100. Surah Al-Aadiyaat

العادياتThe Chargers · 11 ayahsتفسیرِ سعدی

Ayah 100:1

وَ الْعٰدِیٰتِ ضَبْحًاۙ Open ayah 100:1 in the Quran reader

ان سرپٹ دوڑنے والے گھوڑوں کی قسم جو ہانپ اٹھتے ہیں

اللہ تبارک وتعالی نے گھوڑوں کی قسم کھائی ہے کیونکہ ان کے اندر اللہ تعالیٰ کی روشنی اور نمایاں اور ظاہری نعمتیں ہیں جو تمام خلائق کو معلوم ہیں اور اللہ تعالیٰ نے گھوڑوں کی ان کے اس حال میں قسم کھائی جس حال میں حیوانات کی تمام انواع میں سے کوئی حیوان ان کے ساتھ مشارکت نہیں کرسکتا۔ فرمایا (وَالْعٰدِيٰتِ ضَبْحًا) یعنی بہت قوت کے ساتھ دوڑنے والے گھوڑوں کی قسم جبکہ ان سے ہانپنے کی آواز آرہی ہے۔ اضبح گھوڑوں کی سانس کی آواز جو تیز دوڑتے وقت ان کے سینوں سے نکلتی ہے۔
Ayah 100:2

فَالْمُوْرِیٰتِ قَدْحًاۙ Open ayah 100:2 in the Quran reader

پھر (پتھروں پر نعل) مار کر آگ نکالتے ہیں

(فَالْمُوْرِيٰتِ قَدْحًا) پھر آگ جھاڑنے والوں کی اپنے سموں سے پتھروں پر ٹاپ مار کر۔ یعنی جب وہ گھوڑے دوڑتے ہیں تو ان کے سموں کی سختی اور ان کی قوت کی وجہ سے آگ نکلتی ہے۔
Ayah 100:3

فَالْمُغِیْرٰتِ صُبْحًاۙ Open ayah 100:3 in the Quran reader

پھر صبح کو چھاپہ مارتے ہیں

(فَالْمُغِيْرٰتِ ) دشمن پر شب خون مارنے والے گھوڑوں کی ( صُبْحًا) صبح کے وقت۔ اور یہ امر غالب ہے کہ دشمن پر شب خون صبح کے وقت منہ اندھیرے مارا جاتا ہے۔
Ayahs 100:4–6

فَاَثَرْنَ بِهٖ نَقْعًاۙ Open ayah 100:4 in the Quran reader

پھر اس میں گرد اٹھاتے ہیں

فَوَسَطْنَ بِهٖ جَمْعًاۙ Open ayah 100:5 in the Quran reader

پھر اس وقت دشمن کی فوج میں جا گھستے ہیں

اِنَّ الْاِنْسَانَ لِرَبِّهٖ لَكَنُوْدٌۚ Open ayah 100:6 in the Quran reader

کہ انسان اپنے پروردگار کا احسان ناشناس (اور ناشکرا) ہے

(فَاَثَرْنَ بِهٖ ) یعنی اپنے دوڑنے اور شبخون مارنے کے ذریعے سے ( نَقْعًا) غبار اڑاتے ہیں۔
Ayah 100:7

وَ اِنَّهٗ عَلٰى ذٰلِكَ لَشَهِیْدٌۚ Open ayah 100:7 in the Quran reader

اور وہ اس سے آگاہ بھی ہے

(وَاِنَّهٗ عَلٰي ذٰلِكَ لَشَهِيْدٌ) اور وہ اس پر گواہ ہے۔ یعنی انسان کے نفس کی طرف جو عدم سماحت اور ناشکری معروف ہے بیشک وہ بذات خود اس پر گواہ ہے وہ اس کو جھٹلا سکتا ہے نہ اس کا انکار کرسکتا ہے کیونکہ یہ بالکل ظاہر اور واضح ہے اس میں یہ احتمال بھی ہے کہ ضمیر اللہ کی طرف لوٹتی ہو یعنی بیشک بندہ اپنے رب کا ناشکرا ہے اور اللہ تعالیٰ اس پر شاہد ہے اس آیت کریمہ میں اس شخص کے لیے وعید اور سخت تہدید ہے کہ اللہ تعالیٰ اس پر شاہد ہے جو اپنے رب کا ناشکرا ہے۔
Ayah 100:8

وَ اِنَّهٗ لِحُبِّ الْخَیْرِ لَشَدِیْدٌؕ Open ayah 100:8 in the Quran reader

وہ تو مال کی سخت محبت کرنے والا ہے

(وَاِنَّهٗ لِحُبِّ الْخَيْرِ لَشَدِيْدٌ) اور بلاشبہ انسان مال کی محبت میں بہت سخت ہے۔ یعنی مال سے بہت زیادہ محبت کرتا ہے اور مال کی محبت ہی اس کے لیے حقوق واجبہ کو ترک کرنے کی موجب بنی اور یوں اس نے اپنی شہوت نفس کو اپنے رب کی رضا پر ترجیح دی۔ یہ سب کچھ اس لیے ہوا کہ اس نے اپنی نظر کو صرف اسی دنیا پر مرکوز رکھا اور آخرت سے غافل رہا اس لیے اللہ تعالیٰ نے یوم وعید کا خوف دلاتے ہوئے فرمایا (اَفَلَا يَعْلَمُ اِذَا بُعْثِرَ مَا فِي الْقُبُوْرِ ) جب اللہ تعالیٰ قبروں میں سے مردوں کو ان کے حشر ونشر کے لیے نکالے گا۔
Ayahs 100:9–10

اَفَلَا یَعْلَمُ اِذَا بُعْثِرَ مَا فِی الْقُبُوْرِۙ Open ayah 100:9 in the Quran reader

کیا وہ اس وقت کو نہیں جانتا کہ جو (مردے) قبروں میں ہیں وہ باہر نکال لئے جائیں گے

وَ حُصِّلَ مَا فِی الصُّدُوْرِۙ Open ayah 100:10 in the Quran reader

اور جو (بھید) دلوں میں ہیں وہ ظاہر کردیئے جائیں گے

(وَحُصِّلَ مَا فِي الصُّدُوْرِ ) اور جو کچھ سینوں میں ہے وہ ظاہر اور واضح ہوجائے گا سینوں کے اندر جو بھلائی یا برائی ہے وہ چھپی نہ رہے گی، ہر بھید کھل جائے گا اور باطل ظاہر ہوجائے اور ان کے اعمال کا نتیجہ تمام مخلوق کے سامنے آجائے گا۔
Ayah 100:11

اِنَّ رَبَّهُمْ بِهِمْ یَوْمَئِذٍ لَّخَبِیْرٌ۠ Open ayah 100:11 in the Quran reader

بیشک ان کا پروردگار اس روز ان سے خوب واقف ہوگا

(اِنَّ رَبَّهُمْ بِهِمْ يَوْمَىِٕذٍ لَّخَبِيْرٌ) بیشک ان کا رب ان کے ظاہری اور باطنی جلی، اور خفی اعمال سے خبردار ہے اور وہ ان کے اعمال کی جزا دے گا اللہ تعالیٰ نے اپنے علم کو اس دن کے ساتھ خاص طور پر ذکر کیا ہے حالانکہ وہ ان کے بارے میں ہر وقت خبر رکھنے والا ہے کیونکہ اس سے مراد اعمال کی جزا ہے جس کا باعث اللہ تعالیٰ کا علم اور اس کی اطلاع ہے۔