فَوَسَطْنَ بِهٖ جَمْعًا ۟ۙفَوَسَطۡنَ بِهٖ جَمۡعًا
پھر اس وقت دشمن کی فوج میں جا گھستے ہیں
— Fateh Muhammad Jalandhari
Arriving thereby in the center collectively,
— Saheeh International
Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 25 of juz
فَوَسَطْنَ بِهٖ جَمْعًا ۟ۙفَوَسَطۡنَ بِهٖ جَمۡعًا
پھر اس وقت دشمن کی فوج میں جا گھستے ہیں
— Fateh Muhammad Jalandhari
Arriving thereby in the center collectively,
— Saheeh International
Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 25 of juz
Read the whole surah · Surah Al-Aadiyaat
پھر اِسی حالت میں کسی مجمع کے اندر جا گھستے ہیں
پھر اس وقت دشمن کی فوج میں جا گھستے ہیں
پھر اسی کے ساتھ فوجیوں کے درمیان گھس جاتے ہیں
پھر اسی وقت کسی جمگھٹے کے بیچوں بیچ جاگھستے ہیں۔
پھر دشمن کے بیچ لشکر میں جاتے ہیں،
پھر وہ اسی وقت (دشمن کے) لشکر میں گھس جاتے ہیں،
پھر وہ اس کے ساتھ بڑی جماعت کے درمیان جا گھستے ہیں۔
پھر اسی حالت میں وہ لشکر میں جاگھستے ہیں
اور غبار کے ساتھ غول میں گھس جانے والے
پھر وہ اسی حالت میں جا گھستے ہیں کسی لشکر میں
پھر اس وقت جماعت میں جا گھستے ہیں۔
پھر اس کے ساتھ وہ (دشمن کی) جمعیت کے اندر گھس جاتے ہیں۔
پھر اس وقت دشمن کی فوج میں جا گھستے ہیں۔
and penetrate deep into a host.
then enter, at the same time, into the centre of the (opposing) host,
then enter, at the same time, into the centre of the (opposing) host,
And penetrating forthwith as one into the midst.
Cleaving, as one, the centre (of the foe),
— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran
Arriving thereby in the center collectively,
which engulfs the enemy.
Then rush thereby upon an assembly:
And cleaving their way therein into the host,
And penetrate forthwith into the midst (of the foe) en masse;-
— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary
Explained with ayahs 1–11
انسان کا نفسیاتی تجزیہ : مجاہدین کے گھوڑے جبکہ اللہ کی راہ میں جہاد کے لیے ہانپتے اور ہنہاتے ہوئے دوڑتے ہیں ان کی اللہ تبارک و تعالیٰ قسم کھاتا ہے پھر اس تیزی میں دوڑتے ہوئے پتھروں کے ساتھ ان کے نعل کا ٹکرانا اور اس رگڑ سے آگ کی چنگاڑیاں اڑنا پھر صبح کے وقت دشمن پر ان کا چھاپہ مارنا اور دشمنان رب کو تہہ وبالا کرنا آنحضرت ﷺ کی یہی عادت مبارک تھی کہ دشمن کی کسی بستی پر آپ جاتے تو وہاں رات کو ٹھہر کر کام لگا کر سنتے اگر اذان کی آواز آگئی تو آپ رک جاتے نہ آتی تو لشکر کو حکم دیتے کہ بزن بول دیں پھر ان گھوڑوں کا گردو غبار اڑانا اور ان سب کا دشمنوں کے درمیان گھس جانا ان سب چیزوں کی قسم کھا کر پھر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–5
سورة العدیات 3 اہل عرب کا قاعدہ تھا کہ جب کسی بستی پر انہیں چھاپہ مارنا ہوتا تو رات کے اندھیرے میں چل کر جاتے تاکہ دشمن خبردار نہ ہوسکے، اور صبح سویرے اچانک اس پر ٹوٹ پڑتے تھے تاکہ صبح کی روشنی میں ہر چیز نظر آسکے، اور دن اتنا زیادہ روشن بھی نہ ہو کہ دشمن دور سے ان کو آتا دیکھ لے اور مقابلہ کے لیے تیار ہوجائے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–7
فوسطن بہ جمعاً ، یعنی یہ دشمن کی صفوں میں بےخوف گھس جاتے ہیں۔ کنود کے معنی میں حضرت حسن بصریٰ نے فرمایا کہ وہ شخص جو مصائب کو یاد رکھے اور نعمتوں کو بھول جائے اس کو کنود کہا جاتا ہے۔ ابو بکر واسطی نے فرمایا جو اللہ کی نعمتوں کو اس کی معصیتوں میں صرف کرے وہ کنود ہے۔ اور ترمذی نے فرمایا کہ جو شخص نعمت کو دیکھے اور منعم یعنی نعمت دینے والے کو نہ دیکھے وہ کنود ہے۔ ان سب اقوال کا حاصل نعمت کی ناشکری کرنا ہے۔ اس لئے کنود کا ترجمہ ناشکر کا کیا گیا ہے۔
