Al-Aadiyaat 100:4

Al-Aadiyaat · from ayah 4

100:4

فَاَثَرْنَ بِهٖ نَقْعًا ۟ۙفَاَثَرۡنَ بِهٖ نَقۡعًا

پھر اس میں گرد اٹھاتے ہیں

— Fateh Muhammad Jalandhari

Stirring up thereby [clouds of] dust,

— Saheeh International

Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 25 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Aadiyaat

All translations of 100:4

پھر اس موقع پر گرد و غبار اڑاتے ہیں

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

پھر اس میں گرد اٹھاتے ہیں

— مولانا فتح محمد جالندہری

پس اس وقت گرد وغبار اڑاتے ہیں

— مولانا محمد جوناگڑہی

پھر اس موقع پر غبار اڑاتے ہیں۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

پھر اس وقت غبار اڑاتے ہیں،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

پھر وہ اس (حملے والی) جگہ سے گرد و غبار اڑاتے ہیں،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

پھر اس کے ساتھ غبار اڑاتے ہیں۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

پھر ان کی جو غبار اڑاتے ہیں

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

ڈور سے غبار اٹھانے والے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

پھر وہ اڑاتے ہیں اس موقع پر گردوغبار

— مولانا اسحاق مدنی

پھر وہ اس سے گرد اڑاتے ہوئے جاتے ہیں۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

پھر اس میں گردا ٹھاتے ہیں

— محترمہ رفعت اعجاز

then raise, at the same time, a trail of dust,

— Muhammad Taqi Usmani

then raise, at the same time, a trail of dust,

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And raise the dust in clouds the while.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Then, therewith, with their trail of dust,

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Stirring up thereby [clouds of] dust,

— Saheeh International

and leave behind a cloud of dust

— Muhammad Sarwar

Then thereby raise dust,

— Muhammad Habib Shakir

And therein raising dust.

— Abdul Majid Daryabadi

Tafseer of 100:4

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 1–11

انسان کا نفسیاتی تجزیہ : مجاہدین کے گھوڑے جبکہ اللہ کی راہ میں جہاد کے لیے ہانپتے اور ہنہاتے ہوئے دوڑتے ہیں ان کی اللہ تبارک و تعالیٰ قسم کھاتا ہے پھر اس تیزی میں دوڑتے ہوئے پتھروں کے ساتھ ان کے نعل کا ٹکرانا اور اس رگڑ سے آگ کی چنگاڑیاں اڑنا پھر صبح کے وقت دشمن پر ان کا چھاپہ مارنا اور دشمنان رب کو تہہ وبالا کرنا آنحضرت ﷺ کی یہی عادت مبارک تھی کہ دشمن کی کسی بستی پر آپ جاتے تو وہاں رات کو ٹھہر کر کام لگا کر سنتے اگر اذان کی آواز آگئی تو آپ رک جاتے نہ آتی تو لشکر کو حکم دیتے کہ بزن بول دیں پھر ان گھوڑوں کا گردو غبار اڑانا اور ان سب کا دشمنوں کے درمیان گھس جانا ان سب چیزوں کی قسم کھا کر پھر…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 3–5

سورة العدیات 3 اہل عرب کا قاعدہ تھا کہ جب کسی بستی پر انہیں چھاپہ مارنا ہوتا تو رات کے اندھیرے میں چل کر جاتے تاکہ دشمن خبردار نہ ہوسکے، اور صبح سویرے اچانک اس پر ٹوٹ پڑتے تھے تاکہ صبح کی روشنی میں ہر چیز نظر آسکے، اور دن اتنا زیادہ روشن بھی نہ ہو کہ دشمن دور سے ان کو آتا دیکھ لے اور مقابلہ کے لیے تیار ہوجائے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 2–7

فوسطن بہ جمعاً ، یعنی یہ دشمن کی صفوں میں بےخوف گھس جاتے ہیں۔ کنود کے معنی میں حضرت حسن بصریٰ نے فرمایا کہ وہ شخص جو مصائب کو یاد رکھے اور نعمتوں کو بھول جائے اس کو کنود کہا جاتا ہے۔ ابو بکر واسطی نے فرمایا جو اللہ کی نعمتوں کو اس کی معصیتوں میں صرف کرے وہ کنود ہے۔ اور ترمذی نے فرمایا کہ جو شخص نعمت کو دیکھے اور منعم یعنی نعمت دینے والے کو نہ دیکھے وہ کنود ہے۔ ان سب اقوال کا حاصل نعمت کی ناشکری کرنا ہے۔ اس لئے کنود کا ترجمہ ناشکر کا کیا گیا ہے۔

