100. Surah Al-Aadiyaat

العادياتThe Chargers · 11 ayahsتفسیرِ مظہری

Ayah 100:1

وَ الْعٰدِیٰتِ ضَبْحًاۙ Open ayah 100:1 in the Quran reader

ان سرپٹ دوڑنے والے گھوڑوں کی قسم جو ہانپ اٹھتےہیں

والعدیت ضبحا . العٰدیٰت سے مراد ہیں ‘ غازیوں کے گھوڑے جو راہ خدا میں دوڑتے ہیں ‘ حضرت ابن عباس ‘ مجاہد ‘ عکرمہ ‘ حسن بصری ‘ کلبی ‘ قتادہ اور ابو العالیہ وغیرہ کا یہی قول ہے ‘ مذکورہ بالا شان نزول اور والعادیات کے اس تفسیری معنی پر اس سورت کا مدنی ہونا ظاہر ہوتا ہے کیونکہ ہجرت سے پہلے جہاد نہیں تھا لیکن اگر سورت کو مکی مان لیا جائے تو پھر غازیوں کے گھوڑوں کی قسم ایک پیشین گوئی کے بجائے ہوگی (گویا پیشین گوئی ہے کہ آئندہ جہاد کا حکم ہوگا اور غازیوں کے گھوڑے ہوں گے) ۔ ضَبْحًا کا فعل محذوف ہے اور پورا جملہ حال واقع ہوا ہے یعنی ہانپتے ہوئے ‘ دوڑنے کے وقت گھوڑے کی سانس کی آواز کو ضبحٌ کہتے ہیں۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : جانوروں میں سوائے گھوڑے ‘ کتے اور لومڑی کے ہانپنے کی آواز کسی اور جانور کی نہیں ہوتی اور یہ بھی اس وقت ہوتی ہے جب تھکنے کی وجہ سے ان کا حال بگڑ جاتا ہے۔ حضرت علی ؓ نے فرمایا : العٰدیٰت (سے مراد ہیں حاجیوں کے اونٹ جو عرفہ سے مزدلفہ تک اور مزدلفہ سے منیٰ تک دوڑتے ہیں۔ اسلام میں اوّل ترین جہاد بدر کا ہوا تھا اس وقت ہمارے ساتھ صرف دو گھوڑے تھے ‘ ایک زبیر کا گھوڑا ‘ دوسرا مقداد بن اسود کا گھوڑا اس لیے العٰدیٰت سے مراد جہادی گھوڑے کیسے ہوسکتے ہیں۔ حضرت ابن مسعود ‘ سدی اور محمد بن کعب کا بھی یہی قول ہے۔ اس تشریح پر ضبحًا کا معنی ہوگا چلنے کی حالت میں گردنیں لمبی کیے ہوئے۔
Ayah 100:2

فَالْمُوْرِیٰتِ قَدْحًاۙ Open ayah 100:2 in the Quran reader

پھر (پتھروں پر نعل) مار کر آگ نکالتے ہیں

فالموریت قدحا . الموریٰت سے وہ گھوڑے مراد ہیں کہ جب رات کو پتھریلی زمین پر چلتے ہیں ‘ ان کی ٹاپیں پتھروں سے رگڑتی ہیں تو چنگاریاں نمودار ہوجاتی ہیں۔
Ayah 100:3

فَالْمُغِیْرٰتِ صُبْحًاۙ Open ayah 100:3 in the Quran reader

پھر صبح کو چھاپہ مارتے ہیں

فالمغیرات صبحا . الاغارۃ : رفتار کی تیزی۔ المغیرات سے مراد ہیں وہ گھوڑے جو اپنے سواروں کو لے کر صبح کے وقت دشمن پر حملہ کرتے ہیں (دشمنوں پر چھاپہ مارتے ہیں) اکثر مفسرین کا یہی قول ہے ‘ قرظی کے نزدیک المغیرات سے مراد وہ اونٹ ہیں جو اپنے سواروں کو لے کر قربانی کے دن صبح کے وقت جمع (یعنی مزدلفہ) سے منیٰ کو روانہ ہوتے ہیں ‘ صبح سے قبل جمع سے روانہ نہ ہونا سنت بلکہ واجب ہے البتہ رسول اللہ ﷺ نے عورتوں اور ضعیف مردوں کو شب نحر کی فجر نکلنے کے بعد ہی روانہ ہونے کی اجازت دی تھی۔
Ayah 100:4

