100. Surah Al-Aadiyaat

العادياتThe Chargers · 11 ayahsتفسیر ابن عباس

Ayahs 100:1–2

وَ الْعٰدِیٰتِ ضَبْحًاۙ Open ayah 100:1 in the Quran reader

ان سرپٹ دوڑنے والے گھوڑوں کی قسم جو ہانپ اٹھتے ہیں

فَالْمُوْرِیٰتِ قَدْحًاۙ Open ayah 100:2 in the Quran reader

پھر (پتھروں پر نعل) مار کر آگ نکالتے ہیں

(1۔ 2) رسول اکرم صلی اللہ نے بنی کنانہ کی طرف ایک لشکر روانہ فرمایا آپ کے پاس اس کی خبر آنے میں تاخیر ہوئی جس سے آپ پریشان ہوئے تب اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کریم کو ان کی حالت سے بطور قسم کے آگاہ فرمایا کہ قسم ہے ان غازیوں کے گھوڑوں کی جو ہانپتے ہوئے دوڑتے ہیں پھر پتھر پر ٹاپ مار کر آگ جھاڑتے ہیں جیسا کہ پتھر کی آگ یہی اس سورة کا شان نزول ہے حضرت عبداللہ بن عباس سے بھی یہی مروی ہے۔ کہ ابی حباب کی آگ کی طرح اس سے بھی فائدہ نہیں ۃ وتا یہ عرب میں ایک بہت بخیل آدمی تھا جب لشکر میں ہوتا تو کھانے پکانے کے لیے آگ نہیں جلاتا تھا جب سب لشکر والے سوجاتے تب یہ آگ جلاتا اور پھر اگر کوئی درمیان میں اٹھ جاتا تو یہ آگ بجھا دیا کرتا تھا۔ شان نزول : وَالْعٰدِيٰتِ ضَبْحًا (الخ) بزاز ابن ابی حاتم اور حاکم نے حضرت ابنع باس سے روایت کیا ہے کہ رسول اکرم ﷺ گھوڑے سوار ایک لشکر روانہ کیا ایک مہینہ تک اس کی کچھ خبر نہیں آئی تب یہ آیت نازل ہوئی وَالْعٰدِيٰتِ ضَبْحًا (الخ)
Ayahs 100:3–8

فَالْمُغِیْرٰتِ صُبْحًاۙ Open ayah 100:3 in the Quran reader

پھر صبح کو چھاپہ مارتے ہیں

فَاَثَرْنَ بِهٖ نَقْعًاۙ Open ayah 100:4 in the Quran reader

پھر اس میں گرد اٹھاتے ہیں

فَوَسَطْنَ بِهٖ جَمْعًاۙ Open ayah 100:5 in the Quran reader

پھر اس وقت دشمن کی فوج میں جا گھستے ہیں

اِنَّ الْاِنْسَانَ لِرَبِّهٖ لَكَنُوْدٌۚ Open ayah 100:6 in the Quran reader

کہ انسان اپنے پروردگار کا احسان ناشناس (اور ناشکرا) ہے

وَ اِنَّهٗ عَلٰى ذٰلِكَ لَشَهِیْدٌۚ Open ayah 100:7 in the Quran reader

اور وہ اس سے آگاہ بھی ہے

وَ اِنَّهٗ لِحُبِّ الْخَیْرِ لَشَدِیْدٌؕ Open ayah 100:8 in the Quran reader

وہ تو مال کی سخت محبت کرنے والا ہے

(3۔ 8) پھر صبح کو اچانک حملہ کرتے ہیں پھر اس وقت غبار اڑاتے ہیں اور دشمنوں کی جماعتوں میں جا گھستے ہیں یا یہ مطلب ہے کہ قسم ہے حاجیوں کے گھوروں اور ان کے اونٹوں کی جب وہ عرفات سے مزدلفہ کو آتے ہیں حالاں کہ ان کا سانس پھولا ہوا ہوتا ہے اور پھر وہاں آ کر آگ روشن کرتے ہیں اور علی الصباح پھر منی واپس جاتے ہیں آگے جواب قسم ہے کہ کافر آدمی یعنی قرط بن عبداللہ یا ابو حباب اپنے پروردگار کی نعمتوں کا بڑٓ ناشکر گزار ہے اور اس کو خود بھی اپنے اس فعل کی خبر ہے اور یہ شخص مال کثیر کی محبت میں مضبوط ہے۔
Ayahs 100:9–11

اَفَلَا یَعْلَمُ اِذَا بُعْثِرَ مَا فِی الْقُبُوْرِۙ Open ayah 100:9 in the Quran reader

کیا وہ اس وقت کو نہیں جانتا کہ جو (مردے) قبروں میں ہیں وہ باہر نکال لئے جائیں گے

وَ حُصِّلَ مَا فِی الصُّدُوْرِۙ Open ayah 100:10 in the Quran reader

اور جو (بھید) دلوں میں ہیں وہ ظاہر کردیئے جائیں گے

اِنَّ رَبَّهُمْ بِهِمْ یَوْمَئِذٍ لَّخَبِیْرٌ۠ Open ayah 100:11 in the Quran reader

بیشک ان کا پروردگار اس روز ان سے خوب واقف ہوگا

(9۔ 11) کیا اس کو وہ وقت معلوم نہیں کہ جب مردوں کو زندہ کیا جائے گا اور دلوں میں جو کچھ نیکی اور برائی بخل اور سخاوت ہے وہ سب ظاہر ہوجائے گی ان کا پروردگار قیامت کے دن اسے اور ان کے اعمال سے پورا پورا باخبر ہوگا۔