Explained with ayahs 1–11
انسان کا نفسیاتی تجزیہ :
مجاہدین کے گھوڑے جبکہ اللہ کی راہ میں جہاد کے لیے ہانپتے اور ہنہاتے ہوئے دوڑتے ہیں ان کی اللہ تبارک و تعالیٰ قسم کھاتا ہے پھر اس تیزی میں دوڑتے ہوئے پتھروں کے ساتھ ان کے نعل کا ٹکرانا اور اس رگڑ سے آگ کی چنگاڑیاں اڑنا پھر صبح کے وقت دشمن پر ان کا چھاپہ مارنا اور دشمنان رب کو تہہ وبالا کرنا آنحضرت ﷺ کی یہی عادت مبارک تھی کہ دشمن کی کسی بستی پر آپ جاتے تو وہاں رات کو ٹھہر کر کام لگا کر سنتے اگر اذان کی آواز آگئی تو آپ رک جاتے نہ آتی تو لشکر کو حکم دیتے کہ بزن بول دیں پھر ان گھوڑوں کا گردو غبار اڑانا اور ان سب کا دشمنوں کے درمیان گھس جانا ان سب چیزوں کی قسم کھا کر پھر…
Read the full tafseer →سورة العدیات 4
یہ ہے وہ بات جس پر ان گھوڑوں کی قسم کھائی گئی ہے جو رات کو پھنکارے مارتے اور چنگاریاں جھاڑتے ہوئے دوڑتے ہیں، پھر صبح سویرے غبار اڑاتے ہوئے کسی بستی پر جا پڑتے ہیں اور مدافعت کرنے والوں کی جماعت میں گھس جاتے ہیں۔ تعجب اس پر ہوتا ہے کہ اکثر مفسرین نے ان گھوڑوں سے مراد غازیوں کے گھوڑے لیے ہیں اور جس مجمع میں ان کے جا گھسنے کا ذکر کیا گیا ہے اس سے مراد ان کے نزدیک کفار کا مجمع ہے۔ حالانکہ یہ قسم اس بات پر کھائی گئی ہے کہ " انسان اپنے رب کا بڑا ناشکرا ہے "۔ اب یہ ظاہر ہے کہ جہاد فی سبیل اللہ میں غازیوں کے گھوڑوں کی دوڑ دھوپ اور کفار کے کسی مجمع پر ان کا ٹوٹ پڑنا اس امر پر کوئی دلالت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–7
فوسطن بہ جمعاً ، یعنی یہ دشمن کی صفوں میں بےخوف گھس جاتے ہیں۔ کنود کے معنی میں حضرت حسن بصریٰ نے فرمایا کہ وہ شخص جو مصائب کو یاد رکھے اور نعمتوں کو بھول جائے اس کو کنود کہا جاتا ہے۔
ابو بکر واسطی نے فرمایا جو اللہ کی نعمتوں کو اس کی معصیتوں میں صرف کرے وہ کنود ہے۔ اور ترمذی نے فرمایا کہ جو شخص نعمت کو دیکھے اور منعم یعنی نعمت دینے والے کو نہ دیکھے وہ کنود ہے۔ ان سب اقوال کا حاصل نعمت کی ناشکری کرنا ہے۔ اس لئے کنود کا ترجمہ ناشکر کا کیا گیا ہے۔
Read the full tafseer →اصل دعویٰ: یہ وہ اصل بات ہے جس پر شہادت کے لیے اوپر کی قسمیں کھائی گئی ہیں۔
’کَنُوْدٌ‘ کے معنی ہیں ناشکرا، ناسپاس، تنہا خور، اپنے مالک کی عنایتوں کا ناقدرا۔
مطلب یہ ہے کہ جو انسان گھوڑوں کی یہ ساری جاں نثاریاں دیکھتا ہے اور ان کی قربانیوں سے بہرہ مندہ ہوتا ہے لیکن اسے یہ سونچنے کی توفیق نہیں ہوتی کہ وہ بھی اپنے رب کا غلام ہے اور اس پر بھی یہ فرض عائد ہوتا ہے کہ وہ بھی انہی کی طرح اپنے رب کی اطاعت میں سرگرم و سینہ سپر رہے، وہ نہایت ناشکرا اور لئیم ہے۔ کیونکہ وہ جانور ہو کر اپنے مالک کا حق پہچانتے ہیں اور یہ انسان ہو کر اپنے خداوند کا حق نہیں پہچانتا۔
گھوڑوں کے خاص طور پر ذکر کی وجہ: یہ امر…
Read the full tafseer →1۔ 6 یہ جواب قسم ہے۔ انسان سے مراد کافر، یعنی بعض افراد ہیں۔ کنود بمعنی کفور، ناشکرا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–6
1: اس سے مراد وہ جنگی گھوڑے ہیں جن پر سوار ہو کر اس زمانہ میں لڑائیاں لڑی جاتی تھیں، اس کی قسم کھانے میں یہ اشارہ ہے کہ یہ گھوڑے اپنے مالکوں کے اتنے وفادار ہوتے تھے کہ اپنی جان کو خطرے میں ڈال کر اپنے مالکوں کے حکم کی تعمیل بھی کرتے تھے، اور ان کی جان کی حفاظت بھی، اللہ تعالیٰ نے اتنے مضبوط جانور کو انسان کا ایسا تابع اور وفادار بنادیا ہے، گنہگار انسان کو یاد دلایا جارہا ہے کہ اپنے مالک اور خالق کے اس احسان کا شکر ادا کرنے کے بجائے اس کی نافرمانی کرتا ہے اور اپنے پروردگار کا اتنا بھی وفادار نہیں جتنے اس کے گھوڑے اس کے وفادار ہوتے ہیں، چنانچہ اگلی آیت میں فرمایا گیا ہے کہ انسان یعنی گنہگار…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–8
