100. Surah Al-Aadiyaat

العادياتThe Chargers · 11 ayahsتفسیرِ مدنی

Ayah 100:1

وَ الْعٰدِیٰتِ ضَبْحًاۙ Open ayah 100:1 in the Quran reader

قسم ہے ان (گھوڑوں) کی جو دوڑتے ہیں ہانپتے ہوئے

(1) " عادیات " کا معنی و مطلب ؟ " عادیات " عدد سے ماخوذ ہے جس کے معنی دوڑنے کے آتے ہیں، سو " عادیات " کا معنی ہے دوڑنے والے، اس کا موصوف یہاں پر مذکور نہیں، لیکن آگے کے قرائن سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ صفت گھوڑوں کی ہے، اسی لیے ہم نے اس کا ترجمہ اس طرح کیا ہے۔ یعنی " قسم ہے ان گھوڑوں کی جو دوڑتے ہیں ہانپتے ہیں "۔ اگرچہ بعض حضرات نے ان صفات کا موصوف اونٹوں کو قرار دیا ہے مگر آگے جو " ضبح " یعنی ہانپنے اور " ایرائ " یعنی ٹاپ مار کر آگ نکالنے اور " اغارۃ " یعنی صبح ہوتے ہی لوٹ ڈالنے اور تخت و تاج کرنے کا ذکر آیا ہے، وہ گھوڑوں پر ہی صحیح طور پر چسپاں ہوسکتا ہے، نہ کہ اونٹوں پر اس لیے صحیح قول کے مطابق ان تینوں صفات کے موصوف گھوڑے ہیں نہ کہ اونٹ، اور یہی رائے ہے جمہور مفسرین کرام کی علیہم الرحمۃ والرضوان ( روح، ابن جریر، ابن کثیر، محاسن التاویل، مدارک التنزیل، صفوۃ التفاسیر، خازن، معارف وغیرہ) بہر کیف آگے کی صفات نیز مقسم علیہ پر شہادت کے اعتبار سے راجح یہی ہے کہ ان صفات کے موصوف گھوڑے ہی ہیں، سو ارشاد فرمایا گیا قسم ہے ان گھوڑوں کی جو دوڑتے ہیں ہانپتے ہوئے صبح اس آواز کو کہتے ہیں جو گھوڑے کے نتھنوں سے اس کے تیز دوڑنے کی وجہ سے نکلتی ہے جس کو اردو میں ہانپنا کہا جاتا ہے، سو اس میں درحقیقت انسان کے لیے ایک عظیم الشان درس عبرت و بصیرت ہے کہ یہ گھوڑا جو انسان کا اس قدر فرمانبردار اور جانثار ہے، حالانکہ یہ انسان نہ اس کا خالق ہے اور نہ ہی اس کا مالک حقیقی تو پھر خود اس انسان کو اپنے خالق ومالک حقیقی کا کس درجہ مطیع و فرمانبردار ہونا چاہیے جس نے اس کو وجود بخشا، نیست سے ہست کیا اور طرح طرح کی نعمتوں سے نوازا، سبحانہ و تعالیٰ فخذنا اللھم بنواصینا الی ما فیہ حبک ورضاک و فوزنا والفلاح فی الدنیا والاخرۃ بمحض منک وکرمک یا ارحم الرحمین، و یا اکرم الاکرمین۔ بہرکیف گھوڑوں کے ہانپنے کا یہ انداز اس بات کی کھلی شہادت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جس مقصد کے لیے اس کو انسان کی محکومی میں دیا ہے اس کو یہ پوری جانثاری اور نہایت وفاداری کے ساتھ ادا کرتے ہیں اور اس میں کوئی کوتاہی نہیں کرتے تو پھر انسان اگر اپنے خالق ومالک کی نافرمانی کرتا اور اس کے حکم و ارشاد سے سرتابی کرتا اور اعراض اور اس کی روگردانی سے کام لیتا ہے تو یہ کتنے طلم اور بےانصافی کی بات ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ اللہ پاک ہمیشہ اپنی رضا و خوشنودی کی راہوں پر چلنا نصیب فرمائے، آمین ثم آمین یا رب العالمین و یا ارحم الرحمین یا من بیدہ ملکوت کل شء۔
Ayah 100:2

