100. Surah Al-Aadiyaat

العادياتThe Chargers · 11 ayahsانوار البیان

Ayah 100:1

وَ الْعٰدِیٰتِ ضَبْحًاۙ Open ayah 100:1 in the Quran reader

ان سرپٹ دوڑنے والے گھوڑوں کی قسم جو ہانپ اٹھتے ہیں

(100:1) والعدیت ضبحا : جملہ قسمیہ ہے۔ واؤ قسم کے لئے ہے۔ العدیت جمع ہے عادیۃ کی۔ اس کا مادہ عدد ہے جس سے اسم فاعل کا صیغہ واحد مؤنث عادوۃ ہے واو ما قبل مکسور کو یاء سے بدل دیا عادیۃ ہوا۔ جس کی جمع عادیات ہوئی جیسے غزو کی جمع غازیات (جمع مؤنث غائب کا صیغہ) ضبحا۔ کی درج ذیل دو صورتیں ہیں۔ (1) ضبحا مصدر ہے منصوب ہے جس کا فعل یضبحن (باب فتح) محذوف ہے ای یضبحن ضبحا اور جملہ موضع حال میں ہے (2) ضبحا مفعول مطلق ہے اسم فاعل کی تاکید کے لئے ہے۔ العدیت : تیز دوڑنے والی گھوڑیاں یا گھوڑے۔ عدو سے اسم فاعل کا صیغہ جمع مؤنث ہے۔ امام راغب فرماتے ہیں :۔ عدو کے معنی ہیں تجاوز کرنے اور پیوستگی ختم کرنے کے۔ اگر یہ چیز چلنے میں ہو تو اس کو عدو (دوڑنا) کہتے ہیں۔ یہاں عدیت سے کیا مراد ہے اس کے متعلق مفسرین کے دو قول ہیں۔ (1) حضرت ابن عباس ؓ مجاہد، عکرمہ، حسن بصری، کلبی، قتادہ، مقاتل اور ابو المعالیہ کا قول ہے کہ یہ غازیوں کے گھوڑوں کی صفت ہے۔ (2) حضرت علی اور حضرت ابن مسعود ؓ فرماتے ہیں کہ مراد اونٹنیاں ہیں۔ ضبح مصدر۔ جس کے معنی ہیں (گھوڑے کا) دوڑنے کے سبب پیٹ سے آواز نکالنا۔ ہانپنا۔ حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ :۔ چو پاؤں میں سے سوائے کتے اور گھوڑے کے کوئی جانور نہیں ہانپتا۔ سو آیت کا ترجمہ ہوگا :۔ قسم ہے (غازیوں کے) ان گھوڑوں کی جو سرپٹ دوڑنے سے ہانپتے ہیں ۔
Ayah 100:2

فَالْمُوْرِیٰتِ قَدْحًاۙ Open ayah 100:2 in the Quran reader

پھر (پتھروں پر نعل) مار کر آگ نکالتے ہیں

(100:2) فالموریت قدحا۔ اس کا عطف آیت نمبر 1 پر ہے۔ موریت اسم فاعل جمع مؤنث۔ موریۃ واحد۔ ایراء (افعال) مصدر۔ آگ روشن کرنے والے (کرنے والیاں) مراد وہ گھوڑے جو پتھریلی زمین پر چلتے ہیں تو ان کے سموں کی آگ کی چنگاریاں نکلتی ہیں۔ ریۃ وہ چیز جس سے آگ جلائی جاتی ہے۔ ایرائ۔ لکڑی، پتھر وغیرہ کو رگڑ کر آگ نکالنا۔ قدحا : مصدر ہے (باب نصر) سے چقماق کو مرا کر آگ نکالنا۔ پتھر پر پتھر مار کر یا لوہے کو مار کر آگ نکالنا۔ یہاں مراد ہے گھوڑے (یا گھوڑیوں) کا نعل وار ٹاپوں کو پتھریلی زمین پر مار کر آگ نکالنا ۔ مطلب پھر قسم ہے ان گھوڑوں یا گھوڑیوں کی جن کے نعل جب رات کے وقت تیزی سے چلتے ہیں پتھروں پر کھٹا کھٹ پڑتے ہیں تو آگ چمک اٹھتی ہے۔
Ayah 100:3

