Al-Aadiyaat 100:2

Al-Aadiyaat · from ayah 2

100:2

فَالْمُوْرِیٰتِ قَدْحًا ۟ۙفَالۡمُوۡرِيٰتِ قَدۡحًا

پھر (پتھروں پر نعل) مار کر آگ نکالتے ہیں

— Fateh Muhammad Jalandhari

And the producers of sparks [when] striking

— Saheeh International

Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 25 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Aadiyaat

All translations of 100:2

پھر (اپنی ٹاپوں سے) چنگاریاں جھاڑتے ہیں

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

پھر (پتھروں پر نعل) مار کر آگ نکالتے ہیں

— مولانا فتح محمد جالندہری

پھر ٹاپ مار کر آگ جھاڑنے والوں کی قسم!

— مولانا محمد جوناگڑہی

پھر جو (اپنی ٹاپوں سے) چنگاریاں اڑاتے ہیں۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

پھر پتھروں سے آگ نکالتے ہیں سم مارکر

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

پھر جو پتھروں پر سُم مار کر چنگاریاں نکالتے ہیں،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

پھر جو سم مار کر چنگاریاں نکالنے والے ہیں !

— مولانا عبد السلام بھٹوی

پھر ان کی جو اپنی ٹاپوں سے چنگاریاں نکالتے ہیں

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

دوڑنے والے گھوڑے، ٹاپوں کی ٹھوکر سے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

پھر وہ چنگاریاں جھاڑتے ہیں ٹاپ مار کر

— مولانا اسحاق مدنی

پھر ٹاپ مار کر آگ جھاڑتے ہیں

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

پھر وہ ُ سم مار کر چنگاریاں نکالتے ہیں۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

پھر۔ (پتھروں پر نعل مار کر) آگ نکالتے ہیں

— محترمہ رفعت اعجاز

then raise sparks of fire (by their hoofs),

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

then those that create sparks by striking (their hoofs) on the stones,

— Muhammad Taqi Usmani

then those that create sparks by striking (their hoofs) on the stones,

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Striking sparks of fire.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And the producers of sparks [when] striking

— Saheeh International

and produce sparks

— Muhammad Sarwar

Then those that produce fire striking,

— Muhammad Habib Shakir

And striking off fire by dashing their hoofs.

— Abdul Majid Daryabadi

Tafseer of 100:2

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 1–11

انسان کا نفسیاتی تجزیہ : مجاہدین کے گھوڑے جبکہ اللہ کی راہ میں جہاد کے لیے ہانپتے اور ہنہاتے ہوئے دوڑتے ہیں ان کی اللہ تبارک و تعالیٰ قسم کھاتا ہے پھر اس تیزی میں دوڑتے ہوئے پتھروں کے ساتھ ان کے نعل کا ٹکرانا اور اس رگڑ سے آگ کی چنگاڑیاں اڑنا پھر صبح کے وقت دشمن پر ان کا چھاپہ مارنا اور دشمنان رب کو تہہ وبالا کرنا آنحضرت ﷺ کی یہی عادت مبارک تھی کہ دشمن کی کسی بستی پر آپ جاتے تو وہاں رات کو ٹھہر کر کام لگا کر سنتے اگر اذان کی آواز آگئی تو آپ رک جاتے نہ آتی تو لشکر کو حکم دیتے کہ بزن بول دیں پھر ان گھوڑوں کا گردو غبار اڑانا اور ان سب کا دشمنوں کے درمیان گھس جانا ان سب چیزوں کی قسم کھا کر پھر…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة العدیات 2 چنگاریاں جھاڑنے کے الفاظ اس بات پر دلالت کرتے ہیں کہ یہ گھوڑے رات کے وقت دوڑتے ہی، کیونکہ رات ہی کو ان کی ٹاپوں سے جھڑنے والے شرارے نظر آتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 2–7

فوسطن بہ جمعاً ، یعنی یہ دشمن کی صفوں میں بےخوف گھس جاتے ہیں۔ کنود کے معنی میں حضرت حسن بصریٰ نے فرمایا کہ وہ شخص جو مصائب کو یاد رکھے اور نعمتوں کو بھول جائے اس کو کنود کہا جاتا ہے۔ ابو بکر واسطی نے فرمایا جو اللہ کی نعمتوں کو اس کی معصیتوں میں صرف کرے وہ کنود ہے۔ اور ترمذی نے فرمایا کہ جو شخص نعمت کو دیکھے اور منعم یعنی نعمت دینے والے کو نہ دیکھے وہ کنود ہے۔ ان سب اقوال کا حاصل نعمت کی ناشکری کرنا ہے۔ اس لئے کنود کا ترجمہ ناشکر کا کیا گیا ہے۔

