گا اور ان کا ٹھکانہ ویران ہوجائے گا۔ پھر پوچھا مجھے اللہ تعالیٰ کے اس قول آیت ان الانسان لربہ لکنود کے بارے میں بتائیے تو فرمایا لکنود سے مراد ہے نعمت کی بہت ناشکری کرنے والا اور یہ وہ آدمی جو اکیلا کھاتا ہے اپنے ساتھیوں کو روکتا ہے اپنے غلام کو بھوکا رکھتا ہے پھر پوچھا کیا عرب کے لوگ اس معنی سے واقف ہیں ؟ فرمایا ہاں کیا تو نے شاعر کو نہیں سنا وہ کہتا ہے شکرت لہ یوم العکاظ لولہ ولم اک للمعروف ثم کنودا ترجمہ : میں نے عکاظ کے دن اس کی عطا کا شکریہ ادا کیا اور میں نہیں ہوں کہ نیکی اور احسان کی پھر ناشکری کرنے لگوں 20۔ ابن جریر نے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ آیت والعدیت ضبحا سے مراد حج میں چلنے والے اونٹ ہیں آیت فالموریت قدحا سے مراد ہے کہ جب سنگریزے ان کے پاؤں کے تلووں کے نیچے آتے ہیں تو یہ سنگریزے ایک دوسرے کے ساتھ ٹکراتے ہیں اور اس طرح ان سے آگ نکلتی ہے آیت فالمغیرات صبحا یعنی جس وقت وہ لشکر کے ساتھ دشمن پر غلبہ کا اردہ کرتے ہیں تو صبح کے وقت حملہ آور ہوتے ہیں آیت فاثرن نقعا یعنی جب وہ چلتے ہیں تو گردوغبار کو اڑاتے ہیں۔ 21۔ عبد بن حمید نے عطاء (رح) سے روایت کیا کہ آیت والعدیت ضبحا یعنی تیز چلنے والے اونٹوں کی قسم آیت فالموریات قدحا سے مراد ہے ان گھوڑوں کی قسم جو پتھروں کے ساتھ سم مر کر آگ نکالتے ہیں آیت فوسطن بہ جمعا اور ان کی جو دشمن کے لشکر میں گھس جاتے ہیں آیت ان الانسان لربہ لکنود بیشک انسان اپنے رب کا بڑا ناشکرا ہے۔ 22۔ عبد بن حمید نے محمد بن کعب قرظی (رح) سے روایت کیا کہ آیت والعدیت ضبحا سے مراد ہے عرفات میں روانہ ہونا آیت فالموریات قدحا وہ آگ جو مزدلفہ میں جلائی جاتی ہے آیت فالمغیرات صبحا یعنی مزدلفہ سے صبح سویرے لوٹتے ہیں۔ منیٰ کی طرف آیت فاثرن بہ نقعا یعنی بطن وادی میں غبار اڑاتے ہیں آیت فوسطن بہ جمعا یعنی وہ گھس جاتے ہیں منیٰ کی بھیڑ میں۔ 23۔ عبد بن حمید و سعید بن منصور وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم وابن مردویہ نے کئی طرق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لکنود ہم اہل بلد کی زبان میں لکنود سے مراد ہے بہت زیادہ ناشکری کرنے والا۔ 24۔ ابن عساکر نے ابو امامہ ؓ سے روایت کیا کہ کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا کہ آیت انا الانسان لربہ لکنود میں لکنود سے مراد ہے بہت زیادہ ناشکری کرنے والا۔ 25۔ عبد بن حمید والبخاری فی الادب والحکیم والترمذی وابن مردویہ نے ابوامامہ ؓ سے روایت کیا کہ ” الکنود “ سے مراد ہے جو روکتا ہے اپنے ساتھیوں کو اور اکیلے کھاتا ہے اور اپنے کو مارتا ہے۔ 26۔ ابن جریر وابن ابی حاتم والطبرانی وابن مردویہ والبیہقی وابن عساکر نے ضعیف سند کے ساتھ ابو مامہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کیا تم جانتے ہو لکنود کیا ہے ؟ صحابہ ؓ نے عرض کیا اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں۔ فرمایا وہ ناشکرا ہے جو اپنے غلام کو مارتا ہے اور اپنے دوستوں کو روکتا ہے اور اکیلا کھاتا ہے۔ 27۔ البیہقی نے شعب الایمان میں قتادہ اور حسن رحمہما اللہ سے روایت کیا کہ آیت ان الانسان لربہ لکنود سے مراد ہے کہ بیشک انسان اپنے رب کی نعمتوں کا بڑا ناشکرا ہے اور جو اسے عطا کی یا جائے اس پر بخیلی کرتا ہے جو اپنے دوستوں کو روکتا ہے اور اپنے غلام کو بھوکا رکھتا ہے اور اکیلا کھاتا ہے اور جو آفت اور مصیبت اس کی قوم میں آتی ہے وہ کچھ نہیں دیتا۔ پھر فرمایا کوئی بھی اس وقت تک لکنود نہیں ہوتا جب تک اس میں یہ خصلتیں نہ پائی جائیں۔ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کو بھلانا ناشکری ہے 28۔ سعید بن منصور وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم والبیہقی نے شعب الایمان حسن (رح) سے روایت کیا کہ آیت ان الانسان لربہ لکنود سے مراد ہے ناشکرا جو مصیبتوں کو گنتا رہتا ہے اور اپنے رب عزوجل کی نعمتوں کو بھول جاتا ہے۔ 29۔ ابن المنذر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت وانہ علی ذلک لشہید اور بیشک انسان اس بات پر خود شاہد ہے یعنی انسان آیت وانہ لحب الخیر لشدید اور بیشک یہ مال کی محبت میں بڑا سخت ہے۔ 30۔ ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت وانہ علی ذلک لشہید یعنی بیشک اللہ عز وجل اس پر خود گواہ ہے۔ 31۔ عبد بن حمید وابن جریر نے قتادہ (رح) سے آیت وانہ علی ذلک لشہید کے بارے میں روایت کیا کہ یہ مقادیم کلام میں سے ہے اور وہ فرماتے ہیں کہ بیشک اللہ تعالیٰ اس پر خود گواہ ہے اور بیشک انسان مال کی محبت میں بڑا سخت ہے۔ 32۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت وانہ لحب الخیر سے مراد ہے مال (یعنی مال کی محبت میں سخت ہے ) ۔ 33۔ ابن ابی حاتم نے محمد بن کعب (رح) سے آیت وانہ علی ذلک لشہید کے بارے میں روایت کیا کہ انسان خود اپنی ذات پر گواہی دینے والا ہے آیت افلا یعلم اذا بعثر ما فی القبور کیا وہ نہیں جانتا جب اکھاڑا جائے گا جو کچھ قبروں میں ہے یعنی جب وہی قبروں سے اٹھائے جائیں گے آیت وحصل مافی الصدور اور جو دلوں میں وہ ظاہر کیا جائے گا۔ یعنی اسے ظاہر کردیا جائے گا جو کچھ سینوں میں ہے۔ 34۔ ابن عساکر نے البختری بن عبید ع ن ابیہ کے طریق سے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ ایک آدمی نے کہا یا رسول اللہ آیت والعدیت ضبحا کیا ہے ؟ آپ نے اس سے اعراض فرمایا پھر وہ کل کو لوٹ کر آیا اور کہا آیت الموریت قدحا کیا ہے ؟ آپ نے اس سے اعراض فرمایا پھر وہ تیسرے دن لوٹ کر آیا اور کہا آیت المغیرات صبحا کیا ہے ؟ آ نے اسی مجلس میں تجھ کو اس حال میں پاتا کہ سر مونڈنے والا ہے تو میں اسے ذلیل ورسوا کردیتا جس میں تیری آنکھیں ہیں آپ کی اس بات سے اہل مجلس گھبرا گئے۔ اور انہوں نے کہا اے اللہ کے نبی ! اور کیوں (آپ ایسا کرتے ؟ ) آپ ﷺ نے فرمایا عنقریب میری امت میں سے وہ لوگ ہوں گے جو قرآن کا بعض حصہ بعض کے مقابلہ میں پڑھیں گے تاکہ وہ اس کو باطل قرار دیں اور وہ متشابہات کی پیروی کریں گے۔ اور وہ گمان کریں گے کہ ان کو اپنے رب کے حکم کا علم ہے اور ہر دین دین کے لیے مجوس ہیں اور وہ میری امت کے مجوس اور جہنم کے کتے ہیں گویا کہ وہ فرمار ہے ہیں کہ وہ قدریہ ہیں علامہ ذہبی نے میزا میں کہا کہ بختری کو ابو حاتم نے ضعیف قرار دیا ہے اور کوئی دوسروں نے اسے معطل قرار دیا ہے ابو نعیم نے کہا ہے کہ بختری نے اپنے باپ سے موضوع روایات نقل کی ہیں۔