فَالْمُغِیْرٰتِ صُبْحًا ۟ۙفَالۡمُغِيۡرٰتِ صُبۡحًا
پھر صبح کو چھاپہ مارتے ہیں
— Fateh Muhammad Jalandhari
And the chargers at dawn,
— Saheeh International
Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 25 of juz
فَالْمُغِیْرٰتِ صُبْحًا ۟ۙفَالۡمُغِيۡرٰتِ صُبۡحًا
پھر صبح کو چھاپہ مارتے ہیں
— Fateh Muhammad Jalandhari
And the chargers at dawn,
— Saheeh International
Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 25 of juz
Read the whole surah · Surah Al-Aadiyaat
پھر صبح سویرے چھاپہ مارتے ہیں
پھر صبح کو چھاپہ مارتے ہیں
پھر صبح کے وقت دھاوا بولنے والوں کی قسم
پھر صبح کے وقت یلغار کرتے ہیں۔
پھر صبح ہوتے تاراج کرتے ہیں
پھر جو صبح ہوتے ہی (دشمن پر) اچانک حملہ کر ڈالتے ہیں،
پھر جو صبح کے وقت حملہ کرنے والے ہیں !
پھر ان کی جو صبح دم چھاپہ مارتے ہیں
چنگاریاں نکالنے والے صبح کے وقت دھاوا کرنے والے
پھر وہ تاخت و تاراج کرتے ہیں صبح کے وقت
پھر صبح کے وقت تاخت و تاراج کرتے ہیں
پھر وہ علی الصبح غارت گری کرتے ہیں۔
پھر صبح کو چھاپہ مارتے ہیں
then raid by the dawn,
then those that invade at morning,
then those that invade at morning,
And scouring to the raid at dawn.
And scouring to the raid at dawn,
— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran
And the chargers at dawn,
while running during a raid at dawn,
Then those that make raids at morn,
And raiding at dawn
And push home the charge in the morning,
— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary
Explained with ayahs 1–11
انسان کا نفسیاتی تجزیہ : مجاہدین کے گھوڑے جبکہ اللہ کی راہ میں جہاد کے لیے ہانپتے اور ہنہاتے ہوئے دوڑتے ہیں ان کی اللہ تبارک و تعالیٰ قسم کھاتا ہے پھر اس تیزی میں دوڑتے ہوئے پتھروں کے ساتھ ان کے نعل کا ٹکرانا اور اس رگڑ سے آگ کی چنگاڑیاں اڑنا پھر صبح کے وقت دشمن پر ان کا چھاپہ مارنا اور دشمنان رب کو تہہ وبالا کرنا آنحضرت ﷺ کی یہی عادت مبارک تھی کہ دشمن کی کسی بستی پر آپ جاتے تو وہاں رات کو ٹھہر کر کام لگا کر سنتے اگر اذان کی آواز آگئی تو آپ رک جاتے نہ آتی تو لشکر کو حکم دیتے کہ بزن بول دیں پھر ان گھوڑوں کا گردو غبار اڑانا اور ان سب کا دشمنوں کے درمیان گھس جانا ان سب چیزوں کی قسم کھا کر پھر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–5
سورة العدیات 3 اہل عرب کا قاعدہ تھا کہ جب کسی بستی پر انہیں چھاپہ مارنا ہوتا تو رات کے اندھیرے میں چل کر جاتے تاکہ دشمن خبردار نہ ہوسکے، اور صبح سویرے اچانک اس پر ٹوٹ پڑتے تھے تاکہ صبح کی روشنی میں ہر چیز نظر آسکے، اور دن اتنا زیادہ روشن بھی نہ ہو کہ دشمن دور سے ان کو آتا دیکھ لے اور مقابلہ کے لیے تیار ہوجائے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–7
فوسطن بہ جمعاً ، یعنی یہ دشمن کی صفوں میں بےخوف گھس جاتے ہیں۔ کنود کے معنی میں حضرت حسن بصریٰ نے فرمایا کہ وہ شخص جو مصائب کو یاد رکھے اور نعمتوں کو بھول جائے اس کو کنود کہا جاتا ہے۔ ابو بکر واسطی نے فرمایا جو اللہ کی نعمتوں کو اس کی معصیتوں میں صرف کرے وہ کنود ہے۔ اور ترمذی نے فرمایا کہ جو شخص نعمت کو دیکھے اور منعم یعنی نعمت دینے والے کو نہ دیکھے وہ کنود ہے۔ ان سب اقوال کا حاصل نعمت کی ناشکری کرنا ہے۔ اس لئے کنود کا ترجمہ ناشکر کا کیا گیا ہے۔