فَالْمُوْرِیٰتِ قَدْحًاۙ Open ayah 100:2 in the Quran reader

پھر وہ چنگاریاں جھاڑتے ہیں ٹاپ مار کر

(2) " موریت " کا معنی و مطلب : سو ارشاد فرمایا گیا پھر جو چنگاریاں جھاڑتے ہیں ٹاپ مار کر " موریات " بنا ہے ایرا سے، جس کے معنی آگ نکالنے کے ہیں، جیسا چقماق کو مار کر یا دیا سلائی کو رگڑ کر آگ نکالی جاتی ہے اور قدح کے معنی ٹاپ مارنے کے آتے ہیں، سو یہ اس کیفیت اور منظر کا بیان ہے کہ جب گھوڑے تیز دوڑتے ہیں، اور ان کے سموں میں لگے ہوئے نعل پتھریلی زمین اور پتھروں سے ٹکراتے ہیں تو ان سے آگ کی چنگاریاں نکل نکل کر اڑتی ہیں اور یہ عموما رات کیو قت ہی ہوتا ہے کیونکہ رات کے اندھیرے میں ہی ان کی ٹاپوں سے جھڑنے والے والے شرارے واضح نظر آتے ہیں، سو اس سے گھوڑوں کی انسان کی فرمانبرداری اور اطاعت شعاری کو دیکھے تو اپنے خالق ومالک کے حضور دل و جان سے جھک جھک جائے، وباللہ التوفیق لما یحب ویرید وعلی ما یحب ویرید، وھو الھادی الی سواء السبیل۔ اللہ ہمیشہ اپنا ہی بنائے رکھے، آمین ثم آمین یا رب العالمین، و یا ارحم الرحمین۔
Ayah 100:3

فَالْمُغِیْرٰتِ صُبْحًاۙ Open ayah 100:3 in the Quran reader

پھر وہ تاخت و تاراج کرتے ہیں صبح کے وقت

(3) سو ارشاد فرمایا کہ پھر وہ تاخت و تاراج کرتے ہیں صبح کے وقت جیسا کہ لوٹ مار کی قبائلی زندگی میں عموما ہوتا ہے کہ وہ صبح ہوتے ہی اچانک دشمن پر حملہ کردیتے ہیں، تاکہ اسے سنبھلنے کا موقع ہی نہ مل سکے، اور وہ مقابلے کے لیے تیاری نہ کرسکے، اسی لیے ان کے یہاں غارتگری کے الارم کے طور پر جو نعرہ استعمال ہوا کرتا تھا وہ واصباحاہ ہی تھا اور اسی لیے صبح کے وقت حملہ کرنے کے لیے صبح کا لفظ ہی استعمال ہوا کرتا تھا، چناچہ خود قرآن حکیم میں بھی یہ لفظ اس معنی میں استعمال ہوا، چناچہ سورة قمر میں ارشاد فرمایا گیا ( القمر 38 پ 27) اور یقینا ان لوگوں کو یعنی قوم لوط کو پہنچ کر رہا، ایک دائمی عذاب صبح کے وقت۔ سو دشمن پر حملہ عموما صبح کے وقت ہی کیا جاتا ہے اور اسی کو شب خون مارنے سے تعبیر کیا جاتا ہے کہ ایسا حملہ رات کے عموما رات کے پچھلے میں کیا جاتا ہے۔ سو " مغیرات " کے معنی غارت ڈالنے اور تاخت و تاراج کرنے والوں کے ہیں اور گھوڑے کی جاں نثاری اور اطاعت گزاری و فرمانبرداری کا عالم یہ ہے کہ وہ دن رات کے ہر حصے میں انسان کے تابع فرمان رہتا ہے اور اس سلسلے میں وہ اپنی جان کی بازی لگانے سے بھی گریز نہیں کرتا، تو پھر وہ انسان کتنا بےانصاف اور کس قدر ظال ہے جو اپنے خالق ومالک کی اطاعت و فرمانبرداری سے گریز کرے ؟ والعیاذ باللہ العظیم۔ اللہ ہمیشہ اپنی رضا کی راہوں پر قائم رکھے، آمین ثم آمین یا رب العالمین و یا ارحم الرحمین، واکرم الاکرمین، یا من بیدہ ملکوت کل شیء و ھو یجیر ولا یجار علیہ۔
Ayah 100:4