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

’اِثَارَۃٌ‘ کے معنی اٹھانے اور ابھارنے کے اور ’نَقْعٌ‘ کے معنی گرد و غبار کے ہیں۔ ’بِہ‘ میں ’ب‘ ظرف کے مفہوم میں لیجیے اور ضمیر کا مرجع ’صُبْحًا‘ قرار دیجیے تو مطلب یہ ہو گا کہ جب وہ صبح کو غارت گری کرتے ہیں تو اس وقت وہ گرد و غبار کا ایک طوفان اٹھا دیتے ہیں۔ یعنی ان کا حملہ ایسا معلوم ہوتا ہے گویا کسی جانب سے ایک طوفانی آندھی آ گئی۔ اور اگر ’بِہ‘ کو اس تگاپو سے متعلق مانیے جو ’عٰدِیٰت‘ کے اندر مضمر ہے تو اس کا مطلب یہ ہو گا کہ وہ اپنی اس تگاپو سے غبار ابھار دیتے ہیں۔ دونوں ہی شکلوں میں مقصود اس کلام سے ان کی جنگی اہمیت کا اظہار ہے۔ یعنی ان کا آنا نسیم صبح کا آنا نہیں بلکہ ایک آندھی کا آنا…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

أثار، اڑانا۔ نقع، گرد و غبار۔ یعنی یہ گھوڑے جس وقت تیزی سے دوڑتے یا دھاوا بولتے ہیں تو اس جگہ پر گرد و غبار چھا جاتا ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 1–5

اللہ تعالیٰ یہاں سواروں کے دستے کی قسم اٹھاتے ہیں۔ ان کی ایک ایک جنگی حرکت کو ترتیب کے ساتھ لایا جاتا ہے۔ جب یہ دستہ اپنے حملے کا آغاز کرتا ہے اور تیز رفتاری کے ساتھ منزل کی طرف بڑھتا ہے۔ گھوڑے پھنکارمارتے آگے جارہے ہیں۔ یہ اپنے سموں سے پتھروں سے چنگاڑیاں نکالتے جاتے ہیں۔ پھر عین صبح کے وقت یہ دشمن پر ٹوٹ پڑتے ہیں ، یہ حملہ نہایت سرعت کے ساتھ ہوتا ہے اور اچانک ہوتا ہے۔ حملہ کے وقت گھوڑوں کی بھگدڑ سے غبار اڑتا ہے۔ کیونکہ دشمن حملے کے لئے تیار نہیں ہوتا اور اس کی حرکات غیر مرتب ہیں ، جب یہ دستہ دشمن کی صفوں میں خلاف توقع جاگھستا ہے تو سخت انتشار و اضطراب برپا ہوجاتا ہے۔ یہ کسی بھی حملہ کے وہ پے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

3 یعنی ایسی تیزی اور قوت سے دوڑنے والے کہ صبح کے وقت جبکہ رات کی سردی اور شبنم کی رطوبت سے عموماً غبار دبا رہتا ہے۔ ان کے ٹاپوں سے اس وقت بھی بہت گردوغبار اٹھتا ہے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 4–5

آیت 5{ فَوَسَطْنَ بِہٖ جَمْعًا۔ } ”پھر اس کے ساتھ وہ دشمن کی جمعیت کے اندر گھس جاتے ہیں۔“ پرانے زمانے کی جنگوں میں گھوڑے بہت موثر اور کارآمد ہتھیار کے طور پر استعمال ہوتے تھے۔ حملے کے وقت گھوڑے اپنے سواروں کے حکم پر مخالف فوج کی طرف سے تیروں کی بوچھاڑ اور نیزوں کی یلغار کی پروا نہ کرتے ہوئے ان کی صفوں میں گھس جاتے تھے۔ گھوڑے کا اپنے مالک کی فرمانبرداری میں اپنا خون پسینہ ایک کردینے کا جذبہ اور اس کی وفاداری میں اپنی جان کی بازی تک لگادینے کا وصف ! یہ ہے دراصل ان قسموں کے مضمون کا مرکزی نکتہ جس کی طرف یہاں توجہ دلانا مقصود ہے۔ چناچہ گھوڑوں کے ان اوصاف کے ذکر کے بعد تقابل کے طور پر انسان کے…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

4 نَقْعًا بمعنی گرد راہ، وہ گردو غبار جو کوئی تیز رفتار سواری اپنے پیچھے چھوڑتی چلی جاتی ہے۔ یہ خاکی ذرات بوجھل ہونے کی وجہ سے پھر آہستہ آہستہ زمین پر بیٹھ جاتے ہیں۔ اس آیت میں دراصل گھوڑوں کی تیز رفتاری کی تعریف ہے جو رات کو زمین ٹھنڈی اور شبنم آلود ہونے کے باوجود اس سے گرد و غبار اٹھاتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 1–5