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

زبان کا ایک اسلوب: ’ف‘ کے ذریعہ سے جب عطف ہوتا ہے تو، جیسا کہ ہم اس کے محل میں وضاحت کر چکے ہیں، ترتیب پر بھی دلیل ہوتا ہے اور اس بات پر بھی کہ تمام صفتیں ایک ہی موصوف سے تعلق رکھنے والی ہیں۔ ’مُوۡرِیَاتٌ‘، ’اِیْرَاءٌ‘ سے ہے جس کے معنی چقماق یا کسی چیز سے آگ نکالنے کے ہیں۔ ’قَدْحٌ‘ ضرب لگانے، ٹھوکر لگانے اور ایک چیز کو دوسری سے ٹکرانے کے معنی میں یہاں ہے۔ انسان کی مقصد برآری میں گھوڑوں کی سرگرمی اور آتش زیرپائی: یہ انسان کی مقصد برآری میں گھوڑوں کی سرگرمی اور آتش زیر پائی کی تعبیر ہے کہ وہ اس طرح دوڑتے ہیں کہ ان کی سموں کی ٹھوکر سے چنگاریاں جھڑتی ہیں۔ گھوڑوں کے چونکہ آہنی نعل ہوتے ہیں اس وجہ…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

2۔ 1 موریات، ایراء سے ہے آگ نکالنے والے۔ قدح کے معنی ہیں۔ صبک چلنے میں گھٹنوں یا ایڑیوں کا ٹکرانا، یا ٹاپ مارنا۔ اسی سے قدح بالزناد ہے۔ چقماق سے آگ نکالنا۔ یعنی گھوڑوں کی قسم جن کی ٹاپوں کی رگڑ سے پتھروں سے آگ نکلتی ہے جیسے چقماق سے نکلتی ہے (جو کہ ایک قسم کا پتھر ہے)

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 1–5

اللہ تعالیٰ یہاں سواروں کے دستے کی قسم اٹھاتے ہیں۔ ان کی ایک ایک جنگی حرکت کو ترتیب کے ساتھ لایا جاتا ہے۔ جب یہ دستہ اپنے حملے کا آغاز کرتا ہے اور تیز رفتاری کے ساتھ منزل کی طرف بڑھتا ہے۔ گھوڑے پھنکارمارتے آگے جارہے ہیں۔ یہ اپنے سموں سے پتھروں سے چنگاڑیاں نکالتے جاتے ہیں۔ پھر عین صبح کے وقت یہ دشمن پر ٹوٹ پڑتے ہیں ، یہ حملہ نہایت سرعت کے ساتھ ہوتا ہے اور اچانک ہوتا ہے۔ حملہ کے وقت گھوڑوں کی بھگدڑ سے غبار اڑتا ہے۔ کیونکہ دشمن حملے کے لئے تیار نہیں ہوتا اور اس کی حرکات غیر مرتب ہیں ، جب یہ دستہ دشمن کی صفوں میں خلاف توقع جاگھستا ہے تو سخت انتشار و اضطراب برپا ہوجاتا ہے۔ یہ کسی بھی حملہ کے وہ پے…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 1–2

آیت 2{ فَالْمُوْرِیٰتِ قَدْحًا۔ } ”پھر وہ ُ سم مار کر چنگاریاں نکالتے ہیں۔“ جب سرپٹ دوڑتے ہوئے گھوڑوں کے سم کسی پتھر وغیرہ سے ٹکراتے ہیں تو ان سے چنگاریاں نکلتی دکھائی دیتی ہیں۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

2 اس آیت میں گھوڑوں کے رات کو دوڑنے کا مفہوم از خود شامل ہے کیونکہ ان کے سموں کی پتھروں پر ضرب سے جو چنگاریاں نکلتی ہیں وہ زیادہ تر رات کو نظر آتی ہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 1–5

1۔ ان گھوڑوں سے مراد لڑائی کے گھوڑے ہیں، جن کے اوصاف سے اہل عرب خوب واقف تھے۔ (آیت) ” ضبحا “۔ گھوڑے عادۃ تیز دوڑ کے بعد ہانپنے لگتے ہیں، (آیت) ” فالموریت قدحا “۔ یعنی ان کی نعلوں سے پہاڑوں کے پتھر آگ دے اٹھتے ہیں، کنایہ کمال گرم رفتاری سے ہے (آیت) ” فالمغیرت صبحا “۔ عرب میں عام دستور صبح سویرے تاخت کرنے کا تھا۔ (آیت) ” فاثرن بہ نقعا “۔ کمال تیز رفتاری کے باعث ان کے قدموں سے غبار اڑتا ہے۔ (آیت) ” فوسطن بہ جمعا “۔ یعنی جماعت اعداء میں در آتے ہیں۔ بہ میں ب زائدہ تاکید کے لئے ہے۔ حضرات صوفیہ نے ان صفات سے اپنے مذاق کے مطابق اشارات معرفت خوب نکالے ہیں، مثلا ! کچھ ” اشغال حرکت نفس “ میں مشغول رہتے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 1–11