ان الانسان ............................ لشدید (6:100 تا 8) ” حقیقت یہ ہے کہ انسان اپنے رب کا بڑا ناشکرا ہے ، اور وہ خود اس پر گواہ ہے ، اور وہ مال و دولت کی محبت میں بری طرح مبتلا ہے “۔ بیشک انسان اپنے رب کی نعمتوں کی ناشکری کرتا ہے اور اللہ کے فضل وکرم کا عملی انکار کرتا ہے۔ اور اس کی یہ ناشکری اور کفران نعمت کئی شکلوں میں ظاہر ہوتی ہے۔ اس کے افعال سے اور اس کے اقوال سے ، چناچہ اس کے اعمال واقوال ہی اس کے اس جرم پر گواہ ہوتے ہیں۔ گویا آفتاب آمد دلیل آفتاب ، وہ اپنے اوپر خود گواہ بن جاتا ہے ، اور قیامت میں بھی ایسا ہی ہوگا۔
وانہ .................... ذلک لشھید (7:100) ” وہ خود اس پر گواہ ہے “۔…
Read the full tafseer →5 یعنی جہاد کرنے والے سواروں کی اللہ کی راہ میں سرفروشی و جانبازی بتلاتی ہے کہ وفادارو شکر گذار بندے ایسے ہوتے ہیں۔ جو آدمی اللہ کی دی ہوئی قوتوں کو اس کے راستہ میں خرچ نہیں کرتا وہ پرلے درجہ کا ناشکرا اور نالائق ہے بلکہ غور کرو تو خود گھوڑا زبان حال سے شہادت دے رہا ہے کہ جو لوگ مالک حقیقی کی دی ہوئی روزی کھاتے اور اس کی بیشمار نعمتوں سے شب و روز تمتع کرتے ہیں، پھر اس کے باوجود اس کی فرمانبرداری نہیں کرتے، وہ جانوروں سے زیادہ ذلیل و حقیر ہیں۔ ایک شائستہ گھوڑے کو مالک گھاس کے تنکے اور تھوڑا سا دانہ کھلاتا ہے وہ اتنی سی تربیت پر اپنے مالک کی وفاداری میں جان لڑا دیتا ہے۔ جدھر سوار اشارہ کرتا ہے…
Read the full tafseer →آیت 6{ اِنَّ الْاِنْسَانَ لِرَبِّہٖ لَکَنُوْدٌ۔ } ”یقیناانسان اپنے رب کا بہت ہی ناشکرا ہے۔“
مطلب یہ کہ ایک طرف وہ جانور ہے جو اپنے مالک کے ایک اشارے پر اپنی جان تک قربان کردیتا ہے ‘ جو اس کا خالق نہیں ہے ‘ بلکہ صرف اس کے دانے پانی کا انتظام کرتا ہے ‘ اور دوسری طرف یہ باشعور ‘ صاحب عقل و دانش اشرف المخلوقات انسان ہے جو اپنے خالق اور مالک کا شکر ادا نہیں کرتا۔
Read the full tafseer →6 کنود کا لغوی مفہوم :۔ جواب قسم میں اللہ تعالیٰ نے تین باتیں بیان فرمائیں بالفاظ دیگر ایسے گھوڑوں کی تین باتوں پر قسم کھائی ہے۔ پہلی بات یہ ہے کہ انسانوں کی اکثریت یا اللہ سے غافل اور اکثر ناشکرے ہوتے ہیں۔ کنود ایسے ناشکرے کو کہتے ہیں جو مصائب و مشکلات کا تو ہر دم ذکر کرتا رہے مگر اللہ کے احسانات کا کبھی نام تک نہ لے یعنی وہ اللہ کا احسان ناشناس ہونے کے علاوہ ہر وقت اللہ اور اس کی تقدیر یا اپنی قسمت کا شاکی بھی رہتا ہے۔ ایسے شخص کے لیے نرم سے نرم لفظ نمک حرام ہی ہوسکتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–7
2۔ (خواہ وہ گواہی زبان حال ہی سے کیوں نہ ہو) فالشھادۃ بلسان الحال الذی ھو افصح من لسان المقال (روح) (آیت) ” الانسان “۔ انسان سے مراد ایسے ہر سیاق میں کافر انسان سے ہوتی ہے۔ (آیت) ” انہ “۔ ضمیر ہ انسان کی طرف ہے، اے الانسان کماقال الحسن ومحمد بن کعب (روح) یہ مراد بھی ہوسکتی ہے کہ انسان اپنے کفر پر قیامت میں ضرور گواہی دے گا۔ (آیت) ” علی ذلک “۔ یعنی اپنی اپنی ناشکری پر۔ اے علی کنوودہ (کشاف)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–11