1۔ ان گھوڑوں سے مراد لڑائی کے گھوڑے ہیں، جن کے اوصاف سے اہل عرب خوب واقف تھے۔ (آیت) ” ضبحا “۔ گھوڑے عادۃ تیز دوڑ کے بعد ہانپنے لگتے ہیں، (آیت) ” فالموریت قدحا “۔ یعنی ان کی نعلوں سے پہاڑوں کے پتھر آگ دے اٹھتے ہیں، کنایہ کمال گرم رفتاری سے ہے (آیت) ” فالمغیرت صبحا “۔ عرب میں عام دستور صبح سویرے تاخت کرنے کا تھا۔ (آیت) ” فاثرن بہ نقعا “۔ کمال تیز رفتاری کے باعث ان کے قدموں سے غبار اڑتا ہے۔ (آیت) ” فوسطن بہ جمعا “۔ یعنی جماعت اعداء میں در آتے ہیں۔ بہ میں ب زائدہ تاکید کے لئے ہے۔ حضرات صوفیہ نے ان صفات سے اپنے مذاق کے مطابق اشارات معرفت خوب نکالے ہیں، مثلا ! کچھ ” اشغال حرکت نفس “ میں مشغول رہتے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 1–11

ترجمہ :۔ شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے، قسم ہے ان گھوڑوں کی جو جہاد میں پھنکارتے ہوئے (ہانپتے ہوئے) دوڑتے ہیں، ضبح جوف (پیٹ) کی اس آواز کو کہتے ہیں جو دوڑتے وقت نکلتی ہے، پھر ان گھوڑوں کی جو ٹاپوں سے چنگاریاں جھاڑتے ہیں پھر ان گھوڑوں کی جو صبح سویرے دشمن پر شب خون مارتے ہیں، اپنے سوار کے شب خوب مارنے سے پھر اس موقع پر یعنی اپنے دوڑنے کی جگہ یا اس وقت اپنی شدید حرکت کی وجہ سے غبار اڑاتے ہیں پھر اسی غبار میں دشمن کے مجمع میں گھس جاتے ہیں یعی ان کے وسط تک پہنچ جاتے ہیں اور فعل کا عطف اسم پر اس لئے درست ہے کہ اسم فعل کی تاویل میں ہے، یعنی معنی میں واللاتی عدون،…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

فاثرن بہ نقعا . بہٖ کی ضمیردشمن پر چھاپہ مارنے کے وقت کی طرف راجع ہے جو سیاق کلام سے معلوم ہو رہا ہے یا دشمن کے مقام کی طرف راجع ہے جو اقتضاء عبارت ہے یعنی وہ گھوڑے جو دشمن پر چھاپہ مارتے ہیں ‘ چھاپہ مارنے کے وقت یا چھاپہ مارنے کی جگہ پر اپنے حملے کی وجہ سے غبار اڑاتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 3–8

(3۔ 8) پھر صبح کو اچانک حملہ کرتے ہیں پھر اس وقت غبار اڑاتے ہیں اور دشمنوں کی جماعتوں میں جا گھستے ہیں یا یہ مطلب ہے کہ قسم ہے حاجیوں کے گھوروں اور ان کے اونٹوں کی جب وہ عرفات سے مزدلفہ کو آتے ہیں حالاں کہ ان کا سانس پھولا ہوا ہوتا ہے اور پھر وہاں آ کر آگ روشن کرتے ہیں اور علی الصباح پھر منی واپس جاتے ہیں آگے جواب قسم ہے کہ کافر آدمی یعنی قرط بن عبداللہ یا ابو حباب اپنے پروردگار کی نعمتوں کا بڑٓ ناشکر گزار ہے اور اس کو خود بھی اپنے اس فعل کی خبر ہے اور یہ شخص مال کثیر کی محبت میں مضبوط ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

(فاثرن بہ نفعاً :”فاثرن“ ”اثار یثیر اثارۃ“ (افعال) ”الغبار“ غبار اڑانا۔”نقعاً“ غبار۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

پھر اس سے گرد و غبار اڑاتے ہیں۔ نقعا کا معنی غبار ہے، یعنی گھوڑے جہاں حملہ کرتے ہیں اس جگہ تیز دوڑنے کی وجہ سے غبار اڑاتے ہیں۔ حضرت ابن رواحہ نے کہا : عدمت بنیتی ان لم تروھا۔۔۔ تثیر النقع من کثفی کداء میں اپنی بیٹی کو نہ اپناؤں اگر تم گھوڑے کو نہ دیکھو کہ وہ کداء پہاڑ کے اطراف میں غبار اڑا رہا ہے۔ بہ میں جو ضمیر ہے مکان یا موضع کی طرف لوٹ رہی ہے جہاں وہ حملہ واقعہ ہوا جب حقیقت حال معلوم ہو تو ضمیر ذکر کرنا جائز ہے اگرچہ اس کا پہلے صراحۃ ذکر نہ بھی ہوا ہو، جس طرح ارشاد فرمایا : حتی توارت بالحباب۔ (ص) ایک قول یہ کیا گیا ہے کہ ضمیر سے مراد دوڑنا ہے جبکہ دوڑنے کا ذکر پہلے گزر چکا ہے۔ ایک قول یہ…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 1–11

