100. Surah Al-Aadiyaat

العادياتThe Chargers · 11 ayahsمظہر القرآن

Ayahs 100:1–11

وَ الْعٰدِیٰتِ ضَبْحًاۙ Open ayah 100:1 in the Quran reader

قسم1 (غازیوں کے ) تیزڈورنے والے گھوڑوں کی ، جو ہانپ ہانپ جاتے ہیں

فَالْمُوْرِیٰتِ قَدْحًاۙ Open ayah 100:2 in the Quran reader

پھر پتھروں پر سم مار کر چنگاریاں اڑاتے جاتے ہیں

فَالْمُغِیْرٰتِ صُبْحًاۙ Open ayah 100:3 in the Quran reader

پھر صبح ہوتے تاراج کرتے ہیں

فَاَثَرْنَ بِهٖ نَقْعًاۙ Open ayah 100:4 in the Quran reader

پھر اس وقت غباراڑاتے ہیں

فَوَسَطْنَ بِهٖ جَمْعًاۙ Open ayah 100:5 in the Quran reader

پھر اس وقت (دشمنوں کے ) بیچ لشکر میں جاگھستے ہیں

اِنَّ الْاِنْسَانَ لِرَبِّهٖ لَكَنُوْدٌۚ Open ayah 100:6 in the Quran reader

بیشک آدمی اپنے رب کا بڑاناشکرا ہے

وَ اِنَّهٗ عَلٰى ذٰلِكَ لَشَهِیْدٌۚ Open ayah 100:7 in the Quran reader

اور بیشک اپنی ناشکری پر خود گواہ ہے

وَ اِنَّهٗ لِحُبِّ الْخَیْرِ لَشَدِیْدٌؕ Open ayah 100:8 in the Quran reader

اور بیشک آدمی مال کی محبت میں البتہ بہت سخت ہے (کہ خرچ کرنے میں بخل کرتا ہے)

اَفَلَا یَعْلَمُ اِذَا بُعْثِرَ مَا فِی الْقُبُوْرِۙ Open ayah 100:9 in the Quran reader

تو کیا وہ نہیں جانتا کہ جب (مردے) اٹھائے جائیں گے جو قبروں میں ہیں

وَ حُصِّلَ مَا فِی الصُّدُوْرِۙ Open ayah 100:10 in the Quran reader

اور جو کچھ (کفر وایمان ) دلوں میں ہے وہ ظاہر کیا جائے گا

اِنَّ رَبَّهُمْ بِهِمْ یَوْمَئِذٍ لَّخَبِیْرٌ۠ Open ayah 100:11 in the Quran reader

بیشک پروردگار ان کا ان کے احوال سے اس دن البتہ خبردار ہے

جہاد کی اہمیت وفضیلت۔ (ف 1) اللہ تعالیٰ کا دین پھیلانے کے لیے جو لوگ گھوڑوں پر سوار ہوکر مخالف لوگوں پر حملہ کرتے ہیں ان کے گھوڑوں کے دوڑنے اور دوڑنے میں ہانپنے اور پتھر پر دوڑتے وقت ان کے نعلوں میں سے آگ کے شعلے جھڑنے اور صبح کے وقت حملہ کرنے اور حملہ کے وقت گردوغبار اٹھنے اور اس گردوغبار میں سواروں کے دشمنوں میں گھس جانے کی (حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں یہ جہاد والے سواروں کی ایک قسم ہے اس سے بڑا کون ساعمل ہوگا، کہ اللہ کے کام پر اپنی جان دینے کو حاضر ہیں اور یہ جہاد کرنے والے سواروں کی اللہ کی راہ میں سرفروشی وجانبازی بتلاتی ہے کہ وفادار وشکرگذار بندے ایسے ہوتے ہیں) ان سب باتوں کی اللہ تعالیٰ نے قسم کھاکر فرمایا کہ انسان بڑا ناشکرا ہے کیونکہ جو آدمی اللہ کی دی ہوئی قوتوں کو اس کے راست ہمیں خرچ نہیں کرتا وہ پرلے درجے کا ناشکرا اور نالائق ہے بلکہ غورکروتوخود گھوڑا زبان حال سے شہادت دے رہا ہے کہ جو لوگ مالک حقیقی کی دی ہوئی روزی کھاتے ہیں اور اس کی بیشمار نعمتوں سے شب وروز تمتع کرتے ہیں پھر اس کے باوجود اس کی فرمانبرداری نہیں کرتے، وہ جانوروں سے زیادہ ذلیل و حقیر ہیں ایک شائستہ گھوڑے کو مالک گھاس کے تنکے اور تھوڑا سادانہ کھلاتا ہے۔ وہ اتنی سی تربیت پر اپنے مال کی وفاداری میں جان لڑادیتا ہے جدھر سوار اشارہ کرتا ہے ادھر چلتا ہے ، دوڑتا ہانپتا ہواٹاپیں مارتا، اور غبار اٹھاتا ہواگھمسان کے معرکوں میں بےتکلف گھس جاتا ہے گولیوں کی بارش میں تلواروں سنگینوں کے سامنے پر کرسینہ نہیں پھیرتا، بلکہ بسا اوقات وفادار گھوڑا سوار کو بچالینے کے لیے اپنی جان خطرہ میں ڈال دیتا ہے کیا انسان نے ایسے گھوڑوں سے کچھ سبق سیکھا کہ اس کا بھی کوئی پالنے والا مالک ہے ، جس کی وفاداری میں اسے جان ومال خرچ کرنے کے لیے تیاررہنا چاہیے، بیشک انسان بڑا ہی ناشکرا ہے ایک گھوڑے کے برابر بھی وفاداری نہیں دکھلاسکتا۔ آگے فرمایا کہ انسان خود اپنی ناشکری پر زبان حال گواہ ہے ذرا اپنے ضمیر کی آواز کی طرف متوجہ ہوتوسن لے کہ اندر سے خود اس کا دل کہہ رہا ہے کہ تو بڑا ناشکرا ہے آگے فرمایا کہ دین کی باتوں سے یہ انسان اس لیے غافل ہے کہ حرص وطمع اور بخل وامساک نے اس کو اندھا بنارکھا ہے دنیا کے زر ومال کی محبت میں منعم حقیقی کو بھی فراموش کر بیٹھا ہے نہیں سمجھتا کہ آگے چل کر اس کا کیا انجام ہونے والا ہے ایک دن خود یہ دنیا سے چل بسے گا، اور اس کا سمیٹا ہوا سب مال یہیں دنیا میں پڑا رہ جائے گا آگے فرمایا کہ وہ وقت بھی آنے والا ہے جب مردہ جسم قبروں سے نکال کر زندہ کیے جائیں گے اور دلوں میں جو کفر ایمان ہے اور جو باتیں چھپی ہوئی ہیں سب کھول کر رکھ دی جائیں گی اس وقت یہ مال کہاں تک کام دے گا، اور نالائق ناشکرے لوگ کہاں چھوٹ کرجائیں گے اگر یہ کافر بےحیا اس بات کو بھی سمجھ ہرگز مال کی محبت میں غرق ہوکر ایسی حرکتیں نہ کرتے، آگے فرمایا کہ اللہ کا علم ہر وقت بندے کے ظاہر و باطن پر محیط ہے لیکن اس روز اس کا علم ہر شخص پر ظاہر ہوجائے گا اور کسی کو گنجائش انکار کی نہ رہے گی۔