Read the full tafseer →’بِہٖ‘ میں ’ب‘ یہاں ملابست کے مفہوم میں اور ضمیر کا مرجع ’نَقْعًا‘ ہے۔ یعنی وہ اسی آندھی اور طوفان کے ساتھ دشمن کے ایک پورے غول کے اندر گھس جاتے ہیں اور اس کے نیزوں اور تلواروں کی ذرا پروا نہیں کرتے۔ انھیں اپنی جانوں سے زیادہ اپنے مالکوں کا مقصد عزیز ہوتا ہے۔ اس کی خاطر وہ ہر خطرے سے بے خوف ہو کر اقدام کرتے ہیں اور یہی ان کے شایان شان ہے۔
Read the full tafseer →5۔ 1 فوسطن، درمیان میں گھس جاتے ہیں۔ اس وقت، یا حالت گرد و غبار میں۔ جمعا دشمن کے لشکر۔ مطلب ہے کہ اس وقت، یا جبکہ فضا گردوغبار سے اٹی ہوئی ہے یہ گھوڑے دشمن کے لشکروں میں گھس جاتے ہیں اور گھمسان کی جنگ کرتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–6
1: اس سے مراد وہ جنگی گھوڑے ہیں جن پر سوار ہو کر اس زمانہ میں لڑائیاں لڑی جاتی تھیں، اس کی قسم کھانے میں یہ اشارہ ہے کہ یہ گھوڑے اپنے مالکوں کے اتنے وفادار ہوتے تھے کہ اپنی جان کو خطرے میں ڈال کر اپنے مالکوں کے حکم کی تعمیل بھی کرتے تھے، اور ان کی جان کی حفاظت بھی، اللہ تعالیٰ نے اتنے مضبوط جانور کو انسان کا ایسا تابع اور وفادار بنادیا ہے، گنہگار انسان کو یاد دلایا جارہا ہے کہ اپنے مالک اور خالق کے اس احسان کا شکر ادا کرنے کے بجائے اس کی نافرمانی کرتا ہے اور اپنے پروردگار کا اتنا بھی وفادار نہیں جتنے اس کے گھوڑے اس کے وفادار ہوتے ہیں، چنانچہ اگلی آیت میں فرمایا گیا ہے کہ انسان یعنی گنہگار…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–5
اللہ تعالیٰ یہاں سواروں کے دستے کی قسم اٹھاتے ہیں۔ ان کی ایک ایک جنگی حرکت کو ترتیب کے ساتھ لایا جاتا ہے۔ جب یہ دستہ اپنے حملے کا آغاز کرتا ہے اور تیز رفتاری کے ساتھ منزل کی طرف بڑھتا ہے۔ گھوڑے پھنکارمارتے آگے جارہے ہیں۔ یہ اپنے سموں سے پتھروں سے چنگاڑیاں نکالتے جاتے ہیں۔ پھر عین صبح کے وقت یہ دشمن پر ٹوٹ پڑتے ہیں ، یہ حملہ نہایت سرعت کے ساتھ ہوتا ہے اور اچانک ہوتا ہے۔ حملہ کے وقت گھوڑوں کی بھگدڑ سے غبار اڑتا ہے۔ کیونکہ دشمن حملے کے لئے تیار نہیں ہوتا اور اس کی حرکات غیر مرتب ہیں ، جب یہ دستہ دشمن کی صفوں میں خلاف توقع جاگھستا ہے تو سخت انتشار و اضطراب برپا ہوجاتا ہے۔ یہ کسی بھی حملہ کے وہ پے…
Read the full tafseer →4 یعنی اس وقت بےخوف و خطر دشمن کی فوج میں جا گھستے ہیں۔ (تنبیہ) ممکن ہے کہ قسم کھانا گھوڑوں کی مقصود ہو جیسا کہ ظاہر ہے، اور ممکن ہے مجاہدین کے رسالہ کی قسم ہو۔ حضرت شاہ صاحب (رح) لکھتے ہیں۔ " یہ جہاد والے سواروں کی قسم ہے۔ اس سے بڑا کون عمل ہوگا کہ اللہ کے کام پر اپنی جان دینے کو حاضر ہے۔ "
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–5
آیت 5{ فَوَسَطْنَ بِہٖ جَمْعًا۔ } ”پھر اس کے ساتھ وہ دشمن کی جمعیت کے اندر گھس جاتے ہیں۔“ پرانے زمانے کی جنگوں میں گھوڑے بہت موثر اور کارآمد ہتھیار کے طور پر استعمال ہوتے تھے۔ حملے کے وقت گھوڑے اپنے سواروں کے حکم پر مخالف فوج کی طرف سے تیروں کی بوچھاڑ اور نیزوں کی یلغار کی پروا نہ کرتے ہوئے ان کی صفوں میں گھس جاتے تھے۔ گھوڑے کا اپنے مالک کی فرمانبرداری میں اپنا خون پسینہ ایک کردینے کا جذبہ اور اس کی وفاداری میں اپنی جان کی بازی تک لگادینے کا وصف ! یہ ہے دراصل ان قسموں کے مضمون کا مرکزی نکتہ جس کی طرف یہاں توجہ دلانا مقصود ہے۔ چناچہ گھوڑوں کے ان اوصاف کے ذکر کے بعد تقابل کے طور پر انسان کے…