1۔ ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ سورة والعدیت مکہ میں نازل ہوئی۔ 2۔ محمد بن نصر نے عطا بن ابی رباح کے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اذا زلزلت الارض آدھے قرآن کے برابر ہے اور والعدیت آدھے قرآن کے برابر ہے۔ 3۔ محمد بن نصر نے عطا بن ابی رباح کے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اذا زلزت آدھے قرآن کے برابر ہے آیت والعدیت آدھے قرآن کے برابر ہے اور قل ہوا للہ احد تہائی قرآن کے برابر ہے اور قل یا ایہا الکفرون چوتھائی قرآن کے برابر ہے۔۔ 4۔ البزار وابن المنذر وابن ابی حاتم والدار قطنی فی الافراد وابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ رسول…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[فَاَثَرْنَ : پھر وہ اٹھاتے ہیں اس (وقت) میں ][ بِهٖ نَقْعًا : گردوغبار کو ] ن ق ع [نَقْعاً : (ف) کسی جگہ پانی کا جمع ہو کر ٹھہر جانا۔ گردوغبار کا گر کر بیٹھ جانا۔] [ نَقْعٌ اسم ذات بھی ہے۔ گردوغبار۔ ٹھہرا ہوا پانی۔ زیر مطالعہ آیت۔ 4 ۔] (آیت۔ 4 ۔ 5) ۔ اَثَرْنَ اور وَسَطْنَ فعل ماضی میں جمع مؤنث کے صیغے ہیں۔ لیکن ان میں آفاقی صداقت یعنی گھوڑوں کی مستقل خصلت کا بیان ہے اس لیے ان کا ترجمہ حال میں ہوگا۔ (دیکھیں آیت۔ 2:49 ۔ نوٹ۔ 2) ۔ نَقَعًا اور جَمْعاً بالترتیب اَثَرْنَ اور وَسَطْنَ کے مفعول ہونے کی وجہ سے حالت نصب میں ہیں۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 3–4

﴿ فَالْمُغِيْرٰتِ صُبْحًاۙ003 فَاَثَرْنَ بِهٖ نَقْعًاۙ004﴾ (پھر یہ گھوڑے صبح صبح غارت گری ڈالنے والے ہیں پھر اپنے کھروں سے غبار اڑانے والے ہیں۔ اثرن اثار یثیر سے ماضی معروف جمع مونث کا صیغہ ہے اور نقعا اس کا مفعول ہے مطلب یہ ہے کہ گھوڑے دوڑتے ہوئے جاتے ہیں تو ان کے پاؤں سے غبار اڑتا ہے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–11

سرگرمی بہائم در اطاعت مالک ونافرمانی وناشکری انسان بآقاء رب العالمین : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” والعدیت ضبحا ...... الی ........ ان ربھم بھم یومئذ لخبیر “۔ (ربط) گزشتہ سورت میں مجازات اعمال کا قانون بیان کیا گیا تھا اور یہ کہ انسان اپنی زندگی میں جو بھی نیکی یا بدی کا عمل کرے گا روز قیامت قیامت کا اس بدلہ پاکر رہے گا، اب اس سورت میں انسان کی غفلت و لاپرواہی اور اپنے رب کی ناشکری کی مذموم خصلت بیان کی جارہی ہے اور یہ کہ دراصل اس روش کا منشاء حرص مال، لالچ اور نفس کی خواہش ہے، اس کے پیچھے پڑکر انسان اپنے رب کو بھلا دیتا ہے اور اس سے غافل ہوجاتا ہے کہ مرنے کے بعد اس کو دوبارہ زندہ ہونا اور…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 1–7