فَاَثَرْنَ بِهٖ نَقْعًاۙ Open ayah 100:4 in the Quran reader

پھر اس میں گرد اٹھاتے ہیں

فاثرن بہ نقعا . بہٖ کی ضمیردشمن پر چھاپہ مارنے کے وقت کی طرف راجع ہے جو سیاق کلام سے معلوم ہو رہا ہے یا دشمن کے مقام کی طرف راجع ہے جو اقتضاء عبارت ہے یعنی وہ گھوڑے جو دشمن پر چھاپہ مارتے ہیں ‘ چھاپہ مارنے کے وقت یا چھاپہ مارنے کی جگہ پر اپنے حملے کی وجہ سے غبار اڑاتے ہیں۔
Ayah 100:5

فَوَسَطْنَ بِهٖ جَمْعًاۙ Open ayah 100:5 in the Quran reader

پھر اس وقت دشمن کی فوج میں جا گھستے ہیں

فوسطن بہ جمعا . پھر اس غبار میں یا چھاپہ مارنے کے وقت یا چھاپہ مارنے کے مقام پر دشمنوں کی فوج کے اندر وہ داخل ہوجاتے ہیں۔
Ayah 100:6

اِنَّ الْاِنْسَانَ لِرَبِّهٖ لَكَنُوْدٌۚ Open ayah 100:6 in the Quran reader

کہ انسان اپنے پروردگار کا احسان ناشناس (اور ناشکرا) ہے

ان الانسان لربہ لکنود . یہ قسم کا جواب ہے الانسان میں لام جنسی ہے مگر اطلاق جنس میں اکثر افراد ملحوظ ہیں (کیونکہ بعض انسان اس حکم کے عموم سے مستثنیٰ ہیں) جیسا کہ اللہ نے فرمایا ہے : و قلیل من عبادی الشکور میرے بندوں میں سے شکر گزار کم ہیں۔ لربہ کا تعلق کنود سے ہے ‘ مقطع آیات کی رعایت سے کنود سے پہلے ذکر کردیا گیا ہے کنود ناشکرا ‘ قبائل مضر کے محاورہ کنود کا یہی معنی ہے۔ حضرت ابن عباس ‘ مجاہد اور قتادہ نے یہی ترجمہ کیا ہے ‘ یا کنود کا معنی ہے نافرمان یہ بنی کندہ کے محاورہ میں ہے یا انجیل اور ریہ بنی مالک کے محاورہ میں ہے۔ ابو عبیدہ نے کہا : کنود بمعنی قلیل الخیر اور ارض کنود شور (بھوڑ) زمین جس میں کچھ پیدا نہ ہو۔
Ayah 100:7

وَ اِنَّهٗ عَلٰى ذٰلِكَ لَشَهِیْدٌۚ Open ayah 100:7 in the Quran reader

اور وہ اس سے آگاہ بھی ہے

وانہ علی ذلک . ابن کیسان نے کہا کہ انہ کی ضمیر الانسان کی طرف راجع ہے اور ذلک سے اشارہ ناشکرا ہونے یا نافرمان ہونے یا بخیل ہونے کی جانب ہے۔ لشھید . یعنی اکثر انسان اپنے رب کی نعمتوں کے بڑے ناشکرے ہیں اور تھوڑے غور کے بعد وہ اپنی ناشکری یا نافرمانی یا کنجوسی پر شہادت بھی دیتے ہیں اور اس ناشکری پر شہادت دینے کی نشانیاں نمایاں ہوجاتی ہیں یا آخرت میں اپنے نفس کی شہادت دینگے ‘ اپنے گناہ کا اقرار کرینگے اور کہیں گے ہم نمازیوں میں سے نہیں تھے ‘ مسکینوں کو کھانا نہیں کھلاتے تھے۔ اکثر اہل تفسیر کے نزدیک وانہٗ کی ضمیر رب کی طرف راجع ہے یعنی انسان کے کنود ہونے پر اللہ واقف ہے ‘ اسکے علم سے کوئی چیز پوشیدہ نہیں۔ اس مطلب پر یہ آیت ناشکرے کیلئے وعید ہے۔
Ayah 100:8

