Ayah 101:11 : اَلْقَارِعَۃُ (وہ کھڑکھڑانے والی چیز)
نحو : یہ مبتدأ ہے۔
Ayah 101:22 : مَاالْقَارِعَۃُ (کیسی ہے وہ کھڑکھڑانے والی چیز )
نحو : ماؔ مبتدأ ثانی اور القارعہ یہ خبر اور جملہ اسمیہ مبتدأ اول کی خبر ہے۔ حق تو یہ تھا کہ دوسری بار ضمیر لاتے مگر لفظ القارعہ ظاہر کر کے قیامت کی عظمت کو بتادیا۔
Ayah 101:33 : وَمَآ ادْرٰکَ مَا الْقَارِعَۃُ (آپ کو کچھ معلوم نہیں ہے کیسی کچھ ہے۔ وہ کھڑ کھڑانے والی) یعنی تمہیں کونسی چیز بتلائے کہ اس کی حقیقت کیا ہے ؟ اور تمہیں یہ کہاں سے علم کہ اس کی حقیقت کیا ہے۔
Ayah 101:44 : یَوْمَ یَکُوْنُ النَّاسُ کَالْفَرَاشِ الْمَبْثُوْثِ (جس روز آدمی پریشان پروانوں کی طرح ہوجائیں گے)
نحو : یومؔ یہ تقرع فعل جس پر القارعہؔ دلالت کرتا ہے اس کی وجہ سے منصوب ہے۔
پھسلنے اور ضعف میں مشابہت دی ہے :
یَکُوْنُ النَّاسُ کَالْفَرَاشِ الْمَبْثُوْثِ انسانوں کو کثرت میں پروانوں سے تشبیہ دی ہے اور پھیلنے اور ضعف اور ذلت و عاجزی اور بلانے والے کی طرف فوراً جانے میں بھی مشابہت دی ہے۔ کہ جس طرح پروانے آگ کی طرف اڑ کر جاتے ہیں۔ یہ داعی کی آواز پر لبیک کہیں گے۔ فراشاؔ کو فراش انتشا رو تفرق کی وجہ سے کہا جاتا ہے۔
Ayah 101:55 : وَتَکُوْنُ الْجِبَالُ کَالْعِھْنِ الْمَنْفُوْشِ ( اور پہاڑ دھنی ہوئی رنگین اون کی طرح ہوجائیں گے) آیت میں پہاڑوں کو عھنؔ سے تشبیہ دی اور وہ مختلف رنگوں میں رنگی ہوئی اون کو کہتے ہیں کیونکہ پہاڑ کئی رنگ کے ہیں۔ جیسے دوسرے مقام پر فرمایا : ومن الجبال جدد بیض و حمر مختلف الوانھا ] فاطر : 27[ اور المنفوش دھنی ہوئی اون سے تشبیہ دی کیونکہ ان کے اجزاء بھی منتشر ہوجائیں گے۔
Ayah 101:6قدر والا وزن :
6 : فَاَمَّا مَنْ ثَقُلَتْ مَوَازِیْنُہٗ (پھر جس شخص کا پلہ بھاری ہوگا) حق کی پیروی کے سبب۔ موازین یہ موزون کی جمع ہے۔ وہ ایسے عمل کو کہتے ہیں۔ جس کا وزن اور اللہ تعالیٰ کے ہاں قدر ہو۔ نمبر 2۔ جمع میزان ہے بمعنی ترازو۔ اور ثقل سے مراد اس کا جھک جانا۔
Ayah 101:77 : فَھُوَ فِیْ عِیْشَۃٍ رَّاضِیَۃٍ (وہ تو خاطر خواہ آرام میں ہوگا) راضیہؔ رضا مندی والا۔ نمبر 2۔ پسند کیا ہوا۔ اسم مفعول کے معنی میں ہے۔
Ayah 101:88 : وَاَمَّا مَنْ خَفَّتْ مَوَازِیْنُہٗ (اور جس شخص کا پلہ ہلکا ہوگا) باطل کی اتباع اور پیروی کے باعث۔
Ayah 101:99 : فَاُمُّہٗ ھَاوِیَۃٌ (اس کا ٹھکانہ ہاویہ ہے) اس کا مسکن اور رہائش گاہ آگ ہے۔ اور ٹھکانہ کو ام بطور مشابہت کہتے ہیں۔ کیونکہ ماں اولاد کا ماوی اور پناہ گاہ ہوتی ہے۔
Ayah 101:1010 : وَمَآ اَدْرٰکَ مَاھِیَہْ (اور آپ کو کچھ معلوم ہے کہ وہ کیا چیز ہے)
نحو : ضمیر ہاویہ کی طرف راجع ہے۔ اور ھاء سکتہ کی ہے۔ پھر اس کی تفسیر کرتے ہوئے فرمایا۔
Ayah 101:1111 : نَارٌ حَامِیَۃٌ (ایک دھکتی ہوئی آگ ہے) حامیہؔ اس آگ کو کہتے ہیں۔ جو حرارت میں انتہاء کو پہنچ جائے۔