فَاَثَرْنَ بِهٖ نَقْعًاۙ Open ayah 100:4 in the Quran reader

پھر وہ اڑاتے ہیں اس موقع پر گردوغبار

(4) اثارہ نقع سے مقصود و مراد ؟ سو ارشاد فرمایا گیا کہ پھر وہ اس موقع پر غبار اڑاتے ہیں، یعنی اپنی تیز رفتار اور زور دار دوڑ کی وجہ سے، کیونکہ صبح کے ٹھنڈے وقت میں جبکہ رات کی شبنم وغیرہ کی بنا پر گردو غبار عام طور پر ساکن اور جما ہوا ہوتا ہے، عام حالات اور معمولی رفتار سے اس میں غبار نہیں اڑتا، سو یہ سب کچھ ان گھوڑوں کی فرمانبرداری اور وفا شعاری کا مظہر و نمونہ ہے، سو اس صورت میں بہ میں موجود حرف با فی کے معنی میں ہوگا، اور ضمیر کا مرجع صبح ہوگا، ( محاسن التاویل وغیرہ) پس جب گھوڑے جانور ہونے کے باوجود اور عقل و شعور سے عاریہونے کے باوصف اس انسان کے حکم و ارشارے کے اس قدر پابند اور اس کے اتنے فرمانبردار ہیں، تو پھر اس انسان پر اپنے خالق ومالک حقیقی کی اطاعت گزاری اور فرمانبرداری کا فریضہ کس قدر شدت سے عائد ہوتا ہے ؟ اگر انسان اس بارے میں غور و فکر سے کام لے تو دل و جان سے اپنے رب کے آگے جھک جھک جائے۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید، وعلی ما یحب ویرید، بکل حال من الاحوال وفی کل موطن من المواطن فی الحیاۃ، وھو الھادی الی سواء الصراط، فعلیہ نتوکل وبہ نستعین۔ اللہ ہمیشہ اور ہر حال میں اپنا ہی بنائے رکھے۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین و یا ارحم الرحمین۔
Ayah 100:5

فَوَسَطْنَ بِهٖ جَمْعًاۙ Open ayah 100:5 in the Quran reader

پھر وہ اسی حالت میں جا گھستے ہیں کسی لشکر میں

(5) گھوڑوں کے کسی لشکر میں گھسنے کا ذکر وبیان : سو اور شاد فرمایا گیا کہ پھر وہ اسی حال میں جا گھستے ہیں کسی لشکر میں، اپنی جان کی پرواہ کیے بغیر، اس انسان کے حکم و ارشاد اور اس کے ایڑ لگانے پر، محض بھوسے چارے اور چنے وغیرہ کی اس معمولی سی خوراک کے عوض، جو اس انسان کی طرف سے ان کو ملتی ہے، اور بس۔ ورنہ یہ تو ان کا نہ خالق ہے نہ مالک حقیقی، تو پھر کیا خیال ہے اس انسان کے بارے میں جو اپنے رب کے احکام کی پرواہ کیے بغیر، اور اس کا باغی و طاغی اور سرکش بن کر زندگی گزارتا ہے، حالانکہ یہ اس خالق حقیقی کی مخلوق بھی ہے اور اس کی ملکیت بھی زمہ دار اور مسؤل بھی، اور اس کے یہاں جوابدہ بھی، اور اس کے یہاں حاضر ہو کر اس نے اپنے زندگی بھر کے کیے کرائے کا جواب بھی دینا ہے، اور بدلہ بھی پانا ہے، اور اس کے علاوہ یہ سرتا پا اس خدائے رحمن کی رحمتوں اور عنایتوں میں ڈوبا ہوا ہے تو پھر اس سے بڑھ کر ناشکری اور بےانصافی اور کیا ہوسکتی ہے، کہ یہ انسان اپنے اس خالق ومالک کی ایسی کی بےحدود حساب نعمتوں اور عنایتوں کے باوجود اس کے احکام سے منہ موڑے اور اس کا باغی و طاغی بن کر زندگی گزارے، والعیاذ باللہ العظیم۔ اللہ ہمیشہ اور ہر اعتبار سے اپنی ہی بنائے رکھے، آمین ثم آمین یا رب العالمین و یا ارحم الرحمین، و یا اکرم الاکرمین، بکل حال من الاحوال وفی کل موطن من المواطن فی الحیاۃ، فی کل زمان و مکان۔
Ayahs 100:6–7