Read the full tafseer →یہ وہ اصل مقصد بیان ہوا ہے جس کے لیے وہ یہ جان بازی کرتے ہیں یعنی وہ دشمنوں اور حریفوں پر شب خون مارتے ہیں۔ عرب میں حریفوں پر غارت گری کا سب سے موزوں وقت صبح ہی کا سمجھا جاتا تھا اس وجہ سے یہاں ’صُبْحًا‘ کی قید لگی ہوئی ہے۔ ان کے ہاں غارت گری کے الارم کے طور پر ’وَاصَبَاحًا‘ کا جو نعرہ تھا اس میں بھی صبح کا حوالہ اسی پہلو سے ہے، یہاں تک کہ لفظ ’صَبَّح‘ عربی میں حملہ اور غارت گری کے لیے ایک معروف لفظ بن گیا۔
Read the full tafseer →3۔ 1 مغیرات، أغار یعیر سے ہے، شب خون مارنے یا دھاوا بولنے والے۔ صبحا صبح کے وقت، عرب میں عام طور پر حملہ اسی وقت کیا جاتا تھا، شب خون تو مارتے ہیں، جو فوجی گھوڑوں پر سوار ہوتے ہیں، لیکن اس کی نسبت گھوڑوں کی طرف اسلئے کی ہے کہ دھاوا بولنے میں فوجیوں کے یہ بہت زیادہ کام آتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–5
اللہ تعالیٰ یہاں سواروں کے دستے کی قسم اٹھاتے ہیں۔ ان کی ایک ایک جنگی حرکت کو ترتیب کے ساتھ لایا جاتا ہے۔ جب یہ دستہ اپنے حملے کا آغاز کرتا ہے اور تیز رفتاری کے ساتھ منزل کی طرف بڑھتا ہے۔ گھوڑے پھنکارمارتے آگے جارہے ہیں۔ یہ اپنے سموں سے پتھروں سے چنگاڑیاں نکالتے جاتے ہیں۔ پھر عین صبح کے وقت یہ دشمن پر ٹوٹ پڑتے ہیں ، یہ حملہ نہایت سرعت کے ساتھ ہوتا ہے اور اچانک ہوتا ہے۔ حملہ کے وقت گھوڑوں کی بھگدڑ سے غبار اڑتا ہے۔ کیونکہ دشمن حملے کے لئے تیار نہیں ہوتا اور اس کی حرکات غیر مرتب ہیں ، جب یہ دستہ دشمن کی صفوں میں خلاف توقع جاگھستا ہے تو سخت انتشار و اضطراب برپا ہوجاتا ہے۔ یہ کسی بھی حملہ کے وہ پے…
Read the full tafseer →2 عرب میں اکثر عادت صبح کے وقت تاخت کرنے کی تھی تاکہ رات کے وقت جانے میں دشمن کو خبر نہ ہو صبح کو دفعتاً جا پڑیں اور رات کو حملہ نہ کرنے میں اظہار شجاعت سمجھتے تھے۔
Read the full tafseer →آیت 3{ فَالْمُغِیْرٰتِ صُبْحًا۔ } ”پھر وہ علی الصبح غارت گری کرتے ہیں۔“ اس آیت میں گھوڑوں کی خصوصی صفات کے ساتھ ساتھ زمانہ جاہلیت کے عرب تمدن کی جھلک بھی دکھائی دیتی ہے۔ اہل عرب جب لوٹ مار یا قتل و غارت کے لیے کسی قبیلے پر حملے کی منصوبہ بندی کرتے تو اس کے لیے علی الصبح منہ اندھیرے کے اوقات small hours of the morning کا انتخاب کرتے تھے۔ اس قسم کی غارت گری کے لیے رات کا پچھلا پہر اس لیے موزوں سمجھا جاتا تھا کہ اس وقت ہر کوئی بڑی سکون کی نیند سو رہا ہوتا ہے۔ حتیٰ کہ اگر کوئی مریض تکلیف کی وجہ سے ساری رات سو نہ سکے تو رات کے پچھلے پہر اسے بھی نیند آجاتی ہے۔
Read the full tafseer →3 اہل عرب ہر وقت قبائلی لڑائیوں اور لوٹ مار میں مشغول رہتے تھے۔ ان کی عادت یہ تھی کہ حملہ کے لیے رات کے وقت سفر کرتے تاکہ دشمن کو حملہ کی خبر نہ ہوسکے۔ رات کو وہ شب خون مارنا اپنی کسر شان اور اپنی شجاعت کے خلاف سمجھتے تھے۔ رات کو سفر کرنے کے بعد صبح دم حملہ کردینے میں انہیں تین فائدے حاصل ہوتے تھے۔ ایک یہ کہ دشمن کو سنبھلنے کا موقع نہیں ملتا تھا۔ دوسرے اس وقت انہیں ہر چیز واضح طور پر نظر آنے لگتی تھی۔ تیسرے شب خون مارنے کی بدنامی سے بھی بچ جاتے تھے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–5
