100. Surah Al-Aadiyaat

العادياتThe Chargers · 11 ayahsاشرف الحواشی

Ayah 100:1

وَ الْعٰدِیٰتِ ضَبْحًاۙ Open ayah 100:1 in the Quran reader

قسم ہے غازیون کے دوڑنیوالے گھوڑون کی جو دوڑنے میں آواز نکالتے7

ف 7 یعنی ٹاپوں کی آواز یا ہانپنے کی آواز
Ayahs 100:2–3

فَالْمُوْرِیٰتِ قَدْحًاۙ Open ayah 100:2 in the Quran reader

میں پھر ٹاپ مار کر پتھروں سے چنگاریاں اڑاتے ہیں

فَالْمُغِیْرٰتِ صُبْحًاۙ Open ayah 100:3 in the Quran reader

پھر صبح ہی صبح دشمن پر چھاپہ مارتے8

ف 8 عربوں کی عادت تھی کہ دشمن پر صبح کے وقت اچانک چھاپا مارتے جبکہ اس کے عام لوگ غفلت کی گہری نیند سو رہے ہوں۔ اس آیت میں صبح کے وقت اچانک چھاپا مارنے والے گھوڑوں کی قسم کھائی گئی۔
Ayah 100:4

فَاَثَرْنَ بِهٖ نَقْعًاۙ Open ayah 100:4 in the Quran reader

ہیں پھر اس وقت گرد اڑاتے9

ف 9 یا ” اس جگہ گرد اڑاتے ہیں۔ “ یہ دو ترجمے میں لحاظ سے ہیں کہ ” بہ “ میں ہ کی ضمیر وقت کیلئے بھی ہوسکتی ہے اور جگہ کے لئے بھی
Ayahs 100:5–6

فَوَسَطْنَ بِهٖ جَمْعًاۙ Open ayah 100:5 in the Quran reader

پھر دشمنوں کی یفوج میں اسی وقت جا گھستے ہیں

اِنَّ الْاِنْسَانَ لِرَبِّهٖ لَكَنُوْدٌۚ Open ayah 100:6 in the Quran reader

بیشک آدمی اپنے مالک کا ناشکرا ہے10

ف 10 یعنی اس کی نعمتوں کی قدر نہیں کرتا اور نہ ان کا حق پہنچانتا ہے۔
Ayah 100:7

وَ اِنَّهٗ عَلٰى ذٰلِكَ لَشَهِیْدٌۚ Open ayah 100:7 in the Quran reader

اور وہ خود اس بات کا اپنی ناشکری کا گواہ ہے11

ف 11 یعنی زبان حال سے خود گواہی دیتا ہے کہ میں بڑا ناشکرا ہوں۔ یہ مطلب اس صورت میں ہے جب ” انہ “ میں ’ ہ “ کی ضمیر انسان کے لئے ہو اور اگر یہ اللہ تعالیٰ کے لئے ہو تو مطلب یہ ہوگا کہ اللہ تعالیٰ اس کی ناشکری کو دیکھ رہا ہے۔
Ayah 100:8

وَ اِنَّهٗ لِحُبِّ الْخَیْرِ لَشَدِیْدٌؕ Open ayah 100:8 in the Quran reader

اور اس کو پیسے کی بڑی محبت ہے کیا 12

ف 12 یعنی حرص و طمع اور بخل نے اسے اندھا کردیا ہے یہاں تک کہ اپنے منعم حقیقی کو بھی بھلا بیٹھا ہے۔
Ayah 100:9

اَفَلَا یَعْلَمُ اِذَا بُعْثِرَ مَا فِی الْقُبُوْرِۙ Open ayah 100:9 in the Quran reader

وہ نہیں جانتا کہ سب 13 قبروں کے مردے کرید کر نکالے جائیں گے اجلاس کر اٹھائے جائیں گے

ف 13 یعنی کیا اسے اس وقت کا کوئی ڈر نہیں ہے ؟
Ayahs 100:10–11

وَ حُصِّلَ مَا فِی الصُّدُوْرِۙ Open ayah 100:10 in the Quran reader

اور جو باتیں بری یا بھلی دلوں میں ہیں وہ گھل جائیں گی

اِنَّ رَبَّهُمْ بِهِمْ یَوْمَئِذٍ لَّخَبِیْرٌ۠ Open ayah 100:11 in the Quran reader

تو ان کا مالک اس دن ان کی خوب خبر لے گا۔14

ف 14 لفظی ترجمہ یہ ہے ” بیشک ان کا رب ان سے اس دن خوب باخبر ہوگا۔ “ لیکن مطلب یہی ہے کہ ان کی خوب خبر لے گا۔ اس کی مثال دوسرے مقام پر یہ ہے : اولئک الذین یعلم اللہ مافی قلوبھم۔ “ (نساء 63) اس کا بھی نقشی ترجمہ یہ ہے کہ ’ داللہ ان کے دلوں کی باتوں کو جانتا ہے۔ “ لیکن مطلب یہی ہے کہ انہیں ان کے اعمال کا بدلہ دیئے بغیر نہ چھوڑے گا۔