ترجمہ :۔ شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے، قسم ہے ان گھوڑوں کی جو جہاد میں پھنکارتے ہوئے (ہانپتے ہوئے) دوڑتے ہیں، ضبح جوف (پیٹ) کی اس آواز کو کہتے ہیں جو دوڑتے وقت نکلتی ہے، پھر ان گھوڑوں کی جو ٹاپوں سے چنگاریاں جھاڑتے ہیں پھر ان گھوڑوں کی جو صبح سویرے دشمن پر شب خون مارتے ہیں، اپنے سوار کے شب خوب مارنے سے پھر اس موقع پر یعنی اپنے دوڑنے کی جگہ یا اس وقت اپنی شدید حرکت کی وجہ سے غبار اڑاتے ہیں پھر اسی غبار میں دشمن کے مجمع میں گھس جاتے ہیں یعی ان کے وسط تک پہنچ جاتے ہیں اور فعل کا عطف اسم پر اس لئے درست ہے کہ اسم فعل کی تاویل میں ہے، یعنی معنی میں واللاتی عدون،…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

فالموریت قدحا . الموریٰت سے وہ گھوڑے مراد ہیں کہ جب رات کو پتھریلی زمین پر چلتے ہیں ‘ ان کی ٹاپیں پتھروں سے رگڑتی ہیں تو چنگاریاں نمودار ہوجاتی ہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 1–2

(1۔ 2) رسول اکرم صلی اللہ نے بنی کنانہ کی طرف ایک لشکر روانہ فرمایا آپ کے پاس اس کی خبر آنے میں تاخیر ہوئی جس سے آپ پریشان ہوئے تب اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کریم کو ان کی حالت سے بطور قسم کے آگاہ فرمایا کہ قسم ہے ان غازیوں کے گھوڑوں کی جو ہانپتے ہوئے دوڑتے ہیں پھر پتھر پر ٹاپ مار کر آگ جھاڑتے ہیں جیسا کہ پتھر کی آگ یہی اس سورة کا شان نزول ہے حضرت عبداللہ بن عباس سے بھی یہی مروی ہے۔ کہ ابی حباب کی آگ کی طرح اس سے بھی فائدہ نہیں ۃ وتا یہ عرب میں ایک بہت بخیل آدمی تھا جب لشکر میں ہوتا تو کھانے پکانے کے لیے آگ نہیں جلاتا تھا جب سب لشکر والے سوجاتے تب یہ آگ جلاتا اور پھر اگر کوئی درمیان میں اٹھ جاتا…

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

فالموریت قدحاً :‘”اوری یوری ابرائ““ (افعال) چقماق (پتھر) سے آگ نکالنا۔ ”قح یقدح قدحا“ (ف) آگ نکالنے کے لئے پتھر پر پتھر مارنا ہے، مراد سم مارنا ہے۔ تیز دوڑتے ہوئے ان کے سم پتھروں پر پڑتے ہیں تو ان میں سے چنگاریاں نکلتی ہیں۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

فالموریت قدحا۔ عکرمہ، عطا اور ضحاک نے کہا : اس سے مراد گھوڑے ہیں جو اپنے کھروں کے ساتھ آگ نکالتے ہیں ؛ یہ حضرت ابن عباس سے مروی ہے۔ ان سے یہ بھی مروی ہے : انہوں نے اپنے کھروں کے ساتھ غبار اڑایا۔ یہ قول ان اقوال کے خلاف ہے جن میں یہ ذکر ہے کہ وہ آگ نکالتے ہیں اور جو یہ کہا گیا ہے کہ وہ اونٹوں کے بارے میں ہے۔ ابن ابی نجیح نے مجاہد سے یہ قول نقل کیا ہے کہ حضرت ابن عباس نے کہا : یہ جہاد اور حج میں ہوتا ہے۔ حضرت ابن مسعود نے کہا : اس سے مراد اونٹ ہیں جو سنگریزوں کو روندتے ہیں اور اس سے آگ نکلتی ہے۔ قدح کا اصل معنی نکالنا ہے۔ اس معنی میں یہ جملہ بولا جاتا ہے : قدحت العین جب تو اس سے فاسد پانی…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 1–11