1۔ ان گھوڑوں سے مراد لڑائی کے گھوڑے ہیں، جن کے اوصاف سے اہل عرب خوب واقف تھے۔ (آیت) ” ضبحا “۔ گھوڑے عادۃ تیز دوڑ کے بعد ہانپنے لگتے ہیں، (آیت) ” فالموریت قدحا “۔ یعنی ان کی نعلوں سے پہاڑوں کے پتھر آگ دے اٹھتے ہیں، کنایہ کمال گرم رفتاری سے ہے (آیت) ” فالمغیرت صبحا “۔ عرب میں عام دستور صبح سویرے تاخت کرنے کا تھا۔ (آیت) ” فاثرن بہ نقعا “۔ کمال تیز رفتاری کے باعث ان کے قدموں سے غبار اڑتا ہے۔ (آیت) ” فوسطن بہ جمعا “۔ یعنی جماعت اعداء میں در آتے ہیں۔ بہ میں ب زائدہ تاکید کے لئے ہے۔ حضرات صوفیہ نے ان صفات سے اپنے مذاق کے مطابق اشارات معرفت خوب نکالے ہیں، مثلا ! کچھ ” اشغال حرکت نفس “ میں مشغول رہتے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–11
ترجمہ :۔ شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے، قسم ہے ان گھوڑوں کی جو جہاد میں پھنکارتے ہوئے (ہانپتے ہوئے) دوڑتے ہیں، ضبح جوف (پیٹ) کی اس آواز کو کہتے ہیں جو دوڑتے وقت نکلتی ہے، پھر ان گھوڑوں کی جو ٹاپوں سے چنگاریاں جھاڑتے ہیں پھر ان گھوڑوں کی جو صبح سویرے دشمن پر شب خون مارتے ہیں، اپنے سوار کے شب خوب مارنے سے پھر اس موقع پر یعنی اپنے دوڑنے کی جگہ یا اس وقت اپنی شدید حرکت کی وجہ سے غبار اڑاتے ہیں پھر اسی غبار میں دشمن کے مجمع میں گھس جاتے ہیں یعی ان کے وسط تک پہنچ جاتے ہیں اور فعل کا عطف اسم پر اس لئے درست ہے کہ اسم فعل کی تاویل میں ہے، یعنی معنی میں واللاتی عدون،…
Read the full tafseer →فالمغیرات صبحا . الاغارۃ : رفتار کی تیزی۔ المغیرات سے مراد ہیں وہ گھوڑے جو اپنے سواروں کو لے کر صبح کے وقت دشمن پر حملہ کرتے ہیں (دشمنوں پر چھاپہ مارتے ہیں) اکثر مفسرین کا یہی قول ہے ‘ قرظی کے نزدیک المغیرات سے مراد وہ اونٹ ہیں جو اپنے سواروں کو لے کر قربانی کے دن صبح کے وقت جمع (یعنی مزدلفہ) سے منیٰ کو روانہ ہوتے ہیں ‘ صبح سے قبل جمع سے روانہ نہ ہونا سنت بلکہ واجب ہے البتہ رسول اللہ ﷺ نے عورتوں اور ضعیف مردوں کو شب نحر کی فجر نکلنے کے بعد ہی روانہ ہونے کی اجازت دی تھی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–8
(3۔ 8) پھر صبح کو اچانک حملہ کرتے ہیں پھر اس وقت غبار اڑاتے ہیں اور دشمنوں کی جماعتوں میں جا گھستے ہیں یا یہ مطلب ہے کہ قسم ہے حاجیوں کے گھوروں اور ان کے اونٹوں کی جب وہ عرفات سے مزدلفہ کو آتے ہیں حالاں کہ ان کا سانس پھولا ہوا ہوتا ہے اور پھر وہاں آ کر آگ روشن کرتے ہیں اور علی الصباح پھر منی واپس جاتے ہیں آگے جواب قسم ہے کہ کافر آدمی یعنی قرط بن عبداللہ یا ابو حباب اپنے پروردگار کی نعمتوں کا بڑٓ ناشکر گزار ہے اور اس کو خود بھی اپنے اس فعل کی خبر ہے اور یہ شخص مال کثیر کی محبت میں مضبوط ہے۔
Read the full tafseer →(فالمغیرت صبحاً :”فالمغیرت“”آغار بغیر اغارۃ“ (افعال) سے اسم فاعل ”مغیرۃ“ کی جمع ہے، ٹوٹنے کے لئے حملہ کرنے والے۔
