Ayah 102:11 : اَلْھٰکُمُ التَّکَاثُرُ (فخر کرنا تم کو غافل کیے رکھتا ہے) کثرت میں مقابلے کا مشغلہ اور مالوں اور اولاد کے سلسلہ میں فخرو مباھات انسان کو اللہ تعالیٰ کی طاعت سے غافل کردیتا ہے۔
Ayah 102:22 : حَتّٰی زُرْتُمُ الْمَقَابِرَ (یہاں تک کہ تم قبرستانوں میں پہنچ جاتے ہو) یہاں تک کہ اسی حالت میں موت آجاتی ہے۔ نمبر 2۔ یہاں تک کہ تم نے قبریں جا دیکھیں اور قبروں میں اپنے مردوں کو گننے لگے۔
Ayah 102:3دنیا کو اپنا قبلہ مت بنائو :
3 : کَلَّا سَوْفَ تَعْلَمُوْنَ (ہرگز نہیں تم کو بہت جلد معلوم ہوجائے گا) کلاؔ یہ ردع اور اس بات پر تنبیہ کرنے کیلئے ہے کہ غور کرنے والے کیلئے مناسب یہ ہے کہ وہ دنیا کو ہی اپنا قبلہ مقصود نہ بنا لے اور دین کا بالکل اہتمام نہ کرے (بلکہ اپنے دین کا خاص اہتمام کرنا چاہیے) سوف تعلمونؔ عنقریب تمہیں قبر میں معلوم ہوجائے گا۔ نمبر 2۔ نزع کے وقت اپنی موجودہ حالت کی بد انجامی کا پتہ لگ جائے گا۔
Ayahs 102:4–54، 5 : ثُمَّ کَلَّا سَوْفَ تَعْلَمُوْنَ کَلَّا (پھرہرگز نہیں تم کو بہت جلد معلوم ہوجائے گا ہرگز نہیں) کلاؔ یہ تکرار ردع اور انذار و تخویف کیلئے ہے۔ لَوْ تَعْلَمُوْنَ عِلْمَ الْیَقِیْنِ (اگر تم یقینی طور پر جان لیتے)
نحو : لوؔ کا جواب محذوف ہے۔ ای لو تعلمون مابین ایدیکم اگر تم جانتے جو تمہارے سامنے ہے۔ علم الیقینؔ، علم الامر الیقین۔ یقینی بات کا علم۔ یعنی اس طرح جان لیتے جیسا تم ان چیزوں کو جانتے ہو۔ جن پر تمہیں یقین ہے تو کثرت اموال میں مقابلہ کی وجہ سے تم غفلت کا شکار نہ ہوتے۔ نمبر 2۔ اگر تم جان لیتے تو وہ کرتے جس کو بیان نہیں کیا جاسکتا۔ لیکن تم تو گمراہ اور جاہل ہو۔
Ayah 102:66 : لَتَرَوُنَّ الْجَحِیْمَ (واللہ تم لوگ ضرور دوزخ کو دیکھو گے)
نحو : یہ محذوف قسم کا جواب ہے اور قسم، وعید کی تاکید کیلئے ہے۔
قراءت : لَتُرَوُنَّ تاء ؔ کے ضمہ کے ساتھ شامی و علی نے پڑھا ہے۔
Ayah 102:77 : ثُمَّ لَتَرَوُنَّھَا عَیْنَ الْیَقِیْنِ (پھر واللہ تم لوگ ضرور اس کو ایسا دیکھنا دیکھو گے جو خود یقین ہے) ثم سے عطف ڈال کر اس کو دوبارہ لائے۔ تاکہ تہدید میں خوب لغلیظ ہوجائے۔ اور تہویل و تخویف میں زیادتی ثابت ہو۔ پہلا دیکھنا تو دل کا دیکھنا ہے اور دوسرا آنکھ سے دیکھنا ہے۔ عین الیقین یعنی ایسا دیکھنا جو بعینہٖ یقین اور خالص یقین ہے۔
Ayah 102:88 : ثُمَّ لَتُسْئَلُنَّ یَوْمَپذٍ عَنِ النَّعِیْمِ (پھر اس روز تم سب سے نعمتوں کی پوچھ گچھ ہوگی) امن اور صحت کے متعلق خصوصاً سوال ہوگا۔ کہ ان دونوں کو تم نے کس بات میں فنا کر ڈالا۔
قول ابن مسعود ؓ :
اس خوش عیشی کے متعلق پوچھا جائے گا۔ جس کی لذتوں نے دین اور اس کی تکالیف سے مشغول کردیا۔
قول حسن ؓ :
ان تمام نعمتوں کے متعلق پوچھاجائے گا۔ جو اس جھونپڑی کے سوا ہونگیں جس میں پناہ لیتا ہے۔ اور اس کپڑے کے علاوہ ہونگی جس سے اپنے جسم کو ڈھانپتا ہے اور اس روٹی کے ٹکڑے کے علاوہ ہونگی جس سے تقویت پاتا ہے۔ اور مرفوع روایات میں بھی یہ مضمون وارد ہے۔