Ayahs 102:1–22:۔ ” الہاکم التکاثر “ التکاثر، کثرت مال اور کثرت تعداد پر فخر کرنا اور کثرت میں ایک دوسرے پر بازی لے جانے کی کوشش کرنا۔ ای التبارک فی الکثرۃ والتباھی بھا بان یقول ھؤلاء نحن اکثر وھؤلاء نحن اکثر (روح ج 30 ص 223) ۔ مفسرین نے لکھا ہے کہ انصار کے دو قبیلوں میں کثرت عدد کے مقابلے کی ٹھن گئی اور ہر قبیلہ اپنے افراد کی کثرت پر فخر کرنے لگا چناچہ دونوں قبیلوں نے پہلے زندہ لوگوں کو گنا جب ان کی گنتی ختم ہوئی تو قبرستان میں جا کر مردوں کو شمار کرنے لگے۔ اس پر یہ سورت نازل ہوئی۔ فرمایا : کثرت عدد پر فخر و مباہات نے تم کو ایسا غافل کیا کہ تم قبرستان میں جا پہنچے اور مردوں کی گنتی کرنے لگے۔ یا ” حتی زرتم المقابر “ موت سے کنایہ ہے یعنی تم اموال وافراد کی کثرت پر فخر کرتے رہو گے یہاں تک قبروں میں پہنچ جاؤ گے۔ الھاکم حرصکم علی تکثیر اموالکم عن طاعۃ ربکم حتی اتاکم الموت وانتم علی ذلک (کبیر)
Ayahs 102:3–43:۔ ” کلا سوف “ کلا برائے ردع ہے اور اس میں تخویف اخروی کی طرف اشارہ ہے۔ ایسا ہرگز نہیں چاہئے اور نہ یہ خیال ہی درست ہے کہ مال و اولاد کی کثرت سعادت کا باعث ہے یا کوئی قابل فخر چیز ہے۔ بہت جلد تمہیں یہ حقیقت معلوم ہوجائیگی کہ یہ تکاثر و تفاخر ایک فضول چیز تھی۔ ” ثم کلا سوف تعلمون “ تکرار تاکید کے لیے ہے اور ثم تعقیب ذکری کے لیے ہے۔ یعنی میں پھر یہ بات کہتا ہوں، مراد یہ ہے کہ موت کے بعد آنکھیں کھل جائیں گے اور حقیقت واضح ہوجائیگی۔
Ayah 102:54:۔ ” کلا لو تعلمون “ کلا بمعنی حقا ہے۔ ” لو “ کی جزاء مقدر ہے ای لما الھاکم التکاثر (کبیر) ۔ یا لشغلکم ذلک عن التکاثر (روح) ۔ یعنی اگر تم آئندہ حالات کو اس یقین کے ساتھ جانتے جس طرح تم دیگر احوال یقینیہ مثلاً احوال ماضیہ کو جانتے ہو تو تم کثرت مال و اولاد پر فخر نہ کرتے۔
Ayahs 102:6–85:۔ ” لترون “ تخویف اخروی۔ ” عین الیقین “ مفعول مطلق ہے من غیر لفظہ یا یہ مفعول مطلق مقدر کی صفت ہے ای رویۃ عین الیقین (روح) ۔ تم ضرور بالضرور دوزخ کو دیکھ وگے۔ پھر کہتا ہوں تم دوزخ کا آنکھوں سے مشاہدہ کرو گے اور تمہیں اس کا عین الیقین حاصل ہوجائیگا۔ پھر یہ بھی سن لو کہ اس دن تم سے ساری نعمتوں کے بارے میں پوچھا جائیگا کہ میں تم پر جو انعام کیے تم نے ان کا شکریہ ادا کیا یا نہ۔ وکل ھذہ نعم فیسئل العبد عنہا ھل شکر ذلک امر کفر (قرطبی ج 20 ص 178) ۔