Read the full tafseer →5 اس بات میں اختلاف ہے کہ اس میں جَمْعًا سے مراد کون سی جمعیت یا لشکر ہے ؟ بعض علماء کا خیال ہے کہ یہاں جَمْعًا سے مراد وہ قبیلہ ہے جس پر انتقام یا لوٹ مار کی غرض سے حملہ کیا جاتا ہے۔ اور گھوڑوں سے مراد وہی گھوڑے ہیں جو عرب قبائل ایسے موقعوں پر استعمال کیا کرتے تھے۔ اپنے اس موقف کے حق میں ان کی دلیل یہ ہے کہ آگے چل کر اللہ تعالیٰ نے جواب قسم کے دوران فرمایا کہ : انسان مال کی محبت میں بری طرح مبتلا ہے اور چونکہ عرب قبائل مال کی محبت کی وجہ سے ہی ایسے حملے کرتے تھے لہذا یہاں جن گھوڑوں کی قسم کھائی گئی ہے وہ وہی لوٹ مار کرنے والے گھوڑے ہیں اور بعض علماء کا یہ خیال ہے کہ ان آیات میں اللہ تعالیٰ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–5
1۔ ان گھوڑوں سے مراد لڑائی کے گھوڑے ہیں، جن کے اوصاف سے اہل عرب خوب واقف تھے۔ (آیت) ” ضبحا “۔ گھوڑے عادۃ تیز دوڑ کے بعد ہانپنے لگتے ہیں، (آیت) ” فالموریت قدحا “۔ یعنی ان کی نعلوں سے پہاڑوں کے پتھر آگ دے اٹھتے ہیں، کنایہ کمال گرم رفتاری سے ہے (آیت) ” فالمغیرت صبحا “۔ عرب میں عام دستور صبح سویرے تاخت کرنے کا تھا۔ (آیت) ” فاثرن بہ نقعا “۔ کمال تیز رفتاری کے باعث ان کے قدموں سے غبار اڑتا ہے۔ (آیت) ” فوسطن بہ جمعا “۔ یعنی جماعت اعداء میں در آتے ہیں۔ بہ میں ب زائدہ تاکید کے لئے ہے۔ حضرات صوفیہ نے ان صفات سے اپنے مذاق کے مطابق اشارات معرفت خوب نکالے ہیں، مثلا ! کچھ ” اشغال حرکت نفس “ میں مشغول رہتے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–11
ترجمہ :۔ شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے، قسم ہے ان گھوڑوں کی جو جہاد میں پھنکارتے ہوئے (ہانپتے ہوئے) دوڑتے ہیں، ضبح جوف (پیٹ) کی اس آواز کو کہتے ہیں جو دوڑتے وقت نکلتی ہے، پھر ان گھوڑوں کی جو ٹاپوں سے چنگاریاں جھاڑتے ہیں پھر ان گھوڑوں کی جو صبح سویرے دشمن پر شب خون مارتے ہیں، اپنے سوار کے شب خوب مارنے سے پھر اس موقع پر یعنی اپنے دوڑنے کی جگہ یا اس وقت اپنی شدید حرکت کی وجہ سے غبار اڑاتے ہیں پھر اسی غبار میں دشمن کے مجمع میں گھس جاتے ہیں یعی ان کے وسط تک پہنچ جاتے ہیں اور فعل کا عطف اسم پر اس لئے درست ہے کہ اسم فعل کی تاویل میں ہے، یعنی معنی میں واللاتی عدون،…
Read the full tafseer →فوسطن بہ جمعا . پھر اس غبار میں یا چھاپہ مارنے کے وقت یا چھاپہ مارنے کے مقام پر دشمنوں کی فوج کے اندر وہ داخل ہوجاتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–8
(3۔ 8) پھر صبح کو اچانک حملہ کرتے ہیں پھر اس وقت غبار اڑاتے ہیں اور دشمنوں کی جماعتوں میں جا گھستے ہیں یا یہ مطلب ہے کہ قسم ہے حاجیوں کے گھوروں اور ان کے اونٹوں کی جب وہ عرفات سے مزدلفہ کو آتے ہیں حالاں کہ ان کا سانس پھولا ہوا ہوتا ہے اور پھر وہاں آ کر آگ روشن کرتے ہیں اور علی الصباح پھر منی واپس جاتے ہیں آگے جواب قسم ہے کہ کافر آدمی یعنی قرط بن عبداللہ یا ابو حباب اپنے پروردگار کی نعمتوں کا بڑٓ ناشکر گزار ہے اور اس کو خود بھی اپنے اس فعل کی خبر ہے اور یہ شخص مال کثیر کی محبت میں مضبوط ہے۔
Read the full tafseer →فوسطن بہ جمعاً :”وسطن“ ”وسط یسط وسطاً“ (ض)”القوم او المکان“ کسی چیز کے درمیان میں ہونا۔“
Read the full tafseer →پھر اسی وقت (دشمن کے) لشکر میں گھس جاتے ہیں۔ جمعا یہ وسطن کا مفعول بہ ہے وہ اپنے سواروں کے ساتھ دشمنوں کے وسط میں جا پہنچتے ہیں یعنی اس جمیعت میں جا پہنچتے ہیں جس پر وہ حملہ کرتے ہیں۔ حضرت ابن مسعود نے کہا : یعنی وہ مزدلفہ جا پہنچتے ہیں۔ اسے جمعا کا نام دیا کیونکہ لوگ اس میں جمع ہوتے ہیں۔ یہ جملہ بولا جاتا ہے : وسطت القوم اسطھم وسطا وسطۃ یعنی میں ان کے درمیان جا پہنچا۔ حضرت علی شیر خدا نے اسے مشدد پڑھا ہے۔ فوسطن یہ قتادہ، حضرت ابن مسعود اور ابو رجاء کی لغت ہے، دونوں لغتوں کا ایک ہی معنی ہے یہ جملہ بولا جاتا ہے : وسطت القوم توستھم دنوں کا معنی ایک ہی ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : مشدد پڑھیں تو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–11