ترجمہ :۔ شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے، قسم ہے ان گھوڑوں کی جو جہاد میں پھنکارتے ہوئے (ہانپتے ہوئے) دوڑتے ہیں، ضبح جوف (پیٹ) کی اس آواز کو کہتے ہیں جو دوڑتے وقت نکلتی ہے، پھر ان گھوڑوں کی جو ٹاپوں سے چنگاریاں جھاڑتے ہیں پھر ان گھوڑوں کی جو صبح سویرے دشمن پر شب خون مارتے ہیں، اپنے سوار کے شب خوب مارنے سے پھر اس موقع پر یعنی اپنے دوڑنے کی جگہ یا اس وقت اپنی شدید حرکت کی وجہ سے غبار اڑاتے ہیں پھر اسی غبار میں دشمن کے مجمع میں گھس جاتے ہیں یعی ان کے وسط تک پہنچ جاتے ہیں اور فعل کا عطف اسم پر اس لئے درست ہے کہ اسم فعل کی تاویل میں ہے، یعنی معنی میں واللاتی عدون،…
Read the full tafseer →ان الانسان لربہ لکنود . یہ قسم کا جواب ہے الانسان میں لام جنسی ہے مگر اطلاق جنس میں اکثر افراد ملحوظ ہیں (کیونکہ بعض انسان اس حکم کے عموم سے مستثنیٰ ہیں) جیسا کہ اللہ نے فرمایا ہے : و قلیل من عبادی الشکور میرے بندوں میں سے شکر گزار کم ہیں۔ لربہ کا تعلق کنود سے ہے ‘ مقطع آیات کی رعایت سے کنود سے پہلے ذکر کردیا گیا ہے کنود ناشکرا ‘ قبائل مضر کے محاورہ کنود کا یہی معنی ہے۔ حضرت ابن عباس ‘ مجاہد اور قتادہ نے یہی ترجمہ کیا ہے ‘ یا کنود کا معنی ہے نافرمان یہ بنی کندہ کے محاورہ میں ہے یا انجیل اور ریہ بنی مالک کے محاورہ میں ہے۔ ابو عبیدہ نے کہا : کنود بمعنی قلیل الخیر اور ارض کنود شور (بھوڑ) زمین جس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–8
(3۔ 8) پھر صبح کو اچانک حملہ کرتے ہیں پھر اس وقت غبار اڑاتے ہیں اور دشمنوں کی جماعتوں میں جا گھستے ہیں
یا یہ مطلب ہے کہ قسم ہے حاجیوں کے گھوروں اور ان کے اونٹوں کی جب وہ عرفات سے مزدلفہ کو آتے ہیں حالاں کہ ان کا سانس پھولا ہوا ہوتا ہے اور پھر وہاں آ کر آگ روشن کرتے ہیں اور علی الصباح پھر منی واپس جاتے ہیں آگے جواب قسم ہے کہ کافر آدمی یعنی قرط بن عبداللہ یا ابو حباب اپنے پروردگار کی نعمتوں کا بڑٓ ناشکر گزار ہے اور اس کو خود بھی اپنے اس فعل کی خبر ہے اور یہ شخص مال کثیر کی محبت میں مضبوط ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–7
(ان الانسان لربہ لکنود…:”کند یکند“ (ن)”کنودا“ (کاف کے ضمہ کے ساتھ ”النعمۃ“ نعمت کا انکار کرنا، ناشکری کرنا۔”کنود“ (کاف کے فتحہ کے ساتھ) بروزن ”فعرل“ بمعنی فاعل برائے مبالغہ ہے، بہت ناشکری کرنے والا۔ یہ مذکر و مونث دونوں کے لئے آتا ہے۔ اصل میں ”کنود“ اس زمین کو کہتے ہیں جو کوئی چیز نہ اگاتی ہو۔ اس سورت میں پہلی پانچ آیات میں قسمیں اٹھانے کے بعد چھٹی آیت میں یہ حقیقت بیان کی گئی ہے کہ انسان یقیناً اپنے رب کا ناشکرا ہے۔ یہ پانچوں قسمیں اس دعوے کی دلیل اور شاہد کے طور پر لائی گئی ہیں۔ اس کی تفصیل یہے کہ گھوڑے اپنے مالک کے ایسے وفادار اور شکر گزار ہیں کہ رات جب وہ انہیں لے کر نکلتے ہیں تو وہ بلا…
Read the full tafseer →بیشک انسان اپنے رب کا بڑا ناشکر گزار ہے۔
یہ جواب قسم ہے، یعنی انسان کو ناشکری پر پیدا کیا گیا ہے۔ حضرت ابن عباس نے کہا : لکنود کا معنی ہے اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا انکار کرنے والا ؛ حضرت حسن بصری نے بھی یہی کہا، وہ مصائب کو یاد کرتا ہے اور نعمتوں کو بھول جاتا ہے ؛ شاعر نے اس چیز کو لیا اور نظم میں پرو دیا :
یا ایھا الظالم فی فعلہ۔۔۔ والظلم مردود علی من ظلم
الی متی انت وحتی متی۔۔۔ تشکو المسیبات و تنہی النعم
اے اپنے عمل میں ظلم کرنے والے جبکہ ظلم ظالم پر لوٹا دیا جاتا ہے، کب تک تو مصائب کی شکایت کرتا رہے گا اور نعمتوں کو بھول جائے گا۔
حضرت ابو امامہ باہلی نے روایت کی ہے کہ رسول اللہ نے ارشاد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–11
1۔ ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ سورة والعدیت مکہ میں نازل ہوئی۔