1۔ ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ سورة والعدیت مکہ میں نازل ہوئی۔ 2۔ محمد بن نصر نے عطا بن ابی رباح کے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اذا زلزلت الارض آدھے قرآن کے برابر ہے اور والعدیت آدھے قرآن کے برابر ہے۔ 3۔ محمد بن نصر نے عطا بن ابی رباح کے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اذا زلزت آدھے قرآن کے برابر ہے آیت والعدیت آدھے قرآن کے برابر ہے اور قل ہوا للہ احد تہائی قرآن کے برابر ہے اور قل یا ایہا الکفرون چوتھائی قرآن کے برابر ہے۔۔ 4۔ البزار وابن المنذر وابن ابی حاتم والدار قطنی فی الافراد وابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ رسول…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[فَالْمُوْرِيٰتِ : پھر قسم ہے رگڑ سے آگ نکالنے والوں کی ][ قَدْحًا : جیسا رگڑنے کا حق ہے ] ق د ح [قَدْحًا : (ف) دو چیزوں کو رگڑ کر آگ نکالنا، زیر مطالعہ آیت۔ 2 ۔] (آیت۔ 2) قَدْحًا مصدر ہے اور اس میں رگڑ کر آگ جلانے کا مفہوم ہے۔ جبکہ اَلْمُوْرِیٰتِ مادہ وری سے باب افعال میں اسم الفاعل ہے۔ اس میں بھی رگڑ کر آگ جلانے والے کا مفہوم ہے۔ یہ دونوں ہم معنی ہونے کی وجہ سے بہتر ہے کہ قَدْحاً کو مُوْرِیَات کا مفعول مطلق مانا جائے۔ (حافظ احمد یار صاحب) ۔ اَلْمُوْرِیٰتِ کو حالت نصب میں ماننے کی کوئی وجہ یا قرینہ یہاں موجود نہیں ہے۔ اس لیے اس کو پہلی آیت کے واو قسمیہ پر عطف مان کر حالت جَرّ میں مانا جائے…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 1–2

یہ سورة العادیات کا ترجمہ ہے اس میں گھوڑوں کی پانچ حالتوں کی قسم کھا کر انسان کا ناشکرا ہونا بتایا ہے۔ عادیات سے دوڑنے والے گھوڑے۔ ضبحا سے وہ گھوڑے مراد ہیں جو دوڑتے وقت ہانپتے ہیں یہ لفظ فعل محذوف تضح کا مفعول مطلق ہے، اور الموریات اور ی یوری سے اسم فاعل کا صیغہ ہے جس کا معنی آگ جلانے کا ہے اور قدحا اس کا مفعول ہے چقماق کو ایک دوسرے پر مار کر آگ لگانے کو قدح کہا جاتا ہے۔ دونوں آیتوں کا مطلب یہ ہوا کہ قسم ہے ان گھوڑوں کی جو دوڑتے ہوئے ہانپنے والے ہیں اور جو چلتے ہوئے آگ جلانے والے ہیں یعنی جس طرح چقماق سے آگ نکلتی ہے اسی طرح ان کے پاؤں مارنے سے آگ نکلتی ہے (خاص کر جن میں لوہے کے نعل لگے ہوئے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–11

سرگرمی بہائم در اطاعت مالک ونافرمانی وناشکری انسان بآقاء رب العالمین : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” والعدیت ضبحا ...... الی ........ ان ربھم بھم یومئذ لخبیر “۔ (ربط) گزشتہ سورت میں مجازات اعمال کا قانون بیان کیا گیا تھا اور یہ کہ انسان اپنی زندگی میں جو بھی نیکی یا بدی کا عمل کرے گا روز قیامت قیامت کا اس بدلہ پاکر رہے گا، اب اس سورت میں انسان کی غفلت و لاپرواہی اور اپنے رب کی ناشکری کی مذموم خصلت بیان کی جارہی ہے اور یہ کہ دراصل اس روش کا منشاء حرص مال، لالچ اور نفس کی خواہش ہے، اس کے پیچھے پڑکر انسان اپنے رب کو بھلا دیتا ہے اور اس سے غافل ہوجاتا ہے کہ مرنے کے بعد اس کو دوبارہ زندہ ہونا اور…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 1–7

2:۔ ” والعادیات ضبحا “ ہانپ ہانپ کر دوڑنے والے گھوڑے۔ ” فالموریات قدحا “ پتھریلی زمین پر دوڑتے وقت اپنے سموں سے چنگاریاں نکالنے والے۔ ” فالمغیرات صبحا “ پھر صبح صبح لوٹ مار کرنے والے۔ ” فاثرن بہ نقعا “ دوڑتے وقت گرد و غبار اڑاتے ہیں۔ ” فوسطن بہ جمعا “ پھر تیز رفتار کے ساتھ جماعتوں کے اندر گھس جاتے ہیں۔ ” ان الانسان لربہ لکنود “ یہ لوٹ مار کرنے والے گھوڑے اس پر شاہد ہیں کہ انسان اپنے پروردگار کا نہایت ہی ناشکر گذار ہے۔ قالہ الشیخ (رح) تعالی۔ عامۃ المفسرین کے نزدیک یہ صفتیں مجاہدین کے گھوڑوں کی ہیں اور بعض کے نزدیک ان صفات سے فرشتے مراد ہیں۔ ” وانہ علی ذلک لشہید “ مذکورہ شواہد کے علاوہ انسان…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 1–11