1۔ ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ سورة والعدیت مکہ میں نازل ہوئی۔ 2۔ محمد بن نصر نے عطا بن ابی رباح کے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اذا زلزلت الارض آدھے قرآن کے برابر ہے اور والعدیت آدھے قرآن کے برابر ہے۔ 3۔ محمد بن نصر نے عطا بن ابی رباح کے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اذا زلزت آدھے قرآن کے برابر ہے آیت والعدیت آدھے قرآن کے برابر ہے اور قل ہوا للہ احد تہائی قرآن کے برابر ہے اور قل یا ایہا الکفرون چوتھائی قرآن کے برابر ہے۔۔ 4۔ البزار وابن المنذر وابن ابی حاتم والدار قطنی فی الافراد وابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ رسول…
Read the full tafseer →[فَوَسَطْنَ بِهٖ : پھر وہ درمیان میں گھس جاتے ہیں اس وقت ][ جَمْعًا : کسی جماعت کے ]
Read the full tafseer →﴿ فَوَسَطْنَ بِهٖ جَمْعًاۙ005﴾ (پھر یہ گھوڑے کسی جگہ پہنچتے ہیں تو اس وقت جماعت کے درمیان گھس جاتے ہیں) اہل عرب کے نزدیک گھوڑوں کی بڑی اہمیت تھی ان کا تو کام ہی یہی تھا کہ باہم لڑتے رہتے تھے اور بڑے قبیلے چھوٹے قبیلوں پر صبح صبح کو غارت گری ڈالتے تھے یعنی رات کو رکے رہتے تھے اور جب صبح ہوتی تھی تو جہاں حملہ کرنا ہوتا وہاں حملہ کردیتے تھے اموال لوٹ لیتے تھے اور جو کوئی سامنے آتا اسے قتل کردیتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے گھوڑوں کی قسم کھائی اور انہیں یاد دلایا کہ دیکھو ہم نے تم کو جو نعمتیں دی ہیں ان میں ایسے جاندار، جاندار جگوں میں کام آنے والے گھوڑے بھی دیئے ہیں دوسری نعمتوں کی طرح ان نعمتوں کا شکر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–11
سرگرمی بہائم در اطاعت مالک ونافرمانی وناشکری انسان بآقاء رب العالمین : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” والعدیت ضبحا ...... الی ........ ان ربھم بھم یومئذ لخبیر “۔ (ربط) گزشتہ سورت میں مجازات اعمال کا قانون بیان کیا گیا تھا اور یہ کہ انسان اپنی زندگی میں جو بھی نیکی یا بدی کا عمل کرے گا روز قیامت قیامت کا اس بدلہ پاکر رہے گا، اب اس سورت میں انسان کی غفلت و لاپرواہی اور اپنے رب کی ناشکری کی مذموم خصلت بیان کی جارہی ہے اور یہ کہ دراصل اس روش کا منشاء حرص مال، لالچ اور نفس کی خواہش ہے، اس کے پیچھے پڑکر انسان اپنے رب کو بھلا دیتا ہے اور اس سے غافل ہوجاتا ہے کہ مرنے کے بعد اس کو دوبارہ زندہ ہونا اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–7
2:۔ ” والعادیات ضبحا “ ہانپ ہانپ کر دوڑنے والے گھوڑے۔ ” فالموریات قدحا “ پتھریلی زمین پر دوڑتے وقت اپنے سموں سے چنگاریاں نکالنے والے۔ ” فالمغیرات صبحا “ پھر صبح صبح لوٹ مار کرنے والے۔ ” فاثرن بہ نقعا “ دوڑتے وقت گرد و غبار اڑاتے ہیں۔ ” فوسطن بہ جمعا “ پھر تیز رفتار کے ساتھ جماعتوں کے اندر گھس جاتے ہیں۔ ” ان الانسان لربہ لکنود “ یہ لوٹ مار کرنے والے گھوڑے اس پر شاہد ہیں کہ انسان اپنے پروردگار کا نہایت ہی ناشکر گذار ہے۔ قالہ الشیخ (رح) تعالی۔ عامۃ المفسرین کے نزدیک یہ صفتیں مجاہدین کے گھوڑوں کی ہیں اور بعض کے نزدیک ان صفات سے فرشتے مراد ہیں۔ ” وانہ علی ذلک لشہید “ مذکورہ شواہد کے علاوہ انسان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–11
