Ayahs 100:1–51۔ ان گھوڑوں سے مراد لڑائی کے گھوڑے ہیں، جن کے اوصاف سے اہل عرب خوب واقف تھے۔ (آیت) ” ضبحا “۔ گھوڑے عادۃ تیز دوڑ کے بعد ہانپنے لگتے ہیں، (آیت) ” فالموریت قدحا “۔ یعنی ان کی نعلوں سے پہاڑوں کے پتھر آگ دے اٹھتے ہیں، کنایہ کمال گرم رفتاری سے ہے (آیت) ” فالمغیرت صبحا “۔ عرب میں عام دستور صبح سویرے تاخت کرنے کا تھا۔ (آیت) ” فاثرن بہ نقعا “۔ کمال تیز رفتاری کے باعث ان کے قدموں سے غبار اڑتا ہے۔ (آیت) ” فوسطن بہ جمعا “۔ یعنی جماعت اعداء میں در آتے ہیں۔ بہ میں ب زائدہ تاکید کے لئے ہے۔ حضرات صوفیہ نے ان صفات سے اپنے مذاق کے مطابق اشارات معرفت خوب نکالے ہیں، مثلا ! کچھ ” اشغال حرکت نفس “ میں مشغول رہتے ہیں، دل سے ” شعلہائے آتشیں “۔ بلند کرتے یا ” شمع معرفت “۔ روشن کرتے ہیں، صبح کو جو وقت رحمت ہوتا ہے، دولت دیدار لوٹتے اور نفس پر حملہ قوی کرتے ہیں، اور غبار سے مراد آثار لی ہے۔
Ayahs 100:6–72۔ (خواہ وہ گواہی زبان حال ہی سے کیوں نہ ہو) فالشھادۃ بلسان الحال الذی ھو افصح من لسان المقال (روح) (آیت) ” الانسان “۔ انسان سے مراد ایسے ہر سیاق میں کافر انسان سے ہوتی ہے۔ (آیت) ” انہ “۔ ضمیر ہ انسان کی طرف ہے، اے الانسان کماقال الحسن ومحمد بن کعب (روح) یہ مراد بھی ہوسکتی ہے کہ انسان اپنے کفر پر قیامت میں ضرور گواہی دے گا۔ (آیت) ” علی ذلک “۔ یعنی اپنی اپنی ناشکری پر۔ اے علی کنوودہ (کشاف)
Ayah 100:83۔ (اور کفر اور ناشکری کی علت اکثر یہی ہوتی ہے) (آیت) ” الخیر “۔ خیر۔ یہاں مال کے معنی میں ہے، جیسا کہ قرآن مجید کی بعض اور آیتوں میں بھی آیا ہے۔ الخیر المال من قولہ تعالیٰ ان ترک خیرا (کشاف) اے المال الکثیر۔ (راغب) وقال قتادۃ الخیر من حیث وقع فی القران ھو المال (بحر) یہ بھی جائز ہے کہ یہاں خیر دنیوی مراد لی جائے، اس مفہوم میں جو آخرت فراموش اس کا سمجھتے ہیں، اور اس کے تحت میں مال، جاہ، صحت وغیرہ تمام مقاصد دنیوی لے لئے جائیں، قال ابن عطیۃ یحتمل ان یراد ھذا الخیر الدنیوی من مال وصحۃ وجاہ عندالملوک ونحوہ لان الکفار والجھال لایعرفون غیر ذلک (بحر) (آیت) ” الحب الخیر “ میں ل اگر تعلیل کا مانا جائے، اور تقدیر کلام یوں سمجھی جائے کہ انہ لاجل حب المال تو آیت کا ترجمہ یوں ہوگا :۔” اور مال کی محبت کے پیچھے بڑا بخیل ہے “۔ شدت حب مال سے یہاں مراد وہی بیجا اور مفرط دولت پرستی ہے، جو انسان کی عقل سلیم کو بالکل اندھا کردیتی ہے، اور تمامتر کفران وعدوان کی طرف لے جاتی ہے، ورنہ جائز حدود کے اندر مال کی تھوڑی محبت تو ایک امرطبعی ہے۔ (آیت) ” لشدید “۔ شدید یہاں بخیل وممسک کے معنی میں بھی لیا گیا ہے۔ الشدید البخیل الممسک (کشاف) الشدید المتشدد البخیل (راغب)
Ayahs 100:9–104۔ (کہ ان چیزوں کا استحضار اسے متنبہ اور ہوشیار کردینے کے لئے کافی ہے) (آیت) ” مافی القبور “۔ مایہاں بھی من کے مرادف ہے۔
Ayah 100:115۔ (چنانچہ ان کی ناشکرگزاری سے بھی اور اس کی موجبات ومحرکات سے بھی آگاہ ہوگا) (آیت) ” ربھم “۔ بھم جمع غائب کی یہ ضمیریں آیت 6 کے (آیت) ” الانسان “ کی جانب ہیں، جو معنی جمع تھا۔ والانسان علی معنی الجمع (کبیر) ضمیر مبعوثین کی جانب بھی سمجھی جاسکتی ہے۔ (آیت) ” بھم .... لخبیر “۔ یعنی ان لوگوں کے اعمال، اقوال، احوال سب کی ایک ایک تفصیل سے آگا ہ۔