وَ اِنَّهٗ لِحُبِّ الْخَیْرِ لَشَدِیْدٌؕ Open ayah 100:8 in the Quran reader

وہ تو مال سے سخت محبت کرنے والا ہے

وانہ لحب الخیر . انہٗ کی ضمیر الانسان کی طرف راجع ہے اور الخیر سے مراد مال ہے۔ اللہ نے فرمایا ہے ان ترک خیرا۔ اگر میت نے مال چھوڑا ہو۔ لشدید . بڑا سخت اور قوی ہے اگر کنود کا معنی ناشکرا ہو تو لحب الخیر میں لام ‘ محض صلہ کیلئے ہوگا یعنی انسان مال کی محبت میں بڑا شدید ہے محسن کی راہ میں خرچ نہیں کرتا اور اگر کنود کا معنی بخیل لیا جائے تو لام تعلیل کا ہوگا یعنی انسان محبت مال کی وجہ سے بڑا کنجوس ہے۔
Ayah 100:9

اَفَلَا یَعْلَمُ اِذَا بُعْثِرَ مَا فِی الْقُبُوْرِۙ Open ayah 100:9 in the Quran reader

کیا وہ اس وقت کو نہیں جانتا کہ جو (مردے) قبروں میں ہیں وہ باہر نکال لیے جائیں گے

افلا یعلم . ہمزۂ استفہامیہ تعجب کے لیے ہے۔ فاء حرف عطف ہے لا یعلم کا عطف فعل محذوف پر ہے یعنی الا ینظر فلا یعلم۔ مطلب یہ ہے کہ تعجب ہے انسان کیوں نہیں دیکھتا اور ابھی اس بات کو کیوں نہیں جان لیتا جو کل کو جان لے گا کہ اسکا رب اس سے باخبر ہے اسکے کرتوت کا اس روز بدلہ دیگا جب کہ مردوں کو قبروں سے اٹھایا جائیگا اور سینوں کے اندر کی باتیں کھول دی جائینگی۔ اذا بعثر ما فی القبور . جب قبروں کے اندر کے مرد اٹھائے جائیں گے (مَا موصولہ بےعقل چیزوں کے لیے آتا ہے اور مَنْ موصولہ عقل والی مخلوق کے لیے جیسے آدمی فرشتہ وغیرہ) اس جگہ مَا سے مردہ انسان مراد ہیں (اس لیے مَن ہونا چاہیے لیکن) مَا کو مَنْ کی جگہ لانے کی وجہ یا تو یہ ہے کہ مافی الصدور میں مَا آیا ہے ‘ اس کی مناسبت سے مَا فی القبور میں بھی مَا کو ذکر کیا ہے ‘ یا یہ وجہ ہے کہ مردے جمادات کی طرح بےعقل ہوتے ہیں (اس لیے ان کے مناسب ” ما “ ہی ہے) ۔
Ayah 100:10

وَ حُصِّلَ مَا فِی الصُّدُوْرِۙ Open ayah 100:10 in the Quran reader

اور جو (بھید) دلوں میں ہیں وہ ظاہر کر دیئے جائیں گے

و حصل . اور صحیفوں میں جمع کردیا جائے گا یا الگ کردیا جائے گا اور ظاہر کردیا جائے گا۔ ما فی الصدور . جو کچھ سینوں میں ہوگا یعنی خیر و شر جو کچھ جنس انسان کے سینوں میں ہوگی ‘ وہ ظاہر کردی جائیگی۔ ہاتھ پاؤں کے اعمال (کو ظاہر کرنے) کا ذکر آیت میں نہیں بلکہ دل کے (اسرار و) عقائد کے اظہار کا ذکر کیا کیونکہ قلبی افکار و عقائد ہی اصل ہیں۔
Ayah 100:11

اِنَّ رَبَّهُمْ بِهِمْ یَوْمَئِذٍ لَّخَبِیْرٌ۠ Open ayah 100:11 in the Quran reader

بےشک ان کا پروردگار اس روز ان سے خوب واقف ہوگا

ان ربھم بھم یومئذ لخبیر انکا رب اس روز ان سے باخبر ہوگا اللہ تو ہر وقت باخبر ہے اس روز باخبر ہونے کی خصوصیت اس لیے بیان کی کہ سزا و جزا اس روز ظاہر ہوگی پس اللہ کا باخبر ہونا اس روز ظاہر ہوجائیگا یا یوں کہا خبیر سے مراد ہے بدلہ دینے والا مطلب یہ ہے کہ ان کا رب اس روز بدلہ دیگا۔ زجاج نے یہی بیان کیا سورة العادیات ختم ہوئی ‘ بعونہٖ و منہٖ تعال