مکی زندگی میں نازل ہوئی ، تاہم حضرت عبداللہ بن عباس ، حضرت قتادہ اور امام مالک سے منقول ہے کہ یہ مدنی سورة ہے۔ اس کی گیارہ آیات ہیں۔ یہ سورة چالیس الفاظ اور ایک سو تریسٹھ حروف پر مشتمل ہے۔ گزشتہ سورة کے ساتھ ربط سابقہ سورة زلزال میں انسان کے جزائے عمل کا ذکر تھا کہ جزائے عمل کا واقع ہونا لازم ہے۔ اس سے پہلی سورة البینتہ میں اسلامی تعلیمات کا خلاصہ ہے ۔ انسان کو اللہ کی عبادت کرنی چاہئے اور حنیف بن کر رہنا چاہئے۔ بدنی اور مالی عبادات یعنی مال اور زکواۃ پر کاربند ہونا چاہئے۔ خدا کا خوف ہر وقت دل میں جاگزیں ہونا چاہئے۔ اس سورة مبارکہ میں ان بیماریوں کا ذکر ہے جو کہ مذکورہ بالا پروگرم پر عمل…
Read the full tafseer →فَوَسَطْنَ بِہٖ جَمْعًا 5 ۙ وسط وَسَطُ الشیءِ : ما له طرفان متساویا القدر، ويقال ذلک في الكمّيّة المتّصلة کالجسم الواحد إذا قلت : وَسَطُهُ صلبٌ ، وضربت وَسَطَ رأسِهِ بفتح السین . ووَسْطٌ بالسّكون . يقال في الكمّيّة المنفصلة كشيء يفصل بين جسمین . نحو : وَسْطِ القومِ كذا . والوَسَطُ تارة يقال فيما له طرفان مذمومان . يقال : هذا أَوْسَطُهُمْ حسبا : إذا کان في وَاسِطَةِ قومه، وأرفعهم محلّا، وکالجود الذي هو بين البخل والسّرف، فيستعمل استعمال القصد المصون عن الإفراط والتّفریط، فيمدح به نحو السّواء والعدل والنّصفة، نحو : وَكَذلِكَ جَعَلْناكُمْ أُمَّةً وَسَطاً [ البقرة/ 143] وعلی ذلک قوله تعالی: قالَ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–11
ترکیب ¦ وللقسم العادیات جمع عادیۃ من العدود ھوالمشی بسرعۃٍ فقلبت الواؤ یائً لکسرۃ ما قبلھا کا لغازیات من الغزو۔ والمراد بھا الخیل الجھادیۃ دقیل بعیر الحجاج ضبحا الضبح صوت اجواف الخیل اذا عدت وقیل السیر و نوع من العد و یقال ضبح الفرس اذا عد ابشدۃ من الضبح بمعنی الدفع وکان الحاء بدل من العین علی الاول منصوب علی الحال ای ضابحات وعلی الثانی مفعول مطلق موکد لاسم الفاعل و یجوزان یکون مصدر الفعل محدوف ای یضیح ضبحا۔ فالمو ریات قدحًا عطف العادیات من الایراء و ھوا اخراج النار جمع موریۃ والقدح الصک فجعل ضرب الخیل بحوا فرھا کالقدح بالزنا دوالکلام فی نصب قدحا کا لکالم ضبحا فالمغیرات ای التی تغیر علی العدو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–5
وَالْعٰدِیٰتِ ضَبْحًا۔ فَالْمُوْرِیٰتِ قَدْحًا۔ فَالْمُغِیْرٰتِ صُبْحًا۔ فَاَثَرْنَ بِہٖ نَقْعًا۔ فَوَسَطْنَ بِہٖ جَمْعًا۔ (العٰدیٰت : 1 تا 5) (قسم ہے تیز دوڑنے والے گھوڑوں کی، جب وہ سینہ سے آواز نکالتے ہیں۔ پھر ٹاپوں کی ٹھوکر سے چنگاریاں نکالتے ہیں۔ پھر اچانک صبح کے وقت حملہ کرتے ہیں۔ پھر اس موقع پر گردوغبار اڑاتے ہیں۔ پھر اسی حالت میں دشمن کے لشکر میں جا گھستے ہیں۔ ) پانچ قسموں کا مفہوم آیات میں صفات کا ذکر کیا گیا ہے، موصوف کا نہیں۔ یعنی یہ بات واضح نہیں کی گئی کہ یہ صفات کن کی ہے۔ گھوڑوں کی ہیں یا اونٹوں کی۔ اس لیے مفسرین کے درمیان اختلاف ہوا ہے کہ ان صفات کے موصوف کون ہیں۔ صحابہ اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–5
فہم القرآن ربط سورت : سورة زلزال کا اختتام اس بات پر ہوا ہے کہ جس نے نیکی کی وہ اپنی نیکی کو دیکھ لے گا اور جس نے برائی کی وہ بھی اپنی برائی کو اپنے سامنے پائے گا۔ العادیات کا مرکزی مضمون یہ ہے کہ قیامت کے دن ہر انسان کو قبر سے اٹھایا جائے گا اور جو کچھ اس نے کیا ہے اس کے سامنے رکھ دیا جائے گا۔ اللہ تعالیٰ نے اس سورة مبارکہ کی ابتدا میں پانچ قسمیں اٹھائی ہیں جو جنگ کے دوران گھوڑوں کی مختلف حالتوں سے متعلق ہیں۔ ارشاد ہوا کہ قسم ہے ان گھوڑوں کی جو تیز دوڑتے ہوئے ہانپتے ہیں پھر اپنی ٹاپوں سے چنگاریاں نکالتے ہیں پھر صبح کے وقت دشمن پر دھاوابولتے ہیں اور گردوغبار اڑاتے ہوئے دشمن کے لشکر میں گھس…
