Ayah 99:11 : اِذَا زُلْزِلَتِ الْاَرْضُ زِلْزَالَھَا (جب زمین اپنی سخت جنبش سے ہلا دی جائے گی) یعنی زمین کو وہ شدید حرکت دی جائے گی۔ جس سے بڑھ کر حرکت نہیں۔
قراءت : زِلْزَالَھَا اس کو کسرہ کے ساتھ پڑھا گیا ہے اس صورت میں مصدر ہے اور زاء کے فتحہ سے پڑھیں تو یہ اسم ہے۔
Ayah 99:2دفائن ارض :
2 : وَاَخْرَجََتِ الْاَرْضُ اَثْقَا لَھَا (اور زمین اپنے بوجھ باہر نکال پھینکے گی) اثقال جمع ثقل۔ خزانے اور مردے۔ ثقل گھر کے سامان کو کہتے ہیں۔ دفائن ارضی کو اثقال سے تعبیر فرمایا۔
Ayah 99:3کافر کا قول :
3 : وَقَالَ الْاِنْسَانُ مَالَھَا (اور آدمی کہے گا اس کو کیا ہوا) کہ یہ شدید حرکت کے ساتھ ہلائی گئی ہے اور اس نے اپنے اندر کے دفائن نکال دیئے ہیں۔ یہ ثانیہ کی بات ہے جب زمین مردوں کو زندہ کر کے نکال دے گی۔ پس وہ کہہ اٹھیں گے جبکہ زمین ان کو ہولناکی کی وجہ سے ظاہر کررہی ہوگی۔ یہ اس طرح ہے جیسا وہ کہیں : من بعثنا من مرقدنا ] یس : 52[
ایک قول یہ ہے :
کہ یہ کافر کا قول ہے کیونکہ وہ بعث کا منکر تھا۔ باقی مومن کہے گا : ھذا ما وعد الرحمن وصدق المرسلون
] یٰسین : 52[
Ayah 99:44 : یَوْمَپذٍ تُحَدِّثُ اَخْبَارَھَا (اس دن زمین اپنی سب خبریں بیان کرنے لگے گی) یومئذ یہ اذا سے بدل ہے اور ان کا نا صب تحدث ہے ای تحدث الخلق اخبارھا۔ مخلوق کو اپنی خبریں بتائے گی۔ پس دونوں میں سے پہلا مفعول حذف کردیا۔ کیونکہ مقصد تو زمین کے متعلق بتلانا ہے کہ وہ خبریں بتائے گی۔ مخلوق کا ذکر مقصود نہیں۔
زمین کی گواہی :
اللہ تعالیٰ اس کو بلائیں گے زمین اپنے اوپر کیے جانے والے اعمال خیرو شر کی خبر دے گی۔ حدیث شریف میں فرمایا گیا ہے۔ زمین ہر ایک کے متعلق وہ گواہی دے گی جو کچھ اس نے اس پر کیا۔ ] رواہ احمد اوالترمذی، 3353 والحاکم 2/532، ابن حبان : 7360[
Ayah 99:55 : بِاَنَّ رَبَّکَ اَوْحٰی لَھَا (اس سبب سے کہ آپ کے رب کا اس کو یہی حکم ہے) یعنی خبروں کو بیان کرنا رب تعالیٰ کے حکم کے سبب سے ہے : لھا ای الیھا اس کی طرف حکم بھیجنے اور بیان کرنے کا امر دینے کی وجہ سے ہے۔
Ayah 99:6موقف سے واپسی :
6 : یَوْمَپذٍ یَّصْدُرُ النَّاسُ (اس روز لوگ لوٹیں گے) قبور میں نکلنے کے مقامات سے موقف حساب کی طرف۔ اَشْتَاتًا (مختلف جماعتیں ہو کر) سفید چہرے والے مطمئن لوگوں کی جماعت۔ نمبر 2۔ سیاہ چہرے والے بےچین لوگوں کا گروہ۔ نمبر 2۔ موقف حساب سے متفرق راستوں جنت و دوزخ کی طرف لوٹیں گے۔ لِّیُرَوْا اَعْمَالَھُمْ (تاکہ اپنے اعمال کو دیکھ لیں) اعمال سے جزائے اعمال مراد ہے۔
Ayah 99:77 : فَمَنْ یَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّۃٍ (پس جو شخص ذرہ برابر نیکی کرے گا) ذرۃؔ: چھوٹی چیونٹی۔ خَیْرًا یَّرَہٗ (بھلائی وہ اس کو دیکھ لے گا)
نحو : خیراً یہ تمیز ہے یرہؔ اس عمل کا بدلہ دیکھ لے گا۔
Ayah 99:88 : وَمَنْ یَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّۃٍ شَرًّایَّرَہٗ (جو شخص ذرہ برابر بدی کرے گا وہ اس کو دیکھ لے گا)
ایک قول :
یہ کفار کے متعلق ہے اور پہلی آیت ایمان والوں کے متعلق ہے۔
حکایت :
ایک بدو نے خیرًا یرہٗ کو مؤخر کردیا۔ اس کو کسی نے کہا تو نے آیت میں تقدیم و تاخیر کردی۔ تو اس نے یہ شعرپڑھا ؎
خُذْ بَطْنَ ہَرْشَی او قَفَاہَا فَاِنَّہٗ
کِلَا جَانَبَیْ ہَرْشَی لہن طریق
وادی ہر شی کے درمیان میں چلو یا کنارے پر اس کے دونوں جانب راستہ کی گنجائش ہے۔
ایک روایت میں ہے کہ فرزدق کا دادا خدمت نبوی ﷺ میں آیا تاکہ وہ پڑھے۔ آپ ﷺ نے اس کے سامنے یہ آیت پڑھی۔ تو کہنے لگا حسبی۔ حسبی یہ مجھے کافی ہے کافی ہے۔ یہ محکم آیت ہے اس کا نام جامعہ ہے۔ (ذکرہ فی الدرالمنثور 8/596)