100. Surah Al-Aadiyaat

العادياتThe Chargers · 11 ayahsاحسن البیان

Ayah 100:1

وَ الْعٰدِیٰتِ ضَبْحًاۙ Open ayah 100:1 in the Quran reader

ہانپتے ہوئے دوڑنے والے گھوڑوں کی قسم (1)

1۔ 1 عادیات، عادیۃ کی جمع ہے۔ یہ عدو سے ہے جیسے غزو ہے غازیات کی طرح اس کے واؤ کو بھی یا سے بدل دیا گیا ہے۔ تیز رو گھوڑے۔ ضبح کے معنی بعض کے نزدیک ہانپنا اور بعض کے نزدیک ہنہنانا ہے۔ مراد وہ گھوڑے ہیں جو ہانپتے یا ہنہناتے ہوئے جہاد میں تیزی سے دشمن کی طرف دوڑتے ہیں۔
Ayah 100:2

فَالْمُوْرِیٰتِ قَدْحًاۙ Open ayah 100:2 in the Quran reader

پھر ٹاپ مار کر آگ جھاڑنے والوں کی قسم (1)

2۔ 1 موریات، ایراء سے ہے آگ نکالنے والے۔ قدح کے معنی ہیں۔ صبک چلنے میں گھٹنوں یا ایڑیوں کا ٹکرانا، یا ٹاپ مارنا۔ اسی سے قدح بالزناد ہے۔ چقماق سے آگ نکالنا۔ یعنی گھوڑوں کی قسم جن کی ٹاپوں کی رگڑ سے پتھروں سے آگ نکلتی ہے جیسے چقماق سے نکلتی ہے (جو کہ ایک قسم کا پتھر ہے)
Ayah 100:3

فَالْمُغِیْرٰتِ صُبْحًاۙ Open ayah 100:3 in the Quran reader

پھر صبح کے وقت دھاوا بولنے والوں کی قسم (1)

3۔ 1 مغیرات، أغار یعیر سے ہے، شب خون مارنے یا دھاوا بولنے والے۔ صبحا صبح کے وقت، عرب میں عام طور پر حملہ اسی وقت کیا جاتا تھا، شب خون تو مارتے ہیں، جو فوجی گھوڑوں پر سوار ہوتے ہیں، لیکن اس کی نسبت گھوڑوں کی طرف اسلئے کی ہے کہ دھاوا بولنے میں فوجیوں کے یہ بہت زیادہ کام آتے ہیں۔
Ayah 100:4

فَاَثَرْنَ بِهٖ نَقْعًاۙ Open ayah 100:4 in the Quran reader

پس اس وقت گرد و غبار اڑاتے ہیں۔

أثار، اڑانا۔ نقع، گرد و غبار۔ یعنی یہ گھوڑے جس وقت تیزی سے دوڑتے یا دھاوا بولتے ہیں تو اس جگہ پر گرد و غبار چھا جاتا ہے۔
Ayah 100:5

فَوَسَطْنَ بِهٖ جَمْعًاۙ Open ayah 100:5 in the Quran reader

پھر اسی کے ساتھ فوجوں کے درمیان گھس جاتے ہیں۔ (1)

5۔ 1 فوسطن، درمیان میں گھس جاتے ہیں۔ اس وقت، یا حالت گرد و غبار میں۔ جمعا دشمن کے لشکر۔ مطلب ہے کہ اس وقت، یا جبکہ فضا گردوغبار سے اٹی ہوئی ہے یہ گھوڑے دشمن کے لشکروں میں گھس جاتے ہیں اور گھمسان کی جنگ کرتے ہیں۔
Ayah 100:6

اِنَّ الْاِنْسَانَ لِرَبِّهٖ لَكَنُوْدٌۚ Open ayah 100:6 in the Quran reader

یقیناً انسان اپنے رب کا ناشکرا ہے۔

1۔ 6 یہ جواب قسم ہے۔ انسان سے مراد کافر، یعنی بعض افراد ہیں۔ کنود بمعنی کفور، ناشکرا۔
Ayah 100:7

وَ اِنَّهٗ عَلٰى ذٰلِكَ لَشَهِیْدٌۚ Open ayah 100:7 in the Quran reader

اور یقیناً وہ خود بھی اس پر گواہ ہے۔ (1)

7۔ 1 یعنی انسان خود بھی اپنی ناشکری کی گواہی دیتا ہے۔ بعض لشہید کا فاعل اللہ کو قرار دیتے ہیں۔ لیکن امام شوکانی نے پہلے مفہوم کو راجح قرار دیا ہے، کیونکہ مابعد کی آیات میں ضمیر کا مرجع انسان ہی ہے۔ اس لیے یہاں بھی انسان ہی ہونا زیادہ صحیح ہے۔
Ayah 100:8

وَ اِنَّهٗ لِحُبِّ الْخَیْرِ لَشَدِیْدٌؕ Open ayah 100:8 in the Quran reader

یہ مال کی محبت میں بھی بڑا سخت ہے (1)

8۔ 1 خَیْر، ُ سے مراد مال ہے، اور ایک دوسرا مفہوم یہ ہے کہ نہایت حریص اور بخیل ہے جو مال کی شدید محبت کا لازمی نتیجہ ہے۔
Ayah 100:9

اَفَلَا یَعْلَمُ اِذَا بُعْثِرَ مَا فِی الْقُبُوْرِۙ Open ayah 100:9 in the Quran reader

کیا اسے وہ وقت معلوم نہیں جب قبروں میں جو (کچھ) ہے نکال لیا جائے گا (1)

9۔ 1 بعثر، نثر وبعث یعنی قبروں کے مردوں کو زندہ کر کے اٹھا کھڑا کردیا جائے گا۔
Ayah 100:10

وَ حُصِّلَ مَا فِی الصُّدُوْرِۙ Open ayah 100:10 in the Quran reader

اور سینوں کی پوشیدہ باتیں ظاہر کردی جائیں گی۔

حصل، میز وبین یعنی سینوں کی باتوں کو ظاہر اور کھول دیا جائے گا۔
Ayah 100:11

اِنَّ رَبَّهُمْ بِهِمْ یَوْمَئِذٍ لَّخَبِیْرٌ۠ Open ayah 100:11 in the Quran reader

بیشک ان کا رب اس دن ان کے حال سے پورا باخبر ہوگا (1)

11۔ 1 یعنی جو رب ان کو قبروں سے نکال لے گا ان کے سینوں کے رازوں کو ظاہر کر دے گا اس کے متعلق ہر شخص جان سکتا ہے کہ وہ کتنا باخبر ہے ؟ اور اس سے کوئی چیز مخفی نہیں پھر وہ ہر ایک کو اس کے عملوں کے مطابق اچھی یا بری جزا دے گا۔ یہ گویا ان اشخاص کو تنبیہ ہے جو رب کی نعمتیں تو استعمال کرتے ہیں لیکن اس کا شکر ادا کرنے کی بجائے، اسکی ناشکری کرتے ہیں۔ اسی طرح مال کی محبت میں گرفتار ہو کر مال کے وہ حقوق ادا نہیں کرتے جو اللہ نے اس میں دوسرے لوگوں کے رکھے ہیں۔