Read the full tafseer →5 : فَوَسَطْنَ بِہٖ جَمْعًا (پھر اس وقت جماعت میں جا گھستے ہیں) بہٖؔ اس وقت میں جمعًا دشمن کی جماعتیں۔ وسطؔ بمعنی تو سط ہے۔ ایک قول : ضمیر غارت کے مقام کی طرف راجع ہے۔ نمبر 2۔ وہ دوڑ جس پر دلالت کررہا ہے۔ (مطلب یہ ہوا وہ گھوڑے جو دشمن پر چھاپہ مارتے ہیں چھاپہ مارنے کے وقت یا چھاپہ مارنے کی جگہ یا چھاپہ مار نے کیلئے جو دوڑ دوڑتے اور اس سے غبار اڑاتے ہیں) ۔ نحو : والعادیات اور فاثرن کا عطف اس فعل پر ہے۔ جس کی جگہ اسم فاعل لایا گیا۔ کیونکہ معنی اس طرح ہے واللاتی عدون فاورین فاغرن فاثرن۔
Read the full tafseer →5 ۔” فوسطن بہ جمعا “ یعنی اس کے ساتھ دشمن کے درمیان میں داخل ہوجاتے ہیں اور وہ لشکر ہے۔ کہا جاتا ہے ” وسطت القوم “ تخفیف کے ساتھ اور ” وسطتھم “ تشدید کے ساتھ اور ” توسطھم “ تشدید کے ساتھ سب کا ایک معنی ہے۔ قرضی (رح) فرماتے ہیں منیٰ کا مجمع مراد ہے۔ اللہ تعالیٰ نے تمام اشیاء کی قسم کھائی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–11
1۔ 11۔ اللہ تعالیٰ کا دین پھیلانے کے لئے جو لوگ گھوڑوں پر سوار ہو کر مخالف لوگوں پر حملہ کرتے تھے ان کے گھوڑوں کے دوڑنے اور دوڑنے میں ہانپنے اور پتھر پر دوڑتے وقت ان کے نعلوں میں سے آگ کے شعلے جھڑنے اور صبح کے وقت حملہ کرنے اور حملہ کے وقت گرد و غبار اٹھنے اور اس گرد و غبار میں سواروں کے دشمنوں میں گھس جانے کی ان سب باتوں کی اللہ تعالیٰ نے قسم کھا کر فرمایا کہ انسان کی حالت اس بات کی گواہی دیتی ہے کہ وہ بڑا ناشکرا ہے کیونکہ اللہ نے اس کو پیدا کیا۔ اس کی زیست بھر کے سب طرح کے آرام کا بندوست کیا۔ پھر یہ انسان اللہ کو چھوڑ کر اوروں کو اپنا معبود ٹھہراتا ہے اس سے بڑھ کر اور کون سی حالت ناشکری کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–6
(فَاَثَرْنَ بِهٖ ) یعنی اپنے دوڑنے اور شبخون مارنے کے ذریعے سے ( نَقْعًا) غبار اڑاتے ہیں۔
Read the full tafseer →(5) گھوڑوں کے کسی لشکر میں گھسنے کا ذکر وبیان : سو اور شاد فرمایا گیا کہ پھر وہ اسی حال میں جا گھستے ہیں کسی لشکر میں، اپنی جان کی پرواہ کیے بغیر، اس انسان کے حکم و ارشاد اور اس کے ایڑ لگانے پر، محض بھوسے چارے اور چنے وغیرہ کی اس معمولی سی خوراک کے عوض، جو اس انسان کی طرف سے ان کو ملتی ہے، اور بس۔ ورنہ یہ تو ان کا نہ خالق ہے نہ مالک حقیقی، تو پھر کیا خیال ہے اس انسان کے بارے میں جو اپنے رب کے احکام کی پرواہ کیے بغیر، اور اس کا باغی و طاغی اور سرکش بن کر زندگی گزارتا ہے، حالانکہ یہ اس خالق حقیقی کی مخلوق بھی ہے اور اس کی ملکیت بھی زمہ دار اور مسؤل بھی، اور اس کے یہاں جوابدہ بھی، اور اس کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–11
گھوڑے کی وفاداری سے بندہ سبق سیکھے تشریح : یہ سورت پوری کی پوری انسان کو راہ ہدایت دکھانے، آخرت، حساب کتاب اور اس سچی خبر کی تصدیق میں ہی نازل کی گئی ہے کہ دنیا کے عیش و آرام مال و دولت میں اس قدر مگن نہ ہوجاؤ کہ اپنے پیدا کرنے والے ' پرورش کرنے والے اور پھر اپنے آخری ٹھکانے سے ہی غافل ہوجاؤ۔ اس سچائیـ کو مزید تقویت دینے کے لیے اللہ تعالیٰ اس وفادار ' مضبوط اور انتہائی فرمانبردار پر خلوص جانور کی قسم کھا رہا ہے جو کہ تمام مفسرین کی رائے کے مطابق گھوڑا ہی ہوسکتا ہے۔ کیونکہ تمام جانوروں میں سب سے زیادہ انسان کے کام آنے والا خاص طور سے جنگوں میں ' سفر میں اور بار برداری میں گھوڑا ہی ہے۔ یہ بڑا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–11