2:۔ ” والعادیات ضبحا “ ہانپ ہانپ کر دوڑنے والے گھوڑے۔ ” فالموریات قدحا “ پتھریلی زمین پر دوڑتے وقت اپنے سموں سے چنگاریاں نکالنے والے۔ ” فالمغیرات صبحا “ پھر صبح صبح لوٹ مار کرنے والے۔ ” فاثرن بہ نقعا “ دوڑتے وقت گرد و غبار اڑاتے ہیں۔ ” فوسطن بہ جمعا “ پھر تیز رفتار کے ساتھ جماعتوں کے اندر گھس جاتے ہیں۔ ” ان الانسان لربہ لکنود “ یہ لوٹ مار کرنے والے گھوڑے اس پر شاہد ہیں کہ انسان اپنے پروردگار کا نہایت ہی ناشکر گذار ہے۔ قالہ الشیخ (رح) تعالی۔ عامۃ المفسرین کے نزدیک یہ صفتیں مجاہدین کے گھوڑوں کی ہیں اور بعض کے نزدیک ان صفات سے فرشتے مراد ہیں۔ ” وانہ علی ذلک لشہید “ مذکورہ شواہد کے علاوہ انسان…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 1–11

مکی زندگی میں نازل ہوئی ، تاہم حضرت عبداللہ بن عباس ، حضرت قتادہ اور امام مالک سے منقول ہے کہ یہ مدنی سورة ہے۔ اس کی گیارہ آیات ہیں۔ یہ سورة چالیس الفاظ اور ایک سو تریسٹھ حروف پر مشتمل ہے۔ گزشتہ سورة کے ساتھ ربط سابقہ سورة زلزال میں انسان کے جزائے عمل کا ذکر تھا کہ جزائے عمل کا واقع ہونا لازم ہے۔ اس سے پہلی سورة البینتہ میں اسلامی تعلیمات کا خلاصہ ہے ۔ انسان کو اللہ کی عبادت کرنی چاہئے اور حنیف بن کر رہنا چاہئے۔ بدنی اور مالی عبادات یعنی مال اور زکواۃ پر کاربند ہونا چاہئے۔ خدا کا خوف ہر وقت دل میں جاگزیں ہونا چاہئے۔ اس سورة مبارکہ میں ان بیماریوں کا ذکر ہے جو کہ مذکورہ بالا پروگرم پر عمل…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

فَاَثَرْنَ بِہٖ نَقْعًا۝ 4 ۙ أثر أَثَرُ الشیء : حصول ما يدلّ علی وجوده، يقال : أثر وأثّر، والجمع : الآثار . قال اللہ تعالی: ثُمَّ قَفَّيْنا عَلى آثارِهِمْ بِرُسُلِنا «1» [ الحدید/ 27] ، وَآثاراً فِي الْأَرْضِ [ غافر/ 21] ، وقوله : فَانْظُرْ إِلى آثارِ رَحْمَتِ اللَّهِ [ الروم/ 50] . ومن هذا يقال للطریق المستدل به علی من تقدّم : آثار، نحو قوله تعالی: فَهُمْ عَلى آثارِهِمْ يُهْرَعُونَ [ الصافات/ 70] ، وقوله : هُمْ أُولاءِ عَلى أَثَرِي [ طه/ 84] . ومنه : سمنت الإبل علی أثارةٍأي : علی أثر من شحم، وأَثَرْتُ البعیر : جعلت علی خفّه أُثْرَةً ، أي : علامة تؤثّر في الأرض ليستدل بها علی أثره، وتسمّى…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 1–11

ترکیب ¦ وللقسم العادیات جمع عادیۃ من العدود ھوالمشی بسرعۃٍ فقلبت الواؤ یائً لکسرۃ ما قبلھا کا لغازیات من الغزو۔ والمراد بھا الخیل الجھادیۃ دقیل بعیر الحجاج ضبحا الضبح صوت اجواف الخیل اذا عدت وقیل السیر و نوع من العد و یقال ضبح الفرس اذا عد ابشدۃ من الضبح بمعنی الدفع وکان الحاء بدل من العین علی الاول منصوب علی الحال ای ضابحات وعلی الثانی مفعول مطلق موکد لاسم الفاعل و یجوزان یکون مصدر الفعل محدوف ای یضیح ضبحا۔ فالمو ریات قدحًا عطف العادیات من الایراء و ھوا اخراج النار جمع موریۃ والقدح الصک فجعل ضرب الخیل بحوا فرھا کالقدح بالزنا دوالکلام فی نصب قدحا کا لکالم ضبحا فالمغیرات ای التی تغیر علی العدو…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 1–5

وَالْعٰدِیٰتِ ضَبْحًا۔ فَالْمُوْرِیٰتِ قَدْحًا۔ فَالْمُغِیْرٰتِ صُبْحًا۔ فَاَثَرْنَ بِہٖ نَقْعًا۔ فَوَسَطْنَ بِہٖ جَمْعًا۔ (العٰدیٰت : 1 تا 5) (قسم ہے تیز دوڑنے والے گھوڑوں کی، جب وہ سینہ سے آواز نکالتے ہیں۔ پھر ٹاپوں کی ٹھوکر سے چنگاریاں نکالتے ہیں۔ پھر اچانک صبح کے وقت حملہ کرتے ہیں۔ پھر اس موقع پر گردوغبار اڑاتے ہیں۔ پھر اسی حالت میں دشمن کے لشکر میں جا گھستے ہیں۔ ) پانچ قسموں کا مفہوم آیات میں صفات کا ذکر کیا گیا ہے، موصوف کا نہیں۔ یعنی یہ بات واضح نہیں کی گئی کہ یہ صفات کن کی ہے۔ گھوڑوں کی ہیں یا اونٹوں کی۔ اس لیے مفسرین کے درمیان اختلاف ہوا ہے کہ ان صفات کے موصوف کون ہیں۔ صحابہ اور…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 1–5

