103. Surah Al-Asr
العصرThe Declining Day, Epoch · 3 ayahsمدارک التنزیل
وَ الْعَصْرِۙ Open ayah 103:1 in the Quran reader
عصر کی قسم
1 : وَالْعَصْرِ (قسم ہے زمانہ کی) نماز عصر کی قسم اٹھائی اس کی عظمت شان کی وجہ سے اس کی دلیل دوسرے ارشاد میں ہے : والصلاۃ الوسطٰی مصحف حفصہ ؓ میں صلاۃ العصر کے لفظ ہیں۔
اور یہ بھی بات ہے کہ اس کی ادائیگی میں تکلیف زیادہ ہے۔ کیونکہ لوگ اس وقت اپنے کاموں اور تجارات میں گھر جا رہے ہوتے ہیں۔ کیونکہ دن کا پچھلا وقت ہوتا ہے۔ اور اس وقت گزران اوقات کی مشغولیتوں میں مست ہوتے ہیں۔ نمبر 2۔ العشی کی یہاں قسم اٹھائی جیسا کہ چاشت کی قسم پچھلی سورتوں میں اٹھائی گئی ہے کیونکہ اس میں دلائل قدرت ہیں۔ نمبر 3۔ زمانہ کی قسم اٹھائی کیونکہ اس کے گزرنے میں قسم قسم کے عجائبات ہیں۔
اِنَّ الْاِنْسَانَ لَفِیْ خُسْرٍۙ Open ayah 103:2 in the Quran reader
کہ انسان نقصان میں ہے
جنس انسان خسارے میں :
2 : اِنَّ الْاِنْسَانَ لَفِیْ خُسْرٍ (کہ انسان بڑے خسارہ میں ہے) یہ جواب قسم ہے یعنی جنس انسان اپنی تجارات کے سبب نقصان میں ہے۔
اِلَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَ تَوَاصَوْا بِالْحَقِّ١ۙ۬ وَ تَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ۠ Open ayah 103:3 in the Quran reader
مگر وہ لوگ جو ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے اور آپس میں حق بات کی تلقین اور صبر کی تاکید کرتے رہے
آخرت کے خریدار :
3 : اِلَّا الَّذِیْنَ ٰامَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ (مگر جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے اچھے کام کیے) اس لئے کہ انہوں نے آخرت کو دنیا کے بدلے خرید لیا اس لئے نفع پالیا۔ اور خوش نصیب ہوگئے۔ وَتَوَاصَوْا بِالْحَقِّ (اور ایک دوسرے کو حق کی فہمائش کرتے رہے) ایسے امر ثابت و برحق کی ایک دوسرے ِکوتلقین کرتے رہے۔ جس کا انکار ممکن نہیں۔ اور وہ نری خیر ہے۔ جیسے توحید باری تعالیٰ اور اس کی اطاعت اور اس کی کتابوں کی اتباع اور رسولوں کی پیروی۔ وَتَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ (اور ایک دوسرے کو پابندی کی فہمائش کرتے رہے) معاصی سے بچنے اور طاعات پر جمے رہنے کی تاکید کرتے رہے اور ان موقعوں پر جن سے اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو آزماتا ہے۔ ان آزمائشوں میں صبر کی تلقین کرتے رہے۔ تواصوا دونوں مقام پر فعل ماضی لایا گیا ہے۔ یہ ماقبل فعل ماضی ٰامنوا وعملوا پر معطوف ہیں۔