2۔ محمد بن نصر نے عطا بن ابی رباح کے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اذا زلزلت الارض آدھے قرآن کے برابر ہے اور والعدیت آدھے قرآن کے برابر ہے۔
3۔ محمد بن نصر نے عطا بن ابی رباح کے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اذا زلزت آدھے قرآن کے برابر ہے آیت والعدیت آدھے قرآن کے برابر ہے اور قل ہوا للہ احد تہائی قرآن کے برابر ہے اور قل یا ایہا الکفرون چوتھائی قرآن کے برابر ہے۔۔
4۔ البزار وابن المنذر وابن ابی حاتم والدار قطنی فی الافراد وابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ رسول…
Read the full tafseer →[ان الْانسَان لِرَبِهٖ : بیشک انسان اپنے رب کے لیے ][ لَكَنُوْدٌ: یقینا انتہائی ناشکرا ہے ]
ک ن د
[کُنُوْدًا : (ن) زمین کا بنجر ہونا۔ انسان کا ناشکری کرنا ]
[ کَنُوْدٌ فَعُوْلٌ کے وزن پر مبالغہ ہے۔ نعمتوں کو بھولنے والا اور مصائب کو شمار کرنے والا۔ انتہائی ناشکرا۔ زیر مطالعہ آیت۔ 6 ۔]
Read the full tafseer →﴿اِنَّ الْاِنْسَانَ لِرَبِّهٖ لَكَنُوْدٌۚ006﴾ (بلاشبہ انسان اپنے رب کا واقعی بڑا ناشکرا ہے۔ لفظ کنود کا ترجمہ کفور (یعنی بہت ناشکرا کیا) گیا ہے اس کے علاوہ اور بھی بعض تفسیریں کی گئی ہیں ابو عبیدہ نے اس کا مطلب قتیل الخیر بتایا ہے اور حضرت حسن (رح) نے فرمایا کہ کنود وہ شخص ہے جو مصیبتوں کو شمار کرتا ہے نعمتوں کو بھول جاتا ہے۔ (من معالم تنزیل صفحہ 518: ج 4)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–11
سرگرمی بہائم در اطاعت مالک ونافرمانی وناشکری انسان بآقاء رب العالمین :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” والعدیت ضبحا ...... الی ........ ان ربھم بھم یومئذ لخبیر “۔
(ربط) گزشتہ سورت میں مجازات اعمال کا قانون بیان کیا گیا تھا اور یہ کہ انسان اپنی زندگی میں جو بھی نیکی یا بدی کا عمل کرے گا روز قیامت قیامت کا اس بدلہ پاکر رہے گا، اب اس سورت میں انسان کی غفلت و لاپرواہی اور اپنے رب کی ناشکری کی مذموم خصلت بیان کی جارہی ہے اور یہ کہ دراصل اس روش کا منشاء حرص مال، لالچ اور نفس کی خواہش ہے، اس کے پیچھے پڑکر انسان اپنے رب کو بھلا دیتا ہے اور اس سے غافل ہوجاتا ہے کہ مرنے کے بعد اس کو دوبارہ زندہ ہونا اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–7
2:۔ ” والعادیات ضبحا “ ہانپ ہانپ کر دوڑنے والے گھوڑے۔ ” فالموریات قدحا “ پتھریلی زمین پر دوڑتے وقت اپنے سموں سے چنگاریاں نکالنے والے۔ ” فالمغیرات صبحا “ پھر صبح صبح لوٹ مار کرنے والے۔ ” فاثرن بہ نقعا “ دوڑتے وقت گرد و غبار اڑاتے ہیں۔ ” فوسطن بہ جمعا “ پھر تیز رفتار کے ساتھ جماعتوں کے اندر گھس جاتے ہیں۔ ” ان الانسان لربہ لکنود “ یہ لوٹ مار کرنے والے گھوڑے اس پر شاہد ہیں کہ انسان اپنے پروردگار کا نہایت ہی ناشکر گذار ہے۔ قالہ الشیخ (رح) تعالی۔ عامۃ المفسرین کے نزدیک یہ صفتیں مجاہدین کے گھوڑوں کی ہیں اور بعض کے نزدیک ان صفات سے فرشتے مراد ہیں۔ ” وانہ علی ذلک لشہید “ مذکورہ شواہد کے علاوہ انسان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–11
مکی زندگی میں نازل ہوئی ، تاہم حضرت عبداللہ بن عباس ، حضرت قتادہ اور امام مالک سے منقول ہے کہ یہ مدنی سورة ہے۔ اس کی گیارہ آیات ہیں۔ یہ سورة چالیس الفاظ اور ایک سو تریسٹھ حروف پر مشتمل ہے۔
گزشتہ سورة کے ساتھ ربط