سورة العادیات۔ آیات 1 تا 11 اسرار ومعارف۔ قسم ہے جہاد میں دوڑنے والے گھوڑوں کی انکی مشقت کی ان کے نعلوں سے چنگاریاں نکلتی ہیں اور جب وہ علی الصبح کسی پر ٹوٹ پڑتے ہیں اور پھر جب ہر طرف گرد اڑتی ہے اور دشمنوں کی فوج میں گھس پڑتے ہیں یعنی جہاد کا یہ سارامنظر اس بات پہ گواہ ہے انسان اپنے پروردگار کا سخت ناشکرا ہے کہ جو بات یعنی نظام اسلام اس کی بھلائی کے لیے تھا اس کے لیے روکاوٹ بن گیا اور اس کے نفاذ کے لیے جہاد کی ضرورت پیش آئی اللہ کو وہ جانور بھی پیارے ہیں جو اس کی راہ میں جہاد میں کام آئیں اور یہ انسان ہو کر اور خوب جانتے ہوئے کہ اسلام ہی سلامتی ہے اور یہ حق ہے پھر بھی اس کی مخالفت پہ کمربستہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–6
ف 10 یعنی اس کی نعمتوں کی قدر نہیں کرتا اور نہ ان کا حق پہنچانتا ہے۔
Read the full tafseer →(100:5) فوسطن بہ جمعا : اس کا عطف بھی جملہ سابقہ پر ہے۔حرف عاطفہ وسطن ماضی جمع مؤنث غائب وسط (باب ضرب) مصدر سے درمیان میں ہونا۔ درمیان میں بیٹھنا۔ یہاں بمعنی درمیان میں جا گھسنا ہے ۔ بہ ای بذلک الوقت ۔ او بالعدو او بالنقع۔ اس وقت دشمن کے درمیان گردوغبار کے اندر (بیضاوی وغیرہ) جمعا : حال ہے۔ اکھٹے ، جماعت کی جماعت۔ یا یہ وسطن کا مفعول ہے اور جمعا سے مراد جموع الاعدائ۔ دشمنوں کا گروہ ہے۔ ترجمہ :۔ پھر وہ اسی وقت (دشمن کے لشکر میں) گھس جاتے ہیں۔ (ضیاء القرآن) پھر ان کی قسم جو صبح کے وقت دھاوا کرنے اور غبار اٹھانے کے بعد مخالفوں کے انبوہ میں گھس جاتے ہیں۔ یہ نہیں کہ دھمکی دے کر رہ جاتے ہیں پھر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–11
العدیت۔ دوڑنے والے گھوڑے۔ ضبح۔ ہانپتے ہوئے۔ الموریت۔ چنگاریاں نکالنے والے۔ قدح۔ آگ جھاڑ کر۔ المغیرات۔ وہ حملہ کرنے والے ہیں۔ اثرن۔ اٹھاتے ہیں۔ نقع۔ گردوغبار۔ وسطن۔ وہ بیچ میں گھس جاتے ہیں۔ کنود ۔ ناشکرا۔ شہید۔ گواہ۔ الخیر۔ مال و دولت۔ بعثر۔ باہر نکالا گیا۔ حصل۔ حاصل کیا گیا۔ تشریح : انسان کیچ اروں طرف اللہ نے اتنی نعمتوں کو بکھیر رکھا ہے جنہیں شمار کرنا بھی ممکن نہیں ہے۔ یہ نعمتیں انسان سے اس بات کا مطالبہ کرتی نظر آتی ہیں کہ اسے ہر سانس میں اللہ کا شکر ادا کرنا چاہیے۔ اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت میں زندگی گزارنی چاہیے۔ اسے وہی کرنا چاہیے جس کے کرنے کا اس کو حکم دیا گیا ہے اور ہر اس بات سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–11
جہاد کی اہمیت وفضیلت۔ (ف 1) اللہ تعالیٰ کا دین پھیلانے کے لیے جو لوگ گھوڑوں پر سوار ہوکر مخالف لوگوں پر حملہ کرتے ہیں ان کے گھوڑوں کے دوڑنے اور دوڑنے میں ہانپنے اور پتھر پر دوڑتے وقت ان کے نعلوں میں سے آگ کے شعلے جھڑنے اور صبح کے وقت حملہ کرنے اور حملہ کے وقت گردوغبار اٹھنے اور اس گردوغبار میں سواروں کے دشمنوں میں گھس جانے کی (حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں یہ جہاد والے سواروں کی ایک قسم ہے اس سے بڑا کون ساعمل ہوگا، کہ اللہ کے کام پر اپنی جان دینے کو حاضر ہیں اور یہ جہاد کرنے والے سواروں کی اللہ کی راہ میں سرفروشی وجانبازی بتلاتی ہے کہ وفادار وشکرگذار بندے ایسے ہوتے ہیں) ان سب باتوں کی اللہ تعالیٰ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–6
[2] یہ ہے وہ بات جس پر قسم کھائی گئی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جو انسان گھوڑوں کی یہ ساری جاں نثاریاں دیکھتا ہے اور ان کی قربانیوں سے بہرہ مند ہوتا ہے اسے یہ سوچنے کی توفیق نہیں ہوتی کہ وہ بھی اپنے رب کا غلام ہے اور اس پر بھی یہ فرض عائد ہوتا ہے کہ وہ بھی انہی کی طرح اپنے رب کی اطاعت میں سرگرم رہے۔ اگر وہ ایسا نہیں کرتا تو وہ سخت ناشکرا ہے کیونکہ گھوڑا جانور ہو کر اپنے مالک کا حق پہچانتا ہے اور یہ انسان ہو کر اپنے خالق کا حق نہیں پہچانتا۔
