100. Surah Al-Aadiyaat
العادياتThe Chargers · 11 ayahsتفہیم القرآن
تعارف
نام
پہلے ہی لفظ العٰدیٰت کو اس کا نام قرار دیا گیا ہے۔
زمانہ نزول
اس کے مکی اور مدنی ہونے میں اختلاف ہے۔ حضرت عبد اللہ بن مسعود، جابر، حسن بصری، عکرمہ اور عطاء کہتے ہیں کہ یہ مکی ہے۔ حضرت انس بن مالک اور قتادہ کہتے ہیں کہ مدنی ہے اور حضرت ابن عباس سے دو قول منقول ہوئے ہیں ایک یہ کہ سورت مکی ہے اور دوسرا یہ کہ مدنی ہے لیکن سورت کا مضمون اور انداز بیان صاف بتارہا ہے کہ یہ نہ صرف مکی ہے بلکہ مکہ کے بھی ابتدائی دور کی نازل ہوئی ہے۔
موضوع اور مضمون
اس کا مقصود لوگوں کو یہ سمجھانا ہے کہ انسان آخرت کا منکر یا اس سے غافل ہو کر کیسی اخلاقی پستی میں گر جاتا ہے، اور ساتھ ساتھ لوگوں کو اس بات سے خبردار بھی کرنا ہے کہ آخرت میں صرف ان کے ظاہری افعال ہی کی نہیں بلکہ ان کے دلوں میں چھپے ہوئے اسرار تک کی جانچ پڑتال ہوگی۔ اس مقصد کے لیے عرب میں پھیلی ہوئی اس عام بدامنی کو دلیل کے طور پر پیش کیا گیا ہے جس سے سارا ملک تنگ آیا ہوا تھا۔ ہر طرف کشت و خون برپا تھا۔ لوٹ مار کا بازار گرم تھا۔ قبیلوں پر قبیلے چھاپے مار رہے تھے اور کوئی شخص بھی رات چین سے نہیں گزار سکتا تھا کیونکہ ہر وقت یہ کھٹکا لگا رہتا تھا کہ کب کوئی دشمن صبح سویرے اس کی بستی پر ٹوٹ پڑے۔ یہ ایک ایسی حالت تھی جسے عرب کے سارے ہی لوگ جانتے تھے اور اس کی قباحت کو محسوس کرتے تھے۔ اگرچہ لٹنے والا اس پر ماتم کرتا تھا اور لوٹنے والا اس پر خوش ہوتا تھا، لیکن جب کسی وقت لوٹنے والے کی شامت آجاتی تھی تو وہ بھی یہ محسوس کرلیتا تھا کہ یہ کیسی بری حالت ہے جس میں ہم لوگ مبتلا ہیں۔ اس صورتحال کی طرف اشارہ کر کے یہ بتایا گیا ہے کہ موت کے بعد دوسری زندگی اور اس میں خدا کے حضور جواب دہی سے ناواقف ہو کر انسان اپنے رب کا ناشکرا ہوگیا ہے، وہ خدا کی دی ہوئی قوتوں کو ظلم و ستم اور غارت گری کے لیے استعمال کر رہا ہے، وہ مال و دولت کی محبت میں اندھا ہو کر ہر طریقے سے اسے حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے، خواہ وہ کیسا ہی ناپاک اور گھناؤنا طریقہ ہو، اور اس کی حالت خود اس بات کی گواہی دے رہی ہے کہ وہ اپنے رب کی عطا کی ہوئی قوتوں کا غلط استعمال کر کے ناشکری کر رہا ہے۔ اس کی یہ روش ہرگز نہ ہوتی اگر وہ اس وقت کو جانتا ہوتا جب قبروں سے زندہ ہو کر اٹھنا ہوگا، اور جب وہ ارادے اور وہ اغراض و مقاصد تک دلوں سے نکال کر سامنے رکھ دی جائیں گے جن کی تحریک سے اس نے دنیا میں طرح طرح کے کام کیے تھے۔ اس وقت انسانوں کے رب کو خوب معلوم ہوگا کہ کون کیا کر کے آیا ہے اور کس کے ساتھ کیا برتاؤ کیا جانا چاہیے۔
وَ الْعٰدِیٰتِ ضَبْحًاۙ Open ayah 100:1 in the Quran reader
قسم ہے اُن (گھوڑوں) کی جو پھُنکارے مارتے ہوئے دَوڑتے ہیں،1
فَالْمُوْرِیٰتِ قَدْحًاۙ Open ayah 100:2 in the Quran reader
پھر (اپنی ٹاپوں سے) چِنگاریاں جھاڑتے ہیں،2
فَالْمُغِیْرٰتِ صُبْحًاۙ Open ayah 100:3 in the Quran reader
پھر صبح سویرے چھاپہ مارتے ہیں، 3
فَاَثَرْنَ بِهٖ نَقْعًاۙ Open ayah 100:4 in the Quran reader
پھر اس موقع پر گرد و غبار اڑاتے ہیں
فَوَسَطْنَ بِهٖ جَمْعًاۙ Open ayah 100:5 in the Quran reader
پھر اِسی حالت میں کسی مجمع کے اندر جا گھستے ہیں
اِنَّ الْاِنْسَانَ لِرَبِّهٖ لَكَنُوْدٌۚ Open ayah 100:6 in the Quran reader
حقیقت یہ ہے کہ انسان اپنے ربّ کا بڑا ناشکرا ہے، 4
وَ اِنَّهٗ عَلٰى ذٰلِكَ لَشَهِیْدٌۚ Open ayah 100:7 in the Quran reader
اور وہ خود اِس پر گواہ ہے، 5
وَ اِنَّهٗ لِحُبِّ الْخَیْرِ لَشَدِیْدٌؕ Open ayah 100:8 in the Quran reader
اور وہ مال و دولت کی محبت میں بُری طرح مُبتلا ہے۔ 6
اَفَلَا یَعْلَمُ اِذَا بُعْثِرَ مَا فِی الْقُبُوْرِۙ Open ayah 100:9 in the Quran reader
تو کیا وہ اُس وقت کو نہیں جانتا جب قبروں میں جو کچھ (مدفون) ہے اُسے نکال لیا جائے گا، 7
وَ حُصِّلَ مَا فِی الصُّدُوْرِۙ Open ayah 100:10 in the Quran reader
اور سینوں میں جو کچھ (مخفی) ہے اُسے بر آمد کر کے اس کی جانچ پڑتال کی جائے گی؟ 8
اِنَّ رَبَّهُمْ بِهِمْ یَوْمَئِذٍ لَّخَبِیْرٌ۠ Open ayah 100:11 in the Quran reader
یقیناً اُن کا ربّ اُس روز اُن سے خوب باخبر ہوگا۔ 9