سابقہ سورة زلزال میں انسان کے جزائے عمل کا ذکر تھا کہ جزائے عمل کا واقع ہونا لازم ہے۔ اس سے پہلی سورة البینتہ میں اسلامی تعلیمات کا خلاصہ ہے ۔ انسان کو اللہ کی عبادت کرنی چاہئے اور حنیف بن کر رہنا چاہئے۔ بدنی اور مالی عبادات یعنی مال اور زکواۃ پر کاربند ہونا چاہئے۔ خدا کا خوف ہر وقت دل میں جاگزیں ہونا چاہئے۔
اس سورة مبارکہ میں ان بیماریوں کا ذکر ہے جو کہ مذکورہ بالا پروگرم پر عمل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–7
اِنَّ الْاِنْسَانَ لِرَبِّہٖ لَكَنُوْدٌ 6 ۚ
إنس
الإنس : خلاف الجن، والأنس : خلاف النفور، والإنسيّ منسوب إلى الإنس يقال ذلک لمن کثر أنسه، ولكلّ ما يؤنس به، ولهذا قيل :إنسيّ الدابة للجانب الذي يلي الراکب وإنسيّ القوس : للجانب الذي يقبل علی الرامي . والإنسيّ من کل شيء : ما يلي الإنسان، والوحشيّ : ما يلي الجانب الآخر له . وجمع الإنس أَناسيُّ ، قال اللہ تعالی: وَأَناسِيَّ كَثِيراً [ الفرقان/ 49] . وقیل ابن إنسک للنفس وقوله عزّ وجل : فَإِنْ آنَسْتُمْ مِنْهُمْ رُشْداً [ النساء/ 6] أي : أبصرتم أنسا بهم، وآنَسْتُ ناراً [ طه/ 10] ، وقوله : حَتَّى تَسْتَأْنِسُوا[ النور/ 27] أي : تجدوا إيناسا .…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–11
ترکیب ¦ وللقسم العادیات جمع عادیۃ من العدود ھوالمشی بسرعۃٍ فقلبت الواؤ یائً لکسرۃ ما قبلھا کا لغازیات من الغزو۔ والمراد بھا الخیل الجھادیۃ دقیل بعیر الحجاج ضبحا الضبح صوت اجواف الخیل اذا عدت وقیل السیر و نوع من العد و یقال ضبح الفرس اذا عد ابشدۃ من الضبح بمعنی الدفع وکان الحاء بدل من العین علی الاول منصوب علی الحال ای ضابحات وعلی الثانی مفعول مطلق موکد لاسم الفاعل و یجوزان یکون مصدر الفعل محدوف ای یضیح ضبحا۔ فالمو ریات قدحًا عطف العادیات من الایراء و ھوا اخراج النار جمع موریۃ والقدح الصک فجعل ضرب الخیل بحوا فرھا کالقدح بالزنا دوالکلام فی نصب قدحا کا لکالم ضبحا فالمغیرات ای التی تغیر علی العدو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–7
اِنَّ الْاِنْسَانَ لِرَبِّہٖ لَـکَنُوْدٌ۔ وَاِنَّـہٗ عَلٰی ذٰلِکَ لَشَھِیْدٌ۔ (العٰدیٰت : 6، 7)
(بیشک انسان اپنے رب کا نہایت ناشکرا ہے۔ اور وہ خود اپنے رویئے پر گواہ ہے۔ )
یہ ہے جوابِ قسم جس کے اثبات کے لیے قسمیں کھائی گئی ہیں
یہ ہے وہ جوابِ قسم، یعنی وہ اصل بات جس پر گزشتہ قسمیں کھائی گئی ہیں۔ اور قسموں کے الفاظ گواہی دیتے ہیں کہ ان سے مراد اہل عرب کے وہ وفادار، جانثار اور فداکار گھوڑے ہیں جو اپنے مالک کا حقِ اطاعت و خدمت ادا کرتے ہوئے اس قدر تیز رفتاری کے ساتھ اپنے ہدف کی طرف بڑھتے ہیں کہ ان کے سینوں اور ان کے نتھنوں سے تیز سانس کی آوازیں نکلتی ہیں، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ نہایت تیز…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–8
فہم القرآن
ربط کلام : اللہ تعالیٰ نے گھوڑے اور بڑے بڑے جانوروں کو انسان کے تابع بنادیا ہے مگر انسان اپنے رب کا تابع فرمان ہونے کے لیے تیار نہیں۔
اللہ تعالیٰ نے انسان کو زمین میں خلیفہ بنا کر ہر چیز کو اس کی خدمت پر لگا دیا ہے جن میں گھوڑا بھی اس کے خدام میں شامل ہے۔ گھوڑے پر غور فرمائیں کہ وہ اپنی جسامت اور طاقت کے اعتبار سے انسان سے کتنا طاقتور ہے اگر گھوڑا اپنے مالک سے سرکش ہو کر بھاگ نکلے تو مالک دوڑ کر اسے پکڑ نہیں سکتا، مالک سے جسامت اور طاقت میں بڑا ہونے کے باوجود نہ صرف گھوڑا سواری کے کام آتا ہے بلکہ جنگ کے موقع پر دشمن کی صفوں میں اس طرح آگے بڑھتا ہے جس طرح یہ اپنے دشمن کے خلاف کھڑا…
Read the full tafseer →6 : اِنَّ الْاِنْسَانَ لِرَبِّہٖ لَکَنُوْدٌ (بیشک آدمی اپنے پروردگار کا بڑا ناشکرا ہے)