Read the full tafseer →پھر اچانک حملہ کرتے ہیں صبح کے وقت۔ گھوڑے صبح کے وقت دشمن پر حملہ کرتے ہیں۔ حضرت ابن عباس اور اکثر مفسرین کی رائے یہ ہے : جب وہ حملہ کا ارادہ کرتے تو رات کو چلتے اور صبح تک دشمن کے پاس پہنچ جاتے کیونکہ وہ وقت لوگوں کی غفلت کا ہوتا ہے اس معنی میں فساء صباح المنذرین۔ (الصافات) جن کو ڈرایا جاتا ہے ان کی صبح بہت ہی بری ہوتی ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا : غالب ہونے کی وجہ سے انہوں نے دن کے وقت حملہ کیا، اس صورت میں صبحا کا معنی علانیہ ہوگا۔ اسے صبح کے ظہور کے ساتھ شبیہ دی۔ حضرت ابن مسعود اور حضرت علی شیر خدا نے کہا : اس سے مراد اونٹ ہیں جو اپنے سواروں کو یوم نحر کے دن مزدلفہ سے منی لے جاتے ہیں، سنت یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–11
1۔ ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ سورة والعدیت مکہ میں نازل ہوئی۔ 2۔ محمد بن نصر نے عطا بن ابی رباح کے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اذا زلزلت الارض آدھے قرآن کے برابر ہے اور والعدیت آدھے قرآن کے برابر ہے۔ 3۔ محمد بن نصر نے عطا بن ابی رباح کے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اذا زلزت آدھے قرآن کے برابر ہے آیت والعدیت آدھے قرآن کے برابر ہے اور قل ہوا للہ احد تہائی قرآن کے برابر ہے اور قل یا ایہا الکفرون چوتھائی قرآن کے برابر ہے۔۔ 4۔ البزار وابن المنذر وابن ابی حاتم والدار قطنی فی الافراد وابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ رسول…
Read the full tafseer →[فَالْمُغِيْرٰتِ صُبْحًا : پھر قسم ہے صبح کے وقت غارتگری کرنے والوں کی ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–4
﴿ فَالْمُغِيْرٰتِ صُبْحًاۙ003 فَاَثَرْنَ بِهٖ نَقْعًاۙ004﴾ (پھر یہ گھوڑے صبح صبح غارت گری ڈالنے والے ہیں پھر اپنے کھروں سے غبار اڑانے والے ہیں۔ اثرن اثار یثیر سے ماضی معروف جمع مونث کا صیغہ ہے اور نقعا اس کا مفعول ہے مطلب یہ ہے کہ گھوڑے دوڑتے ہوئے جاتے ہیں تو ان کے پاؤں سے غبار اڑتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–11
سرگرمی بہائم در اطاعت مالک ونافرمانی وناشکری انسان بآقاء رب العالمین : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” والعدیت ضبحا ...... الی ........ ان ربھم بھم یومئذ لخبیر “۔ (ربط) گزشتہ سورت میں مجازات اعمال کا قانون بیان کیا گیا تھا اور یہ کہ انسان اپنی زندگی میں جو بھی نیکی یا بدی کا عمل کرے گا روز قیامت قیامت کا اس بدلہ پاکر رہے گا، اب اس سورت میں انسان کی غفلت و لاپرواہی اور اپنے رب کی ناشکری کی مذموم خصلت بیان کی جارہی ہے اور یہ کہ دراصل اس روش کا منشاء حرص مال، لالچ اور نفس کی خواہش ہے، اس کے پیچھے پڑکر انسان اپنے رب کو بھلا دیتا ہے اور اس سے غافل ہوجاتا ہے کہ مرنے کے بعد اس کو دوبارہ زندہ ہونا اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–7
2:۔ ” والعادیات ضبحا “ ہانپ ہانپ کر دوڑنے والے گھوڑے۔ ” فالموریات قدحا “ پتھریلی زمین پر دوڑتے وقت اپنے سموں سے چنگاریاں نکالنے والے۔ ” فالمغیرات صبحا “ پھر صبح صبح لوٹ مار کرنے والے۔ ” فاثرن بہ نقعا “ دوڑتے وقت گرد و غبار اڑاتے ہیں۔ ” فوسطن بہ جمعا “ پھر تیز رفتار کے ساتھ جماعتوں کے اندر گھس جاتے ہیں۔ ” ان الانسان لربہ لکنود “ یہ لوٹ مار کرنے والے گھوڑے اس پر شاہد ہیں کہ انسان اپنے پروردگار کا نہایت ہی ناشکر گذار ہے۔ قالہ الشیخ (رح) تعالی۔ عامۃ المفسرین کے نزدیک یہ صفتیں مجاہدین کے گھوڑوں کی ہیں اور بعض کے نزدیک ان صفات سے فرشتے مراد ہیں۔ ” وانہ علی ذلک لشہید “ مذکورہ شواہد کے علاوہ انسان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–11