Read the full tafseer →(5) پھر گھس جانے والے دشمنوں کی جماعت میں - یعنی اس صبح کے وقت جو اغارت اور لوٹ کا وقت ہے دشمن کی فوج اور دشمن کی جماعت میں جا گھستے ہیں اہل عرب کی عام عادت یہ تھی کہ وہ کسی دشمن پر رات کو حملہ نہ کرتے تھے اور اس کو شجاعت وبہادری کے خلاف سمجھتے تھے اس لئے عام طور پر صبح کے وقت لوٹتے اور لڑتے تھے…چونکہ اہل عرب کو گھوڑوں سے عام دلچسپی تھی اور جنگ جو ہونے کی وجہ سے گھوڑوں کی خاص طور پر پرورش کرتے تھے اس لئے گھوڑوں کی قسم کھائی۔ بعض مفسرین نے اونٹ مراد لئے ہیں لیکن صحیح یہی ہے کہ ان قسموں سے گھوڑے مراد ہیں وہ جہاد کے گھوڑے ہوں یا غیر جہاد کے ہوں البتہ لڑائی کے ہوں بعض حضرات نے گھوڑوں سے ان کے سوا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–11
ف 4۔ اس سے مراد لڑائی کے گھوڑے ہیں جہاد ہو یا غیر جہاد اور عرب کو اس وجہ سے کہ وہ اہل رزم تھے ان قسموں سے نہایت مناسبت ہے، ہانپنا دوڑنے کے وقت ظاہر ہے اور نعل آہنی پتھریلی زمین پر لگنے سے آگ کا جھڑنا بھی ظاہر ہے اور عرب میں اکثر عادت دشمنوں پر صبح کے وقت تاخت کرنے کی تھی تاکہ رات کے وقت جانے میں دشمن کو خبر نہ ہو۔ صبح کو دفعة جا پڑیں اور رات کو حملہ نہ کرنے میں اظہار شجاعت سمجھتے تھے، غبار کا اڑنا گو ہر وقت ہوتا ہے مگر اس کو صبح کے ساتھ مقید کرنا شدت اسراع کی طرف اشارہ ہے کہ ٹھنڈے وقت غبار دبا ہوا ہوتا ہے۔
Read the full tafseer →لشکر کفار میں اچانک گھس جانے والوں کے رب کی قسم 5 ؎ ( وسطن) جمع مؤنث غائب ماضی معروف سطۃ ً اور وسط مصدر ( ضرب) درمیان میں گھس پڑے اور بیچ میں آگئے اور اچانک بیچ میں داخل ہوگئے ۔ وہ لوگ جو اچانک حملہ کر کے دشمنوں کی صفوں میں داخل ہوگئے اتنی تیزی سے داخل ہوئے کہ لشکری اپنے اور بیگانے میں امتیاز ہی نہ کرسکے اور اسی طرح اچانک حملہ کر کے مخالفین کے لشکر کو پریشان کردیا ۔ یہ کام بھی بہت مہارت کا ہے اور اس میں سخت تیاری کی ضرورت ہوتی ہے اور اس کے لیے خاص طور پر گھوڑے تیار کیے جاتے ہیں جن کو حملہ کرنا اور پھر بھاگ کر واپس آنا سکھایا جاتا ہے اور ایسے سوار بھی مخصوص ہوتے ہیں جو سارے گھوڑ سوار بھی یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–7
Verse [ 100:5] فَوَسَطْنَ بِهِ جَمْعًا (then enter, at the same time, into the centre of the [ opposing ] host) In other words, they penetrate into the centre of the enemy forces without the least degree of fear. The word kanud, (100:6) according to Hasan Basri (رح) ، refers to the one who counts the calamities that befall him, and forgets Allah's favours. Abu Bakr Wasiti said that kanud is the one who spends the bounties of Allah for sinful purposes. Tirmidhi said that kanud is the one who looks at the bounty, and not at the Bounteous Lord. In short, all these interpretations lead to the…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–5
3 The practice among the Arabs was that when they had to mount a raid on a settlement, they marched out in the night so as to take the enemy by surprise; then they would launch a sudden attack early. in the morning so that everything became visible in the light of day, and at the same tune it did not become so bright that the victim could notice their movement from a distance and be ready to meet the offensive.
Read the full tafseer →