اِنَّ الْاِنْسَانَ لِرَبِّهٖ لَكَنُوْدٌۚ Open ayah 100:6 in the Quran reader

بلاشبہ انسان بڑا ہی ناشکرا ہے اپنے رب کا

وَ اِنَّهٗ عَلٰى ذٰلِكَ لَشَهِیْدٌۚ Open ayah 100:7 in the Quran reader

اور وہ خود اس پر گواہ بھی ہے

(6) انسان کی بےانصافی اور ناشکری کا ذکرو بیان : سو ارشاد فرمایا گیا اور تاکید در تاکید کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ بلا شبہ انسان اپنے رب کا بڑا ہی ناشکرا ہے۔ کہ یہ اس کی ان طرح طرح کی بےحدو حساب نعمتوں سے ہر وقت اور ہر لحاظ سے مستفید و فیضیاب ہوتا ہے، اور اس قدر کہ ہر لمحہ و لحظہ میں اس کی جس قدر نعمتوں سے یہ فائدہ اٹھاتا ہے اس کا احصاء و شمار بھی کسی کے بس میں نہیں، جیسا کہ دوسرے مقام پر اسی کتاب عزیز و حکیم میں ارشاد فرمایا گیا ( آیت، ابراہیم 34 پ 13) مگر اس کے باجو ود یہ اس کا ناشکرا اور نافرمان اور اس سے منہ موڑے ہوئے ہے، بلکہ اس سے بھی بڑھ کر ظلم یہ کہ یہ اس واہب مطلق کی بخشی ہوئی ان نعمتوں کو طرح طرح کی دوسری خود ساختہ " ہستیوں "، " سرکاروں "، اور " دیویوں " اور " دیوتاوں " وغیرہ کی طرف سے منسوب کرتا ہے، والعیاذ باللہ العظیم۔ سو یہ انسان گھوڑوں کی ان جانثاریوں کو اپنی آنکھوں سے خود یکھتا ہے اور ان کی قربانیوں سے بہرہ مند ہوتا ہے لیکن اس پر غور نہیں کرتا کہ گھوڑے اگر جانور ہونے اور جوہر عقل و شعور سے عاری ہونے کے باوجود اس کے حکم و ارشاد پر اس طرح طرح کی جانثاری اور فرمانبرداری دکھاتے ہیں، تو یہ انسان دیکھے خود اس کو اپنے رب کی اطاعت و فرمانبرداری کے لیے کیا کچھ کرنا چاہیے، اور اس کے اس پر کیا کچھ حقوق و فرائض عائد ہوتے ہیں، اور یہ سوچے کہ یہ کس قدر ناشکری اور کتنی بڑی بےانصافی کی بات ہے کہ وہ جانور ہو کر بھی اپنے مالک کا حق پہچانتے ہیں اور مالک بھی وہ جو کہ عارضی، فانی اور مجازی مالک ہے، اور یہ انسان ہو کر بھی اپنے مالک کا حق نہیں پہچانتا اور مالک بھی وہ جو کہ حقیقی اور اصل مالک ہے، اور جس کی نعمتوں میں یہ سر تا پا ڈوبا ہوا ہے، یہاں پر یہ بھی واضح رہے کہ گھوڑوں کا ذکر بطور مثال فرمایا گیا، ورنہ یہی وفاداری اور جانثاری ان تمام جانوروں میں پائی جاتی ہے جن کو اللہ تعالیٰ نے انسان کے لیے مسخر فرمایا ہے، اور قرآن حکیم میں دوسرے مختلف مقامات پر طرح طرح سے اس کا ذکر بھی فرمایا ہے ان سے انسان طرح طرح سے مستفید ہوتا ہے اور لگاتار و مسلسل ہوتا رہتا ہے، مگر کبھی یہ سوچنے کی زحمت گوارا نہیں کرتا کہ یہ کس مہربان مطلق کی عنایت اور اس کے کرم کا نتیجہ ہے، سو ہی ہے اللہ وحدہ لا شریک جو کہ خالق ومالک حقیقی ہے اور جس کا حق ہر حق سے مقدم اس پر فائق اور اس سے اہم ہے۔ اور اس سے اعراض و روگردانی محرومیوں کی محرومی ہے اور دارین کی ہلاکت و تباہی کا باعث ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ اللھم فھذاہ نوصینا بین یدیک فخذنا بھا الی ما فیہ حبک ورضاک من القول والعمل بکل حال من الاحوال وفی کل موطن من المواطن فی الحیاۃ۔
Ayah 100:8