مکی زندگی میں نازل ہوئی ، تاہم حضرت عبداللہ بن عباس ، حضرت قتادہ اور امام مالک سے منقول ہے کہ یہ مدنی سورة ہے۔ اس کی گیارہ آیات ہیں۔ یہ سورة چالیس الفاظ اور ایک سو تریسٹھ حروف پر مشتمل ہے۔ گزشتہ سورة کے ساتھ ربط سابقہ سورة زلزال میں انسان کے جزائے عمل کا ذکر تھا کہ جزائے عمل کا واقع ہونا لازم ہے۔ اس سے پہلی سورة البینتہ میں اسلامی تعلیمات کا خلاصہ ہے ۔ انسان کو اللہ کی عبادت کرنی چاہئے اور حنیف بن کر رہنا چاہئے۔ بدنی اور مالی عبادات یعنی مال اور زکواۃ پر کاربند ہونا چاہئے۔ خدا کا خوف ہر وقت دل میں جاگزیں ہونا چاہئے۔ اس سورة مبارکہ میں ان بیماریوں کا ذکر ہے جو کہ مذکورہ بالا پروگرم پر عمل…
Read the full tafseer →فَالْمُغِيْرٰتِ صُبْحًا 3 ۙ المغیرات : جمع المغیرة مؤنّث المغیر، اسم فاعل من (أغار) الرباعيّ ، وزنه مفعل بملاحظة الإعلال بالتسکين۔ تسكين الیاء ونقل حرکتها إلى الغین قبلها غور الغَوْرُ : المُنْهَبِطُ من الأرض، يقال : غَارَ الرجل، وأَغَارَ ، وغَارَتْ عينه غَوْراً وغُئُوراً «2» ، وقوله تعالی: ماؤُكُمْ غَوْراً [ الملک/ 30] ، أي : غَائِراً. وقال : أَوْ يُصْبِحَ ماؤُها غَوْراً [ الكهف/ 41] . والغارُ في الجبل . قال : إِذْ هُما فِي الْغارِ [ التوبة/ 40] ، وكنّي عن الفرج والبطن بِالْغَارَيْنِ «3» ، والْمَغَارُ من المکان کا لغور، قال : لَوْ يَجِدُونَ مَلْجَأً أَوْ مَغاراتٍ أَوْ مُدَّخَلًا [ التوبة/…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–11
ترکیب ¦ وللقسم العادیات جمع عادیۃ من العدود ھوالمشی بسرعۃٍ فقلبت الواؤ یائً لکسرۃ ما قبلھا کا لغازیات من الغزو۔ والمراد بھا الخیل الجھادیۃ دقیل بعیر الحجاج ضبحا الضبح صوت اجواف الخیل اذا عدت وقیل السیر و نوع من العد و یقال ضبح الفرس اذا عد ابشدۃ من الضبح بمعنی الدفع وکان الحاء بدل من العین علی الاول منصوب علی الحال ای ضابحات وعلی الثانی مفعول مطلق موکد لاسم الفاعل و یجوزان یکون مصدر الفعل محدوف ای یضیح ضبحا۔ فالمو ریات قدحًا عطف العادیات من الایراء و ھوا اخراج النار جمع موریۃ والقدح الصک فجعل ضرب الخیل بحوا فرھا کالقدح بالزنا دوالکلام فی نصب قدحا کا لکالم ضبحا فالمغیرات ای التی تغیر علی العدو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–5
وَالْعٰدِیٰتِ ضَبْحًا۔ فَالْمُوْرِیٰتِ قَدْحًا۔ فَالْمُغِیْرٰتِ صُبْحًا۔ فَاَثَرْنَ بِہٖ نَقْعًا۔ فَوَسَطْنَ بِہٖ جَمْعًا۔ (العٰدیٰت : 1 تا 5) (قسم ہے تیز دوڑنے والے گھوڑوں کی، جب وہ سینہ سے آواز نکالتے ہیں۔ پھر ٹاپوں کی ٹھوکر سے چنگاریاں نکالتے ہیں۔ پھر اچانک صبح کے وقت حملہ کرتے ہیں۔ پھر اس موقع پر گردوغبار اڑاتے ہیں۔ پھر اسی حالت میں دشمن کے لشکر میں جا گھستے ہیں۔ ) پانچ قسموں کا مفہوم آیات میں صفات کا ذکر کیا گیا ہے، موصوف کا نہیں۔ یعنی یہ بات واضح نہیں کی گئی کہ یہ صفات کن کی ہے۔ گھوڑوں کی ہیں یا اونٹوں کی۔ اس لیے مفسرین کے درمیان اختلاف ہوا ہے کہ ان صفات کے موصوف کون ہیں۔ صحابہ اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–5