مکی زندگی میں نازل ہوئی ، تاہم حضرت عبداللہ بن عباس ، حضرت قتادہ اور امام مالک سے منقول ہے کہ یہ مدنی سورة ہے۔ اس کی گیارہ آیات ہیں۔ یہ سورة چالیس الفاظ اور ایک سو تریسٹھ حروف پر مشتمل ہے۔ گزشتہ سورة کے ساتھ ربط سابقہ سورة زلزال میں انسان کے جزائے عمل کا ذکر تھا کہ جزائے عمل کا واقع ہونا لازم ہے۔ اس سے پہلی سورة البینتہ میں اسلامی تعلیمات کا خلاصہ ہے ۔ انسان کو اللہ کی عبادت کرنی چاہئے اور حنیف بن کر رہنا چاہئے۔ بدنی اور مالی عبادات یعنی مال اور زکواۃ پر کاربند ہونا چاہئے۔ خدا کا خوف ہر وقت دل میں جاگزیں ہونا چاہئے۔ اس سورة مبارکہ میں ان بیماریوں کا ذکر ہے جو کہ مذکورہ بالا پروگرم پر عمل…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

فَالْمُوْرِيٰتِ قَدْحًا۝ 2 ۙ موریات : جمع المورية مؤنّث الموري، اسم فاعل من أوری النار إذا أقدح الحجارة لإخراج النار منها، وزنه مفعل بضمّ المیم وکسر العین موریت اسم فاعل جمع مؤنث۔ موریۃ واحد۔ ایراء ( افعال) مصدر۔ آگ روشن کرنے والے ( کرنے والیاں) مراد وہ گھوڑے جو پتھریلی زمین پر چلتے ہیں تو ان کے سموں کی آگ کی چنگاریاں نکلتی ہیں۔ ریۃ وہ چیز جس سے آگ جلائی جاتی ہے۔ ایرائ۔ لکڑی، پتھر وغیرہ کو رگڑ کر آگ نکالنا ( قدحا) مصدر سماعيّ للثلاثيّ قدح الحجارة ببعضها باب فتح إذا صكّها لإخراج النار، وزنه فعل بفتح فسکون . قدحا : مصدر ہے ( باب نصر) سے چقماق کو مرا کر آگ نکالنا۔ پتھر پر پتھر مار کر یا لوہے کو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 1–11

ترکیب ¦ وللقسم العادیات جمع عادیۃ من العدود ھوالمشی بسرعۃٍ فقلبت الواؤ یائً لکسرۃ ما قبلھا کا لغازیات من الغزو۔ والمراد بھا الخیل الجھادیۃ دقیل بعیر الحجاج ضبحا الضبح صوت اجواف الخیل اذا عدت وقیل السیر و نوع من العد و یقال ضبح الفرس اذا عد ابشدۃ من الضبح بمعنی الدفع وکان الحاء بدل من العین علی الاول منصوب علی الحال ای ضابحات وعلی الثانی مفعول مطلق موکد لاسم الفاعل و یجوزان یکون مصدر الفعل محدوف ای یضیح ضبحا۔ فالمو ریات قدحًا عطف العادیات من الایراء و ھوا اخراج النار جمع موریۃ والقدح الصک فجعل ضرب الخیل بحوا فرھا کالقدح بالزنا دوالکلام فی نصب قدحا کا لکالم ضبحا فالمغیرات ای التی تغیر علی العدو…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 1–5

وَالْعٰدِیٰتِ ضَبْحًا۔ فَالْمُوْرِیٰتِ قَدْحًا۔ فَالْمُغِیْرٰتِ صُبْحًا۔ فَاَثَرْنَ بِہٖ نَقْعًا۔ فَوَسَطْنَ بِہٖ جَمْعًا۔ (العٰدیٰت : 1 تا 5) (قسم ہے تیز دوڑنے والے گھوڑوں کی، جب وہ سینہ سے آواز نکالتے ہیں۔ پھر ٹاپوں کی ٹھوکر سے چنگاریاں نکالتے ہیں۔ پھر اچانک صبح کے وقت حملہ کرتے ہیں۔ پھر اس موقع پر گردوغبار اڑاتے ہیں۔ پھر اسی حالت میں دشمن کے لشکر میں جا گھستے ہیں۔ ) پانچ قسموں کا مفہوم آیات میں صفات کا ذکر کیا گیا ہے، موصوف کا نہیں۔ یعنی یہ بات واضح نہیں کی گئی کہ یہ صفات کن کی ہے۔ گھوڑوں کی ہیں یا اونٹوں کی۔ اس لیے مفسرین کے درمیان اختلاف ہوا ہے کہ ان صفات کے موصوف کون ہیں۔ صحابہ اور…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 1–5