نحو : یہ جواب قسم ہے۔
الکنودؔ : ناشکرا۔ یعنی وہ اپنے رب کے انعامات کا خاص طور پر بہت زیادہ کفر ان کرنے والا ہے۔
Read the full tafseer →6 ۔” ان الانسان لربہ لکنود “ ابن عباس ؓ ، مجاہد، قتادہ رحمہما اللہ فرماتے ہیں ” لکنود “ ناشکرا اللہ کی نعمتوں کا انکار کرنے والا۔ کلبی (رح) فرماتے ہیں وہ مضر اور ربیعہ کی لغت میں کفور کے معنی میں ہے اور کندہ اور حضرت موت کی لغت میں نافرمان اور حسن (رح) فرماتے ہیں وہ مضر اور ربیعہ کی لغت میں کفور کے معنی میں ہے اور کندہ اور حضرت موت کی لغت میں نافرمان اور حسن (رح) فرماتے ہیں وہ شخص جو مصائب کو شمار کرتا ہے اور نعمتوں کو بھول جاتا ہے اور ابو عبیدہ (رح) فرماتے ہیں وہ کم خیروالا اور ارض کنود وہ زمین جو کچھ نہ اگائے اور فضیل بن عیاض (رح) فرماتے ہیں ” الکنود “ وہ شخص جس کو برائی میں سے ایک خصلت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–11
1۔ 11۔ اللہ تعالیٰ کا دین پھیلانے کے لئے جو لوگ گھوڑوں پر سوار ہو کر مخالف لوگوں پر حملہ کرتے تھے ان کے گھوڑوں کے دوڑنے اور دوڑنے میں ہانپنے اور پتھر پر دوڑتے وقت ان کے نعلوں میں سے آگ کے شعلے جھڑنے اور صبح کے وقت حملہ کرنے اور حملہ کے وقت گرد و غبار اٹھنے اور اس گرد و غبار میں سواروں کے دشمنوں میں گھس جانے کی ان سب باتوں کی اللہ تعالیٰ نے قسم کھا کر فرمایا کہ انسان کی حالت اس بات کی گواہی دیتی ہے کہ وہ بڑا ناشکرا ہے کیونکہ اللہ نے اس کو پیدا کیا۔ اس کی زیست بھر کے سب طرح کے آرام کا بندوست کیا۔ پھر یہ انسان اللہ کو چھوڑ کر اوروں کو اپنا معبود ٹھہراتا ہے اس سے بڑھ کر اور کون سی حالت ناشکری کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–6
(فَاَثَرْنَ بِهٖ ) یعنی اپنے دوڑنے اور شبخون مارنے کے ذریعے سے ( نَقْعًا) غبار اڑاتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–7
(6) انسان کی بےانصافی اور ناشکری کا ذکرو بیان : سو ارشاد فرمایا گیا اور تاکید در تاکید کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ بلا شبہ انسان اپنے رب کا بڑا ہی ناشکرا ہے۔ کہ یہ اس کی ان طرح طرح کی بےحدو حساب نعمتوں سے ہر وقت اور ہر لحاظ سے مستفید و فیضیاب ہوتا ہے، اور اس قدر کہ ہر لمحہ و لحظہ میں اس کی جس قدر نعمتوں سے یہ فائدہ اٹھاتا ہے اس کا احصاء و شمار بھی کسی کے بس میں نہیں، جیسا کہ دوسرے مقام پر اسی کتاب عزیز و حکیم میں ارشاد فرمایا گیا ( آیت، ابراہیم 34 پ 13) مگر اس کے باجو ود یہ اس کا ناشکرا اور نافرمان اور اس سے منہ موڑے ہوئے ہے، بلکہ اس سے بھی بڑھ کر ظلم یہ کہ یہ اس واہب مطلق کی بخشی ہوئی ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–11
گھوڑے کی وفاداری سے بندہ سبق سیکھے
تشریح : یہ سورت پوری کی پوری انسان کو راہ ہدایت دکھانے، آخرت، حساب کتاب اور اس سچی خبر کی تصدیق میں ہی نازل کی گئی ہے کہ دنیا کے عیش و آرام مال و دولت میں اس قدر مگن نہ ہوجاؤ کہ اپنے پیدا کرنے والے ' پرورش کرنے والے اور پھر اپنے آخری ٹھکانے سے ہی غافل ہوجاؤ۔ اس سچائیـ کو مزید تقویت دینے کے لیے اللہ تعالیٰ اس وفادار ' مضبوط اور انتہائی فرمانبردار پر خلوص جانور کی قسم کھا رہا ہے جو کہ تمام مفسرین کی رائے کے مطابق گھوڑا ہی ہوسکتا ہے۔ کیونکہ تمام جانوروں میں سب سے زیادہ انسان کے کام آنے والا خاص طور سے جنگوں میں ' سفر میں اور بار برداری میں گھوڑا ہی ہے۔ یہ بڑا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–11
سورة العادیات۔
آیات 1 تا 11
اسرار ومعارف۔