فہم القرآن ربط سورت : سورة زلزال کا اختتام اس بات پر ہوا ہے کہ جس نے نیکی کی وہ اپنی نیکی کو دیکھ لے گا اور جس نے برائی کی وہ بھی اپنی برائی کو اپنے سامنے پائے گا۔ العادیات کا مرکزی مضمون یہ ہے کہ قیامت کے دن ہر انسان کو قبر سے اٹھایا جائے گا اور جو کچھ اس نے کیا ہے اس کے سامنے رکھ دیا جائے گا۔ اللہ تعالیٰ نے اس سورة مبارکہ کی ابتدا میں پانچ قسمیں اٹھائی ہیں جو جنگ کے دوران گھوڑوں کی مختلف حالتوں سے متعلق ہیں۔ ارشاد ہوا کہ قسم ہے ان گھوڑوں کی جو تیز دوڑتے ہوئے ہانپتے ہیں پھر اپنی ٹاپوں سے چنگاریاں نکالتے ہیں پھر صبح کے وقت دشمن پر دھاوابولتے ہیں اور گردوغبار اڑاتے ہوئے دشمن کے لشکر میں گھس…
Read the full tafseer →3 : فَالْمُغِیْرٰتِ صُبْحًا (پھرصبح کے وقت تاخت و تاراج کرتے ہیں) دشمن پر لوٹ ڈالتے ہیں صبح کے وقت۔
Read the full tafseer →3 ۔” فالمغیرات صبحا “ وہ گھوڑے جو اپنے سواروں کے ساتھ صبح کے وقت غارت کریں یہ اکثر مفسرین رحمہم اللہ کا قول ہے اور قرظی (رح) فرماتے ہیں وہ اونٹ جو اپنے سواروں کو مزدلفہ سے منی لے جائیں اور سنت یہ ہے کہ وہ نہ جائے صبح تک اور اغارۃ تیزی سے چلنا اور اسی سے ان کا قول ہے اشرف ” ثبیر کی ما نفیر “
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–11
1۔ 11۔ اللہ تعالیٰ کا دین پھیلانے کے لئے جو لوگ گھوڑوں پر سوار ہو کر مخالف لوگوں پر حملہ کرتے تھے ان کے گھوڑوں کے دوڑنے اور دوڑنے میں ہانپنے اور پتھر پر دوڑتے وقت ان کے نعلوں میں سے آگ کے شعلے جھڑنے اور صبح کے وقت حملہ کرنے اور حملہ کے وقت گرد و غبار اٹھنے اور اس گرد و غبار میں سواروں کے دشمنوں میں گھس جانے کی ان سب باتوں کی اللہ تعالیٰ نے قسم کھا کر فرمایا کہ انسان کی حالت اس بات کی گواہی دیتی ہے کہ وہ بڑا ناشکرا ہے کیونکہ اللہ نے اس کو پیدا کیا۔ اس کی زیست بھر کے سب طرح کے آرام کا بندوست کیا۔ پھر یہ انسان اللہ کو چھوڑ کر اوروں کو اپنا معبود ٹھہراتا ہے اس سے بڑھ کر اور کون سی حالت ناشکری کی…
Read the full tafseer →(فَالْمُغِيْرٰتِ ) دشمن پر شب خون مارنے والے گھوڑوں کی ( صُبْحًا) صبح کے وقت۔ اور یہ امر غالب ہے کہ دشمن پر شب خون صبح کے وقت منہ اندھیرے مارا جاتا ہے۔
Read the full tafseer →(3) سو ارشاد فرمایا کہ پھر وہ تاخت و تاراج کرتے ہیں صبح کے وقت جیسا کہ لوٹ مار کی قبائلی زندگی میں عموما ہوتا ہے کہ وہ صبح ہوتے ہی اچانک دشمن پر حملہ کردیتے ہیں، تاکہ اسے سنبھلنے کا موقع ہی نہ مل سکے، اور وہ مقابلے کے لیے تیاری نہ کرسکے، اسی لیے ان کے یہاں غارتگری کے الارم کے طور پر جو نعرہ استعمال ہوا کرتا تھا وہ واصباحاہ ہی تھا اور اسی لیے صبح کے وقت حملہ کرنے کے لیے صبح کا لفظ ہی استعمال ہوا کرتا تھا، چناچہ خود قرآن حکیم میں بھی یہ لفظ اس معنی میں استعمال ہوا، چناچہ سورة قمر میں ارشاد فرمایا گیا ( القمر 38 پ 27) اور یقینا ان لوگوں کو یعنی قوم لوط کو پہنچ کر رہا، ایک دائمی عذاب صبح کے وقت۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–11