فہم القرآن ربط سورت : سورة زلزال کا اختتام اس بات پر ہوا ہے کہ جس نے نیکی کی وہ اپنی نیکی کو دیکھ لے گا اور جس نے برائی کی وہ بھی اپنی برائی کو اپنے سامنے پائے گا۔ العادیات کا مرکزی مضمون یہ ہے کہ قیامت کے دن ہر انسان کو قبر سے اٹھایا جائے گا اور جو کچھ اس نے کیا ہے اس کے سامنے رکھ دیا جائے گا۔ اللہ تعالیٰ نے اس سورة مبارکہ کی ابتدا میں پانچ قسمیں اٹھائی ہیں جو جنگ کے دوران گھوڑوں کی مختلف حالتوں سے متعلق ہیں۔ ارشاد ہوا کہ قسم ہے ان گھوڑوں کی جو تیز دوڑتے ہوئے ہانپتے ہیں پھر اپنی ٹاپوں سے چنگاریاں نکالتے ہیں پھر صبح کے وقت دشمن پر دھاوابولتے ہیں اور گردوغبار اڑاتے ہوئے دشمن کے لشکر میں گھس…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

پیروں کی ٹاپ سے آگ نکالنے والے گھوڑے : 2 : فَالْمُوْرِیٰتِ قَدْحًا (پھرٹاپ مار کر آگ جھاڑتے ہیں) وہ ہلکی سی آگ نکالتے ہیں۔ اس سے مراد وہ چنگاری ہے جو ان کی ٹاپ سے پیدا ہوتی ہے۔ قدحًاؔ : چنگاری نکالنے والے اپنے کھروں کو پتھروں سے رگڑ کر ٹکرا کر۔ القدحؔ : رگڑنا۔ الایراءؔ: آگ نکالنا۔ تم کہو گے۔ قدح فأوری وقدح فأصلد۔ چقماق کو مارا اور رگڑا گیا پس آگ جل گئی اور چقماق رگڑا گیا۔ مگر آگ نہ نکلی۔ نحو : قدحًا یہ ضبحًا کی طرح فعل محذوف سے منصوب ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

2 ۔” فالموریات قدحا “ عکرمہ، عطائ، ضحاک، مقاتل اور کلبی رحمہم اللہ فرماتے ہیں وہ گھوڑے جو اپنے کھروں میں آگ چھپاتے ہیں جب پتھروں میں چلتے ہیں یعنی آگ سلگانے والے اپنے ٹاپوں کے ذریعے آگ سلگاتے ہیں اور قتادہ (رح) فرماتے ہیں یہ گھوڑے ہیں جو لڑائی اور دشمنی کی آگ اپنے شہسواروں میں بھڑکاتے ہیں۔ سعید بن جبیر (رح) نے ابن عباس ؓ سے نقل کیا ہے یہ گھوڑے ہیں جو اللہ کے راستے میں جہاد کرتے ہیں، پھر رات کو آرام کرتے ہیں۔ پس وہ اپنی آگ روشن کرتے اور کھانا پکاتے ہیں اور مجاہد اور زید بن اسلم (رح) فرماتے ہیں وہ مردوں کا مکر ہے یعنی جنگجو مردوں کا اور جب کوئی شخص اپنے ساتھی کے ساتھ مکر کا ارادہ کرے تو عرب…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 1–11

1۔ 11۔ اللہ تعالیٰ کا دین پھیلانے کے لئے جو لوگ گھوڑوں پر سوار ہو کر مخالف لوگوں پر حملہ کرتے تھے ان کے گھوڑوں کے دوڑنے اور دوڑنے میں ہانپنے اور پتھر پر دوڑتے وقت ان کے نعلوں میں سے آگ کے شعلے جھڑنے اور صبح کے وقت حملہ کرنے اور حملہ کے وقت گرد و غبار اٹھنے اور اس گرد و غبار میں سواروں کے دشمنوں میں گھس جانے کی ان سب باتوں کی اللہ تعالیٰ نے قسم کھا کر فرمایا کہ انسان کی حالت اس بات کی گواہی دیتی ہے کہ وہ بڑا ناشکرا ہے کیونکہ اللہ نے اس کو پیدا کیا۔ اس کی زیست بھر کے سب طرح کے آرام کا بندوست کیا۔ پھر یہ انسان اللہ کو چھوڑ کر اوروں کو اپنا معبود ٹھہراتا ہے اس سے بڑھ کر اور کون سی حالت ناشکری کی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

(فَالْمُوْرِيٰتِ قَدْحًا) پھر آگ جھاڑنے والوں کی اپنے سموں سے پتھروں پر ٹاپ مار کر۔ یعنی جب وہ گھوڑے دوڑتے ہیں تو ان کے سموں کی سختی اور ان کی قوت کی وجہ سے آگ نکلتی ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