فَالْمُغِیْرٰتِ صُبْحًاۙ Open ayah 100:3 in the Quran reader

پھر صبح کو چھاپہ مارتے ہیں

(100:3) فالمغیرات صبحا اس کا عطف جملہ سابقہ پر ہے پھر (قسم ہے) المغیرات کی۔ صبحا ظرفیت کی وجہ سے منصوب ہے ترجمہ ہوگا :۔ پھر قسم ہے (ان کی) جو صبح ہوتے ہی (دشمنوں پر) دھاوا کرتے ہیں۔ المغیرات جمع ہے المغیرۃ کی۔ اغارۃ (افعال) مصدر سے اسم فاعل کا صیغہ جمع مؤنث ٹوٹ پڑنے والے۔ چھاپہ مارنے والے۔ یعنی پھر قسم ہے (غازیوں کے) ان چھاپہ مار گھوڑوں کی جو صبح ہوتے ہی ٹوٹ پڑتے ہیں۔
Ayah 100:4

فَاَثَرْنَ بِهٖ نَقْعًاۙ Open ayah 100:4 in the Quran reader

پھر اس میں گرد اٹھاتے ہیں

(100:4) فاثرن بہ نقعا : یہ جملہ بھی معطوف ہےکا عطف کلام محذوف پر ہے۔ ای عدون فاثرن : وہ (حملہ کرتے وقت) سرپٹ دوڑتے یا دوڑتی ہیں۔ پھر غبار اڑاتی یا اڑاتے ہیں (گھوڑے) اثرن ماضی کا صیغہ جمع مؤنث غائب اثارۃ (باب نصر، ضرب) مصدر بمعنی اٹھانا۔ برانگیختہ کرنا۔ اڑانا۔ نقعا : مفعول بہٖ ۔ گردوغبار۔ خاک۔ بہ کی ضمیر دشمن پر چھاپہ مارنے کے وقت کی طرف راجع ہے۔ (بیضاوی) یعنی وہ گھوڑے جو چھاپہ مارنے کے وقت (جوش میں اپنے سموں سے) غبار اڑاتے ہیں۔ فاثرن بہ نقعا : ای ھیجن فی الصبح غبارا۔ (کلمات القرآن) وہ صبح کے وقت (جب دشمن پر حملہ کرتے ہیں) غبار اٹھاتے ہیں۔ بعض کے نزدیک بہ کی ضمیر دشمن کے مقام کی طرف راجع ہے بہ ای بمکان عدوھا۔ (یعنی اپنے دشمن کے مقام پر (غبار اٹھاتی ہیں) (ایسر التفاسیر) پھر ان کی قسم جو صبح میں دھاوے کے وقت بڑے زور سے دوڑنے میں گردو غبار اٹھاتے ہیں۔
Ayah 100:5

فَوَسَطْنَ بِهٖ جَمْعًاۙ Open ayah 100:5 in the Quran reader

پھر اس وقت دشمن کی فوج میں جا گھستے ہیں

(100:5) فوسطن بہ جمعا : اس کا عطف بھی جملہ سابقہ پر ہے۔حرف عاطفہ وسطن ماضی جمع مؤنث غائب وسط (باب ضرب) مصدر سے درمیان میں ہونا۔ درمیان میں بیٹھنا۔ یہاں بمعنی درمیان میں جا گھسنا ہے ۔ بہ ای بذلک الوقت ۔ او بالعدو او بالنقع۔ اس وقت دشمن کے درمیان گردوغبار کے اندر (بیضاوی وغیرہ) جمعا : حال ہے۔ اکھٹے ، جماعت کی جماعت۔ یا یہ وسطن کا مفعول ہے اور جمعا سے مراد جموع الاعدائ۔ دشمنوں کا گروہ ہے۔ ترجمہ :۔ پھر وہ اسی وقت (دشمن کے لشکر میں) گھس جاتے ہیں۔ (ضیاء القرآن) پھر ان کی قسم جو صبح کے وقت دھاوا کرنے اور غبار اٹھانے کے بعد مخالفوں کے انبوہ میں گھس جاتے ہیں۔ یہ نہیں کہ دھمکی دے کر رہ جاتے ہیں پھر وقت پر نامردی کرتے ہیں۔ ” یہ پانچ وصف جنگی گھوڑوں کے ہیں بالترتیب، لیکن بعض علماء فرماتے ہیں کہ یہ حج میں جانے والے اونٹوں کے اوصاف ہیں۔ اور حضرت علی کرم اللہ وجہہ سے اس بارے میں ایک روایت بھی کرتے ہیں۔ (تفسیر حقانی)
Ayah 100:6