فہم القرآن ربط سورت : سورة زلزال کا اختتام اس بات پر ہوا ہے کہ جس نے نیکی کی وہ اپنی نیکی کو دیکھ لے گا اور جس نے برائی کی وہ بھی اپنی برائی کو اپنے سامنے پائے گا۔ العادیات کا مرکزی مضمون یہ ہے کہ قیامت کے دن ہر انسان کو قبر سے اٹھایا جائے گا اور جو کچھ اس نے کیا ہے اس کے سامنے رکھ دیا جائے گا۔ اللہ تعالیٰ نے اس سورة مبارکہ کی ابتدا میں پانچ قسمیں اٹھائی ہیں جو جنگ کے دوران گھوڑوں کی مختلف حالتوں سے متعلق ہیں۔ ارشاد ہوا کہ قسم ہے ان گھوڑوں کی جو تیز دوڑتے ہوئے ہانپتے ہیں پھر اپنی ٹاپوں سے چنگاریاں نکالتے ہیں پھر صبح کے وقت دشمن پر دھاوابولتے ہیں اور گردوغبار اڑاتے ہوئے دشمن کے لشکر میں گھس…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

4 : فَاَثَرْنَ بِہٖ نَقْعًا (پھر اس وقت غبار اڑاتے ہیں) پس اس سے وہ غبار کو حرکت دیتے اور اڑاتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

4 ۔” فاثرن بہ “ یعنی اپنے چلنے کی جگہ سے اڑاتے ہیں۔ یہ ضمیر غیر مذکور کی طرف لوٹ رہی ہے اس لئے کہ معنی مفہوم ہورہا ہے۔ ” نقعا “ غبار۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 1–11

1۔ 11۔ اللہ تعالیٰ کا دین پھیلانے کے لئے جو لوگ گھوڑوں پر سوار ہو کر مخالف لوگوں پر حملہ کرتے تھے ان کے گھوڑوں کے دوڑنے اور دوڑنے میں ہانپنے اور پتھر پر دوڑتے وقت ان کے نعلوں میں سے آگ کے شعلے جھڑنے اور صبح کے وقت حملہ کرنے اور حملہ کے وقت گرد و غبار اٹھنے اور اس گرد و غبار میں سواروں کے دشمنوں میں گھس جانے کی ان سب باتوں کی اللہ تعالیٰ نے قسم کھا کر فرمایا کہ انسان کی حالت اس بات کی گواہی دیتی ہے کہ وہ بڑا ناشکرا ہے کیونکہ اللہ نے اس کو پیدا کیا۔ اس کی زیست بھر کے سب طرح کے آرام کا بندوست کیا۔ پھر یہ انسان اللہ کو چھوڑ کر اوروں کو اپنا معبود ٹھہراتا ہے اس سے بڑھ کر اور کون سی حالت ناشکری کی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 4–6

(فَاَثَرْنَ بِهٖ ) یعنی اپنے دوڑنے اور شبخون مارنے کے ذریعے سے ( نَقْعًا) غبار اڑاتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

(4) اثارہ نقع سے مقصود و مراد ؟ سو ارشاد فرمایا گیا کہ پھر وہ اس موقع پر غبار اڑاتے ہیں، یعنی اپنی تیز رفتار اور زور دار دوڑ کی وجہ سے، کیونکہ صبح کے ٹھنڈے وقت میں جبکہ رات کی شبنم وغیرہ کی بنا پر گردو غبار عام طور پر ساکن اور جما ہوا ہوتا ہے، عام حالات اور معمولی رفتار سے اس میں غبار نہیں اڑتا، سو یہ سب کچھ ان گھوڑوں کی فرمانبرداری اور وفا شعاری کا مظہر و نمونہ ہے، سو اس صورت میں بہ میں موجود حرف با فی کے معنی میں ہوگا، اور ضمیر کا مرجع صبح ہوگا، ( محاسن التاویل وغیرہ) پس جب گھوڑے جانور ہونے کے باوجود اور عقل و شعور سے عاریہونے کے باوصف اس انسان کے حکم و ارشارے کے اس قدر پابند اور اس کے اتنے…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 1–11

