Ayah 100:11 : وَ الْعٰدِیٰتِ ضَبْحًا (قسم ہے ان گھوڑوں کی جو ہانپتے ہوئے دوڑتے ہیں) اللہ تعالیٰ نے اس میں غازیوں کے ان گھوڑوں کی قسم اٹھائی جو دوڑ کر ہانپنے لگتے ہیں۔ الضبحؔ ہانپتے وقت سانس کی آواز۔
قول ابن عباس ؓ :
آپ نے سانس کی اس آواز کی حکایت اَحْ اَحْ سے فرمائی۔ ضبحا فعل محذوف کا مفعول ہونے کی وجہ سے منصوب ہے۔ ای یضبحن ضبحًا۔
Ayah 100:2پیروں کی ٹاپ سے آگ نکالنے والے گھوڑے :
2 : فَالْمُوْرِیٰتِ قَدْحًا (پھرٹاپ مار کر آگ جھاڑتے ہیں) وہ ہلکی سی آگ نکالتے ہیں۔ اس سے مراد وہ چنگاری ہے جو ان کی ٹاپ سے پیدا ہوتی ہے۔ قدحًاؔ : چنگاری نکالنے والے اپنے کھروں کو پتھروں سے رگڑ کر ٹکرا کر۔ القدحؔ : رگڑنا۔ الایراءؔ: آگ نکالنا۔ تم کہو گے۔ قدح فأوری وقدح فأصلد۔ چقماق کو مارا اور رگڑا گیا پس آگ جل گئی اور چقماق رگڑا گیا۔ مگر آگ نہ نکلی۔
نحو : قدحًا یہ ضبحًا کی طرح فعل محذوف سے منصوب ہے۔
Ayah 100:33 : فَالْمُغِیْرٰتِ صُبْحًا (پھرصبح کے وقت تاخت و تاراج کرتے ہیں) دشمن پر لوٹ ڈالتے ہیں صبح کے وقت۔
Ayah 100:44 : فَاَثَرْنَ بِہٖ نَقْعًا (پھر اس وقت غبار اڑاتے ہیں) پس اس سے وہ غبار کو حرکت دیتے اور اڑاتے ہیں۔
Ayah 100:55 : فَوَسَطْنَ بِہٖ جَمْعًا (پھر اس وقت جماعت میں جا گھستے ہیں) بہٖؔ اس وقت میں جمعًا دشمن کی جماعتیں۔ وسطؔ بمعنی تو سط ہے۔
ایک قول :
ضمیر غارت کے مقام کی طرف راجع ہے۔ نمبر 2۔ وہ دوڑ جس پر دلالت کررہا ہے۔ (مطلب یہ ہوا وہ گھوڑے جو دشمن پر چھاپہ مارتے ہیں چھاپہ مارنے کے وقت یا چھاپہ مارنے کی جگہ یا چھاپہ مار نے کیلئے جو دوڑ دوڑتے اور اس سے غبار اڑاتے ہیں) ۔
نحو : والعادیات اور فاثرن کا عطف اس فعل پر ہے۔ جس کی جگہ اسم فاعل لایا گیا۔ کیونکہ معنی اس طرح ہے واللاتی عدون فاورین فاغرن فاثرن۔
Ayah 100:66 : اِنَّ الْاِنْسَانَ لِرَبِّہٖ لَکَنُوْدٌ (بیشک آدمی اپنے پروردگار کا بڑا ناشکرا ہے)
نحو : یہ جواب قسم ہے۔
الکنودؔ : ناشکرا۔ یعنی وہ اپنے رب کے انعامات کا خاص طور پر بہت زیادہ کفر ان کرنے والا ہے۔
Ayah 100:77 : وَاِنَّہٗ عَلٰی ذٰلِکَ لَشَھِیْدٌ (اور اس کو خود بھی اس کی خبر ہے) انہؔ بیشک انسان۔ ذلکؔ اپنی ناشکری پر۔ لشہید بذات خودگواہی دینے والا ہے۔ نمبر 2۔ اللہ تعالیٰ اس کی اس ناشکری کو دیکھنے والے ہیں۔ یہ بات بطور وعید فرمائی گئی ہے۔
Ayah 100:8انسان مال کی محبت میں سخت :
8 : وَاِنَّہٗ لِحُبِّ الْخَیْرِ لَشَدِیْدٌ (وہ مال کی محبت میں بڑا مضبوط ہے) بیشک وہ حب مال کیلئے بخل کرنے والا اور روک کر رکھنے والا ہے۔ نمبر 2۔ بلاشبہ وہ مال کی محبت میں بڑا مضبوط ہے۔ اور عبادت الٰہی کی محبت میں کمزور واقع ہوا ہے۔
Ayah 100:99 : اَفَلاَ یَعْلَمُ اِذَا بُعْثِرَ مَا فِی الْقُبُوْرِ (کیا اس کو وہ وقت معلوم نہیں جب زندہ کیے جائیں گے۔ جتنے مردے قبروں میں ہیں) افلا یعلم (کیا وہ انسان نہیں جانتا) ۔ بعثرؔ جب اٹھایا جائے گا۔ مافی القبورؔ سے مراد مردے ہیں۔ ماؔ یہاں مَنْ کے معنی میں ہے۔
Ayah 100:1010 : وَحُصِّلَ مَا فِی الصُّدُوْرِ (اور آشکاراہو جائے گا۔ جو کچھ دلوں میں ہے) جو خیرو شر دلوں میں ہے۔ اس کو الگ کردیا جائے گا۔
Ayah 100:1111 : اِنَّ رَبَّھُمْ بِھِمْ یَوْمَپذٍ لَّخَبِیْرٌ (بیشک ان کا پروردگار ان کے حال سے پورا آگاہ ہے) وہ ان کے بارے میں جاننے والا ہے پس خیر و شر میں سے جس قسم کے ان کے اعمال ہونگے ان پر بدلہ دے گا۔
سوال : یومئذؔ کو خاص کیا گیا۔ حالانکہ باری تعالیٰ تمام ازمنہ میں جاننے والے ہیں۔
جواب : اس دن چونکہ بدلہ ملے گا۔ اس لئے اس دن کی تخصیص کی گئی ہے۔