اِنَّ الْاِنْسَانَ لِرَبِّهٖ لَكَنُوْدٌۚ Open ayah 100:6 in the Quran reader

کہ انسان اپنے پروردگار کا احسان ناشناس (اور ناشکرا) ہے

(100:6) ان الانسان لربہ لکنود : یہ جملہ اور آئندہ آنے والے دو جملے متذکرہ بالا جملہ ہائے قسمیہ کے جواب القسم ہیں۔ ان حرف مشبہ بالفعل الانسان اسم جنس۔ نبی نوع انسان۔ اسم ان۔ لکنود لام تاکید کا ہے۔ کنود۔ بمعنی ناشکرا ۔ بخیل، نافرمان، ان کی خبر۔ لربہ متعلق خبر۔ بیشک انسان اپنے رب کا بڑا ناشکرا ہے۔
Ayah 100:7

وَ اِنَّهٗ عَلٰى ذٰلِكَ لَشَهِیْدٌۚ Open ayah 100:7 in the Quran reader

اور وہ اس سے آگاہ بھی ہے

(100:7) وانہ علی ذلک لشھید۔ جملہ ھذا کا عطف ما قبل پر ہے۔ واؤ عاطفہ۔ ان حرف مشبہ بالفعل۔ ہ ضمیر واحد مذکر غائب کا مرجع الانسان ہے۔ اسم ان۔ لشھید۔ لام تاکید کے لئے ہے شھید خبر ان : علی ذلک متعلق خبر، ذلک کا اشارہ خدا کی دی ہوئی نعمتوں پر انسان کا بخل، جحود اور نافرمانی کی طرف ہے۔ اور وہ اپنے اس بخل کو دیکھ بھی رہا ہے۔ اس کے اپنے اعمال و اطوار اس کے بخل و ناشکری کے گواہ ہیں۔ یہ جملہ بھی جواب القسم میں ہے۔
Ayah 100:8

وَ اِنَّهٗ لِحُبِّ الْخَیْرِ لَشَدِیْدٌؕ Open ayah 100:8 in the Quran reader

وہ تو مال کی سخت محبت کرنے والا ہے

(100:8) وانہ لحب الخیر لشدید : (ترکیب نحوی کے لئے ملاحظہ ہو آیت سابقہ) الخیر سے یہاں مراد مال و دولت ہے اور مال و دولت سے انسان کی محبت اظہر من الشمس ہے۔ گناہوں کا یہ سیل بےپناہ۔ مظالم کی یہ آندھیاں۔ مزدور اور سرمایہ دار کے درمیان یہ خونریز تصادم، سب کے پس پردہ دولت کی یہی بےپناہ محبت اور لالچ کار فرما ہے۔ ترجمہ :۔ اور بیشک وہ (یعنی انسان) مال کی محبت میں بہت پکا ہے۔
Ayah 100:9

اَفَلَا یَعْلَمُ اِذَا بُعْثِرَ مَا فِی الْقُبُوْرِۙ Open ayah 100:9 in the Quran reader

