101. Surah Al-Qaari'a

القارعةThe Calamity · 11 ayahsجواھر القرآن

Ayahs 101:1–3

اَلْقَارِعَةُۙ Open ayah 101:1 in the Quran reader

وہ کھڑ کھڑا2 ڈالنے والی

مَا الْقَارِعَةُۚ Open ayah 101:2 in the Quran reader

کیا ہے وہ کھڑ کھڑا ڈالنے والی

وَ مَاۤ اَدْرٰىكَ مَا الْقَارِعَةُؕ Open ayah 101:3 in the Quran reader

اور تو کیا سمجھا کیا ہے وہ کھڑ کھڑ ڈالنے والی

2:۔ ” القارعۃ “ یہ قیامت کے ناموں میں سے ایک نام ہے۔ واتفقوا علی ان القارعۃ اسم من اسماء القیامۃ (کبیر) قیامت کے دن نفخ صور کی شدید آواز کے علاوہ اجرام علویہ اور سفلیہ کے تصادم سے بھی نہایت ہولناک شور بپا ہوگا اس لیے اسے القارعۃ کہا گیا۔
Ayahs 101:4–5

یَوْمَ یَكُوْنُ النَّاسُ كَالْفَرَاشِ الْمَبْثُوْثِۙ Open ayah 101:4 in the Quran reader

جس دن3 ہویں لوگ جیسے پتنگے بکھرے ہوئے

وَ تَكُوْنُ الْجِبَالُ كَالْعِهْنِ الْمَنْفُوْشِؕ Open ayah 101:5 in the Quran reader

اور ہو ویں پہاڑ جیسے رنگی ہوئی اون دھنی ہوئی

3:۔ ” یوم یکون “ یہ القارعہ کا بیان ہے۔ قیام کے دن جب لوگ قبروں سے اٹھیں گے تو خوف و ہراس سے نہایت پریشان ہوں گے اور پروانوں کی طرح ادھر ادھر منتشر ہوں گے جس طرح شمع پر پروانوں کا بےتحاشا اژدہام ہوتا ہے اور ان کی حرکات مختلف ہوتی ہیں گھبراہٹ کی وجہ سے۔ پہاڑ دھنی ہوئی روئی کے گالوں کی طرح ہوجائیں گے سورة الزلزال میں قیامت کے دن زمین کا حال بیان ہوا اور یہاں پہاڑوں کا حال بیان کیا گیا ہے۔
Ayahs 101:6–11

فَاَمَّا مَنْ ثَقُلَتْ مَوَازِیْنُهٗۙ Open ayah 101:6 in the Quran reader

سو جس کی4 بھاری ہوئیں تولیں

فَهُوَ فِیْ عِیْشَةٍ رَّاضِیَةٍؕ Open ayah 101:7 in the Quran reader

تو وہ رہے گا من مانتے گزران میں

وَ اَمَّا مَنْ خَفَّتْ مَوَازِیْنُهٗۙ Open ayah 101:8 in the Quran reader

اور جس کی ہلکی ہوئیں تولیں

فَاُمُّهٗ هَاوِیَةٌؕ Open ayah 101:9 in the Quran reader

تو اس کا ٹھکانا گڑھا ہے

وَ مَاۤ اَدْرٰىكَ مَاهِیَهْؕ Open ayah 101:10 in the Quran reader

اور تو کیا سمجھا وہ کیا ہے

نَارٌ حَامِیَةٌ۠ Open ayah 101:11 in the Quran reader

آگ ہے دہکتی ہوئی

4:۔ ” فاما من ثقلت۔ بشارت اخرویہ۔ قیامت کے دن جن کے اعمال صالحہ کا پلڑا بھاری ہوگا وہ نہایت خوش و خرم ہوں گے اور اپنی پسندیدہ عیش و عشرت سے لطف اندوز ہوں گے۔ ” راضیۃ “ بمعنی مرضیۃ (قرطبی) ۔ ” واما من خفت “ یہ تخویف اخروی ہے۔ ” امہ “ ای مستقرہ (قرطبی عن الاخفش) ۔ اور جن لوگوں کی نیکیوں کا پلڑا ہلکا ہوگا ان کا ٹھکانہ ہاویہ میں ہوگا۔ ہایہ دوزخ کے ناموں میں سے ہے۔ ” وما ادراک ماھیہ “ تمہیں کیا معلوم ہاویہ کیا چیز ہے وہ نہایت ہی سخت اور تند و تیز آگ ہے۔ ھیہ میں ہاء برائے سکتہ ہے۔ مثنوی میں ہاویہ کا جو معنی ذکر کیا گیا ہے وہ ظاہر قرآن کے خلاف ہے پس شد جائے دلش در ھاویہ ہیچ میدانی چہ باشد مایہ آتش سو زندہ نقش غیر را کہ بسوزد پر طیر ومیر را