(2) " موریت " کا معنی و مطلب : سو ارشاد فرمایا گیا پھر جو چنگاریاں جھاڑتے ہیں ٹاپ مار کر " موریات " بنا ہے ایرا سے، جس کے معنی آگ نکالنے کے ہیں، جیسا چقماق کو مار کر یا دیا سلائی کو رگڑ کر آگ نکالی جاتی ہے اور قدح کے معنی ٹاپ مارنے کے آتے ہیں، سو یہ اس کیفیت اور منظر کا بیان ہے کہ جب گھوڑے تیز دوڑتے ہیں، اور ان کے سموں میں لگے ہوئے نعل پتھریلی زمین اور پتھروں سے ٹکراتے ہیں تو ان سے آگ کی چنگاریاں نکل نکل کر اڑتی ہیں اور یہ عموما رات کیو قت ہی ہوتا ہے کیونکہ رات کے اندھیرے میں ہی ان کی ٹاپوں سے جھڑنے والے والے شرارے واضح نظر آتے ہیں، سو اس سے گھوڑوں کی انسان کی فرمانبرداری اور اطاعت شعاری کو…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 1–11

گھوڑے کی وفاداری سے بندہ سبق سیکھے تشریح : یہ سورت پوری کی پوری انسان کو راہ ہدایت دکھانے، آخرت، حساب کتاب اور اس سچی خبر کی تصدیق میں ہی نازل کی گئی ہے کہ دنیا کے عیش و آرام مال و دولت میں اس قدر مگن نہ ہوجاؤ کہ اپنے پیدا کرنے والے ' پرورش کرنے والے اور پھر اپنے آخری ٹھکانے سے ہی غافل ہوجاؤ۔ اس سچائیـ کو مزید تقویت دینے کے لیے اللہ تعالیٰ اس وفادار ' مضبوط اور انتہائی فرمانبردار پر خلوص جانور کی قسم کھا رہا ہے جو کہ تمام مفسرین کی رائے کے مطابق گھوڑا ہی ہوسکتا ہے۔ کیونکہ تمام جانوروں میں سب سے زیادہ انسان کے کام آنے والا خاص طور سے جنگوں میں ' سفر میں اور بار برداری میں گھوڑا ہی ہے۔ یہ بڑا…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–11

سورة العادیات۔ آیات 1 تا 11 اسرار ومعارف۔ قسم ہے جہاد میں دوڑنے والے گھوڑوں کی انکی مشقت کی ان کے نعلوں سے چنگاریاں نکلتی ہیں اور جب وہ علی الصبح کسی پر ٹوٹ پڑتے ہیں اور پھر جب ہر طرف گرد اڑتی ہے اور دشمنوں کی فوج میں گھس پڑتے ہیں یعنی جہاد کا یہ سارامنظر اس بات پہ گواہ ہے انسان اپنے پروردگار کا سخت ناشکرا ہے کہ جو بات یعنی نظام اسلام اس کی بھلائی کے لیے تھا اس کے لیے روکاوٹ بن گیا اور اس کے نفاذ کے لیے جہاد کی ضرورت پیش آئی اللہ کو وہ جانور بھی پیارے ہیں جو اس کی راہ میں جہاد میں کام آئیں اور یہ انسان ہو کر اور خوب جانتے ہوئے کہ اسلام ہی سلامتی ہے اور یہ حق ہے پھر بھی اس کی مخالفت پہ کمربستہ…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 2–3

ف 8 عربوں کی عادت تھی کہ دشمن پر صبح کے وقت اچانک چھاپا مارتے جبکہ اس کے عام لوگ غفلت کی گہری نیند سو رہے ہوں۔ اس آیت میں صبح کے وقت اچانک چھاپا مارنے والے گھوڑوں کی قسم کھائی گئی۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(100:2) فالموریت قدحا۔ اس کا عطف آیت نمبر 1 پر ہے۔ موریت اسم فاعل جمع مؤنث۔ موریۃ واحد۔ ایراء (افعال) مصدر۔ آگ روشن کرنے والے (کرنے والیاں) مراد وہ گھوڑے جو پتھریلی زمین پر چلتے ہیں تو ان کے سموں کی آگ کی چنگاریاں نکلتی ہیں۔ ریۃ وہ چیز جس سے آگ جلائی جاتی ہے۔ ایرائ۔ لکڑی، پتھر وغیرہ کو رگڑ کر آگ نکالنا۔ قدحا : مصدر ہے (باب نصر) سے چقماق کو مرا کر آگ نکالنا۔ پتھر پر پتھر مار کر یا لوہے کو مار کر آگ نکالنا۔ یہاں مراد ہے گھوڑے (یا گھوڑیوں) کا نعل وار ٹاپوں کو پتھریلی زمین پر مار کر آگ نکالنا ۔ مطلب پھر قسم ہے ان گھوڑوں یا گھوڑیوں کی جن کے نعل جب رات کے وقت تیزی سے چلتے ہیں پتھروں پر کھٹا کھٹ…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–11