گھوڑے کی وفاداری سے بندہ سبق سیکھے تشریح : یہ سورت پوری کی پوری انسان کو راہ ہدایت دکھانے، آخرت، حساب کتاب اور اس سچی خبر کی تصدیق میں ہی نازل کی گئی ہے کہ دنیا کے عیش و آرام مال و دولت میں اس قدر مگن نہ ہوجاؤ کہ اپنے پیدا کرنے والے ' پرورش کرنے والے اور پھر اپنے آخری ٹھکانے سے ہی غافل ہوجاؤ۔ اس سچائیـ کو مزید تقویت دینے کے لیے اللہ تعالیٰ اس وفادار ' مضبوط اور انتہائی فرمانبردار پر خلوص جانور کی قسم کھا رہا ہے جو کہ تمام مفسرین کی رائے کے مطابق گھوڑا ہی ہوسکتا ہے۔ کیونکہ تمام جانوروں میں سب سے زیادہ انسان کے کام آنے والا خاص طور سے جنگوں میں ' سفر میں اور بار برداری میں گھوڑا ہی ہے۔ یہ بڑا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–11
سورة العادیات۔ آیات 1 تا 11 اسرار ومعارف۔ قسم ہے جہاد میں دوڑنے والے گھوڑوں کی انکی مشقت کی ان کے نعلوں سے چنگاریاں نکلتی ہیں اور جب وہ علی الصبح کسی پر ٹوٹ پڑتے ہیں اور پھر جب ہر طرف گرد اڑتی ہے اور دشمنوں کی فوج میں گھس پڑتے ہیں یعنی جہاد کا یہ سارامنظر اس بات پہ گواہ ہے انسان اپنے پروردگار کا سخت ناشکرا ہے کہ جو بات یعنی نظام اسلام اس کی بھلائی کے لیے تھا اس کے لیے روکاوٹ بن گیا اور اس کے نفاذ کے لیے جہاد کی ضرورت پیش آئی اللہ کو وہ جانور بھی پیارے ہیں جو اس کی راہ میں جہاد میں کام آئیں اور یہ انسان ہو کر اور خوب جانتے ہوئے کہ اسلام ہی سلامتی ہے اور یہ حق ہے پھر بھی اس کی مخالفت پہ کمربستہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–3
ف 8 عربوں کی عادت تھی کہ دشمن پر صبح کے وقت اچانک چھاپا مارتے جبکہ اس کے عام لوگ غفلت کی گہری نیند سو رہے ہوں۔ اس آیت میں صبح کے وقت اچانک چھاپا مارنے والے گھوڑوں کی قسم کھائی گئی۔
Read the full tafseer →(100:3) فالمغیرات صبحا اس کا عطف جملہ سابقہ پر ہے پھر (قسم ہے) المغیرات کی۔ صبحا ظرفیت کی وجہ سے منصوب ہے ترجمہ ہوگا :۔ پھر قسم ہے (ان کی) جو صبح ہوتے ہی (دشمنوں پر) دھاوا کرتے ہیں۔ المغیرات جمع ہے المغیرۃ کی۔ اغارۃ (افعال) مصدر سے اسم فاعل کا صیغہ جمع مؤنث ٹوٹ پڑنے والے۔ چھاپہ مارنے والے۔ یعنی پھر قسم ہے (غازیوں کے) ان چھاپہ مار گھوڑوں کی جو صبح ہوتے ہی ٹوٹ پڑتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–11
العدیت۔ دوڑنے والے گھوڑے۔ ضبح۔ ہانپتے ہوئے۔ الموریت۔ چنگاریاں نکالنے والے۔ قدح۔ آگ جھاڑ کر۔ المغیرات۔ وہ حملہ کرنے والے ہیں۔ اثرن۔ اٹھاتے ہیں۔ نقع۔ گردوغبار۔ وسطن۔ وہ بیچ میں گھس جاتے ہیں۔ کنود ۔ ناشکرا۔ شہید۔ گواہ۔ الخیر۔ مال و دولت۔ بعثر۔ باہر نکالا گیا۔ حصل۔ حاصل کیا گیا۔ تشریح : انسان کیچ اروں طرف اللہ نے اتنی نعمتوں کو بکھیر رکھا ہے جنہیں شمار کرنا بھی ممکن نہیں ہے۔ یہ نعمتیں انسان سے اس بات کا مطالبہ کرتی نظر آتی ہیں کہ اسے ہر سانس میں اللہ کا شکر ادا کرنا چاہیے۔ اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت میں زندگی گزارنی چاہیے۔ اسے وہی کرنا چاہیے جس کے کرنے کا اس کو حکم دیا گیا ہے اور ہر اس بات سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–11