گھوڑے کی وفاداری سے بندہ سبق سیکھے تشریح : یہ سورت پوری کی پوری انسان کو راہ ہدایت دکھانے، آخرت، حساب کتاب اور اس سچی خبر کی تصدیق میں ہی نازل کی گئی ہے کہ دنیا کے عیش و آرام مال و دولت میں اس قدر مگن نہ ہوجاؤ کہ اپنے پیدا کرنے والے ' پرورش کرنے والے اور پھر اپنے آخری ٹھکانے سے ہی غافل ہوجاؤ۔ اس سچائیـ کو مزید تقویت دینے کے لیے اللہ تعالیٰ اس وفادار ' مضبوط اور انتہائی فرمانبردار پر خلوص جانور کی قسم کھا رہا ہے جو کہ تمام مفسرین کی رائے کے مطابق گھوڑا ہی ہوسکتا ہے۔ کیونکہ تمام جانوروں میں سب سے زیادہ انسان کے کام آنے والا خاص طور سے جنگوں میں ' سفر میں اور بار برداری میں گھوڑا ہی ہے۔ یہ بڑا…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–11

سورة العادیات۔ آیات 1 تا 11 اسرار ومعارف۔ قسم ہے جہاد میں دوڑنے والے گھوڑوں کی انکی مشقت کی ان کے نعلوں سے چنگاریاں نکلتی ہیں اور جب وہ علی الصبح کسی پر ٹوٹ پڑتے ہیں اور پھر جب ہر طرف گرد اڑتی ہے اور دشمنوں کی فوج میں گھس پڑتے ہیں یعنی جہاد کا یہ سارامنظر اس بات پہ گواہ ہے انسان اپنے پروردگار کا سخت ناشکرا ہے کہ جو بات یعنی نظام اسلام اس کی بھلائی کے لیے تھا اس کے لیے روکاوٹ بن گیا اور اس کے نفاذ کے لیے جہاد کی ضرورت پیش آئی اللہ کو وہ جانور بھی پیارے ہیں جو اس کی راہ میں جہاد میں کام آئیں اور یہ انسان ہو کر اور خوب جانتے ہوئے کہ اسلام ہی سلامتی ہے اور یہ حق ہے پھر بھی اس کی مخالفت پہ کمربستہ…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 9 یا ” اس جگہ گرد اڑاتے ہیں۔ “ یہ دو ترجمے میں لحاظ سے ہیں کہ ” بہ “ میں ہ کی ضمیر وقت کیلئے بھی ہوسکتی ہے اور جگہ کے لئے بھی

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(100:4) فاثرن بہ نقعا : یہ جملہ بھی معطوف ہےکا عطف کلام محذوف پر ہے۔ ای عدون فاثرن : وہ (حملہ کرتے وقت) سرپٹ دوڑتے یا دوڑتی ہیں۔ پھر غبار اڑاتی یا اڑاتے ہیں (گھوڑے) اثرن ماضی کا صیغہ جمع مؤنث غائب اثارۃ (باب نصر، ضرب) مصدر بمعنی اٹھانا۔ برانگیختہ کرنا۔ اڑانا۔ نقعا : مفعول بہٖ ۔ گردوغبار۔ خاک۔ بہ کی ضمیر دشمن پر چھاپہ مارنے کے وقت کی طرف راجع ہے۔ (بیضاوی) یعنی وہ گھوڑے جو چھاپہ مارنے کے وقت (جوش میں اپنے سموں سے) غبار اڑاتے ہیں۔ فاثرن بہ نقعا : ای ھیجن فی الصبح غبارا۔ (کلمات القرآن) وہ صبح کے وقت (جب دشمن پر حملہ کرتے ہیں) غبار اٹھاتے ہیں۔ بعض کے نزدیک بہ کی ضمیر دشمن کے مقام کی طرف راجع ہے…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–11

العدیت۔ دوڑنے والے گھوڑے۔ ضبح۔ ہانپتے ہوئے۔ الموریت۔ چنگاریاں نکالنے والے۔ قدح۔ آگ جھاڑ کر۔ المغیرات۔ وہ حملہ کرنے والے ہیں۔ اثرن۔ اٹھاتے ہیں۔ نقع۔ گردوغبار۔ وسطن۔ وہ بیچ میں گھس جاتے ہیں۔ کنود ۔ ناشکرا۔ شہید۔ گواہ۔ الخیر۔ مال و دولت۔ بعثر۔ باہر نکالا گیا۔ حصل۔ حاصل کیا گیا۔ تشریح : انسان کیچ اروں طرف اللہ نے اتنی نعمتوں کو بکھیر رکھا ہے جنہیں شمار کرنا بھی ممکن نہیں ہے۔ یہ نعمتیں انسان سے اس بات کا مطالبہ کرتی نظر آتی ہیں کہ اسے ہر سانس میں اللہ کا شکر ادا کرنا چاہیے۔ اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت میں زندگی گزارنی چاہیے۔ اسے وہی کرنا چاہیے جس کے کرنے کا اس کو حکم دیا گیا ہے اور ہر اس بات سے…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 1–11

