100. Surah Al-Aadiyaat

العادياتThe Chargers · 11 ayahsجواھر القرآن

Ayahs 100:1–7

وَ الْعٰدِیٰتِ ضَبْحًاۙ Open ayah 100:1 in the Quran reader

قسم ہے2 دوڑنے والے گھوڑوں کی ہانپ کر

فَالْمُوْرِیٰتِ قَدْحًاۙ Open ayah 100:2 in the Quran reader

پھر آگ سلگانے والے جھاڑ کر

فَالْمُغِیْرٰتِ صُبْحًاۙ Open ayah 100:3 in the Quran reader

پھر غارت ڈالنے والے صبح کو

فَاَثَرْنَ بِهٖ نَقْعًاۙ Open ayah 100:4 in the Quran reader

پھر اٹھانے والے اس میں گرد

فَوَسَطْنَ بِهٖ جَمْعًاۙ Open ayah 100:5 in the Quran reader

پھر گھس جانے والے اس وقت فوج میں

اِنَّ الْاِنْسَانَ لِرَبِّهٖ لَكَنُوْدٌۚ Open ayah 100:6 in the Quran reader

بیشک آدمی اپنے رب کا ناشکرا ہے

وَ اِنَّهٗ عَلٰى ذٰلِكَ لَشَهِیْدٌۚ Open ayah 100:7 in the Quran reader

اور وہ آدمی اس کام کو سامنے دیکھتا ہے

2:۔ ” والعادیات ضبحا “ ہانپ ہانپ کر دوڑنے والے گھوڑے۔ ” فالموریات قدحا “ پتھریلی زمین پر دوڑتے وقت اپنے سموں سے چنگاریاں نکالنے والے۔ ” فالمغیرات صبحا “ پھر صبح صبح لوٹ مار کرنے والے۔ ” فاثرن بہ نقعا “ دوڑتے وقت گرد و غبار اڑاتے ہیں۔ ” فوسطن بہ جمعا “ پھر تیز رفتار کے ساتھ جماعتوں کے اندر گھس جاتے ہیں۔ ” ان الانسان لربہ لکنود “ یہ لوٹ مار کرنے والے گھوڑے اس پر شاہد ہیں کہ انسان اپنے پروردگار کا نہایت ہی ناشکر گذار ہے۔ قالہ الشیخ (رح) تعالی۔ عامۃ المفسرین کے نزدیک یہ صفتیں مجاہدین کے گھوڑوں کی ہیں اور بعض کے نزدیک ان صفات سے فرشتے مراد ہیں۔ ” وانہ علی ذلک لشہید “ مذکورہ شواہد کے علاوہ انسان اپنی اس بیماری اور کمزوری پر خود بھی شاہد ہے اور اسے اپنا کردار خوب معلوم ہے۔
Ayah 100:8

وَ اِنَّهٗ لِحُبِّ الْخَیْرِ لَشَدِیْدٌؕ Open ayah 100:8 in the Quran reader

اور آدمی3 محبت پر مال کی بہت پکا ہے

3:۔ ” وانہ لحب “ یہ سبب مرض کا بیان ہے۔ انسان کے ناشکر گذارہونے کا سبب یہ ہے کہ دولت دنیا کی محبت میں بہت متشدد ہے حب مال اسے بخل وامساک پر اکساتی ہے اور اللہ کی راہ میں خرچ کر کے اس کا شکر گزار کرنے سے روکتی ہے۔
Ayahs 100:9–11

اَفَلَا یَعْلَمُ اِذَا بُعْثِرَ مَا فِی الْقُبُوْرِۙ Open ayah 100:9 in the Quran reader

کیا نہیں4 جانتا وہ وقت کہ کریدا جائے جو کچھ قبروں میں ہے

وَ حُصِّلَ مَا فِی الصُّدُوْرِۙ Open ayah 100:10 in the Quran reader

اور تحقیق ہو وے جو کچھ کہ جیوں میں ہے

اِنَّ رَبَّهُمْ بِهِمْ یَوْمَئِذٍ لَّخَبِیْرٌ۠ Open ayah 100:11 in the Quran reader

بیشک ان کے رب کو ان کی اس دن سب خبر ہے

4:۔ ” افلا یعلم “ یہ علاج مرض کا بیان ہے بصورت تخویف اخروی کیا انسان یہ نہیں جانتا کہ جب قبروں سے مردے اٹھائے جائیں گے یعنی قیامت کے دن اور دلوں کی تمام باتیں ظاہر کردی جائیں گی اس دن ان کا پروردگار ان کے اعمال خیر و شر سے باخبر ہوگا اور ان کو پوری پوری جزاء دے گا ای عالم لایخفی علیہ منہم خافیۃ وھو عالم بہم فی ذلک الیوم وفی غیرہ ولکن المعنی انہ یجازیہم فی ذلک الیوم (قرطبی ج 20 ص 163) ۔