وَ اِنَّهٗ لِحُبِّ الْخَیْرِ لَشَدِیْدٌؕ Open ayah 100:8 in the Quran reader

اور یقینا یہ مال کی محبت میں بڑا سخت ہے

(8) ناشکرا انسان مال کی محبت میں گرفتار، والعیاذ باللہ : سو ارشاد فرمایا گیا اور تاکید کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ یقینا یہ مال کی محبت میں بہت سخت ہے کہ اس کے نزدیک دنیا دوں کا متاع حقیر اور حطام فانی و زائل ہی سب کچھ ہوتا ہے، یہ اسی کے لی جیتا اور اسی کے لیے مرتا ہے، اور بس۔ ذلک مبلغھم من العلم، والعیاذ باللہ العظیم۔ اور اس کی ناشکری اور کج فکری کا حال یہ ہے کہ اپنے گھوڑوں میں سے انہی کی قدر کرتا ہے جو اس کے لیے کوئی قابل قدر خدمت انجام دیتے ہیں، لیکن اپنے خالق ومالک رب رحمن کے بارے میں یہ گمان کرتا ہے کہ اس کے یہاں نیکوکار اور بدکار کے درمیان کوئی فرق نہیں، یہ اپنے گھوڑوں کو دیکھتا ہے کہ وہ جان کی بازی لگا کر اور نیزوں کے مقابلے میں سینہ سپر ہو کر میدان کارزار میں کود پڑتے ہیں، اور جو کچھ حاصل کرتے ہیں وہ سب مالک کے حوالے کردیتے ہیں، اور اپنے لیے کسی حق کا کوئی مطالبہ نہیں کرتے، مالک ان کے آگے جو کچھ ڈال دیتا ہے اسی پر قناعت کرلیتے ہیں، لیکن اس ناشکرے کا حال یہ ہے کہ جو کچھ یہ اپنے رب کی عطا و بخشش سے پاتا ہے، اس کو اپنی لیاقت و قابلیت کا کرشمہ قرار دیتا ہے، اور کہتا ہے ( آیت، القصص 78 پ 20) یعنی یہ سب کچھ مجھے اپنے علم کی بنا پر ملا ہے، اور اس پر یہ ایسا مارگنج بنا کر بیٹھ جاتا ہے کہ اس پر اپنے اس خالق ومالک کا حق تسلیم کرنے کے لیے بھی تیار نہیں ہوتا، اور اس طرح اس کا مال و دولت اس کے لیے خیر کی بجائے شر میں اضافے کا باعث بنتا ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ اللہ ہمیشہ اپنی حفاظت و پناہ میں رکھے۔ آمین ثم آمین۔
Ayah 100:9

اَفَلَا یَعْلَمُ اِذَا بُعْثِرَ مَا فِی الْقُبُوْرِۙ Open ayah 100:9 in the Quran reader

تو کیا اس کو معلوم نہیں (ہولناکی اس وقت کی) کہ جب نکال باہر کیا جائے گا ان (مردوں) کو جو (پڑے ہیں) قبروں میں