قسم ہے جہاد میں دوڑنے والے گھوڑوں کی انکی مشقت کی ان کے نعلوں سے چنگاریاں نکلتی ہیں اور جب وہ علی الصبح کسی پر ٹوٹ پڑتے ہیں اور پھر جب ہر طرف گرد اڑتی ہے اور دشمنوں کی فوج میں گھس پڑتے ہیں یعنی جہاد کا یہ سارامنظر اس بات پہ گواہ ہے انسان اپنے پروردگار کا سخت ناشکرا ہے کہ جو بات یعنی نظام اسلام اس کی بھلائی کے لیے تھا اس کے لیے روکاوٹ بن گیا اور اس کے نفاذ کے لیے جہاد کی ضرورت پیش آئی اللہ کو وہ جانور بھی پیارے ہیں جو اس کی راہ میں جہاد میں کام آئیں اور یہ انسان ہو کر اور خوب جانتے ہوئے کہ اسلام ہی سلامتی ہے اور یہ حق ہے پھر بھی اس کی مخالفت پہ کمربستہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–6
ف 10 یعنی اس کی نعمتوں کی قدر نہیں کرتا اور نہ ان کا حق پہنچانتا ہے۔
Read the full tafseer →(100:6) ان الانسان لربہ لکنود : یہ جملہ اور آئندہ آنے والے دو جملے متذکرہ بالا جملہ ہائے قسمیہ کے جواب القسم ہیں۔
ان حرف مشبہ بالفعل الانسان اسم جنس۔ نبی نوع انسان۔ اسم ان۔ لکنود لام تاکید کا ہے۔ کنود۔ بمعنی ناشکرا ۔ بخیل، نافرمان، ان کی خبر۔ لربہ متعلق خبر۔ بیشک انسان اپنے رب کا بڑا ناشکرا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–11
العدیت۔ دوڑنے والے گھوڑے۔ ضبح۔ ہانپتے ہوئے۔ الموریت۔ چنگاریاں نکالنے والے۔ قدح۔ آگ جھاڑ کر۔ المغیرات۔ وہ حملہ کرنے والے ہیں۔ اثرن۔ اٹھاتے ہیں۔ نقع۔ گردوغبار۔ وسطن۔ وہ بیچ میں گھس جاتے ہیں۔ کنود ۔ ناشکرا۔ شہید۔ گواہ۔ الخیر۔ مال و دولت۔ بعثر۔ باہر نکالا گیا۔ حصل۔ حاصل کیا گیا۔
تشریح : انسان کیچ اروں طرف اللہ نے اتنی نعمتوں کو بکھیر رکھا ہے جنہیں شمار کرنا بھی ممکن نہیں ہے۔ یہ نعمتیں انسان سے اس بات کا مطالبہ کرتی نظر آتی ہیں کہ اسے ہر سانس میں اللہ کا شکر ادا کرنا چاہیے۔ اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت میں زندگی گزارنی چاہیے۔ اسے وہی کرنا چاہیے جس کے کرنے کا اس کو حکم دیا گیا ہے اور ہر اس بات سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–11
جہاد کی اہمیت وفضیلت۔
(ف 1) اللہ تعالیٰ کا دین پھیلانے کے لیے جو لوگ گھوڑوں پر سوار ہوکر مخالف لوگوں پر حملہ کرتے ہیں ان کے گھوڑوں کے دوڑنے اور دوڑنے میں ہانپنے اور پتھر پر دوڑتے وقت ان کے نعلوں میں سے آگ کے شعلے جھڑنے اور صبح کے وقت حملہ کرنے اور حملہ کے وقت گردوغبار اٹھنے اور اس گردوغبار میں سواروں کے دشمنوں میں گھس جانے کی (حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں یہ جہاد والے سواروں کی ایک قسم ہے اس سے بڑا کون ساعمل ہوگا، کہ اللہ کے کام پر اپنی جان دینے کو حاضر ہیں اور یہ جہاد کرنے والے سواروں کی اللہ کی راہ میں سرفروشی وجانبازی بتلاتی ہے کہ وفادار وشکرگذار بندے ایسے ہوتے ہیں) ان سب باتوں کی اللہ تعالیٰ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–6
[2] یہ ہے وہ بات جس پر قسم کھائی گئی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جو انسان گھوڑوں کی یہ ساری جاں نثاریاں دیکھتا ہے اور ان کی قربانیوں سے بہرہ مند ہوتا ہے اسے یہ سوچنے کی توفیق نہیں ہوتی کہ وہ بھی اپنے رب کا غلام ہے اور اس پر بھی یہ فرض عائد ہوتا ہے کہ وہ بھی انہی کی طرح اپنے رب کی اطاعت میں سرگرم رہے۔ اگر وہ ایسا نہیں کرتا تو وہ سخت ناشکرا ہے کیونکہ گھوڑا جانور ہو کر اپنے مالک کا حق پہچانتا ہے اور یہ انسان ہو کر اپنے خالق کا حق نہیں پہچانتا۔