العدیت۔ دوڑنے والے گھوڑے۔ ضبح۔ ہانپتے ہوئے۔ الموریت۔ چنگاریاں نکالنے والے۔ قدح۔ آگ جھاڑ کر۔ المغیرات۔ وہ حملہ کرنے والے ہیں۔ اثرن۔ اٹھاتے ہیں۔ نقع۔ گردوغبار۔ وسطن۔ وہ بیچ میں گھس جاتے ہیں۔ کنود ۔ ناشکرا۔ شہید۔ گواہ۔ الخیر۔ مال و دولت۔ بعثر۔ باہر نکالا گیا۔ حصل۔ حاصل کیا گیا۔ تشریح : انسان کیچ اروں طرف اللہ نے اتنی نعمتوں کو بکھیر رکھا ہے جنہیں شمار کرنا بھی ممکن نہیں ہے۔ یہ نعمتیں انسان سے اس بات کا مطالبہ کرتی نظر آتی ہیں کہ اسے ہر سانس میں اللہ کا شکر ادا کرنا چاہیے۔ اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت میں زندگی گزارنی چاہیے۔ اسے وہی کرنا چاہیے جس کے کرنے کا اس کو حکم دیا گیا ہے اور ہر اس بات سے…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 1–11

جہاد کی اہمیت وفضیلت۔ (ف 1) اللہ تعالیٰ کا دین پھیلانے کے لیے جو لوگ گھوڑوں پر سوار ہوکر مخالف لوگوں پر حملہ کرتے ہیں ان کے گھوڑوں کے دوڑنے اور دوڑنے میں ہانپنے اور پتھر پر دوڑتے وقت ان کے نعلوں میں سے آگ کے شعلے جھڑنے اور صبح کے وقت حملہ کرنے اور حملہ کے وقت گردوغبار اٹھنے اور اس گردوغبار میں سواروں کے دشمنوں میں گھس جانے کی (حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں یہ جہاد والے سواروں کی ایک قسم ہے اس سے بڑا کون ساعمل ہوگا، کہ اللہ کے کام پر اپنی جان دینے کو حاضر ہیں اور یہ جہاد کرنے والے سواروں کی اللہ کی راہ میں سرفروشی وجانبازی بتلاتی ہے کہ وفادار وشکرگذار بندے ایسے ہوتے ہیں) ان سب باتوں کی اللہ تعالیٰ…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 1–2

[1] گھوڑوں کے سموں پر کیونکہ آہنی نعل لگے ہوتے ہیں اس وجہ سے جب وہ پتھریلی زمین پر دوڑتے ہیں تو ان کے سموں کی ضرب سے چقماق کی طرح چنگاریاں نکلتی ہیں۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(2) پھر ان گھوڑوں کی قسم جو پتھر پر ٹاپ مار کر آگ جھاڑتے ہیں۔ یعنی دوڑنے میں گھوڑے کے نعلوں سے جو پتھر ٹکاتے ہیں ان سے آگ جھڑتی ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

پھر قسم ہے ان گھوڑوں کے رب کی جن کی ٹاپ سے آگ نکلنے لگتی ہے 2 ؎ ( الموریت ) اسم فاعل جمع مؤنثالموریہ واحد ایراء مصدر آگ روشن کرنے والے ۔ مراد اس سے وہ گھوڑے ہیں جو پتھریلی زمین پر دوڑتے ہیں تو ان کے سموں کی رگڑ سے آگ کی چنگاریاں نکلتی ہیں۔ ( عکرمہ ، عطاء ، ضحاک ، مقاتل ، کلبی) بھڑک کر میدان کار زار کی طرف جانے والے گھوڑے جن کے سواروں کے دلوں میں عداوت کی آگ بھڑکتی ہے۔ (قتادہ) سواروں کا وہ راستہ جو دن بھر جہاد کرنے کے بعد شام کو واپس آکرکھانے پکانے کے لیے آگ جلاتا ہے۔ ( ابن عباس ؓ جنگی دائو لگانے والے فوجی اور سپاہی۔ ( مجاہد ، زید بن اسلم) اور بھی اس میں بہت کچھ کہا گیا ہے لیکن قول اول ہی کو…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 2–7

Verse [ 100:5] فَوَسَطْنَ بِهِ جَمْعًا (then enter, at the same time, into the centre of the [ opposing ] host) In other words, they penetrate into the centre of the enemy forces without the least degree of fear. The word kanud, (100:6) according to Hasan Basri (رح) ، refers to the one who counts the calamities that befall him, and forgets Allah's favours. Abu Bakr Wasiti said that kanud is the one who spends the bounties of Allah for sinful purposes. Tirmidhi said that kanud is the one who looks at the bounty, and not at the Bounteous Lord. In short, all these interpretations lead to the…

Read the full tafseer →