(9) زرپرست ناشکروں کو تنبیہ : سو ارشاد فرمایا گیا اور ایسے زرپرست ناشکروں کی تنبیہ کے طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ کیا اس کو معلوم نہیں کہ جب نکال باہر کیا جائے گا وہ سب کچھ جو کہ قبروں میں ہے، یعنی ان مردوں کو جو کہ قبروں میں پڑے ہیں تاکہ اس طرح وہ اپنی زندگی بھر کے کئے کرائے کا پورا پورا حساب دیں اور اس کا بھر پور صلہ و بدلہ پاس کیں، سو وہ جہاں بھی ہوں گے اور جس حال میں بھی ہوں گے ان کو اٹھا کھڑا کیا جائے گا، اور اس قادر مطلق کے لیے ایسا کرنا کچھ بھی مشکل نہیں، بلکہ محض اس کے حکم و ارشاد کی دیر ہوگی، بس وہ محض ایک ڈانٹ اور جھڑکی ہوگی جس کے نتیجے میں یہ سب کے سب میدان میں آموجود ہوں گے، جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا ( آیت، النازعات 13, 14, پ 30) یعنی وہ محض ایک جھڑکی اور ڈانٹ ہوگی جس کے نتیجے میں یہ یکایک سب کے سب ایک وسیع میدان میں آموجود ہوں گے سو اس روز دفینوں اور خزینوں کو بھی نکال باہر کیا جائے گا جو بخیل اور کنجوس مالداروں نے دوسروں کے حقوق مار کر زمینوں کے اندر چھوڑے تھے، اس روز ان سب کا حساب ایسوں کو دینا ہوگا، پس اس یوم حساب اور اس کے تقاضوں کو ہمیشہ اور ہر حال میں اپنی پیش نظر رکھنے کی ضرورت ہے۔ وباللہ التوفیق۔
Ayah 100:10

وَ حُصِّلَ مَا فِی الصُّدُوْرِۙ Open ayah 100:10 in the Quran reader

اور کھول کر رکھ دیا جائے گا وہ سب کچھ جو کہ (مخفی و مستور) ہوگا سینوں میں

(10) سینوں کے احوال کی جانچ بھٹک کا ذکرو بیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اس روز نکال باہر کیا جائے گا وہ سب کچھ جو کہ چھپا تھا سینوں کے اندر اور اچھی بری نیتیں اور ارادے ایمان کا نور اور کفر و شرک اور نفاق کی ظلمتیں وغیرہ سب کچھ سامنے آجائے گا، سب کو کھول کر رکھ دیا جائے گا، تاکہ اس کے مطابق آخری اور حقیقی فیصلہ کردیا جائے اور عدل و انصاف کے تقاضوں کے عین مطابق ہر کوئی اپنا صلہ و بدلہ کامل شکل میں پاس کے، سو زمینوں کے دفینوں کی طرح سینوں کے رازوں کو بھی نکال باہر کیا جائے گا تاکہ اس طرح ہر کسی پر حجت قائم کی جاس کے۔ سو اس روز صرف اعمال کے ریکارڈ ہی کو نہیں دیکھا جائے گا اور ان کے ظواہر و اشکال ہی پر اکتفا نہیں کیا جائے گا بلکہ ان کے بواعث و دوافع کی بھی جانچ پڑتال ہوگی اور ان کے پیچھے کا فرما محرکات کو بھی دیکھا جائے گا۔ وباللہ التوفیق۔
Ayah 100:11

اِنَّ رَبَّهُمْ بِهِمْ یَوْمَئِذٍ لَّخَبِیْرٌ۠ Open ayah 100:11 in the Quran reader

بلاشبہ ان کا رب اس دن ان سے پوری طرح باخبر ہوگا

(11) اللہ سب کے اعمال سے پوری طرح باخبر ہے : سو ارشاد فرمایا گیا اور ادوات تاکید کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ بلا شبہ انکا رب ان سے اس دن پوری طرح باخبر ہوگا، اور آگاہ و باخبر تو وہ آج بھی ہے اور پوری طرح سے ہے، سبحانہ و تعالیٰ ۔ لیکن آج اس نے اپنی حکمت سے ان پر پردہ ڈالا ہوا ہے، اور چھوٹ دے رکھی ہے، مگر اس دن چونکہ یہ سب پردے ہٹا دیے جائیں گے کہ وہ دن ہوگا ہی کشف حقائق کا دن، اور صلے و بدلے کا وقت، اس لیے فرمایا گیا کہ اس دن ان کا رب ان سے پوری طرح باخبر، آگاہ ہوگا، سبحانہ و تعالیٰ ۔ سو کوئی بھی اپنے کسب و عمل اور زندگی بھر کے کیے کرائے کا بدلہ و پھل پانے سے اس دن محروم نہیں رہے گا۔ اللہ اپنی رحمت و عنایت کا معاملہ فرمائے اور نفس و شیطان کے ہر مکرو و فریب سے ہمیشہ اپنی حفاظت و پناہ میں رکھے۔ آمین ثم آمین۔