103. Surah Al-Asr
العصرThe Declining Day, Epoch · 3 ayahsجواھر القرآن
وَ الْعَصْرِۙ Open ayah 103:1 in the Quran reader
قسم ہے2 عصر کی
اِنَّ الْاِنْسَانَ لَفِیْ خُسْرٍۙ Open ayah 103:2 in the Quran reader
مقرر انسان ٹوٹے میں ہے
2:۔ ” والعصر “ زمانہ گواہ ہے کہ انسان سراسر خسارے میں ہے۔ زمانے کے مختلف ادوار کو دیکھئے اور ہر دوڑ کے بڑے سے بڑے بادشاہ کا حال ملاحظہ کیجئے کہ دنیا کی شان و شوکت اور دولت و سلطنت کا فخر و غرور کہاں گیا جب دنیا سے رخصت ہوئے تو کوئی چیز بھی ساتھ نہ گئی، نہ دولت نے ساتھ دیا نہ سلطنت نے نہ لاؤ لشکر نے۔ اس کے علاوہ العصر کے اور بھی کئی معانی بیان کیے گئے ہیں۔ تفصیل متداول تفسیروں میں ملاحظہ کی جائے۔
اِلَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَ تَوَاصَوْا بِالْحَقِّ١ۙ۬ وَ تَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ۠ Open ayah 103:3 in the Quran reader
مگر جو لوگ3 کہ یقین لائے اور کیے بھلے کام اور آپس میں تاکید کرتے رہے سچے دین کی اور آپس میں تاکید کرتے رہے تحمل کی
3:۔ ” الا الذین “ یہ ماقبل سے مستثنی ہے۔ تمام انسان خسارے میں ہیں البتہ جن لوگوں میں یہ چار صفتیں موجود ہوں وہ خسارے میں نہیں ہیں، بلکہ فائدے میں ہیں اور وہ دنیا سے خالی ہاتھ نہیں جائیں گے بلکہ آخرت کا توشہ ساتھ لے کر جائیں گے۔ پہلا وصف ” امنوا “ وہ اللہ تعالیٰ کی وحدانیت، رسالت، قیامت اور دیگر تمام ضروریات دین پر ایمان رکھتے ہوں۔ دوسرا وصف ” وعلموا الصالحات “ وہ نیک کام کریں اسلام میں جن کاموں کے کرنے کا حکم ہے ان کو بجا لائیں اور جن سے روکا گیا ہے ان سے باز رہیں۔ تیسرا وصف ” وتواصوا بالحق وہ آپس میں ایک دوسرے کی خیر خواہی کریں اور ایک دوسرے کو سچی بات یعنی توحید اور اسلام کے اخلاقی، معاشرتی اور دیگر احکام کی تبلیغ کریں۔ (بالحق) ای بالتوحید، کذا روی الضحاک عن ابن عباس۔ وقال قتادۃ (بالحق) ای بالقران (قرطبی ج 20 ص 181) ۔ چوتھا وصف۔ ” وتواصوا بالصبر “ جن انسانوں میں یہ چار وصوف موجود ہوں گے وہ خسارے میں نہیں رہیں گے۔