کیا وہ اس وقت کو نہیں جانتا کہ جو (مردے) قبروں میں ہیں وہ باہر نکال لئے جائیں گے

(100:9) افلا یعلم اذا بعثر ما فی القبور۔ أ ہمزہ استفہامیہ ہے۔کا عطف محذوف پر ہے۔ ای الا ینظر فلا یعلم : یعلم کا مفعول محذوف ہے ۔ ای الوقت۔ تقدیر عبارت ہوگی :۔ الا ینظر فلا یعلم الوقت۔ کیا وہ نہیں دیکھتا ہے پھر نہیں جانتا ہے اس وقت کو (کہ جب ۔۔ ) اذا بعثر ما فی القبور : اذا ظرفیہ ہے بمعنی جب۔ بعثر ماضی مجہول کا صیغہ واحد مذکر غائب بعثرہ مصدر سے بمعنی کریدکر نکالا جانے والا۔ الٹ پلٹ کرنا کے ہیں۔ ما موصولہ فی القبور اس کا صلہ۔ موصول و صلہ مل کر بعثر کا مفعول مالم یسم فاعلہ۔ یہاں ما موصولہ بمعنی من ہے جس سے مراد مردہ انسان ہیں جو قبروں میں مدفون ہیں۔ جب جو کچھ قبروں میں ہے کریدکر نکال لیا جائے گا۔ یعنی مردہ انسانوں کو قبروں سے نکال لیا جائے گا۔ بعثرہ : جن علماء کی رائے یہ ہے کہ رباعی اور خماسی۔ دو ثلاثی سے مل کر بنتی ہے ان کے خیال میں بعث اور اثیر سے مل کر بنا ہے اور یہ بات کچھ بعید نہیں ہے کیونکہ بعثرۃ میں دونوں فعلوں کے معنی موجود ہیں۔ پس جس طرح بسمل (اس نے بسم اللہ پڑھی) بسم اور اللہ کے لام سے مرکب ہے اسی طرح لفظ بعثرۃ لفظ بعث اور اثارۃ کی راء سے مرکب ہے۔
Ayah 100:10

وَ حُصِّلَ مَا فِی الصُّدُوْرِۙ Open ayah 100:10 in the Quran reader

اور جو (بھید) دلوں میں ہیں وہ ظاہر کردیئے جائیں گے

(100:10) وحصل ما فی الصدور۔ اس کا عطف بھی جملہ سابقہ پر ہے۔ حصل ماضی مجہول کا صیغہ واحد مذکر غائب تحصیل (تفعیل) مصدر سے۔ جس کے معنی چھلکے سے گودا نکالنے کے ہیں۔ ما موصولہ فی الصدور اس کا صلہ، موصول و صلہ مل کر حصل کا مفعول مالم یسم فاعلہ۔ وہ حاصل کیا گیا۔ وہ ظاہر کیا گیا۔ اور جو کچھ سینوں میں ہے اسے ظاہر کیا جائے گا۔ سینوں کے راز ّشکارا کر دئیے جائیں گے۔ (لوگوں کے پوشیدہ افعال، خگیہ ارادے، مخفی نیتیں، سربستہ راز، قلبی جذبات، باطنی کیفیات سب ظاہر کر دئیے جائیں گے) ۔
Ayah 100:11

اِنَّ رَبَّهُمْ بِهِمْ یَوْمَئِذٍ لَّخَبِیْرٌ۠ Open ayah 100:11 in the Quran reader

بیشک ان کا پروردگار اس روز ان سے خوب واقف ہوگا

(100:11) ان ربھم بھم یومئذ لخبیر : ان حرف تحقیق، حرف مشبہ بالفعل، ربھم مضاف مضاف الیہ مل کر اسم ان : لخبیر اس کی خبر باقی کلام متعلق خبر۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اذا بعثر تا فی الصدور جملہ شرطیہ ہو اور ان ربھم بھم یومئذ لخبیر۔ واجب شرط۔ اور یہ بھی جائز ہے کہ شرط اور جواب شرط فعل یعلم کا مفعول ہو۔ ترجمہ ہوگا :۔ یقینا ان کا رب ان سے اس دن خوب باخبر ہوگا۔ (اگرچہ اللہ تعالیٰ آج بھی ان کے حالات سے اچھی طرح واقف ہے لیکن اس روز کی آگاہی اور باخبری کی کیفیت اس روز جداگانہ ہوگی۔ (ضیاء القرآن) زجاج کا بیان ہے کہ :۔ خبیر سے مراد ہے بدلہ دینے والا۔ سو مطلب یہ ہے کہ ان کا رب اس دن بدلہ دے گا۔ (تفسیر مظہری)