Ayahs 100:1–21 یعنی جو پتھر یا پتھریلی زمین پر ٹاپ مار کر آگ جھاڑتے ہیں۔
Ayah 100:32 عرب میں اکثر عادت صبح کے وقت تاخت کرنے کی تھی تاکہ رات کے وقت جانے میں دشمن کو خبر نہ ہو صبح کو دفعتاً جا پڑیں اور رات کو حملہ نہ کرنے میں اظہار شجاعت سمجھتے تھے۔
Ayah 100:43 یعنی ایسی تیزی اور قوت سے دوڑنے والے کہ صبح کے وقت جبکہ رات کی سردی اور شبنم کی رطوبت سے عموماً غبار دبا رہتا ہے۔ ان کے ٹاپوں سے اس وقت بھی بہت گردوغبار اٹھتا ہے۔
Ayah 100:54 یعنی اس وقت بےخوف و خطر دشمن کی فوج میں جا گھستے ہیں۔ (تنبیہ) ممکن ہے کہ قسم کھانا گھوڑوں کی مقصود ہو جیسا کہ ظاہر ہے، اور ممکن ہے مجاہدین کے رسالہ کی قسم ہو۔ حضرت شاہ صاحب (رح) لکھتے ہیں۔ " یہ جہاد والے سواروں کی قسم ہے۔ اس سے بڑا کون عمل ہوگا کہ اللہ کے کام پر اپنی جان دینے کو حاضر ہے۔ "
Ayah 100:65 یعنی جہاد کرنے والے سواروں کی اللہ کی راہ میں سرفروشی و جانبازی بتلاتی ہے کہ وفادارو شکر گذار بندے ایسے ہوتے ہیں۔ جو آدمی اللہ کی دی ہوئی قوتوں کو اس کے راستہ میں خرچ نہیں کرتا وہ پرلے درجہ کا ناشکرا اور نالائق ہے بلکہ غور کرو تو خود گھوڑا زبان حال سے شہادت دے رہا ہے کہ جو لوگ مالک حقیقی کی دی ہوئی روزی کھاتے اور اس کی بیشمار نعمتوں سے شب و روز تمتع کرتے ہیں، پھر اس کے باوجود اس کی فرمانبرداری نہیں کرتے، وہ جانوروں سے زیادہ ذلیل و حقیر ہیں۔ ایک شائستہ گھوڑے کو مالک گھاس کے تنکے اور تھوڑا سا دانہ کھلاتا ہے وہ اتنی سی تربیت پر اپنے مالک کی وفاداری میں جان لڑا دیتا ہے۔ جدھر سوار اشارہ کرتا ہے ادھر چلتا ہے، دوڑتا اور ہانپتا ہوا ٹاپیں مارتا اور غبار اٹھاتا ہوا گھمسان کے معرکوں میں بےتکلف گھس جاتا ہے۔ گولیوں کی بارش میں، تلواروں اور سنگینوں کے سامنے پڑ کر سینہ نہیں پھیرتا۔ بلکہ بسا اوقات وفادار گھوڑا سوار کو بچانے کے لئے اپنی جان خطرہ میں ڈال دیتا ہے۔ کیا انسان نے ایسے گھوڑوں سے کچھ سبق سیکھا کہ اس کا بھی کوئی پالنے والا مالک ہے جس کی وفاداری میں اسے جان و مال خرچ کرنے کے لئے تیار رہنا چاہئے۔ بیشک انسان بڑا ناشکرا اور نالائق ہے کہ ایک گھوڑے بلکہ کتے کے برابر بھی وفاداری نہیں دکھلا سکتا۔
Ayah 100:76 یعنی سرفروش مجاہدین کی اور ان کے گھوڑوں کی و فاشعاری اور شکر گذاری اس کی آنکھوں کے سامنے ہے۔ پھر بھی بےحیا ٹس سے مس نہیں ہوتا۔ (تنبیہ) ترجمہ کی رعایت سے ہم نے یہ مطلب لکھا ہے۔ ورنہ اکثر مفسرین اس جملہ کا مطلب یہ لیتے ہیں کہ انسان خود اپنی ناشکری پر زبان حال سے گواہ ہے۔ ذرا اپنے ضمیر کی آواز کی طرف متوجہ ہو تو سن لے کہ اندر سے خود اس کا دل کہہ رہا ہے کہ تو بڑا ناشکرا ہے بعض سلف نے " انــہ " کی ضمیر رب کی طرف لوٹائی ہے۔ یعنی اس کا رب اس کی ناسپاسی اور کفران نعمت کو دیکھ رہا ہے۔
Ayah 100:87 یعنی حرص و طمع اور بخل و امساک نے اس کو اندھا بنا رکھا ہے۔ دنیا کے زرومال کی محبت میں اس قدر غرق ہے کہ منعم حقیقی کو بھی فراموش کر بیٹھا، نہیں سمجھتا کہ آگے چل کر اس کا کیا انجام ہونے والا ہے۔
Ayahs 100:9–108 یعنی وہ وقت بھی آنے والا ہے جب مردہ جسم قبروں سے نکال کر زندہ کئے جائیں گے اور دلوں میں جو چیزیں چھپی ہوئی ہیں سب کھول کر رکھ دی جائیں گی اس وقت دیکھیں یہ مال کہاں تک کام دے گا اور نالائق ناشکرے لوگ کہاں چھوٹ کردکھائیں گے۔ اگر یہ بےحیا اس بات کو بھی سمجھ لیتے تو ہرگز مال کی محبت میں غرق ہو کر ایسی حرکتیں نہ کرتے۔
Ayah 100:119 یعنی ہرچند کہ اللہ کا علم ہر وقت بندے کے ظاہر و باطن پر محیط ہے۔ لیکن اس روز اس کا علم ہر شخص پر ظاہر ہوجائے گا۔ اور کسی کو گنجائش انکار کی نہ رہے گی۔