Read the full tafseer →(6) کہ بیشک انسان اپنے پروردگار کا بڑا ہی ناسپاس ہے۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی کفران نعمت کرتا ہے اور وہ کوئی طرح کا ہوتا ہے ایک تو یہ کہ اس کی نعمت کو دوسرے کی سمجھے دوسرا یہ کہ جو فائدہ اس نعمت سے چاہیے وہ لیوے بلکہ اس کے برخلاف اسے خرچ کرے ، تیسرا یہ کہ اس نعمت کی محبت اس قدر دل میں اثر کر جائے کہ نعمت دینے والے کو بھی بھول جائے۔
خلاصہ : یہ کہ مراد اس سے کافر ہے جو اپنی حرص اور لالچ میں اس قدر غرق ہے کہ محسن حقیقی کو فراموش کئے بیٹھا ہے حالانکہ گھوڑا جو ایک جانور ہے اس کی وفاداری کو دیکھ کر بھی اس بدبخت کی آنکھیں نہیں کھلتیں اور اپنی غفلت اور اللہ تعالیٰ کی ناسپاسی میں مبتلا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–11
ف 4۔ اس سے مراد لڑائی کے گھوڑے ہیں جہاد ہو یا غیر جہاد اور عرب کو اس وجہ سے کہ وہ اہل رزم تھے ان قسموں سے نہایت مناسبت ہے، ہانپنا دوڑنے کے وقت ظاہر ہے اور نعل آہنی پتھریلی زمین پر لگنے سے آگ کا جھڑنا بھی ظاہر ہے اور عرب میں اکثر عادت دشمنوں پر صبح کے وقت تاخت کرنے کی تھی تاکہ رات کے وقت جانے میں دشمن کو خبر نہ ہو۔ صبح کو دفعة جا پڑیں اور رات کو حملہ نہ کرنے میں اظہار شجاعت سمجھتے تھے، غبار کا اڑنا گو ہر وقت ہوتا ہے مگر اس کو صبح کے ساتھ مقید کرنا شدت اسراع کی طرف اشارہ ہے کہ ٹھنڈے وقت غبار دبا ہوا ہوتا ہے۔
Read the full tafseer →انسان اپنے رب کا بڑا ہی ناشکر گزار ہے
6 ؎ ( کنود) صفت مشبہ ناشکر ، مرد ہو یا عورت کیونکہ انسان کا اطلاق مرد اور عورت دونوں پر ہے اور نا شکری میں بھی دونوں آتے ہیں ۔ ناقابل روئیدگی زمین ۔ کافر ۔ اللہ تعالیٰ کی ذات کو برا کہنے والا ۔ بخیل اور اس جگہ مراد نا شکرے ہی سے ہے۔ اس کا مادہ ک ن د ہے اور اس مادہ کا یہ ایک ہی لفظ قرآن کریم میں استعمال ہوا ہے دوسرا کوئی لفظ اس مادہ کا قرآن کریم میں استعمال نہیں ہوا ۔ کنادنا شکرا آدمی ۔ مطلب یہ ہے کہ اکثر انسان ایسے جو اپنے رب کے احسانات اور نوازشات پر سخت ناشکری کا اظہار کرتے ہیں اور ان کے لبوں پر ہمیشہ شکوہ رہتا ہے۔ ہزاروں نعمتوں کے باوجود جب ان کی کوئی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–7
Verse [ 100:5] فَوَسَطْنَ بِهِ جَمْعًا (then enter, at the same time, into the centre of the [ opposing ] host) In other words, they penetrate into the centre of the enemy forces without the least degree of fear.
The word kanud, (100:6) according to Hasan Basri (رح) ، refers to the one who counts the calamities that befall him, and forgets Allah's favours. Abu Bakr Wasiti said that kanud is the one who spends the bounties of Allah for sinful purposes. Tirmidhi said that kanud is the one who looks at the bounty, and not at the Bounteous Lord. In short, all these interpretations lead to the…
Read the full tafseer →4 This is for which an oath has been sworn by the horses, which run with panting breath and dash off sparks at night, then raising dust rush to assault a settlement at dawn and penetrate into the enemy host. It is astonishing to note that a large number of the commentators have taken these horses to imply the horses of the Muslim fighters and the enemy host to imply the host of disbelievers, whereas the oath has been sworn to impress the point that "man is highly ungrateful to his Lord". Now, obviously, in the course of Jihad for the sake of Allah, the rushing forth of the fighters' horses…
Read the full tafseer →