جہاد کی اہمیت وفضیلت۔ (ف 1) اللہ تعالیٰ کا دین پھیلانے کے لیے جو لوگ گھوڑوں پر سوار ہوکر مخالف لوگوں پر حملہ کرتے ہیں ان کے گھوڑوں کے دوڑنے اور دوڑنے میں ہانپنے اور پتھر پر دوڑتے وقت ان کے نعلوں میں سے آگ کے شعلے جھڑنے اور صبح کے وقت حملہ کرنے اور حملہ کے وقت گردوغبار اٹھنے اور اس گردوغبار میں سواروں کے دشمنوں میں گھس جانے کی (حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں یہ جہاد والے سواروں کی ایک قسم ہے اس سے بڑا کون ساعمل ہوگا، کہ اللہ کے کام پر اپنی جان دینے کو حاضر ہیں اور یہ جہاد کرنے والے سواروں کی اللہ کی راہ میں سرفروشی وجانبازی بتلاتی ہے کہ وفادار وشکرگذار بندے ایسے ہوتے ہیں) ان سب باتوں کی اللہ تعالیٰ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–6
[2] یہ ہے وہ بات جس پر قسم کھائی گئی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جو انسان گھوڑوں کی یہ ساری جاں نثاریاں دیکھتا ہے اور ان کی قربانیوں سے بہرہ مند ہوتا ہے اسے یہ سوچنے کی توفیق نہیں ہوتی کہ وہ بھی اپنے رب کا غلام ہے اور اس پر بھی یہ فرض عائد ہوتا ہے کہ وہ بھی انہی کی طرح اپنے رب کی اطاعت میں سرگرم رہے۔ اگر وہ ایسا نہیں کرتا تو وہ سخت ناشکرا ہے کیونکہ گھوڑا جانور ہو کر اپنے مالک کا حق پہچانتا ہے اور یہ انسان ہو کر اپنے خالق کا حق نہیں پہچانتا۔
Read the full tafseer →(3) پھران کی جو صبح سویرے چھاپا مارتے ہیں۔ یعنی لوٹنے اور تخت و تاراج کرنی کی غرض سے۔
Read the full tafseer →پھر صبح ہی صبح حملہ کرنے والوں کے رب کی قسم 3 ؎ ( المغیرت) اسم فاعل جمع مؤنث المغیرۃ واحد اغارۃً مصدر ۔ ٹوٹنے والے۔ چھاپہ مارنے والے۔ مرادسواروں کے دستے جو صبح کو دشمنوں پر چھاپہ مارتے ہیں ۔ اغارہ کے معنی تیز رفتارہونے کے ہیں ۔ صبح کے وقت دشمنوں پر چھاپہ مارنا اس لیے کہ رات کو تقریباً خطرہ ہوتا ہے اور وہ لوگ جو کسی خطرہ کی زد میں ہوتے ہیں جیسے میدان جنگ میں یا کسی اور طریقہ سے بر سرپیکار وہ رات کے وقت خوب پہرہ دیتے اور چوکنے رہتے ہیں لیکن جو نہی فجر ہوتی ہے اور پوپھٹتی ہے سپیدی ظاہر ہونے لگتی ہے تو غفلت شروع ہوجاتی ہے اور رات کا خطرہ تقریباً ٹل جاتا ہے جونہی وہ بےخطر ہوتے ہیں تو ان پر حملہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–7
Verse [ 100:5] فَوَسَطْنَ بِهِ جَمْعًا (then enter, at the same time, into the centre of the [ opposing ] host) In other words, they penetrate into the centre of the enemy forces without the least degree of fear. The word kanud, (100:6) according to Hasan Basri (رح) ، refers to the one who counts the calamities that befall him, and forgets Allah's favours. Abu Bakr Wasiti said that kanud is the one who spends the bounties of Allah for sinful purposes. Tirmidhi said that kanud is the one who looks at the bounty, and not at the Bounteous Lord. In short, all these interpretations lead to the…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–5
3 The practice among the Arabs was that when they had to mount a raid on a settlement, they marched out in the night so as to take the enemy by surprise; then they would launch a sudden attack early. in the morning so that everything became visible in the light of day, and at the same tune it did not become so bright that the victim could notice their movement from a distance and be ready to meet the offensive.
Read the full tafseer →