جہاد کی اہمیت وفضیلت۔ (ف 1) اللہ تعالیٰ کا دین پھیلانے کے لیے جو لوگ گھوڑوں پر سوار ہوکر مخالف لوگوں پر حملہ کرتے ہیں ان کے گھوڑوں کے دوڑنے اور دوڑنے میں ہانپنے اور پتھر پر دوڑتے وقت ان کے نعلوں میں سے آگ کے شعلے جھڑنے اور صبح کے وقت حملہ کرنے اور حملہ کے وقت گردوغبار اٹھنے اور اس گردوغبار میں سواروں کے دشمنوں میں گھس جانے کی (حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں یہ جہاد والے سواروں کی ایک قسم ہے اس سے بڑا کون ساعمل ہوگا، کہ اللہ کے کام پر اپنی جان دینے کو حاضر ہیں اور یہ جہاد کرنے والے سواروں کی اللہ کی راہ میں سرفروشی وجانبازی بتلاتی ہے کہ وفادار وشکرگذار بندے ایسے ہوتے ہیں) ان سب باتوں کی اللہ تعالیٰ…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 3–6

[2] یہ ہے وہ بات جس پر قسم کھائی گئی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جو انسان گھوڑوں کی یہ ساری جاں نثاریاں دیکھتا ہے اور ان کی قربانیوں سے بہرہ مند ہوتا ہے اسے یہ سوچنے کی توفیق نہیں ہوتی کہ وہ بھی اپنے رب کا غلام ہے اور اس پر بھی یہ فرض عائد ہوتا ہے کہ وہ بھی انہی کی طرح اپنے رب کی اطاعت میں سرگرم رہے۔ اگر وہ ایسا نہیں کرتا تو وہ سخت ناشکرا ہے کیونکہ گھوڑا جانور ہو کر اپنے مالک کا حق پہچانتا ہے اور یہ انسان ہو کر اپنے خالق کا حق نہیں پہچانتا۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(4) پھر اس وقت گرد و غبار اڑھاتے ہیں۔ یعنی صبح کے وقت گردوغبار نہیں ہوتا بلکہ دبا ہوا ہوتا ہے مگر ان کی دوڑ اور رفتار اتنی تیز ہوتی ہے کہ اس وقت بھی غبار اڑتا ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

پھر گرد و غبار اڑانے والے گھوڑوں کے رب کی قسم 4 ؎ (اثرن) انہوں نے اٹھایا ، اڑایا جس کے معنی برانگیختہ کرنے اور غبار اڑانے کے ہیں ۔ ماضی کا صیغہ جمع مؤنث غائب ( نفعا ً ) اسم منصوب ، غبار ، خاک نقع شتر مرغ کی آواز ، پانی پر جمع ہونے کی تنگ جگہ ، کنویں میں جمع شدہ پانی ۔ گرد و غبار ۔ گھوڑوں پر حملہ کرنے کے باعث دور ہی گرد و غبار کے اٹھنے کا پتہ چل جاتا ہے کہ اس طرف سے آنے والا قابلہ نہایت تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے ۔ یعنی وہ گھوڑے جو اپنی تیزی کے باعث گرد و غبار اڑانے لگتے ہیں اور حملہ آور جب حملہ کرتے ہیں تو وہ دشمنوں کی فوجوں میں اچانک داخل ہو کر ان پر حملہ کردیئے ہیں اور ان پر وار کر کے ان کو تہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 2–7

Verse [ 100:5] فَوَسَطْنَ بِهِ جَمْعًا (then enter, at the same time, into the centre of the [ opposing ] host) In other words, they penetrate into the centre of the enemy forces without the least degree of fear. The word kanud, (100:6) according to Hasan Basri (رح) ، refers to the one who counts the calamities that befall him, and forgets Allah's favours. Abu Bakr Wasiti said that kanud is the one who spends the bounties of Allah for sinful purposes. Tirmidhi said that kanud is the one who looks at the bounty, and not at the Bounteous Lord. In short, all these interpretations lead to the…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 3–5

3 The practice among the Arabs was that when they had to mount a raid on a settlement, they marched out in the night so as to take the enemy by surprise; then they would launch a sudden attack early. in the morning so that everything became visible in the light of day, and at the same tune it did not become so bright that the victim could notice their movement from a distance and be ready to meet the offensive.

Read the full tafseer →